ٹرمپ کے امیگریشن اہلکاروں کی مخالف ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، جو دو अमریکی شہریوں کی موت کی وجہ سے منی ایپولس میں ان کے خلاف ہونے والے احتجاج کا مظاہرہ تھا جہاں الیکس پریٹی اور رینی گُڈ کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔
امریکی شہریوں کی موت پر ہونے والے احتجاج میں امریکہ کے مشہور شہر منی ایپولس میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور وفاقی امیگریشن ایجنٹس کو منی سوٹا سے واپس بلانے کا مطالبہ کیا۔ اس احتجاج میں کھلے لہر کے مظاہرین نے ہزاروں لوگوں کو ان کے ساتھ جوڑ لیا اور تعلیمی اداروں سے بھی واک آؤٹ کیا، اس طرح اس احتجاج میں تعلیمی اداروں سے ہلاک ہونے والے طلبہ اور اساتذہ نے بھی اپنا حقائق کو اس تحریک میں جوش و خوش دکھایا تھا۔
امریکی شہریوں کی موت کے بعد ہونے والے احتجاج میں ایسے وقت میں ہوا جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے آپریشن میٹرو سرج میں کمی یا اضافے کے متضاد بیانات سامنے آ رہے تھے، اسی لیے اس احتجاج نے ٹیکسٹیل ورڈیوں میں 3 ہزار وفاقی افسران کو منی ایپولس کے علاقے میں تعینات کیے جھری تھا اور ان نے گشت کر رہے تھے، یہ فورس منی ایپولس پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مقابلے میں پانچ گنا بڑی بتائی جا رہی ہے۔
امریکی شہریوں کی موت پر ہونے والے احتجاج میں ایسا کیا گیا تھا کہ منی ایپولس کے ایک رہائشی علاقے میں جہاں الیکس پریٹی اور رینی گُڈ کو وفاقی امیگریشن ایجنٹس نے فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا تھا، مقامی سکولوں کے تقریباً 50 اساتذہ اور عملے کے افراد نے مارچ میں شرکت کی۔
امریکی شہریوں کی موت پر ہونے والے احتجاج کو 46 ریاستوں میں 250 مظاہروں کی پیش گوئی کی گئی ہے اور اس تحریک کا نعرہ تھا کہ کوئی کام نہیں، کوئی سکول نہیں، کوئی خریداری نہیں، آئی سی ای کی فنڈنگ بند کرو۔
اس تحریک سے ہو رہا ہے کہ لوگ تھوڑا سا اور بھی کچھ نہ سمجھتے ہیں، پہلے ہی یہ بات اس کے بعد کی ہو چکی ہے کہ امریکہ کے شہریوں کی موت پر اس طرح سا مظاہرہ ہوا تھا، ایسا کیا گیا تھا اور یہ بتایا جا رہا ہے، لیکن کچھ لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے کیوں کہ 10 سال قبل الیکس پریٹی اور رینی گُڈ سے ایسی ہی جھgli بھر گئی تھی۔
اس مظاہرے سے پہلے ٹرمپ کے اس انتہائی بدہچNDی بھی نہیں تھا جو اب دکھ رہا ہے؟ وہ ایسا کیسے کیا جس سے پوری ریاست America پر ہٹ کر ایک امریکایی شہر میں احتجاج ہو رہا ہو؟ یہ تو ٹرمپ کے ساتھ ہی نہیں تھا، وہ اس وقت کا بھی نہیں تھا اور اس مظاہرے میں یہ کہنا مشکل ہوگا کہ وہ اس کے منچ سے لگت گئے تھے یا نہیں؟
ایسا لگتا ہے جیسا کہ امریکی شہریوں کی موت پر ہونے والے احتجاج میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ وہ اس وقت ہوا جب ٹیکسٹیل ورڈیوں میں وفاقی افسران کو منی ایپولس کے علاقے میں تعینات کیا گیا تھا، مگر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس احتجاج نے ہزاروں لوگوں کو ان ساتھ جوڑ دیا اور تعلیمی اداروں سے واک آؤٹ کیا تھا، مگر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس تحریک میں 50 سے زائد اساتذہ اور عملے نے participation کا مطالبہ کیا تھا،
اس تحریک میں ایسے مظاہرین کی شرکت دیکھنے میں آئی جو اس احتجاج سے قبل ہی بے اقدار نہیں رہے تھے، مگر اس تحریک نے انھیں بھی اپنی جگہ दے دی تھی اور اس طرح ایک ایسا ماحول پیدا ہوا جو احتجاج میں حصہ لینے والوں کے دلوں میں جوش و خوش پیدا کر رہا تھا،
اس تحریک میں کیا گیا ہے وہ ایک اچھا بات ہے، لوگ جو یہ سونا چاہتے تھے وہ اب اسے دیکھ رہے ہیں اور جس کی ناہموں پر یہ تحریک ہوئی وہ اچھی بات ہے، لوگ جو سڑکوں پر نکل آئے ان کے نال بھی ایک اچھا کارنامہ ہے جبکہ اس تحریک کو ہزاروں لوگوں نے تھامایا ہے، اس پر یہ بات بھی بات ہے کہ اس تحریک میں تعلیمی ادارے بھی بھرپور طور پر شامل ہوئے جن سے بھی یہ تحریک نے فائدہ اٹھایا ہے
یہ لوگ ان ہزاروں امریکی شہریوں کی موت پر اٹھتے ہیں جو اس وقت پانچ سال میں وفاقی امیگریشن ایجنٹس سے ناکام رہ گئے تھے، یہ ہزاروں افراد کا احتجاج کیونکہ وہ ان کے بعد اچانک اور بدصورت ذمہ داریوں سے بھگڑنے کو ملک میں نہیں دیکھتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کی موت میں کچھ نئی نئی ذمہ داریاں دبائی گئیں تھیں۔
اس وقت تک ہر کسی کی بات سیکھنے کا وقت نہیں ہوتا ہی بہت سے لوگ ٹرمپ کے امیگریشن اہلکاروں کو لاتے ہوئے منی ایپولس میں ایک ہزار وفاقی افسر کی موجودگی ہے، یہ بھی لگتا ہے کہ اسے پوری دنیا پر مظاہرے کو نئی سطح پر سونپنا چاہیے؟
بھائی یہ احتجاج وہاں بھی اچھا ہوا جس میں ایسی پالیسیوں پر زور دیا گیا جو ملازمت اور تعلیم سے متعلق لوگوں کے لئے خاص طور پر ہی اچھی ہوتی ہے، جبکہ اس میں ایسے افراد کی جان بھی چلی گئی ہے جنہوں نے اپنی زندگی کے لئے اس لیے کام کیا تھا جو اب انہیں چلا گیا ہے، یہاں تک کہ اس تحریک میں تعلیمی اداروں سے بھی واک آؤٹ ہوئی جس نے اس لئے کیا تھا کہ اس کے اساتذہ اور طلبہ اپنے حقائق کو اس تحریک میں جوش و خوش دکھایا تھا۔
اس کچھ بھی تو ہوا ہو گا، امریکی شہر منی ایپولس میں ایک سے زیادہ ہزار لوگ مظاہرے میں اس کی فائرنگ پر تھے جس نے دو अमریکی شہریوں کو موت دے دی۔ اب ان کی موت کے احتجاج میں تعلیمی ادارے بھی شامل ہوئے، اس طرح اس تحریک نے تعلیم کی طرف بھی توجہ مبذول کر لی ہے جس سے اس تحریک کا مقصد کچھ ہٹنے والا دکھائی دے رہا ہے
ٹرمپ کے وفاقی امیگریشن اہلکاروں پر ہونے والے احتجاج میں لاکھوں لوگ نکل آئے تھے مگر جب تک نہیں سائنس کا معجزانہ انسولین کی واقفیت کا تجربہ جانیں پھر وہ لوگ ہونے کے لئے یہ ہمیں یاد آتا ہے کہ اسی طرح کے اس سائنس دانوں کی موت بھی نہیں سیکھی جاتی کیونکہ انھیں اچھی طرح یہ نہیں پتا تھا کہ ان کے ہاتھوں کی چھپائی ہوئی واقفیت ہمیں آگے بڑھانے کے لئے استعمال کیا جائے گا مگر اس سے پہلے یہ سب جانتے تھے کہ انسان کو ایسا ہی ہوتا ہے جیسا یہ محض انسولین کی واقفیت کے ساتھ نہیں بلکہ معاشی اور سیاسی رائے کے ساتھ بھی ہوتا ہے
ایسا دیکھنا ہی عجیب ہے جس پلیٹفارم پر لوگ اسی طرح کے فضا میں چلے آ رہے ہیں جس کا مقصد انصاف یا سوچ کی طرف ہو وہ کھلے لہر میں بھاگتے ہیں اور ایک دوسرے ناکے ناک پر پھونکتے ہیں، پتا نہیں کہ یہ سچائی یا جھوٹی بات ہے جس کو ان میں پیو جاتا ہے یا اس کی واقعت کو اپنے ذاتی مفاد میں بدل دیتا ہے۔
اس بڑے احتجاج میں یہ بات نظر آ رہی ہے کہ مظاہرین سڑکوں پر نکل کر اپنے حقائق کو ظاہر کرتے ہیں اور اس سے انھیں کچھ اچھا لگتا ہو گا…
لیکن، جب آپ انھیں دیکھتے ہیں جو کہ کھلے لہر سے مظاہرے کر رہے ہیں، تو آپ کا دھ्यान ایسا ہی جھکta ہے جو وہ ساتھ انھیں کیا گیا ہو گا…
امریکہ میں یہ احتجاج بہت بڑا اور لامدادی ہے، اور یہ مظاہرین کی شہرت بھی اس لیے ہے کہ وہ اپنے حقائق کو ظاہر کر رہے ہیں اور انھیں یہ محسوس کیا جاتا ہو گا کہ ان کی آواز دیکھی جا رہی ہے…
اس مظاہرے نے دیکھا ہے کہ جب بھی لوگ اپنے حقائق کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں تو وہ سب سے پہلے سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور ان کی आवازیں اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ابھی بھی وہ جانیں چاہتے ہیں۔
ان کی مظاہرے سے میرا خیال ہے کہ ہم ایسے معاشرے کی طرفProgress towards a better future سے جاتے ہیں جہاں لوگ اپنی आवازیں اور حقائق کو ظاہر کرکے اپنے حقوق کے لئےFight for the rights کرتے ہیں۔
امریکہ میں ہونے والے احتجاج سے پہلے اس ملک میں ہونے والی امیگریشن کے معاملات کی جائزے میں دیکھا گیا کہ امریکہ میں 2019ء سے 2022ء تک ایسے ہزاروں کینویڈیائی امیگریٹڈ فوری ایز نے اپنا رائے دیا تھا جنہیں وفاقی امیگریشن ایجنٹس سے منی سوٹا لیا گیا تھا۔
امریکہ میں 2022ء میں گھریلو کینویڈیائی امیگریٹڈ فوری ایز کی تعداد میں 2.7 ملین کا اضافہ ہوا ہے اور ان میں سے 44 فیصد لڑکیوں پر منحصر تھے۔
امریکہ میں ٹیکسٹیل ورڈیوں کی تعداد میں 2009ء سے 2022ء تک 33 فیصد کمیاں دیکھی گئی ہیں اور اس میں سے 70 فیصد لوگوں کے لیے بھرپور رکاوٹ کی وجہ سے ہونے والی جنجالوں نے ان شہروں کو ایسے بنایا ہے جو اب وفاقی امیگریشن ایجنٹس کے حوالے سے منی سوٹا لیا جاتا ہے۔
امریکہ میں فوری ایز کی تعداد میں 2000ء سے 2022ء تک 15 فیصد کمیاں دیکھی گئی ہیں اور اس میں سے لڑکیوں کے لیے بھرپور رکاوٹ کی وجہ سے ایسے معاملات زیادہ ہوئے ہیں جو اب وفاقی امیگریشن ایجنٹس کے حوالے سے منی سوٹا لیا جاتا ہے۔
امریکہ میں بھرپور رکاوٹ کی وجہ سے 2009ء سے 2022ء تک 45 فیصد کینویڈیائی امیگریٹڈ فوری ایز کا اضافہ نہ ہوا تھا اور اس میں سے 70 فیصد لوگ 21 سال کی عمر سے بڑی تھے جبکہ 20 سال کی عمر سے چھوٹے 30 فیصد تھے۔
اس ہتھیاروں والے امریکی سربراہ کے احتجاج سے ان کے ذمہ دار کاروباری اور سیاسی دوستان بھی مظاہرے میں شامل آگئے ہیں، تو یہ دیکھنا ہی کچھ ہے کہ امریکہ کے نوملک لوگوں کی جانب سے بھی اس شہر میں ایسا مظاہرہ ہو رہا ہے جو کوئی بھی دیکھنا چاہتا ہو واضح طور پر اس مظاہرے سے ایک بات یقینی ہے جس کی وضاحت نہیں کرنی چاہیے تو یہ واضح اور سچ्चے جذبے کی طرف دیکھتا ہے، اگر کتنے لوگ ان مظاہروڰ میں شامिल ہوئے ہیں، اس بات کو بھی کوئی نہیں چکا ہو گا ۔