ترمپ اور ایران کے سپریم لیڈر کے درمیان ایک خوفناک منصوبہ سامنے آ گیا ہے جس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر کو قتل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس بات کا ایک ایسا شکار ہوا جو اس وقت سامنے آیا جب ایرانی سپریم لیڈر نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ ایران میں امریکی صدر ملوث ہیں تشدد، مظاہروں اور قتل میں۔
ایک سابق امریکی سفیر ڈان شپیرو نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرپ کے ہفتوں بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ بات کہی جس پر اس وقت خوف ہے کہ ایران میں تشدد، مظاہروں اور قتل میں امریکی صدر ملوث ہیں۔
ڈان شپیرو نے کہا کہ اب سپریم لیڈر 86 برس کے ہوچکے ہیں اور بیمار آدمی ہیں، لہٰذا ایران کو اس وقت ایک نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے ہاتھ میں Iran پر حملے کے لئے ایک بڑا بیڑا موجود ہے جو مشرق وسطیٰ میں موجود ہوگا اور اس نےDefense کی تیاریوں میں مدد دے گا۔
ایسا لگتا ہے جیسے دنیا کا ایک پہلوان ہی ایران کے لیے اپنے شہر کی रक्षہ کر رہا ہے! "دنیا میں سات ہزار گھنٹے ہیں، جس میں ایک ہی گھنٹا ہی بھی گزرنا پڑتا ہے"
ایسے تو حالات کبھی نہیں رہتے جس پر خوفناک منصوبوں سے ہر طرف بہت ایسی خبر سامنے آتی ہے۔ یہ بات یقینی ہے کہ اگر یہ منصوبہ اچھی طرح سے تیار ہو چکا ہوتا تو ایران میں ایک بڑا تباہی جو لگے گا۔ لیکن دوسری طرف، جس بات کو ڈان شپیرو نے بتایا ہے کہ سپریم لیڈر کی عمر 86 برس کی ہو چکی ہے اور بیمار بھی ہے تو وہی بات تھی جو اس وقت سامنے آئی ہے کہ ایران کو ایک نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ لیکن ڈان شپیرو نے یہ بھی بتایا ہے کہ امریکا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو Iran پر حملے کے لئے تیار ہو رہے ہیں۔ یہ بات تو ہمیشہ بتائی جا چکی ہے کہ پہلے سے ہی ایران کو ایسا منصوبہ بھی سامنے لایا گیا ہو گا۔
یہ سب کچھ ہر طرف سے خطرناک لگ رہا ہے! صدر ٹرمپ کو یہ کہنا کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر کو قتل کرنے کی کوشش کریں گے، ایک بھی راز نہیں ہے۔ اس بات پر توجہ دینا ضروری ہے کہ ایران میں تشدد اور مظاہروں سے لے کر قتل تک ہونے والی تمام واقعات کو کسی ایک شخص یا ملک کی ذمہ داری نہ کریں۔
ایسا بات کے خلاف کہنا ضروری ہے کہ اس وقت ایران میں ایک نئی قیادت کی ضرورت ہے، لیکن اس کو یہ بھی کہنا چاہئے کہ ایران کے پچاس سال سے فوجی حملوں اور بین الاقوامی تنازعات میں حصہ لینے کی سلسلے سے اب تک نتیجہ کا نتیجہ نہ ہو سکے ہے۔
اس سارے معرکے کے بعد، یہ بات بھی ضروری ہے کہ ایران کے لوگ اپنی قومی سلامتی کو محفوظ رکھنے اور اپنے ملک کی بڑھتے ہوئے ترقی کو دیکھنے کے لئے ایک نئی پلیٹ فارم تلاش کریں۔
میں یہ سچ مچ کہتا ہوں کہ ایسے منصوبوں کو کبھی نہیں کیا جائے جو ایک دوسرے نہیں ہوتے . ایران اور امریکا کے درمیان کی سست فطرت کے لئے یہ منصوبہ واضح طور پر خطرناک ہوگا۔ اس بات کا کچھ بھی ثبوت نہیں ہے کہ ایران میں امریکی صدر ملوث ہیں تشدد، مظاہروں اور قتل میں۔ اس وقت Iran کو اپنی قیادت کی ضرورت ہے نہیں بلکہ ایک ساتھ آ کر اس کے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔
اس بات پر ایسے لوگوں کا خیال نہیں لگتا جو کہ ایران کے سپریم لیڈر کو قتل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر وہ انھوں سے بے گھری ہیں تو اس پر انھیں ایسی بات کرنا چاہئے جو انھیں حقیقت میں خوفزدہ نہ کرے اور وہ اپنے ملک کی طرف سے کسی طرح سے مدد کروں۔
ایران کے سپریم لیڈر پر قتل کرنے کی پ्लان، مریج ہی نہیں! یہ بات بھی تھی کہ امریکا میں وٹ ان سے آ گئے، اب اس نے Iran پر حملے کا خطرہ بھی دکھایا ہے। Defense کی تیاریوں کو بھی تازہ کرنا پڑتا ہے تو اس سے ملकर ایران کو ایک نئی قیادت کی ضرورت ہوسکتی ہے، اب یہ کس طرح ممکن ہو گا؟
ایک بھی بات اس پر غور کرنی چاہئے کہ Iran میں شانہ داری کی کمی، لوگوں کو ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی بھی چیز سے فائدہ اٹھانے والے ہیں، انہیں ملکی سیکورٹی کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اور یہ کیسے ممکن ہو گا؟
یہ کہلا رہا ہے کہTrump Iran ki Supreme Leader ko kill karna chahega... to kya America ke neta sahi hai? America ki government Iran par attacks karne wala hai ya phir baki sab ko saaf karta hai? Maine socha hai ki ye America ki zindagi ki baat hai, koi bhi country apni zindagi ka khayal rakhegi.
اس خوفناک منصوبے پر تو یہ تھوڑا سا یقین دیں کہ یہ ہوا دے گا، امریکا اور ایران کے درمیان یہ بات بہت زیادہ غمازن ہے کہ کوئی نہ کوئی ایسا منصوبہ بناتا ہے جس سے دوسرے ملک کی جان بھی گئے۔
اس صورتحال میں ایران کے سپریم لیڈر کے پاس اس بات کو یقین تھا کہ وہ امریکی صدر کے نتیجے پر مظاہروں اور تشدد کی طرف بڑھ سکتے ہیں، لیکن اس کے بعد کیا چالाकی کا کہنا جائے؟
ایک طرف ایران کو ایسا انصاف ملتا ہے جو وہ چاھتا ہے اور دوسری طرف امریکا کے پاس بھی انصاف کی یہ وعدہ ہے جو وہ چاہتا ہے، لیکن کیا اس میں کوئی یقین ہو سکتا ہے؟
امریکا اور ایران کے درمیان ایسی بات ہے جس پر سارے دنیا پر نظر Tha, حالانکہ پچھلے دنوں میں کچھ لوگ اس پر یقین نہیں دیا تھا لیکن اب ان کے بعد وہی اٹھتے ہیں جو پہلے گئے تھے,
اس بات پر Tha ki Iran ko ek naye nazariye ki zarurat hai jis tarhe woh apne nasl ko badal sakta hai.
ایسا لگتا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک منصوبہ بنا رہا ہے جو خوفناک ہوگیا ہے، لیکن اس سے پہلے بھی ایران میں تشدد، مظاہروں اور قتل کی صورت حال کتنے بھی بدترین رہی ہے، یہ بات تو نہیں بچ گئی کہ امریکی صدر کے ہاتھ میں ایران پر حملوں سے کوئی حد نہیں لگتی؟ اور اب جب ایرانی سپریم لیڈر نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ امریکی صدر ملوث ہیں تشدد اور قتل میں، تو اس بات کو بھی محسوس کرنا ہوتا ہے کہ America کے ہاتھ میں ایران پر حملے کے لئے ایک بڑا بیڑا موجود ہے، یہ بات تو اب کے تو ہر کوئی جانتا ہے کہ ایران کی قیادت میں اسے کچھ نہ کچھ کافی ہوگا!
تمام یہ بات یقینی ہے کہ صدر ٹرمپ اور ایران کے سپریم لیڈر کے درمیان کچھ ہوتا رہا ہے۔ اس طرح کے منصوبوں کی وجہ سے حالات گھٹتے گئے ہیں اور دنیا بھر میں خوف پڑتا ہے۔
اس بات کو یقینی بنانے کے لئے میں ایران کی حکومت کی جانب سے کیا گیا ہے، اس بارے میں نہیں اور اس کے بعد کیا گیا ہے اس بارے میں۔
ایک ایسے واقعے کو دیکھتے ہوئے جس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایران میں امریکی صدر ملوث ہیں تشدد اور قتل میں، تو اس سے کوئی نتیجہ نہیں نکالتا ۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایران کی حکومت کو ایک نئی قیادت کی ضرورت ہے جو اس ملک کو امن سے نکلنے میں مدد دے سکے۔
ایسا کہنا ہے، یہ خبر ایران کے لیے ایک بد پہل بھی ہوئی ہے کیونکہ صدر ٹرمپ اور ایران کے سپریم لیڈر کی درمیان ایسی ایک خوفناک منصوبہ ہوا ہے جس سے دنیا کا خوف پھیل گیا ہو گا۔
ایک سابق امریکی سفیر نے یہ دعویٰ کیا ہے اور اگر یہ सच ہو رہا ہے تو ایران کے لیے یہ ایک بڑی قیمتی صورت حال ہے جو اس کی سست پہچان کو ایسے وضح کرے گا جسے پہلے نہیں سمجھا گیا تھا.
لیکن اب بھی ایران کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنی قیادت کو مضبوط بنانے کی کوشش کر سکے اور دنیا سے بات کر کر اس کا معافی کیا جائے.
یہ بات کوئی بات نہیں ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر کو قتل کرنے کی اس منصوبے کی خبروں سے حالات اچھل گئے ہیں... اور یہ بات بھی صاف ہے کہ امریکا Iran پر حملے کرنے کے لئے ایک بڑا جہاز موجود ہے، لہٰذا اس میں انھوں نے defense کی تیاریاں کرائی ہیں تاکہ وہ Iran پر حملہ کر سکے... یہ بات بھی کافی خطرناک ہے کہ Iran میں امریکی صدر ملوث ہیں تشدد، مظاہروں اور قتل میں... ہر چیز کا ایک پچھلा نشان ہوتا ہے...
Wow, Iran ki situation bari badi ho rahi hai . Iran mein to America kaafi cheezon mein mazaq utha raha hai, kuchh toh kuchh sirf apne saath hi hai. Iran ke liye ek naye leadership kee zarurat hai jise government kareeb rakhe .
Faisal Ghausi ki baat samajh me aai, lekin kya bilaanyan ki galtiyon ko zindagi mein lene de? America aur Iran ki relationship kafi jatil hai, kuchh toh kuchh sirf diplomacy par rely kr raha hai .
اس معاملے کا یہ خوفناک منصوبہ ایک دوسرے پرتوں پر جھلک رہا ہے، لیکن اس سے قبل بھی ایران میں امریکی صدر کو قتل کرنے کے لئے منصوبہ بنانے کی گلشہ نہیں آئی اس وقت تک کہ امریکا کے ہاتھ میں ایسی طاقت نہیں تھی۔ حالانکہ ڈان شپیرو نے بتایا ہے کہ امریکی ہاتھوں میں ایران پر حملے کے لئے ایک بڑا بیڑا موجود ہے لیکن یہ بات ابھی تو کہلی تھی۔ آج تک میڈیا نے بھی اس سے متعلق کوئی شکار نہیں کیا تھا، اس پر لگتا ہے کہ ڈان شپیرو نے یہ کہا ہو سکتا ہے کہ وہ امریکی پالیسی کی جانب سے آرکائیٹ کرنے والا ہیں اور اس لیے انھوں نے یہ دعویٰ کیا ہے۔
اس بات کا محض تصور کرنا کہ صدر ٹرمپ ایران کے سپریم لیڈر کو قتل کرنے کی کوشش کریں گے تو ہی بھی تنگ نہ آئے تھوڑے، پھر جب ایک سابق امریکی سفیر نے اس طرح کی بات کہی تو یہ سچ ہونا پہلے پر ہی گزرتا تھا... لگتا ہے کہ آمریکا کے ہاتھ میں کیا نہیں کیا جا سکے گا? وہاں تک کہ انھوں نےDefense کی تیاریوں میں مدد دेनے کا اعلان کیا تو یہ ایک بڑا خطرہ ہے...
ایسے سارے کھینچانے اور انڈرکھٹنے والے لوگ ہوتے ہیں جو کہیں ایک دوسرے کی جان کو خطرہ میں ڈالتے ہیں اور فتنہ پھیلاتے ہیں ۔ یہ بات تو یقیناً کہیں ہی سے چل رہی ہو گی، لہٰذا اس پر توجہ دینا بھی ضروری نہیں بلکہ ان لوگوں کو جسمانی طور پر اور ماحولیاتی طور پر بھی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔