ٹرمپ کا گرین لینڈ پر کنٹرول کا اعلان، پیچھے ہٹنے سے انکار

ادبپرست

Well-known member
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یورپی اتحادیوں کو ظالم قرار دیا ہے، اس کا کہنا تھا کہ وہ گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے اپنے منصوبے سے کسی صورت میں پیچھے ہٹتے نہیں گے، اس طرح نیٹو اتحاد میں شدید تناؤ پैदا ہوا ہے اور یورپی یونین نے امریکا کے خلاف تجارتی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔

دوسرے جانب برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بتایا کہ اس اعلان سے پہلے بھی ٹرمپ نے یورپی اتحادیوں کو ظالم قرار دیا تھا، لہٰذا اس بات کی کوئی واضھت نہیں ہے کہ وہ اپنے عہدے سے باہر ہو کر گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کر لیں گے اور اس صورت میں انہوں نے اپنی ناکام وعدوں کی واپسی کا بھی اعلان کیا ہے، ایسا سمجھنا مشکل ہے کہ اگر ٹرمپ کو یہ وعدہ دیا گیا ہے تو اس پر انہوں نے جو پابندیاں لگا دی ہیں وہ تو صرف منفرد عہدیداروں کے لیے ہیں اور اب بھی یہ وعدہ ان سے باہر نہیں چل سکتا، ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ کو اپنے منصوبے سے پہلے ہی پیٹھ میں چھوڑ کر نکل جانا ہو گا لیکن اس کے بعد انہوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے اپنے منصوبے سے کسی صورت میں پیچھے ہٹتے نہیں گے، یہ بات بھی واضھتی ہے کہ اگر انہوں نے اپنے منصوبے سے پہلے ہی اس پر چیلنج کیا تو وہ یورپی اتحادیوں کو اس معاملے میں ایک ایسا موقف پیش کرسکتے ہیں جس کے ساتھ ان سے تنازع ہونے والا رہتے، حالانکہ اس صورت میں بھی ٹرمپ نے یورپی اتحادیوں کو پابندیاں لگائی ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے اپنے منصوبے سے کسی صورت میں پیچھے ہٹتے نہیں گے، اسی طرح انہوں نے یورپی یونین کے ساتھ بھی ایک پیغام جاری کیا ہے جس میں وہ یورپی اتحادیوں کو ٹیرف عائد کرنے کی تاکید کر رہتے ہیں، اسی طرح انہوں نے کہا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے اپنے منصوبے سے کسی صورت میں پیچھے ہٹتے نہیں گے، حالانکہ اس اعلان کے بعد یورپی یونین نے امریکا کے خلاف تجارتی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے اور نیٹو اتحاد میں شدید تناؤ پیدا ہوا ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے اپنے منصوبے سے کسی صورت میں پیچھے ہٹتے نہیں گے، یہ اعلان اس صورت میں اچھا نہیں لگتا کہ اگر ٹرمپ کو یہ وعدہ دیا گیا ہے تو اس پر انہوں نے جو پابندیاں لگا دی ہیں وہ تو صرف منفرد عہدیداروں کے لیے ہیں اور اب بھی یہ وعدہ ان سے باہر نہیں چل سکتا، اسی طرح انہوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے اپنے منصوبے سے کسی صورت میں پیچھے ہٹتے نہیں گے، یہ اعلان اس صورت میں اچھا لگتا ہے کہ اگر ان سے وعدہ کرکے نکل جاتے تو یورپی اتحادیوں کو ان پر دباؤ پھیلایا جا سکتی ہے لیکن اب انہوں نے اس کے بجائے یورپی اتحادیوں کو ٹیرف عائد کرنے کی تاکید کی ہے، اسی طرح انہوں نے کہا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے اپنے منصوبے سے کسی صورت میں پیچھے ہٹتے نہیں گے، حالانکہ اس اعلان کے بعد یورپی یونین نے امریکا کے خلاف تجارتی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے اور نیٹو اتحاد میں شدید تناؤ پیدا ہوا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بتایا کہ ٹرمپ نے اس اعلان کے بعد اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ تصاویر بھی شیئر کیں جن میں وہ گرین لینڈ میں امریکی پرچم تھامے دکھائی دیتے ہیں، جب کہ ایک اور تصویر میں نقشے کے ذریعے کینیڈا اور گرین لینڈ کو امریکا کا حصہ دکھایا گیا ہے۔

یورپی یونین نے بھی امریکا کے خلاف تجارتی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے، لہٰذا یہ اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب یہ ایک دوسرے سے محروم ہو رہے تھے اور یہ اعلان اس وقت کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے امریکا کو یورپی اتحادیوں میں شامل کرنے سے انکار کر دیا ہے، حالانکہ اس اعلان کے بعد نیٹو اتحاد میں شدید تناؤ پیدا ہوا ہے اور یورپی یونین نے امریکا کے خلاف تجارتی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تنازع مزید بڑھا تو نہ صرف امریکا اور یورپ کے تعلقات متاثر ہوں گے بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، لیکن اسی وقت یہ بھی بات ہے کہ ٹرمپ نے یہ اعلان دیا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے اپنے منصوبے سے کسی صورت میں پیچھے ہٹتے نہیں گے، یہ اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب ٹرمپ کو پابندیاں لگائی گئی ہیں اور اب بھی ان سے وعدہ کرکے نکلنے کی بات ہے جو اس وقت کے طور پر معقول نہیں لگ رہی ہے، حالانکہ اگر ٹرمپ کو اپنا یہ منصوبہ تو چلانا ہو گا تو وہ اپنی پابندیاں لگائے گا اور یہ اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب وہ خود کو ایسے سے پیداکرنا چاہتے ہیں جو کی۔
 
اس باتیں پر غور کر رہا ہوں کہ ٹرمپ نے فیر یورپی اتحادیوں کو ظالم قرار دیا ہے اور وہ گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے اپنے منصوبے سے کسی صورت میں پیچھے ہٹتے نہیں گے، یہ اعلان تو بہت ہی معقول ہی کے لگ رہا ہے کیونکہ اس پر ان کے پچھلے عہدے سے باہر نکلنے کے لیے وعدے تھے اور اب انہوں نے جو پابندیاں لگائی ہیں وہ صرف منفرد عہدیداروں کے لیے ہیں اور اس پر وعدہ کرکے نکلنا بھی ان کے لیے معقول نہیں لگ رہا ہے، یہ اعلان تو پوری ناقصیت کی نمائش ہے
 
اس نے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ٹرمپ نے یہ اعلان دیا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے اپنے منصوبے سے کسی صورت میں پیچھے ہٹتے نہیں گے، اور یہ اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب ٹرمپ کو پابندیاں لگائی گئی ہیں اور اب بھی ان سے وعدہ کرکے نکلنے کی بات ہے جو اس وقت کے طور پر معقول نہیں لگ رہی ہے، یہ اعلان ٹرمپ کی ایسی پوسٹرل تاریکی کو ظاہر کرتا ہے جس سے وہ اپنے منصوبے کے لئے معقول دکھائی دیتے ہیں، لیکن اس کی باقیات کے بارے میں کوئی واضھت نہیں ہے، یہ اعلان ٹرمپ کی ایسی چال اچھلی لگتی ہے جس سے وہ اپنے منصوبے کے لئے معقول دکھائی دیتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ کو اپنا یہ منصوبہ تو چلانا ہو گا اور وہ اپنی پابندیاں لگائے گا،
 
یہ اعلان تو یورپی اتحادیوں پر بالکل معقول نہیں ہے، ٹرمپ کو ایسے وعدے کرنا چاہیے جو ان سے باہر چل سکیں اور پھر دھمکاوں کے ساتھ یورپی اتحادیوں پر حملہ نہ کریں، لگتا ہے کہ وہ اپنے منصوبے سے پیچھے ہٹتے نہیں گے، یہ اعلان صرف دباؤ پھیلانے کے لیے کیا گیا ہے
 
جب تک ٹرمپ نے یورپی اتحادیوں کو ظالم قرار دیا ہے تو یہ ایک بڑا تنازع ہے، لہٰذا ان کے منصوبے سے کسی صورت میں پیچھے ہٹنا نہیں چاہئے، اگر وہ اس پر اصرار کرتے رہتے ہیں تو یورپی اتحادیوں کی طرف سے جو ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے وہ اس میں بھی بڑی تیندوبند ہوسکتی ہے، یہ بات تو واضح ہے کہ اگر ٹرمپ نے اس پر اصرار کیا ہوتا تو یورپی اتحادیوں کے لیے جو معاملہ سوجھ رہا ہے وہ ایک بڑا تیندوبند ہوسکتا ہے،
 
😏 یہ اعلان تو نہ صرف ٹرمپ کے لیے بلکہ وہاں کے تمام لوگوں کے لئے ایک جال بن گیا ہے۔ وہ منصوبہ جو وہ گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے رکھتے ہیں وہ اس صورت میں اچھا نہیں لگتا جب وہ خود کو ایسے سے پیداکرنا چاہتے ہیں جو کی جا سکتی ہیں، حالانکہ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ منصوبہ کسی صورت میں تو چلایگا یا نہیں بلکہ وہ اپنی پابندیاں لگائیں گے اور اس طرح یہ اعلان ان کی وعدوں پر چلنے کے لیے ایک جال بن گیا ہے۔

ماہرین نے بتایا ہے کہ یہ تنازع مزید بڑھتے ہیں تو نہ صرف تعلقات متاثر ہوں گے بلکہ معیشت پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، لیکن یہ بات نہیں کہ ٹرمپ کو اس منصوبے سے پہلے ہی پیٹھ میں چھوڑ کر نکل جانا ہو گا بلکہ وہ اپنی پابندیاں لگائیں گے اور اس طرح یہ اعلان ان کی وعدوں پر چلنے کے لیے ایک جال بن گیا ہے۔

یہ منصوبہ تو اس صورت میں اچھا نہیں لگتا جب ٹرمپ کو اپنا یہ منصوبہ چلانا پڑتا ہو گا لیکن اس کے بعد وہ اپنی پابندیاں لگائیں گے اور اس طرح یہ اعلان ان کی وعدوں پر چلنے کے لیے ایک جال بن گیا ہے، حالانکہ اگر ٹرمپ کو اس منصوبہ سے پہلے پیٹھ میں چھوڑ کر نکل جانا ہوتا تو اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ منصوبہ کسی صورت میں تو چلایگا یا نہیں بلکہ اس کے بعد انہوں نے اپنی پابندیاں لگائیں گے اور اس طرح یہ اعلان ان کی وعدوں پر چلنے کے لیے ایک جال بن گیا ہے۔
 
ایسا محو فکریت ہے! ٹرمپ نے اور پھر وہ یورپی اتحادیوں کو ظالم قرار دیا ہے، اس کا کہنا تھا کہ وہ گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے اپنے منصوبے سے کسی صورت میں پیچھے ہٹتے نہیں گے، لیکن یہ کہنا بھی تھا کہ وہ اس پر کبھی پیٹھ چھوڑنے والے نہیں ہیں۔ ایسا محض کہنا ہی کافی نہیں، یہ کہنا بھی ہے کہ وہ اپنی پابندیاں لگائی گئی ہیں اور اب بھی وعدہ کرکے نکلنے کی بات کرتے ہیں، لیکن یہ کہنا کہ وہ اس پر چلنے والے ہیں نہیں تو بھی کافی محض تھوڑا سی بات ہے!
 
اس اعلان سے کچھ نہ کچھ کیا جا رہا ہو گا، ٹرمپ نے یورپی اتحادیوں کو ظالم قرار دیا ہے اور اب وہ ان پر دباؤ پھیلانے کی کوشش کر رہتے ہیں، لیکن یہ بات بھی یقینی نہیں کہ وہ اپنے منصوبے سے پیچھے ہٹ جائیں گے یا نہیں، یورپی اتحادیوں کو اس معاملے میں ایک ایسا موقف پیش کرسکتے ہیں جو ان سے تنازع ہونے والا رہتے، لیکن واضھتی ہے کہ ٹرمپ نے اپنی پابندیاں لگائی ہیں اور اب وہ ان سے وعدہ کرکے نکلنے کی بات کرتے ہیں لیکن اس وقت معقول نہیں لگ رہی ہے، یہ اعلان ہمیں اس بات پر توجہ دینا چاہتا ہو گا کہ ٹرمپ کی منصوبہ بندی کون سے لوگ اور جیسے لوگ اس میں مدد دیتے ہیں، یہ معاملہ بھی ایک دوسرے سے محروم ہو رہا ہے، یورپی یونین نے امریکا کے خلاف تجارتی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے اور نیٹو اتحاد میں تناؤ پیدا ہوا ہے
 
واپس
Top