راولپنڈی سے پانچ سالہ بچہ کو ایک ہاتھ لگایا گئا زخم کا شکار ہوا۔ بھانجے اور والدہ کو شدید زخمی ہوئیں جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے واقعے کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔
پل سے گزرتے ہوئے ایک قاتل ڈور نے تھانے میں موٹر سائیکل پر بیٹھے بچے کی گردن سے لپٹ لی اور جس سے ان کا زخم آیا۔ وہاں یہ واقعہ ہوا تھا، ایک پانچ سالہ بچے کو شدید زخمی پائی گئیں۔
اس بچے کو بچانے کے لیے والدہ اور ہاتھوں بھی زخمی ہوئیں، لیکن شہرگزین بال بال بچ گئیں۔ اس پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے اور انہوں نے کمشنر اور آر پی او راولپنڈی سے رپورٹ طلب کر دی ہے۔
جب تک بچے کی وادی سے گزرتی ہوئے ہاتھوں بال بال چلے گئے تو یہ کیا محسوس کرتے ہیں? انھیں پوری زندگی رہنے کا ایسا بھی فرصت نہیں ملا جو وہ اپنی ماں اور والد کو پہچان سکے
ياارے یہ بے عمدی ایک کھلے دل کی بات ہے، کس کی ذمہ داری ہے یہ بتانے کے لیے کہ کوئی انسداد کرمی کیا کر رہا ہے؟ ایک بچے کو ہاتھ لگایا گیا زخم، والدہ اور بھانجے شدید زخمی ہوئے؟ یہ تو خوفناک ہے۔
یہ ایک پل سے گزرتے ہوئے واقعہ ہے، اور اس پر کوئی کھل کر تبادلہ خیال نہیں کیا جا رہا۔ بچوں کی Security system، پلاں سے گزرتے وقت ان کی Safety کا کوئی ध्यان نہیں؟ یہ تو ایک بڑی problem ہے جو ابھر رہی ہے۔
میں خواہش کرتا ہوں کہ یہ واقعہ کروپن ہونے پر نہیں چلا، تو ایک سادہ لوگ اس نے کر دیا ہوتا، مگر اب بھی نہیں چلا، اور یہ لوگوں کے دلوں میں خوف پڑ رہا ہے۔
آر ایچ ای او کو اس پر غور کرنا چاہئیے، اور بچوں کی Security system کو بہتر بنانے کے لیے نیا منصوبہ بنانا چاہئیے۔
عمر کا ایسا واقعہ ہوتا ہے جس پر آپ کو گلا لگاتے ہوئے چھوڑ دیا جائےga ... پانچ سالہ بچے کو موٹر سائیکل کے ہاتھ میں لپٹ کر زخم ہونے والا واقعہ بہت حیرانی کا ہے। اور والدہ کو شدید زخمی ہو گئیں... یہ تو ایک بڑا جھٹکا ہے، کچھ لوگ اٹھتے ہی سے گوئیاں و غاییاں کرنا شروع کردیتے ہیں...
اس دuniya میں بچوں کی安全ت کے لئے اور ان کے والدین کو سہارا دیا جائےga... یہ تو ایک بڑی بات ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب نے واقعے پر سخت نوٹس لیا ہے... ابھی یہ کہتے تہ، اور ابھی دیکھنا پڈا گا کہ وہ نوٹس کیا سا پرزہ ہو گئےga?
بہت بھگتانی کیا جا رہا ہے اس طرح کی غلطیوں کے لئے... پانچ سالہ بچے کی جان گئی! ماحولیات کو یہ محسوس کرنا چاہیے کہ ہر ایک انصاف اور ایمانت کا حامل ہو ، نہ کہ اپنی غلطی کی وجہ سے دوسروں کو بدترین ماحول میں لے جانا چاہیے!
تھانے میں یہ واقعہ ہونے کا پہلا خیال جو آیا ہے، لگتا ہے اسے ٹینک کی گاڑی کی تیز رفتار سے گزرنے کا اچانک وقفہ بھی کیا جا سکتا ہے… آج بھی رات میں میرا بچھوں بیٹھ کر گھر پر ٹیلی ویژن دیکھ رہا تھا، اور میں اس پر اس پریشانی کے ساتھ دیکھ رہا تھا جب تک ساینس فکشن کی ایسی چیپٹس نہیں آئی… پھر یہ جاننے کے بعد کہ میں کس پریشانی سے دوڑ رہا تھا، میرا سوچنا بھی تبدیل ہو گیا…
یہ واقعہ تو بھینس گئی ہے، ایک بچہ اپنی زندگی کے ساتھ کیسے چلوں؟ پانچ سالا بچو کو یہ زخم لگایا اور والدین کی جان بھی نہیں کھائی?! وزیر اعلیٰ نے تو واقعے کا نوٹس لے لیا ہے، لیکن اس طرح کی حادثات سے ہونے والے زخم سے ان کا کوئی منفید نہیں ہوتا?!
اس دھمکی والے ڈور کا یہ کردار تو بے مثال ہے، انھوں نے ایک معاشرے کی امانت پر پہلی قدم رکھ دیا اور اب وہ ساتھ ہی تھانے میں موٹر سائیکل پر بیٹھے بچے کو جس زخم دے رہے تھے، اسے فون کر کے ان کی ماں کو بتا دیا جبکہ وہ لوگ اپنے پہلو پر توجہ مرکوز کر رہے تھے اور ایسے ماحول میں بچوں کی بھال کا خیال تو نہیں کرتے ہیں
اس دوسری جانب یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ایسے واقعات ہوتے ہیں جو پوری سocity کو اٹھا کر رکھتے ہیں، لاکھ لاکھ لوگ اس سے متاثر ہو جاتے ہیں اور انkiے کے بعد بھی اس پر یاد نہیں رہتا।
کوئی بھی سائیکل راننے والا یا موٹر سائیکل چلانے والا اپنے خیال کیے بغیر کسی کو مار ڈالتا ہے، اس کے بعد یہ لوگ کہیں چل پڑتے ہیں اور پوری گریجویشن ہوتے ہوئے اس پر نظارت کھینچ لی جاتی ہے۔
ارے وہ ایک دوسرے کا بچنا چاہیے، نہیں یہ تو سمجھنے کی ناکام ہو گئے ہوں؟ پانچ سالہ بچے کو اسی جگہ پر موٹر سائیکل پر بیٹھ کر گردن سے لپٹ لیا گیا، ایسا تو ہوا ہی کیا جو کچھ رہا ہو گئا وہ یہ کہ دوسری جانوں کو بچایا جا سکے نہیں? وزیر اعلیٰ پنجاب کی یہ اور بھی بڑی بڑی بات چہر پر لگی ہے لیکن جہاں وہ اپنی بات کر رہے ہیں وہاں سے کوئی کہتا نہیں، شہرگزار بال بال گئے تو یہ تو کیا کہے؟
اس کی بات سے ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ پانچ سالہ بچے کو شہرگزار نہیں بنایا جا سکتا، لیکن وہ اسی جگہ پر بیٹھ کر گردن سے لپٹ لی گئی تو اس کی پوائنٹ کیا؟ یہ کس کی ناکامچی ہوئی?
اس واقعے پر غصہ نہیں لائیا جائے بلکہ اسے ایک تطبیقی واقعہ سمجھنا چاہئے۔ وہ بچہ پوری دنیا کے سامنے ہوا تاکہ کسی بھی نوجوان کو اپنی زندگی کی اہمیت کا احساس ہو سکا ہو جس سے ایک نوجوان کے ذہن میں بھی ایسی گaltiyon پر پہلنہ نہ لگے۔
یہ دکھائی دیتا ہے کہ سائیکل پر بیٹھنا بھی ایسے لوگوں کو خطرے میں لاکھا دیتا ہے جو انہیں نہیں سمجھتے کہ ان کے ہاتھوں زخمی ہوتا ہے۔ سائیکلز کو ایسی لوگوں تک پہنچانے سے بچانا چاہیے جو انہیں سمجھتے ہوں کہ وہ زخمی ہوتے ہیں۔
ایسے دھمکاوں کا ایک نئا واقعہ پانچ سالہ بچے کی جانب سے سامنے آ گیا جو کہ راولپنڈی میں ہوا، یہ تو بہت ہی دھمپ ہوئی اس واقعے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب نے سزائش کا ایک نوٹس لینا پڑ گیا۔
جیسے ہی یہ واقعہ سامنے آتا ہے تو ایک سوال کھڑا ہوتا ہے کہ اس نے جب ہوا تو وہ بچہ کس کی پرہیز گریفت نہیں کر سکا جو کہ بھی دہشت گردی کی ایک نئی پہل ہو رہی ہے۔ یہ تو بچے کو اور ان کے والدین کو بھی شدید زخمی ہوئیں، یہ واقعہ نہ سایہ کی بات ہے بلکہ ایسا کچھ بھی نہ ہو سکتا جس سے پورا شہر آگ لگائی دے۔
یہ بھی ہوا بھی چلو کیا وہ پلاسٹک کی ایک سیریز بنتی ہے جس میں انڈین ایکسپریشن کو سنیا جائے تو وہ کیسے جواب دیتے? یہ بھی نہیں بلکل یہ کہیں کے ہوا، پھر اب یہ چل رہی ہے، اور اس سے کیا فیصلہ نکلتا ہے؟
ایک ایسا واقعہ جیسا کہ یہ ہوا ہے وہ بھی سوچو کیے نہیں کہ شہر گزرتا رہے چکا ہے۔ پانچ سالہ بچے کو ایک ہاتھ لگایا گئا زخم تو اتنا ہی کافی نہیں کہ وہاں کی تینوں افراد اس سے بھی بچ نہ سکیں؟ یہ شہر گزرتا ہے اور ان لوگوں کو جس سے سایہ میں کے وہاں تک نہیں پہنچتا ۔
عجیب کچھ ہوا لگتا ہے، پانچ سالا بچے کو اس तरह سے زخم لگایا گئا! والدین کی قربت نے بچے کی جان ساچی جانی چکی ہیں اور وزیر اعلیٰ کا ایسا کیا رکھنا تو بھی ضروری تھا۔ اس طرح سے کوئی بھی واقعہ ہو اس میں سے کوئی نہیں ساتا چلا جائے।
یہ ایک بے حد خوفناک واقعہ ہے! میرا غور کرتے ہوئے، یہ دیکھنا مشکل ہے کہ اس طرح ایک بچے کو زخمی کیا جاسکتا ہے اور اس پر شہرگزین کر دیا جاتا ہے۔ یہ ایک بڑی بات ہے کہ آپ کی سائنس کی تALEMے میں بچوں کو سڑکوں پر چلنے کے لیے ہر ایسے وقت کو طے کرنا چاہیے جب یہ خطرہ موجود ہو۔
مریے دھنڈوں میں ایسا بھی واقع ہوا جیسا ہوا یہ، بچوں کی لالچی اور غلط فہمی کو کبھی نہیں پہچانتا تھا۔ مریے لڑکے کے زماں میں ایسا ہوا جیسا یہ ہو رہا ہے، اور اب بھی اس کو سونا نہیں چاہئیے بلکہ وہ اس کے لئے ایک ساتھ ہو جائے تاکہ وہ ایسی غلطی نہیں کریں اور اپنے ماموں کو بھگتی نہیں بنائے۔
اچھا تو یہ واقعہ انتہائی تباہ کن ہے، پانچ سالہ بچے کو ایسا سایہ لگایا گیا ہے جو دل کی گہرائیوں میں بھی گہرا ہے۔ والدین اور بچے کا یہ واقعہ ان کے لیے کتنی تکلیف دہ تھا، وہ جس سے پانچ سالہ بچے کی گردن سے لپٹ لی گئی ۔
ایسا تو ہوتے ہوئے اور بھی ہوگا، کہیں جہاں یہ واقعات نہ ہوتے تو دنیا کو چالاکوں سے بچانے میں مشکل ہوتا۔ لیکن ہمیشہ سے ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جس سے اسے روکنا مشکل ہوتا ہے، لیکن ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ یہ تو کیسے اچھی طرح سے ختم کر دیا جائے گا۔
یہ سب بھی ہی چلنا پڑا، ایک دوسرے کو بھگتنا پڑا۔ بچوں کے مستقبل کی اور اسے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ان پر کیا دباو چل رہا ہے۔ ڈور بھی ایسے لوگ ہیں جو بچوں کی زندگی کو ناقص کرنے پڑتے ہیں۔ شہر کے ساتھ ساتھ انہیں ہمیں بھی ایسا ہی سمجھنا چاہئے۔