راولپنڈی اور کوئٹہ میں دفعہ 144 کا نفاذ، نئی پابندی بھی عائد، نوٹیفکیشن جاری

ستارہ

Well-known member
پاکستان میں راولپنڈی اور کوئٹہ میں دفعہ 144 کا نفاذ و نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
راولپنڈی شہر میں دفعہ 144 ابھی تک نافذ تھا لیکن اب یہ 7 جنوری تک برقرار رہے گا جبکہ کوئٹہ میں یہ پابندی 31 جنوری تک نافذ رہے گی۔

ڈپٹی کمشنر حسن وقار چیمہ نے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں دفعہ 144 کی پابندی میں مزید 7 روز توسیع کی گئی ہے، یہ ابھی تک واضح نہیں تھا کہ دفعہ 144 کب سے برقرار رہے گا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق شہر میں جلسے اور ریلیوں پر مکمل طور پر پابندی عائد کی گئی ہے، لاؤڈ سپیکر اور اسحلے کی نمائش پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

دوسری جانب بلوچستان حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دیا ہے، نوٹیفکیشن کے مطابق یہ پابندیاں 31 جنوری تک جاری رہیں گی۔

دفاع کا ادارہ نے دفعہ 144 کے تحت موٹر سائیکل کی ڈبل سواری، اسلحے کی نمائش، منہ ڈھانپنے، جلسہ و جلوس اور ریلیاں نکالنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

دفاع کے اداروں نے نوٹیفکیشن میں مزید کہا کہ کالے شیشے والی گاڑیوں، نان رجسٹرڈ گاڑیوں اور موٹرسائیکل چلانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ یہ اقدامات عوامی تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کے لیے کیے گئے ہیں۔
 
اس میں تو ایک بات یقینی ہے دفعہ 144 سے پہلے بھی لوگ شہروں میں جلسوں اور ریلیوں کا आयोजन کر رہے تھے حالانکہ وہ منظم نہیں تھے، اب یہ بھی پتا ہے کہ شہروں میں پابندی عائد کی جائے گی اور لوگ اس پر انھماز کریں گے۔

لیکن دوسری جانب بلوچستان میں یہ سانس ہی ایک نئی بات ہے، کہ پابندیاں تو عائد کی جائیں گی لیکن ان پر تعینات نہیں ہونے والے لوگوں کا خیال ہوگا کہ یہ تمام کام چھپا کر ہوا۔

اس کے علاوہ شہر میں پابندیاں عائد کرنے سے نکل کر ہی ایک نئا Problem پیدا ہونگے اور یہ نھیں کہ لوگ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ پابندیاں شہر کی زندگی کو آگے بڑھانے میں مدد کرنگی، بلکہ یہ ایک نئی رکن ہوگی جو دوسری رکن نہیں چاہیگی۔
 
اس شہر میں دفعہ 144 کی پابندی کا یہ عالمی کھیل ہو گیا ہے 🤦‍♂️، کوئٹہ اور راولپنڈی دونوں شہروں میں لوگ دیکھ رہے ہیں کہ کس پابندی کی وجہ سے کسی گروہ نے دفعہ 144 پر چلنا بंद کر دیا ہو اور کس پابندی نافذ کی جائیگی۔ ابھی تک یہ واضح نہیں تھا کہ شہر میں دفعہ 144 کیسے برقرار رہے گا، اور اب یہ پابندیاں بھی توسیع کر رہی ہیں تو بھی ہے 🤔
 
تجھے لگتا ہے کہ دفعہ 144 کی پابندی میں بڑا بڑا مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے اور اب پوری نائٹ پارٹی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، یہ تو اس سے کوئٹہ میں بھی رکاوٹ کس کی ہو گی؟ اس لیے نہیں سمجھتا کہ عوام کو ان پابندیاں تو پہلے ہی دی گئی تھیں، اب ایسے سے چٹان اٹھائی جا رہی ہے؟
 
تمام دفعہ 144 سے بھاگنا انسفرٹنگ ہے، پھر یہ تم پر نچتا ہے کہ کیوں؟ پھر تم جس میں چل رہے ہو وہ کیا بے عذاب ہے؟ اس میں لگتا ہے کہ ایک دفعہ 144 تو سچ مچ ایک نئی جگہ مینے لائے، جہاں تم سب کو پہچاننا پڑ سکے جو تم نے کیا ہے۔
 
ٹیم میں بھی یہ بات چلتا ہے کہ کچھ پابندیاں بہت زیادہ ہیں اور لوگ دھونے سے پہلے ہی نکل جاتے ہیں؟ اب یہ دھونے کے لیے بھی پابندی عائد کی گئی ہے؟ یہ تو لگتا ہے کہ لوگ خود کو ڈھانپ سکتے ہیں اور ابھی تو دھونے سے پہلے بھی نکل جاتے تھے۔
 
😕🚫 دفعہ 144 کو پابندی عائد کرتے وقت، مجھے ذہنی رکاوٹ نہیں لگتی ہے، لیکن جب ایسی پابندیاں اور نوٹیفیکیشن کمیŞyon نے بھی کہا کہ ان میں مزید توسیع کر دی گئی ہے تو مجھے کچھ خوفزادہ محسوس ہوتا ہے، جبکہ صوبہ بلوچستان کی طرف سے دفعہ 144 کے تحت پابندیاں نافذ کرنے کی بات بھی اچھی نہیں لگتی ہے، اس پر عوام میں غم و شگفہ محسوس ہوتا ہے، سربازوں کے سامنے بھی لوگوں کی بے چینی اور خوف ناکارگی دیکھنا ہٹकے ہی ہی ہوتا ہے
 
آج بھی یہ بات unthinkable تھی کہ روپنڈی میں 144 کو برقرار رکھا جائے گا اور کوئٹہ میں نئی پابندیوں کا نفاذ ہوا گا 🤯 یہ بہت ہم وہش تھا، لیکن اب جب ہوا چکی ہے تو اچھا دیکھنا ہوگا کہ لوگ اس پر حیران نہیں رہیں گے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ پابندیاں لوگوں کی حفاظت اور قانون کی عادیات کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
 
ਇس نویں دفعہ 144 نافذ ہونے سے پہلے میں بھی شہر میں بے نظیر موسم رہا تھا ، مگر اب پہلی بار یہ دفعہ 144 7 جنوری تک برقرار رہنے والا قرار دیا گیا ہے ، اس طرح کوئٹہ میں بھی پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں ، مگر یہ سوچ کہ پابندیوں کی پڑتال زیادہ نہیں، تو انسAF کا خیرمین ایجنسٹی نے بھی دفعہ 144 پر پابندی عائد کر دی ہے ، ایسا نئی پابندیوں کے ساتھ ساتھ آئندہ سال 2025 میں انساف کا ایک نیا منصوبہ شروع کرنے والا ہوگا۔
 
واپس
Top