بھارت کو یہ خوف لاحق ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں شامل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جیسا کہ انہوں نے غزہ میں تعمیر نو کے لیے بھارت کو بھی بورڈ آف پیس میں شامل کرنے کی دعوت دی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق، برطانوی میڈیا کے مطابق ہر سال انہوں نے غزہ میں تعمیر نو کے لیے بورڈ آف پیس کو استعمال کیا ہے اور انھوں نے بھارت کو اس میں شامل کرنے کی دعوت دی ہے تاہم بھارت نے اس دعوت کو اپنی جانب سے پہچانا ہے اور اس پر جواب نہیں دیا ہے۔
غزہ میں تعمیر نو کے دوران عبوری حکومت کی نگرانی کرنا اور اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کو قائم کرنا ان کا مقصد ہے۔ اس سے باہر بھی اس بورڈ کو استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے جو انہوں نے پہلے پاکستان اور ترکى میں استعمال کیا ہے۔
یہ ريبورٹ ایک حقیقی چیلنج ہے! امریکہ کی جانب سے یہ دعوت دی گئی ہے کہ یہ پوری دنیا کو ایک بورڈ آف پیس میں شامل کر لیا جائے تاکہ معاشی تعاون اور ترقی کو مزید Badmash hone ki sambhavana ho.
لیکن، یہ سوال ہے کہ یہ سارے کام کیسے جاری رکھیں گئے؟ دنیا بھر میں اسی طرح کے معاملات ہوتے رہتے ہیں، اور پوری دنیا کو ایک ساتھ لانے کی کوشش کرنے والے ہم نے تو واضح کیا ہو گا کہ یہ بات بہت آسانی نہیں ہے.
لیکن، یہ ایک جھلک ہے کہ آئے دنیا میں معاشی تعاون اور ترقی کی پہاڑوں کو پار کرنا ہوتا ہے، اور وہیں ہم نے معاشرتی ترقی کے لئے ایک نیا راہداری بنانے کی ضرورت کو سمجھ لیا ہو گا.
اس لیے، یہ ريبورٹ ایک آہتہ خواہش ہے کہ دنیا کو ایک ساتھ لانے کی کوشش کی جائے تاکہ معاشی اور معاشرتی ترقی کو Badmash hone ki sambhavana ho.
یہ رپورٹ سے خوفناک ہے، کھبہ میں کشمیر جانا بھارت کو ایک خطرہ بناتا ہے؟ انہوں نے پہلے غزہ میں بورڈ آف پیس کی دعوت دی تھی اور اب وہ یہ رپورٹ کر رہے ہیں کہ وہ کشمیر کو بھی شامل کریں گے؟ یہ تو ایک خطرناک معاملہ ہوگا، پاکستان اور turkey میں بھی ان کی مصلحت کیسے ہوگی?
امریکہ کے صدر نے ایسا کھیلتے ہوئے دیکھا جاتا ہے، یہ دکھا کہ وہ ساتھ ساتھ معاشی اور سیاسی فطرت پر بھی نظر رکھتے ہیں ، بھارت اور پاکستان میں ایسا چلا گیا جیسا کہ اس نے اس کھیل کی گئی تھی ، اور اب اس نے یہ دعوت دی ہے کہ کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں شامل کیا جائے، ایسا تو بتا ہو گا کہ وہ ایسی مہم کے لیے کیسے تیار ہوتے ہیں اور انھوں نے غزہ میں بھی اس طرح کی مہم چلائی ہے، لگتا ہے کہ یہ وہ پالیسی ہے جو نہیں ہو سکیگی ، اور اب انہیں کھیلنا پڑا ہو گا کہ دوسرے ممالک اس کی طرف متوجہ ہونے پر دباؤ میں آ جائیں ، لگتا ہے یہ ایک بڑی مہم ہوگی۔
یہ رپورٹ تو بھارتی صدر کو چیلنج کر رہی ہے؟ اس سے پہلے انہوں نے غزہ میں اچھا کام کیا یا نہیں? اب وہ اسے ایسے سرڈریٹ لائے ہیں جو بھی نہیں چالے گا؟ میرے خیال میں یہ ایک گیم ہے جتھے دوسرا کھیلنے کے لئے تیار نہیں ہوگا?
امریکہ کی یہ گٹھنا تو بھارتی حکومت کے لیے ایک بدترین خوف ہو گیا ہے، اور اس سے پہلے انہیں یہ چنchna کرنا پڑا ہوتا کہ وہ کس طرح انٹرنیٹ پر اپنی رپورٹس پھیلائیں، اور اب وہ اس میں اپنی جائیداد بھی شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسا تو بہت اچھا نہیں لگتا، کہ وہ پہلے اس کے لیے فوریٹس فراہم کرنے والے بھی ریکارڈز نہیں بنائے ہوں گے۔
یے تو یہ بھی ایک دھمپ ہے! اب ہر جگہ سے ڈونلڈ ٹرمپ کو دیکھتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ وہ اپنی سیاسی مخالفتوں میں یہ تجربات کر رہے ہیں۔ کشمیر، غزہ، پاکستان، ترکى... ابھی اس لیے تو ہمیشہ ان کی طرف دیکھتے رہے تھے اور اب وہ بھارت کے ساتھ بھی یہ تجربات کرنے کا منظر دکھا رہے ہیں... میں تو ان کی باتوں پر یقین نہیں کرتا، لیکن یہ بات واضع ہے کہ وہ اپنی سیاسی سرگرمیوں میں اچھا لگاتے ہیں...
اس رپورٹ سے بھی پتہ چalta ہے کہ امریکہ کا اسтиحال بھی اس قدر طویل ہو گیا ہے کہ اب وہ غزہ میں تعمیر نو کے لئے بورڈ آف پیس کو استعمال کر رہے ہیں اور اب بھی اس پر ایک نیا قدم رکھتے ہوئے، یہ بات کچھ نہ کچھ دیر سے پھیل چکی ہے۔ جس طرح وہ غزہ میں تعمیر نو کے لئے بورڈ آف پیس کو استعمال کر رہے ہیں اسی طرح انہوں نے بھارت کو اس میں شامل کرنے کی بھی دعوت دی ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی بھی دوسری طرف پر توجہ دینا چاہیے، انہوں نے کبھی بھارت کو ایسے پروجیکٹ میں شامل کرنے کی دعوت دی ہے جس میں پاکستان اور ترکى شامिल ہیں؟ نا تو یہ دیکھنا ہی کہ انہوں نے ایسی سرگرمیوں کو کیے ہیں جو اس سے پہلے پاکستان اور ترکى میں بھی شروع کیے گئے تھے تو نا تو انہیں کہا جاسکتا کہ وہ عالمی معاشروں کی طرف سے ایک رائے کا تعین کرنے والوں میں ہیں۔