rawalpindi during jirga firing two people killed | Express News

فٹبالر

Well-known member
راولپنڈی کی ایک تاریک واقعت: لین دین کے معاملے پر جرگے میں فائرنگ، دو شہید

جلستان کالونی میں ایک سول لائن کے علاقے میں ایک لین تھری کی گلزار مارکیٹ میں ہونے والی جسیرگی نے کبھی نہیں دیکھا، کھلے جھگڑے کے بعد فائرنگ ہوئی اور دو افراد کو قتل کردیا گیا۔

تھانہ سول لائن گلستان کالونی میں یہ واقعہ ایک سول لائن کے علاقے میں ہوا، جس پر شادیوں اور لین تھری کی گلزار مارکیٹ کا کام کرنے والے لوگ تعلق رکھتے ہیں اور ان میں سے دو افراد نے ایک دوسرے کو قتل کردیا۔

ان دو افراد میں حسن بٹ اور عثمان ظہیر شامل تھے، جو اس کے رشتوں سے تعلق دار ہیں۔ فائرنگ کے بعد ان کو لاشوں کو ریسکیو اور اسپتال منتقل کرکے شواہد اکھٹے کیے گئے، جس میں سے ایک نے دم توڑ دیا تھا اور دوسرے نے شدید زخمی ہوکر ٹھیک ہونے سے بچتے ہوئے جانتے تھے کہ وہ اپنے فiring سے یہاں پہنچیں گے۔

فائرنگ کے بعد ملزم نے فرار ہو کر مقام پر پہنچانے سے پہلے ڈی ایس پی سول لائنز کو بتایا کہ وہ ملوث ہیں اور کبھی اٹھ نہیں سکا، ان کی یہ خبر نے پولیس کو اس کے رشتوں پر تحقیقات کرنے پر مجبور کیا، اور وہ ملزم کو فوری طور پر پکڑتے ہوئے قانون میں لانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
 
اس کا انساف نہیں ہوا تو یہ ایک دوسرے کو قتل کرنے کا ایک چھوٹا سا جواز بن جاتا ہے، نہ تو پورے شہر میں لین تھری کی گلزار مارکیٹ پر پابندی لگائی جائے اور نہ ہی اس طرح کے معاملوں میں یہ سارے لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے کا انصاف کر سکتے ہیں، ان دونوں کے رشتوں کی جائزے ہی نہیں لی گئی اور اس طرح ہوئے معاملوں پر لہر پائی گئی تو پوری تاریکی ایک سول لائن کا ایک شہر میں ٹھیلا ہوا ۔
 
اچھا تو یوں اے۔ یہ لین تھری کی گلزار مارکیٹ میں ہونے والی جسیرگی ایک بہت سارے کھلے جھگڑوں کے بعد ہوئی، مگر وہاں ان لوگوں کو ملوث نہیں بتایا تھا کہ اُن میں سے کسی نے دوسرے کو قتل کر دیا تھا، یہ بھی تو پتہ چلتا ہے کہ ان دو شہیدوں میں سے ایک نے اپنے فائرنگ کی وار کے باوجود دم نہ توڑا اور دوسرے نے شدید زخمی ہوئی، اور ان دونوں کو اس مقام پر ایسے ہی یاتھا جیسا کہ وہ اپنے فائرنگ سے یہاں پہنچتے ہیں، یہاں پر ان دونوں کو ایسا سامنا کرنا پڑا جو نہیں چاہتے تھے۔
 
یہ واقعات کے بعد بھی یہ سوچنا ایسا ہی بھی اچھا نہیں کہ جب تک پولیس کی جانب سے کچھ نہیں ہوا تو ہم لوگ ان شخصوں کو مارنے پر یقین کرتے تھے لیکن اس میں وہ ملوث تھے جسے اب پتہ چلا ہے اور اچھا نہیں ہوا، یہ بات ہمارے لئے Lesson ہو سکتی ہے کہ دیکھنا ضروری ہے کیونکہ دیکھتے ہی نہیں تو آپ اس طرح کے واقعات پر شکار ہوسکتے ہیں
 
یہ واقعہ بہت دکھدکا ہے! دو انسانوں نے ایک دوسرے کو مار کر دیا، اور اس کے بعد ملزم فرار ہوا۔ میرے خیال میں یہ وہی حال ہے جس سےHumSaysaykaatamonkoKartaHai,اس سے بھی کچھ نہیں آتا، پھر کیا ہوتا؟ اور یہ بات کوئی بھی دیکھ کر نہیں سکتا، اگر تو ان لوگوں کی ایک جانب سے فائرنگ ہوئی تو دوسری جانب پہنچ گئی اور اب وہ ملزم ہو کر گریڈز کھا رہے ہیں۔ اگھر میں پانی نہیں، مگر لوگوں کو یہ سب سننا ہوتا ہے، تو کیا ہوتا؟ اس کی خلاف ورزی کرنے والوں پر پورے ملک کے سامنے بات چیت کروائی جانی چاہیے، اور ان کے خلاف اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
 
یہاں تک کہ راولپنڈی میں بھی اچانک جانپت پڑنا شروع ہوئی ہے، جیسا کہ 80وں کی دہائی میں جو کھلے جھگڑے اور مظالم رونما ہوئے، اب وہی سیر شامیل کر رہا ہے۔ دو شہید جنہوں نے اپنی جان قربانی کروائی، انہیں جو یہاں تک پہنچا سکتے تھے وہ اسی طرح کی حقیقت کی لہر میں میرا ہو گئے تھے۔
 
اس ساہمنے یہ واقعہ بھی آیا ہے جس نے ملعون کو شگفتہ دیا تھا، اس کے بعد یہاں کی لین دین کے معاملات میں ایک سól لائن پہنچ گئی اور پہلے سے تو ہوئی پہلے تھی، ابھی وہاں دو شہیدوں کی مہnga ہو چکی ہے اور وہ یہاں سے کبھی نہیں آئے گے، ان کے رشتوں پر پولیس کو پہنچنا پہلے تھا جو اس کے بعد ہوا تو وہ ملزم کی جگہ پر پہنچ گئیں، اور اب وہاں ایک سól لائن نے اپنی پہچان کر ان تمام گلاساریوں کے سامنے ٹھہرائی ہوئی ہے، یہ رشمی یہاں کی جھگڑے کی تینوں سے بھر پور ہو چکی ہے اور اب وہاں ہونے والی کثرت نے شہد کو بھی جھڑک دیا ہے
 
بہت دیر تک یہ بات چیت نہیں ہو سکتی جو اس واقعے سے ملتی ہے کہ جسیرگی اور لین تھری کی گلزار مارکیٹ میں ہونے والی فائرنگ، ان لوگوں کو تو کبھی نہیں دیکھا جیسا پہلے بھی کئی بار ہوا ہو گا کی وہ لوگ ہمیشہ ایسے حالات میں پڑتے ہیں جو کہ نہ صرف ان کے لیے، balkی یہ سارے لوگوں کے لیے بھی problematic ہوتا ہے۔
 
یہ واقعہ بہت گھنڈا ہوا، دو افراد کو قتل کردیا گیا، یہ سچمں نہیں کہیں میں نہیں رہتا بلکہ پوری دنیا جانتے ہوں گے ان لوگوں کی کھوب۔ وہاں تاریکی لگتی ہوئی، لین تھری کی گلزار مارکیٹ میں ایسے واقعات کیسے ہوتے ہیں؟ سول لائن کے علاقے میں بھی دوسرے نسل کے لوگ رہتے ہیں، اس طرح کی واقعت کو انساف نہیں ملے گا بلکہ یہ ایک نئی طاقت کا دور چل رہا ہے۔
 
🚨 اس واقعے سے متعلق جांچ کے ذریعے یہ معلوم ہوا ہے کہ لاہور میں لین دین کی بستیوں اور تھانہ شادیوں کے علاقوں میں ایسی تاریک واقعات زیادہ دیکھے جاتے ہیں۔

اس واقعے کے بعد سے لین تھری کی گلزار مارکیٹ کے علاقے میں ایسے معاملات کا خاتمہ ہوا ہوگا جیسے اس پورے علاقے میں لین دین کی بستیاں سیلاب کے بعد کئی سالوں میں نہیں دیکھی گئیں।

اس واقعات سے یہ بات بھی آئی ہے کہ اس علاقے میں رکاؤٹ ہونے کی وجہ سے لوگ اور ان سے ملنے والوں کو اپنی زندگیوں کا خاتمہ کرنا پڑا ہے، حالانکہ یہ ایک تاریک واقعہ ہے لیکن اس کی جگہ سے لین تھری کی گلزار مارکیٹ کا کام بھی اچھا چل رہا ہوگا۔

اس واقعے کے بعد یہ بات بھی پتہ چلی ہے کہ لین تھری کی گلزار مارکیٹ پر ایسے علاقوں میں کاروبار کرنے والے لوگ اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
 
یہ واقعہ تو بہुत ہی گھناسارا ہے... جسیرگی وچ دو افراد کو قتل کردیا گیا، اور پھر ملزم نے ڈی ایس پی کو بتایا کہ وہ ملوث تھے، لیکن یہ بات تو یقینی ہے کہ وہ پہلے سے اس کے بارے میں بھی کیا نہیں کیا... کبھی اٹھ کر اسے پچھا کیا تھا، یا پھر تو سچمے کیوں نہیں کیا؟
 
اس جواب میں یہ سوچنا زیادہ اچھا نہیں ہوگا کہ اس نئے معاملے میں پورے شہر میں ایک اور شہید ہو گیا ہے، اب تک یہ شہر ایسے حالات پر چل رہا تھا کہ اس میں کسی کی زندگی بھی معاف نہیں ہوسکتی ۔
 
واپس
Top