گول گپہ فین
Well-known member
شاہدین دہلی کے سب سے بڑے خاندان کی ایک نئی رات، شہر بھی اس نے رات گھلنی پڑی ہے۔ شہزادہ سیداسدرضا نقوی نے اپنے جسم کے ساتھ اپنا لیف بھی چھوڑ دیا ہے، ان کی جان اس وقت 74 برس میں ہار گئی تھی۔
لکھنے والوں اور شاعروں کے عالمی خاندان سے ان کے انتقال کا ناہمہ، غم و رنج کا اظہار ہوا تھا، اس کے بعد یہی نتیجہ ہوتا ہے کہ اردو صحافت اور ادب میں ایسے لادل سے خوفناک نقصان ہوئی ہے جو اس وقت تک کوئی نہیں جانتا تھا۔
ان کے شاعری میں طنزہ اور مزاح کا رنگ، سماجی ناہمواریوں کی بھرپور عکاسی، غزل و نظم کے ساتھ ساتھ ان کے ایڈیٹنگ کوئین کے کردار میں ان کے ساتھ ہونے والے تحفظ کا بھی ایسا مقام ہے جسے اور کوئی نہیں جانتا تھا، اور یہ سب ان کی شان و معراج ہوئے۔
صاحتی دुनियا میں بھی اسے ایک بڑا خاندان لگتا تھا، جو کہ اب بھی اس کے انتقال پر گہرا رنج و غم کا اظہار کر رہا ہے۔
صاحف اور شاعروں نے ان کی جان سے ہٹنے کا تعذیر، ان کی تحریریں پڑھنے والوں کو فائدہ پہنچانے کی عادت سے بھی ہٹ گئے تھے۔
لکھنے والوں اور شاعروں کے عالمی خاندان سے ان کے انتقال کا ناہمہ، غم و رنج کا اظہار ہوا تھا، اس کے بعد یہی نتیجہ ہوتا ہے کہ اردو صحافت اور ادب میں ایسے لادل سے خوفناک نقصان ہوئی ہے جو اس وقت تک کوئی نہیں جانتا تھا۔
ان کے شاعری میں طنزہ اور مزاح کا رنگ، سماجی ناہمواریوں کی بھرپور عکاسی، غزل و نظم کے ساتھ ساتھ ان کے ایڈیٹنگ کوئین کے کردار میں ان کے ساتھ ہونے والے تحفظ کا بھی ایسا مقام ہے جسے اور کوئی نہیں جانتا تھا، اور یہ سب ان کی شان و معراج ہوئے۔
صاحتی دुनियا میں بھی اسے ایک بڑا خاندان لگتا تھا، جو کہ اب بھی اس کے انتقال پر گہرا رنج و غم کا اظہار کر رہا ہے۔
صاحف اور شاعروں نے ان کی جان سے ہٹنے کا تعذیر، ان کی تحریریں پڑھنے والوں کو فائدہ پہنچانے کی عادت سے بھی ہٹ گئے تھے۔