بانسری والا
Well-known member
ترجمانِ شادی کی تقریب میں ایک نوجوان نے بھارتی روپے کے لاکھوں سے جوڑی ہوئی جہیز کو انکار کر دیا ہے، جو اس وقت تک بھرپور داد اٹھانے والی گئی ہے جب تک کہ اس نے صرف ایک روپیہ قبول نہیں کیا۔
مظفرنagr ضلع کے اودھیش رانا کی شادی 22 نومبر کو ہوئی تھی، جس میں جوڑا گیا ملازمت والے شہاب الدین پور گاؤں کی رہائشی ادیتی سنگھ سے ہوا تھی۔ ان کے قیام کے دوران جہیز کے اہل خانہ نے روایتی طور پر 31 لاکھ بھارتی روپے بطور جہیز پیش کیے، لیکن ہر صاف انکار کر دیا اور انہوں نے اپنا دو ٹوک مؤقف ظاہر کیا۔
دلہن کے اہل خانہ کو اس بات سے واقف تھا کہ اس نے واپس ایک لاکھ روپے بھی جہیز میں دیے، لیکن ان کا مننا ہے کہ یہ نظام غلط ہے اور اسے مکمل طور پر ختم ہونا چاہیے، کہتے ہوئے کہ جہیز کے رواج سے شادیاں مالی بوجھ پر قائم نہیں کی جا سکتیں۔
دلہے کا جواب دیا تھا کہ شادی محض ایک روپیہ کی رسم پر قائم ہو سکتا ہے اور اس لئے لینا باقی رہتا ہے، جس کو اخلاقی طور پر غلط سمجھیں وہ اس بات کے خلاف ہیں۔
اس عمل نے تقریب میں موجود افراد اور سوشل میڈیا صارفین پر بے حد متاثر کیا ہے، جو معاشرتی اصلاح کے لیے ایک جرأت مندانہ قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
مظفرنagr ضلع کے اودھیش رانا کی شادی 22 نومبر کو ہوئی تھی، جس میں جوڑا گیا ملازمت والے شہاب الدین پور گاؤں کی رہائشی ادیتی سنگھ سے ہوا تھی۔ ان کے قیام کے دوران جہیز کے اہل خانہ نے روایتی طور پر 31 لاکھ بھارتی روپے بطور جہیز پیش کیے، لیکن ہر صاف انکار کر دیا اور انہوں نے اپنا دو ٹوک مؤقف ظاہر کیا۔
دلہن کے اہل خانہ کو اس بات سے واقف تھا کہ اس نے واپس ایک لاکھ روپے بھی جہیز میں دیے، لیکن ان کا مننا ہے کہ یہ نظام غلط ہے اور اسے مکمل طور پر ختم ہونا چاہیے، کہتے ہوئے کہ جہیز کے رواج سے شادیاں مالی بوجھ پر قائم نہیں کی جا سکتیں۔
دلہے کا جواب دیا تھا کہ شادی محض ایک روپیہ کی رسم پر قائم ہو سکتا ہے اور اس لئے لینا باقی رہتا ہے، جس کو اخلاقی طور پر غلط سمجھیں وہ اس بات کے خلاف ہیں۔
اس عمل نے تقریب میں موجود افراد اور سوشل میڈیا صارفین پر بے حد متاثر کیا ہے، جو معاشرتی اصلاح کے لیے ایک جرأت مندانہ قدم قرار دیا جا رہا ہے۔