رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی والوں سے اپنے اعمال پر معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا

سمجھوتہ

Well-known member
وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) والوں سے اپنےakisalat میں معافی منگھنی کا مطالبہ کردیا ہے۔ وہ ایک عوامی اجتماع میں فیصل آباد میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ نے خطاب کررہے تھے۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر ’’اوئے‘‘ کلچرمتعارف کیا، ان کے دور حکومت میں مخالفین کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے جبکہ میرے خلاف بھی جھوٹا مقدمہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین پر مقدمات بنانا مسلم لیگ (ن) کا ایجنڈا نہیں معاملات کو بیٹھ کر حل کیا جاتا ہے لیکن پی ٹی آئی والے معاملات بیٹھ کر حل کرنا نہیں چاہتے، انہوں نے نفرت اور جھوٹے مقدمات کا بیج بویا۔

رانا ثنا اللہ کا مزید کہنا تھا کہ میرے خلاف ایسا مقدمہ بنایا گیا جس کی سزا سزائے موت تھی 6 ماہ جیل میں رہا، انہوں نے کہا کہ افغانستان اور بھارت کی زبان بولنے والوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں، وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں کہا کہ آئی بیٹھیں اور بات کریں، معاشی حالات بہتر ہو رہے ہیں ڈیفالٹ کے دہانے سے نکل چکے ہیں، بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کی لیے وزیر اعظم شہباز شریف ابھی سے کوشش کر رہے ہیں۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس وقت ڈکیتوں اور مجرموں کے لیے ریاست کے پاس نرمی اور رعایت نہیں ہونی چاہیے، ملک دشمن عناصر سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی، ٹیکسٹائل اور کاروبار بند ہونے کا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، عوام کی فلاح وبہبود کے لیے اقدامات کررہے ہیں، مسلم لیگ ن ترقیاتی منصوبوں پر کام کررہی ہے، عوام کی خدمت کرنا ہمارا فرض ہے، فیصل آباد میں سڑکیں اور گیس کے منصوبے مکمل ہوئے ہیں، شہروں کے ساتھ ساتھ دیہاتوں کی ترقی بھی ترجیح ہے، دیہاتوں میں گیس کی فراہمی کے لیے کوشش ہیں، ملک میں سوئی گیس ختم ہوتی جارہی ہے۔

ن لیگی رہنما نے کہا کہ موجودہ حکومت نے قطر کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، گیس قطر سے آئے گی وہ فراہم کی جائے گی، قطر سے آنے والی گیس سیلنڈر میں استعمال ہونے والی گیس سے 30 فیصد سستی ہوگی، آرایل این جی سوئی گیس سے مہنگی ہے، بل زیادہ آئے گے، آر ایل این جی مہنگی ہے لیکن آپ جو سیلنڈر استعمال کرتے ہیں اس سے سستی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پورے حلقے میں 20 سے 22 گاؤں ہیں جہاں پر گیس نہیں ہے، 29 کلو میٹر کی سڑک منظور کرائی ہے، جس سے آمدورفت آسان ہوگی، ایک ارب روپے کی مالیت کی سڑک کا کام جلد شروع ہوجائے گا، کوشش ہے کہ عوام کو گھر کی دہلیز پر صجت کی سہولیات ملیں، عزت اور ذلت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، ہار اور جیت بھی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
 
🤦‍♂️ اس گروپ کا یہ کام تو سب سے بہتر ہے لیکن اس کے بعد کی یہ بات تھی کہ رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی والوں سے معافی طلب کی، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنی سیاسی تاریخ میں جھوٹے مقدمات بنائے تھے اور اب وہ معافی مانگ رہے ہیں؟ اس کی صورت حال کو دیکھنا، پی ٹی آئی کا یہ کامیاب رہसیم کیا تو کس نے انھیں یہ عمدگی کرائی؟ ہم سب کو اپنے آپ کو اچھی طرح جاننا چاہیے، پی ٹی آئی کے کامیاب رہسیم میں شہباز شریف کے کردار کی بھی خاص توجہ دینی چاہیے، اس پر سیکھنا ضروری ہے
 
🤔 میرا خیال ہے کہ رانا ثنا اللہ کی بیان نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ انہیں ایسا مقدمہ بنایا گیا تھا جس کی سزا موت تھی، اس پر حکومت کی طرف سے ہلچل ہوئی اور وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں کہا کہ آئی بیٹھو اور بات کریں، لیکن یہ سوال ہے کہ اس سے پہلے کی گئی تلاقی کے نتیجے میں ان کے خلاف ایسا مقدمہ کیسے بنایا گیا؟ اور اس پر کیسے سزا دی گئی تھی جو موت کے ہاتھ سے لے کر سزائے موت تک جارہی تھی? 🤷‍♂️
 
Wow 😮 اور یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں انصاف کی پارٹی کی سوشل میڈیا پر اپنی جھوٹ پھنکیں کئی دن تک چلی رہیں گی؟
 
ٹھیک ہو گیا کیوں نا؟ شام کو سوشل میڈیا پر کچرے کھیلتے دیکھنا میرے لئے بہت خوفناک ہے، وزیر اعظم شہباز شریف نے رانا ثنا اللہ سے معافی کا مطالبہ کیا تو آگے چل کر انہوں نے شام میں بھی جھوٹی گالری شروع کی اور اس کے لیے بھی میرے خلاف مقدمہ بنایا جو 6 ماہ تک قید میں رہا! یہ تو پوری غیرت کا خاتمہ ہے، جب آپ اپنی حکومت کی معافی مانگتے ہیں تو آپ پر نرمی کی دھجیاں پڑتے ہیں اور آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ یہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) والوں کو بھی ملتا ہے جو اپنے خلاف جھوٹے مقدمے بناتے رہتے ہیں اور اس طرح کے ڈراموں سے انہیں بھی معافی حاصل نہیں کرنی چاہئیے
 
🤔 رانا ثنا اللہ کی کہانی سچ سچ رہی، پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر ’’اوئے‘‘ کلچرمتعارف کیا، لیکن وہ لوگ جو انہیں خلاف کرتے ہیں اس کو جھوٹا مقدمہ بناتے رہتے ہیں، اس کی بجائے معاملات کو بیٹھ کر حل کیا جا سکتا تھا۔ اور ان کے خلاف ایسا مقدمہ بنایا گیا جس کی سزا سزائے موت تھی 6 ماہ جیل میں رہا، اس سے ان کا عارضہ زیادہ بھرپور ہوا۔

میں نے پچاس کلاس میں اپنی گریجویشن کی تھی اور اس دوران ہمیشہ ایسے معاملات کو سمجھتے تھے جیسا رانا ثنا اللہ نے بیان کیا ہے، کہانی سچ سچ آئی جس کی وجہ سے وہ لوگ جو ان کے خلاف فتوحات کر رہتے تھے، اس کو جھوٹا مقدمہ بننے لگے اور اس سے بھی پی ٹی آئی نے مایوس ہونے کا موقع بن لیا۔
 
تمام لوگ دیکھ لیو، رانا ثنا اللہ کی بات سے متاثر ہونے کا کوئی حق نہیں، وہ ایسے جھوٹ بोलتے ہیں جو ان کی سیاسی زندگی میں لگ گئے ہیں، لیکن وہ بات بھول جاتے ہیں کہ وہ ایسے لوگوں نے ابتالا ہوا تھا جن پر وہ ظلم کر رہے تھے۔

لگتا ہے ان سے بات کرتے تو کچھ اور بات نکلتی ہو گی، بل्कہ وہ ایسا بھی کہتے ہیں جو لوگوں کو لگتا ہے کہ انہیں حق میں رہا ہے۔
 
🤦‍♂️👀 ایسے صورت حال سے نجات کا امید کرو، اس پر آسمانی نظر ڈالنا چاہئیے! 🌠

شہباز شریف کی سادقیت کو یہاں بھی دیکھنے میں آئی ہے، وہ پچاس سالوں سے politics میں رہے ہیں اور اب تک کچھ نہ کچھ مایوسیتا کے ساتھ رہے ہیں لیکن اب وہ اپنی توفیقوں کو دیکھتے ہیں اور اپنے پیارے نالے سے معاف کرنے کا کوشिश کر رہے ہیں 🤝

شاندار شان سے انھوں نے ایک عوامی اجتماع میں اس بات کو بھر پور اہلیت کی طرح اٹھایا کہ پی ٹی آئی کے لوگوں نے سوشل میڈیا پر ’’اوئے‘‘ کلچرمتعارف کیا اور اپنے مخالفین کے خلاف جھوٹے مقدمات بنایا ہے وہ بھی انھیں معاف کرنا چاہتے ہیں! 🙅‍♂️

لیکن یہ بات اچھی سے سمجھنی کی ضرورت نہیں ہے کہ وہی گروپ جو پی ٹی آئی کا عزم رکھتا ہے، ان کی بات کو بھی ایسا ہی سمجھنا چاہئیے اور ان کے ساتھ معافی کی وکالت کرنا چاہئیے! 🤝
 
اس گاڑی چلائی تو تو یہ بتایوں کی پہلی وہی ہے کہ شہباز شریف کے مشیر نے پی ٹی آئی والوں سے معافی مانگنی کی، اگر انھوں نے اس کا کہنا تھا کہ معافیت دیکھتے ہیں تو یہ بہت ہی بدسے ہوگا اور وہ پی ٹی آئی والوں کو اچھے سمجھتے ہیں، جبکہ شاہین تھانوی کا یہ کہنا کہ جس گریوٹ پر انھوں نے اس معافیت کی منگنی کی ہے وہ اچھی نہیں ہے، انھیں بہت زیادہ جھیلنے کا موقع دیا گیا ہے۔
 
بیس سے زائد سال ہوگئے ہیں، وہ چل رہا تھا جو اب اچھا نہیں لگے گا، میرے خیال میں شہباز شریف کے مشیر رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی سے معافی کی ایسی وعدہ دھونے کی کوشش کررہے ہیں جس کے بعد بھی انہیں پھنسی جاے گی، یہ بات تو واضع ہوگئی ہے کہ شام سے آئے لافروں والا ایک رانا ثنا اللہ پی ٹی آئی کے ساتھ تعلقات نہیں چاہتا، یہ اس وقت کی بات ہے جب انہوں نے اپنے آیس لینے کے لیے ایسا کیا ہوگا؟
 
رانا ثنا اللہ کی بات سے متعلق شہباز شریف کا یہ کہنا کہ معافی منگھنی کا مطالبہ کروا رہے ہیں، اس پر یہ کہنا کہ وہ ایسے لोग نہیں جو پی ٹی آئی کو ایک عوامی جماعت کے طور پر دیکھتے ہیں، ان کی بات سے تو ایسی رائے نہیں تھی جس پر وہ آپریشن میٹر کو شروع کر سکے، ان کی بات سے ایک بات یہ بھی آتی ہے کہ اس شخص کو آرمن منازع اور تحریک کی ساتھوں کی مخالفت کرنا پڑا تھا؟
 
🤔

جناب رانا ثنا اللہ کی بات سے معاف کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن انہوں نے واضح طور پر بتایا ہے کہ پی ٹی آئی نے جھوٹے مقدمات بنائے، اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ ان کے خلاف معاف کر دیا جائے گا بلکہ وہ اپنے خیالات کو پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے ملک میں ڈکیتوں اور مجرموں کے خلاف صراحت پسندی کی اور اس لیے انہیں نرمی سے نہیں دیکھنا چاہئیے بلکہ ملک کے بچوں کو گیس کی فراہم کرنا ہی ہمارا فرض ہے۔
 
🤔 رانا ثنا اللہ کا یہ کہنا ہوچکا کہ پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر ’’اوئے‘‘ کلچرمتعارف کیا، یہ تو حقیقی حالات ہیں اور انہوں نے اپنے خلاف بھی جھوٹا مقدمہ بنایا تھا وہ سچ کی بات کرتے ہوئے بتاتے ہیں، اگر اس وقت حکومت نے ان کے خلاف ایسا مقدمہ نہیں بنایا تو یہ کہنا مشکل ہوگا کہ وہ کیا کرتے تھے اور انہوں نے کیا کیا، لیکن یہ یقین دلاتے ہیں کہ جس رہنما کی حکومت میں وہ اپنا منصوبہ لگاتے تھے اور وہ بھی اس سے نافذ کرنے کی کوشش کرتے تھے وہیں تھے ہون्गے۔
 
یہ تو واضح ہو گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر ’اوئے‘ کلچرمتعارف کیا پھر بھی یہ لوگ جھوٹے مقدمات بناتے رہتے ہیں، وہیں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اسے ایسا لگتا ہے کہ ان کی ماحولیت میں ملوث ہونے والوں کو بھی اس طرح سے پہچانا جائے گا، لیکن یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ ان کی آنکھیں جو کہ لاکھوں لوگوں کے خلاف جھوٹے مقدمے بناتے رہتے ہیں وہ لوگ 6 ماہ جیل میں آنکھیں بھرتی ہیں، کیا یہ ناچ پڑتا ہے؟
 
😡 بھروپھر رانا ثنا اللہ کی بات سچ میں نہیں ہے، انھوں نے ان کے خلاف مقدمہ بنانے کی بات نہیں کی اور گریوز بھی نہیں دیں، انھوں نے صرف ان کے ساتھ معاملات کو لیٹ کر حل کرنے کی بات کی جواب دہے کہ پی ٹی آئی والے معاملات کو اس طرح بیٹھ کر حل نہیں چاہتے، انھوں نے ان کے خلاف جھوٹے مقدمے بنانے کی بات کی جواب دہے کہ یہ وہی معاملات ہیں جن میں پی ٹی آئی والے نے ملوث رہے ہیں، انھوں نے گریوز بھی کی جواب دہے کہ یہ وہی معاملات ہیں جن میں پی ٹی آئی والے کو ملوث رہنا پڑا ہوگا۔
انھوں نے ان کے ساتھ معاملات کو لیٹ کر حل کرنے کی بات بھی تو کرتے رہے جنھیں ان کے خلاف مقدمہ بنایا گیا تھا، انھوں نے کہا کہ میرے خلاف ایسا مقدمہ بنایا گیا جس کی سزا موت تھی لیکن اس میں وعدہ ہوا کہ مجھے معاف کر دیا جائے گا تو انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر مجھے معاف نہیں کیا جاتا تو اس میں بھی وعدہ ہوا کہ مجھ کو آٓزاد کیا جائے گا، انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر مجھے معاف نہیں کیا جاتا تو اس میں بھی وعدہ ہوا کہ مجھ کو دباؤ سے دور کیا جائے گا۔
 
انٹرنیٹ پر آج یہ دیکھنا مزید تھا مایوس کن، بھلا یہ رانا ثنا اللہ کو اب سے کیا کرنے دو؟ ان کی جانب سے ایسا کھلار ہوا تو آپ پر اور اپنی جماعت پر بھی اثرات پڑتے ہیں। وہ اس وقت کہیں نہیں گئے جو اس سے قبل کے جیسا کروڈ کر رہے تھے وہ لوٹ مار اور دیکھ بھال ہی کی دیکھنا نہیں چاہتے بلکہ ان سے اور اپنے ارکان سے لڑتے پائے جاتے تھے، اب تو یہ رانا ثنا اللہ واقف ہی نہیں بلکہ بھیڑ کا پیروکار ہو کر مظالم میں آنے کا منصوبہ لگا رہے ہیں۔
 
جی رانا ثنا اللہ آپ کی بات سے مشغول ہونے لگے تو پورے پاکستان میں گیس کے موتوت کو بکھیر کر ڈپریشن کا دور شروع ہو گیا ہے وہی کہتے ہیں جنہیں پچاس سو کی دہائی میں ڈالٹی گیس مل چکی تھی اب بھی ان کا دور نہیں ٹھوس ہوا ہے انہوں نے اپنے گھر میں سیلنڈر چھپایا رکھا اور ایسے ہی کہتے ہیں جو ڈالٹی گیس کو ہار بھگاؤں کے لیے کے ملا لگا رہا ہے وہی اسی روٹ پر چلتے جائیں گے۔
 
مگر یہاں کی سیاست سے کچھ تو کچھ تھوڑا چکر اٹھ گیا ہے، آپ دیکھتے ہیں وہاں رانا ثنا اللہ کی ایسی باتیں ہیں جو سہی نہیں کرتے ۔ اور اب شہباز شریف صاحب کی حکومت کے دور میں اس کھلے مظاہرے پر یہ نہیں چاہئیے کہ انہیں پی ٹی آئی والوں کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے جائیں، اسی طرح جو وہ پابندیوں کے طور پر دکھای رہے ہیں وہی میرا کبھی بھی نہیں ہوا ہوگیا۔
 
اکثر وزیر اعظم کی بیٹھ کر بات کرنے کی صورت نہیں چلی، یہیں تک کہ انہوں نے پچاس منٹ کی بیٹھک سے اپنی نظر کھینچ لی۔
 
رانا ثنا اللہ کی باتوں سے لگتا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے خلاف کیسے سaza mehsoos karte hain? unki baat hai ki sasa meh mehsoos nahi ho raha, unhone apne khilaf jhoota mudda banaaya tha aur ab voh apni baat kar rahe hain. lekin yeh sawal yeh hai ki yeh kaisi cheez hoti hai?
 
واپس
Top