ٹرمپ کا 65 ہزار اضافی عارضی ورک ویزے جاری کرنے کا اعلان

ریاضی دان

Well-known member
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کمپنیوں کے لیے ستمبر 30 تک تقریباً 65 ہزار اضافی ایچ 2 بی عارضی گیسٹ ورکر ویزے جاری کرنے کا اعلان کیا ہے جو اس وقت میں دستیاب ہونے والی ویزوں کی تعداد کو تقریباً دو گنی بنانے کا مقصد رکھتا ہے۔

اس فیصلے سے شعبہ کاروبار، خاص طور پر تعمیرات، ہوٹلنگ، لینڈ سکیپنگ اور سی فوڈ پروسیسنگ میں شامل کاروباریں نے فائدہ اٹھانے کا موقع پہنچایا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ان شعبوں کے پاس مقامی لیبر کی کمی کی وجہ سے شدید مالی نقصان کا سامنا کر رہی تھیں۔

امریکی صدر نے 2025 میں وائٹ ہاوس واپسی کے بعد امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات شروع کیے تھے جس سے غیر قانونی تارکین وطن کو جرائم پیشہ اور معاشروں پر بوجھ قرار دیا گیا ہے۔

اس بات کے لیے اب یہ ویزے رکھنے والی کمپنیوں نے اپنا مطالبہ بھی جاری کیا ہے۔
 
جب تک یہ پیغام طے ہونے میں کامیاب رہا تو نے فیک بک پر تبصرے کرنے سے انکار کردیں، لیکن اب جب اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ وہ ماحول میں اپنا اثر ڈال رہے ہیں تو ہم سچائی کے لئے ایک چٹان بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس فیصلے کو لوگ جسمانی ماحول میں نہیں دیکھتے بلکہ بلاکس اور کاروباروں میں وہ کس طرح تعاون کرتے ہیں اس پر نظر انداز کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکیلے لوگ اس فیصلے کو سمجھ سکتے ہیں لیکن بلاکس میں کام کرتے وقت وہ ایسی منصوبوں کو بھی دیکھتے ہیں جو اس معاملے میں یقین نہیں کر سکتے۔ لہذا آج دنیا ایسا ہی رہے گی جیسا کہ ابہام ہے اور ہم سب کو ایک دوسرے پر غور و فکر کرتے ہوئے اس معاملے پر مزید سوالات پوچھتے ہیں۔
 
ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر نے صرف ایک تیز ڈنو کے برابر گیسٹ ورکر ویزے کے ذریعے ان کاروباریں فائدہ اٹھانے کی رہنمائی دی ہے جو پچاس کے بعد سے ایسے حالات میں بھی ہوتے ہیں جب نئے معیشت کو متعارف کرایا جائے۔ ان ویزوں سے ٹرمپ اس وقت کچھ نہیں سیکھتا جیسا کہ انہوں نے اپنی واپسی سے پہلے ہی ایسے معاشی نقصانوں کا سامنا کیا تھا۔
 
امریکی صدر کی ایسا لگتا ہے جیسے وہ سوشل میڈیا پر بھی نئی ریکارڈز ٹوٹادیں ہیں 🤣. ایک طرف، لوگ تنگ آتے ہیں اور دوسری طرف، یہ ویزے رکھنے والی کمپنیوں کو نئی زندگی دی جاتی ہے! ان کاروباریں اپنے عمل کو بڑھانے کا موقع پانے کی کوشش کر رہی ہیں اور یہ ویزے ان کے لیے ایک بڑا بھلاؤ ثابت ہو سکتا ہے.
 
امریکی صدر نے اپنی نئی پالیسی کے ساتھ معاشرے کو ایک نئے ماحول میں لے جا رہا ہے۔ جو کہ مقامی لیبر کی کمی کو حل کرنے میں سہی ہے اور یہ معاشیات کے حوالے سے ایک نئی سطح پر پہنچنا ہے۔ لیکن اس سے معاشرے میں بھی ایسی تبدیلی آئے گی جو ہمارے سماجی و معاشی رشتوں کو متاثر کرے گی۔ ہم نے اپنی پالیسیوں کو اس سے زیادہ ضروری بنایا ہے کہ لیکن اب یہ ایسا ہی ہونا چاہئے کہ ہمیں اس کی توقع بھی کرنا چاہئے۔
 
یہ فیصلہ کوئی بدقسمتی نہیں، لیکن یہ بھی واضح ہے کہ اس سے بھارتی کاروبار اور غیر ملکی تارکین وطن پر بہت گھنٹا دباؤ ہوگا, یہ کام تو اس وقت تک نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ امریکی اسکیم کی ایڈیشن اور کاروباری معیار کو بھی اپ ڈیٹ نہ کیا جائے
 
واپس
Top