راولپنڈی میں ایک ایسا واقعہ آیا جس نے شہر کی رہائش کاروں کو کھاتے بھاق کر ڈرایا۔ دوسری جگہ پر بھی وہ جو پہلے سے ٹھیک تھا اس پر بھی حملہ کرنے والے نے جب ان کے چہرے اور ٹانگوں پر زخم دیے تو وہ شدید زخمی ہوگئے۔
جنگلی جانور گیدڑ نے بچے کو ایسا ڈھول دیا جس سے وہ نالوں میں ڈوب کر ہلا رہے تھے اور ان کے ماں کو پھرنے پھرنے والی جسمانی صحت کو بھی نقصان ہو گیا۔
پولیس اور ریسکیو ٹیمیں بے پناہ ہوئی اور فوری طور پر جائے وقوع پر تیزی سے پہنچ گئیں اور رےسکیو میڈیکل ٹیم نے ان دونوں کو بھیجتے ہوئے وہاں سے کامیابی سے نکلایا۔
بچے اور ماں کی صورت حال اب بھی گंभیر ہے اور ان کی صحت کا معلقہ ہمیشہ کے لیے حل نہیں ہو سکتا۔
اس واقعے پر سوچتے وقت میں مجھے یہ سوال آتا ہے کہ اس جگہ کی سرگرمیوں نے شہر کی رہائش کاروں کی زندگی کو کتنے حد تک متاثر کیا ہے؟ ان بچوں کا یہ واقعہ ان کی future کو کیسے afect karta hai? اور ان مااملوں کے لئے جو فوری طور پر اٹھتے تھے ان کی زندگی بھی کیسے تبدیلی سے محفوظ رہ سکتی ہے؟
اس واقعے پر بھی یہی بات کہی جائے تو میں ان کے دلوں کو سمجھ سکتا ہوں لیکن ان کی اور ان کے باپ کی اچھائی تو ہے لیکن اس طرح کی صورتحال میں کوئی لابک نہ ہوا کرے! میں فوری مدد اور سہولت پر زور دیتا ہوں لیکن ایسے حالات میں پوسٹ ڈنگ ایمبولین بھی کیا جاسکتا ہے؟ اور یہ بات تو کی ہے کہ ان نالوں سے نکل کر وہ کس طرح سے چل پائے?
اس واقعے کی بے وقفیت تو پوری دنیا میں مشغول ہوئی ہے، مگر مجھے یہ سوال اٹھانا چاہئے کہ اگر وہ شخص جس نے بچے کو اس طرح زخم دیا، وہ کیا گزشتہ کچھ دنوں سے پریشانیوں سے دوچار تھا؟ اور ان پریشانیوں نے اس پر کتنی بری جھلمی کرائی ہو گیا ہو، یہ تو ہمیں بہت زیادہ ڈر سائن دے رہا ہے۔
Wow , یہ واقعہ ایک بدسobaہ کار کی ہے جس نے نالوں میں بچے اور اس کے ماں کو ڈوب کر ہلا دیا! گیدڑ کی اہلیت بے مثال ہے, یہanimal nahi hota jisey gairikar ke saath milna chahiye! Interesting
یہ وہ واقعات ہیں جو ایسے دوسرے ملک میں بھی ہوتے ہیں جب لوگ ان کو بھول نہیں پاتیں اور اس کے بعد وہاں رہائش کی قیمتیں بھی ہیں اور یہ ڈرامہ انچ سے ہوتا ہے جو آپ کو جیتنا نہیں پاتا وہاں تک کہ آپ اس میں اپنی جان بھی جائے گے... ~_~
یہ واقعہ ایک بے چینی ہے، کوئی بھی انسان اس طرح کی بے چینی کرنے میں نہیں اٹھ سکتا۔ شہر کے لوگوں کو اس جگہ پر جانے پر وہ ایسا ڈھول دیا، ایک بچے کی ماں کا معذور شخص، ان سب کی زندگی کو کھانے پھانے کر رہا ہے۔ پلییس نے فوری طور پر اترا، ریسکیو ٹیم نے بھی اترنے میں تیز گریٹس لگائی، لیکن جب تک وہ کامیابی سے نکلے تو اس شہر کی صحت کو یہاں تک بھی نقصان پہنچنا ہو گیا۔
یہ واقفہ دہلی کو یاد کرائیڈیٹ: اُس وقت کی طرح پھر بھی کسی نے بچوں کو کھاتے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ پہلے سے ٹھیک تھا تو اب ہو نہیں گی تو اس سے پہلے بھی اس بات کی کیا تکلیف تھی؟ اِس واقعہ کی انفرادی اور سماجی اہمیت کو کم کرنے کی ضرورت ہے
یہ واقعہ بہت ہی دुखدہ اور پریشان کن ہے! شہر میں ایسی صورتحال کیسے پیدا ہوسکتی ہے جو لاکھوں کی ذانی ہو سکتی ہے؟ یہ جاننے کا محنت نہیں بھی اچھی اور یہ سارے واقعے کس کی واجبیت ہونگی? لاکھوں لوگوں کو اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر اس پر چلنا کیسے؟ یہاں تک کہ ایک جانور بھی نہیں بھرپور اور جاندار بن کر اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے!
عجیب عجیب بات یہ ہوئی چھوٹے بچے کو ایک جنگلی جانور نے بھاگ کر کھاتے اور پھر لگایا تھوڑا دیر پہلے تو اس گیدڑ نے ایسا ڈھول دیا تھا جو اب وہ پانی میں ڈوب کر ہلا رہا ہیں اور ماں کے جسم پر بھی زخم پڑ گئے ہیں یہ کیا ہوا۔
مرہم یے وہ واقعہ ہوا جو مجھے بھی تیز پگھلنے لگا ہے ... کچھ محنت کرنے والے کو ایسا ہی ہوتا ہے کیوں کہ وہ جسمانی طور پر بھی اچھا نہیں تھا مگر انھوں نے اپنے ہی وہاں سے ایک گیدڑ کو مار کر اس چلچلے کی لڑائی سے بھاگنا شروع کیا اور بعد میں وہ بھی ایسا ہی ماریا گیا جیسا جے اس نے بھی کچھ کیا تھا ... مجھے یہ پتا چلا ہے کہ یہ گیدڑ وہی تھی جو ان کے گھر سے نکل کر ایسے کھاتے بھاق میں ڈال دیتا رہا تھا ... مجھے متاثر کرنے والی بات یہ ہے کہ اس گیدڑ کو مارنا چاہے بچوں یا ماں کے لیے اور پھر ان کی صحت کا معلقہ ہمیشہ کے لیے حل نہیں ہوسکتا ...
یہ واقعہ بہت دباؤ لگ رہا ہے... کیا یہ شہر کچھ اور نئی جانب کرنا چاہتا ہے؟ پہلے تو یہ شہر ایسے ہی تھا جس میں لوگ بھرو بھرو کھانے کھاتے اور پھر فوری سے نکلتے ہیں، اب نہیں تو یہ جانور شہر میں آ رہا ہے اور لوگوں کو ان کے لیے فریوڈ کھیلنا پڑتا ہے
یہ بچے کی ماں کو ہمیشہ کے لیے نقصان پہنچایا ہے، اب اس کا معلقہ ہمیں کس طرح بتائی دے گا؟ یہ پوری دنیا کو اٹھاکar آ رہا ہے...
یہ واقعہ تو بہت وحشیانہ ہے! گیدڑوں کو کھاتے بھاق کر ڈرایا جانا تو ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اب یہ دو اچھے لوگ نالوں میں ڈوب کر ہلا رہے ہیں اور ان کی ماں کے لئے بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ پولیس نے بے پناہ ہوئی اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر پہنچ گئیں تو اس کا شکر کریں۔ حالات اب بھی گंभیر ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ان دو کی صورت حال بہتر ہونے کی ایک نئیHope ہو
ارے ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جیسے آپ بھی کھانے پینے کے بعد واپس آئیں ۔ اس نے جو شخص کو یہ واقعات دیکھنا پڑا وہ تھوڑا سا بھی دھی کیا جاتا۔ ماں اور بیٹے کو ایسا ڈولیا دیا گیا، ایسا نالوں میں آن کر اس جگہ تک پہنچنا پڑتا ہے جو بھی حالات سے بھی وہی کہہ دیتے ۔
یہ واقعہ ٹھیک نہیں ہوگا، پھر بھی مجھے یہ کہنا تھا کہ رولپنڈی میں ایک چیز بھی نہیں ہوتی جو سچمچھی نہیں ہو۔ وہ گیدڑ جس نے ان چھوٹلے کو پہچانا، اس کا کیا مقصد تھا؟ یہ تو ایک واقعات ہی نہیں بلکہ ایک حقیقت کی جڑی ہوئی ہے جو ہمیشہ سے موجود تھی اور اب بھی موجود ہے۔
ماں بچوں کو یہ کیسے محسوس کرنے دیا، اس بات کی کوئی بات نہیں جو وہ ان سے پوچھ سکتی ہے، لیکن اب بھی میں سوچتا ہوں کہ یہ کیسے ہوا اور یہ کیسے حل ہونا چاہیے؟ یہ تو ایک سوال ہی نہیں بلکہ ایک حقیقت کی جڑی ہوئی ہے جو ہمیشے سے موجود تھی اور اب بھی موجود ہے۔
یہ واقعہ میرے لئے بہت خوفناک ہے. پہلی بار میں سمجھنا مشکل ہے کہ کس قدر زبردست اور خطرناک جانور گیدڑ اور اس کی جاروں نے اس شہر پر حملہ کر دیا ہے. وہاں کے لوگوں کو بھی یہ واقعہ پھنسایا ہے. میرے خیال میں اس کا انصاف کیا جائے گا، اس کی جांچ کرتے ہوئے مگر یہ بات بھی یقینی نہیں کہ وہ شخص جو اس واقعے میں مدد کرتا تھا اب بھی سہی اور درست رہے گا.
اس واقعے پر یے تو کیا ہوا؟ اس گیدڑ کی عجیب عجیب چال کتنی بدلی ہوئی ہے۔ بچے اور ماں کو یہ دیکھنا ہمیشے پر دھکے دیتا ہے۔ پھر بھی ان سے ایسا بھی کیا نہیں ہو سکتا، اچھا تو ان کو نالوں میں ڈوب کر ہلا رہتے دیکھنا اور ماں کو پھرنے پھرنے والی جسمانی صحت پر نقصان لگنے کی خبر نہیں تھی، لیکن کیا یے ہوا تو کچھ سا بھی بدل گئی۔
عجیب جہت کا واقعہ ہوا تو بھی اس پر فوری کارروائی کرنا چاہئے اور بچوں کی صحت کو پہلے priority दينا چاہئے۔ ایسے ماحول میں رہائش کرتے ہیں تو پالیسی اور انفراسٹرکچر پر توجہ دینا چاہئے اور اس طرح سے ناواقف شہریوں کو بھگڑنا نہیں چاہئے۔