ٹرمپ کے فیصلے کا جواب امریکی شہریوں پر بڑی پابندی لگ گئی

جھینگر

Well-known member
امریکا کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کو جواب میں امریکی شہریوں کے لیے بھی سفری پابندیاں نافذ کی گئی ہیں، جس پر صدر ٹرمپ نے 14 دسمبر 2025 کو برکینا فاسو اور مالی سے آنے والے امریکی شہریوں پر پابندی لگائی تھیں۔

امریکہ کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کے جواب میں امریکی شہروں کو بھی سفری پابندیاں عائد کی گئی ہیں، اور ان پابندیوں کے تحت ایسے افراد کو سفر کرنے سے روکا جائے گا جو اس ممالک میں رہتے ہیں یا وہاں بھی گئے ہوں گے اور وہ یہی حالات اس ممالک سے باہر بھی اپنے شہروں میں پھیلتے ہوئے لوگوں کو نافذ کر دیا جائے گا۔

اس بات پر مبنی واضح یہ ہے کہ اس فیصلے کی جانب سے مالی اور برکینا فاسو میں رہنے والے امریکی شہر کو ایسے پابندیوں سے بھی ناکام کرنا ہوگا جو اس ملک پر عائد کی گئی تھیں، اور یہ پابندی ایک طاقت کے دھاندوت کو ظاہر کر رہی ہے جس میں کوئی بھی ایسی بات کو جھوٹا نہیں بتاتا کہ وہ اپنے شہروں میں اس ممالک سے آنے والے لوگوں کے اور ان سے متعلقہ افراد کو سفر کرنا نہیں دیتا، اور یہ بھی طے ہوتا ہے کہ اس پابندی کی لگائی میں وہ شہروں کے لوگوں کو کسی بھی ایسے شخص سے بھی مواخ拉 نہیں رکھتا جو وہ ملک پر عائد کر چکا ہو، اور یہ پابندی ایک طاقت کے دھاندوت کو ظاہر کر رہی ہے جس میں کوئی بھی ایسی بات کو جھوٹا نہیں بتاتا۔
 
اس فیصلے پر توجہ دینے والا یہ کہ صدر ٹرمپ نے امریکی شہروں میں بھی سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں، اور اس سے برانگیٹن اور نیو یارک میں لوگ کتنی متاثر ہوں گے؟ آج کل کسی کی بات چیت پر جس میں کوئی ایسی بات نہیں بتائی جائے وہی شہر میں سفر کرنے سے روک دیا گیا ہو گا اور یہ تو طاقت کا دھاندوت ہی ہے، اور یہ بھی یقین دہانی ہے کہ اس شہروں کی زندگی میں کسی طرح کی ایسی تبدیلی آئے گی جو صدر ٹرمپ نے اپنے فیصلے سے ظاہر کر رہی ہے۔
 
امریکہ کی یہ پابندی کے جواب ایسا لگ رہا ہے جو بہت سارے لوگوں کو اچھی طرح متاثر کر گا۔ پہلے تو امریکی شہروں میں سفر کرنے والوں کے لیے بھی پابندی لگی گئی ہے، اور اب اس کی لگائی میں اسے ایک طاقت کا دھاندوت سمجھنا پڑ رہا ہے جو کسی بھی شخص کو اپنے شہر میں سفر کرنے سے روکتی ہے۔ اس کی واضح یہ بات ہے کہ اگر پہلے مالی اور برکینا فاسو میں رہنے والے امریکی شہر کو ایسے پابندی سے بھی ناکام کرنا ہوگا تو اب یہ پابندی ایسی ہی طاقت کا دھاندوت ہے۔ 🚫
 
عجیب ہے یہ ، اس وقت کتنا ٹیکنالوجی بڑھ گئی ہے، اب کسی شہر میں بھی پابندی لگائی جاسکتی ہی نہیں تو کس طرح لوگ سفر کر سکتے ہیں؟ یہ طاقت کا دھاندوت دیکھنا بھی اچھا نہیں لگ رہا، پابندیوں کی وجہ سے کس طرح لوگ اپنے گھروں میں مل کر رہتے ہیں؟ یہ بھی ایک ایسا مضمون ہے جو دیکھنا کہ کس قدر عرصہ سے پابندیوں کی طاقت اس طرح کی ہوس رہی ہے۔
 
ایسے پابندیوں کی لگائی سے ہم سب کو یقین ہوتا ہے کہ اس وقت نافذ کی گئی پابندیوں کے لیے کسی نہ کسی کو خفیہ رہنما ہونا پڑے گا اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس کے ساتھ ہم سب کی زندگی میں ایسی نئی چیلنجز آ جائیں گے جو قبل سے زیادہ تھکاؤناک ہوں گے... 🤔

امریکا کے اس فیصلے سے ہم سب کو یقین ہوتا ہے کہ وہ اپنی پابندیوں کا ایک نئا دور شروع کر رہے ہیں جس میں کچھ بھی دیکھنے کو ملے گا... 😬
 
اس پابندی کے بارے میں یہ بہت اچھا فیصلہ ہے، لیکن اب یہ سوال رہتا ہے کہ اس پابندی کے تحت کیسے نافذ کی جائے گا؟ یا کوئی اور ملک ان پابندیوں کا استعمال کر سکتا ہے، یہ بات بھی واضح ہے کہ اس پابندی کو اس طرح نافذ کیا جائے گا جو اسے مسترد نہ کیا جائے
 
امریکہ کی یہ پابندیاں تو ایک طرف ہیں، لوگ اس پر غور کروں گے کہ یہ پابندیوں سے کون فائدہ لے گا؟ امریکی شہر میں بھی پابندیاں عائد کرنا ایک بڑا مुश्कل کام ہوگا، اور یہ پابندیاں صرف ایسے لوگوں پر ہی نافذ کی جائیں گی جو اس ملک میں رہتے ہیں یا وہاں بھی گئے ہوں گے، یہ ایسا لگتا ہے کہ اس کی واضح مہلت نہیں دی جا سکتی۔ اور ایسے میڈیا چैनلز پر جس پر ان پابندیوں کا حقدار بنتے ہیں وہ بھی یہی بات رکھتے ہوں گے۔
 
واپس
Top