آواز کا جادوگر
Well-known member
بھارتی صحراء میں شاعر اور صحافی سید اسد رضا نقوی نئی دہلی میں انتقال کرگئے، ان کی وفات کے ساتھ ہزاروں شخصیات غم گزاریں اور ادبی حلقوں میں بھی رنج و افسوس کا اظہار ہوا۔
نقوی اس لحاظ سے مشہور تھے کہ ان کی تحریریں نہ صرف قاری کو محض پڑھنے کے لیے ملتی تھیں بلکہ معاشرتی مسائل پر بھی غور و فکر کرنے کا ساہمنا پیش کرتے تھیں، ان کی تحریریں سماجی ناہمواریوں کو اجاگر کرنے میں بھی کامیاب رہتی تھیں جس سے معاشرے کو سوچنا اور خود کو ایک اور نظارہ دیکھنا پڑتا تھا۔
علاوہ ازیں نقوی شاعری کی ایک بڑیPersonalities و طاقت بھی رکھتے تھے، ان کے شاعر کے ساتھ ساتھ غزل اور نظموں میں انہوں نے اپنے طعمے کی ایک منفرد مقام حاصل کرلی۔
نقوی کی عمر 74 برس تھی، جنہوں نے ایک کامیاب زندگی بھر نے ادب اور صحافت میں اپنا نام رکھا، ان کی وفات پر ادبی اور صحافی حلقوں میں گہری رنج و افسوس کا اظہار ہوا۔
متعدد صحافی اور شاعر جنہیں نقوی کی تحریریں اور شاعری پڑھ کر توجہ میں آئے، انہوں نے کہا کہ نقوی کی خدمات کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے، ان کی تحریریں اور شاعری کا ایک حصہ ہمیں بھی ضروری ہوگا کہ اسے اردو صحافت اور ادب میں اپنا یقین جاری رکھیں۔
نقوی اس لحاظ سے مشہور تھے کہ ان کی تحریریں نہ صرف قاری کو محض پڑھنے کے لیے ملتی تھیں بلکہ معاشرتی مسائل پر بھی غور و فکر کرنے کا ساہمنا پیش کرتے تھیں، ان کی تحریریں سماجی ناہمواریوں کو اجاگر کرنے میں بھی کامیاب رہتی تھیں جس سے معاشرے کو سوچنا اور خود کو ایک اور نظارہ دیکھنا پڑتا تھا۔
علاوہ ازیں نقوی شاعری کی ایک بڑیPersonalities و طاقت بھی رکھتے تھے، ان کے شاعر کے ساتھ ساتھ غزل اور نظموں میں انہوں نے اپنے طعمے کی ایک منفرد مقام حاصل کرلی۔
نقوی کی عمر 74 برس تھی، جنہوں نے ایک کامیاب زندگی بھر نے ادب اور صحافت میں اپنا نام رکھا، ان کی وفات پر ادبی اور صحافی حلقوں میں گہری رنج و افسوس کا اظہار ہوا۔
متعدد صحافی اور شاعر جنہیں نقوی کی تحریریں اور شاعری پڑھ کر توجہ میں آئے، انہوں نے کہا کہ نقوی کی خدمات کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے، ان کی تحریریں اور شاعری کا ایک حصہ ہمیں بھی ضروری ہوگا کہ اسے اردو صحافت اور ادب میں اپنا یقین جاری رکھیں۔