جن لوگ میڈیا کی دنیا کے حوالے سے سوچتے ہیں، انہیں یہ بات پچتا ہے کہ صحافیوں کو اس نئے دور میں آگاہ رہنے کے لیے خاص طور پر جسمانی اور مینٹل موتھ کو برقرار رکھنا پڑتا ہے۔
جن لوگوں کا خیال ہے کہ وہ اچھی طرح سے انforms دیں ہیں، وہ ایسے تحریکوں سے دور رہتے ہیں جس کی وجہ سے ایسی نئی دنیا بھرپور اور خطرناک ہوسکتی ہے۔ لیکن ان لوگوں کو یقین نہیں کہ ایسا کیسے ہوگا جب ان کے سامنے اپنی صحافی اور کارکردگی کی انتھشرت کو برقرار رکھنا پڑتا ہوگا۔
ہم نے روزنامہ خبریں سے بات کی ہے جو کہ بھرپور اچھائی اور عزم کے ساتھ چل رہی ہے، جو کہ اپنے شعبے میں ایک آئینہ جگہ بن چکی ہے اور جس نے صحت کے حوالے سے بھی یہ خدمات انجام دی ہیں۔
میں سوچتا ہوں کہ صحافیوں کی انٹرنیٹ پر پابندی ایسا ہی نہیں ہوسکتی جو کہ یہ لگتا ہے کہ وہ آئی پی آئی کو پچتائیں ہوں।
میری آبادیات سے دیکھا جاسکتا ہے کہ انٹرنیٹ پر کچھ لوگ صرف انسٹا گرام تک ہی پہنچتے ہیں، لیکن ان کی آگہائی اور تحریکوں سے جاننے کے لیے ایک بھرپور منصوبہ بنانا نہیں مشکل ہوسکتا ۔
ماڈرن صحافیوں کو اپنی صحت کو برقرار رکھنا چاہیے، اس لیے ان کے ساتھ کچھ اور آگے بڑھنا پڑے گا۔
انٹرنیٹ پر پابندی نہ ہونے کی وجہ سے صرف ایسے ایک ذریعہ پر رہنا نہیں ہوسکتا جس سے وہ اپنے شعبے میں آگہی حاصل کر سکیں اور اپنی کارکردگی کو بھی اس وقت تک برقرار رکھ سکائیں جب تک انٹرنیٹ کا استعمال جاری ہوسکتا ہے۔
ایسے سے صرف آئینہ جگہ ہونے والی صحافیوں کو ایک اور عزم کے ساتھ کام کرنا پڑے گا، جو کہ انٹرنیٹ پر نہیں لگتا ۔
میری آبادیات کی ایک اور بات ہے جو اس بات کو یقین دلاتی ہے کہ صحافیوں کو اپنے شعبے میں آگہ رہنے کے لیے ایک بھرپور منصوبہ بنانا پڑے گا، جس میں انٹرنیٹ کی طاقت کا استعمال شامل ہوگا۔
میری آبادیات کی ایک سے زیادہ بات ہے جو اس بات کو یقین دلاتی ہے کہ صحافیوں کو اپنے شعبے میں آگہ رہنے کے لیے ایک بھرپور منصوبہ بنانا پڑے گا، جس میں انٹرنیٹ کی طاقت کا استعمال شامل ہوگا۔
اس وقت بھی ایسی تحریکوں سے ڈرلا رہا ہے جس کے نتیجے میں صحافیوں کو نئے دور میں آگاہ رہنے کے لیے ایک بار پھIR بہت زیادہ مہنت سافٹی ہونے کی ضرورت ہوسکتی ہے اور یہ ایک واضح خطرہ ہے...
میری رائے میں، جب صحافیوں کو اپنے مینٹوں سے بھی پہلے ٹریننگ ڈیوڈ لینا ہوتا ہے تو وہ انہیں ایسے تحریکوں سے کیسے دور رہنا چاہیے جو ان کی صحت کے حوالے سے اچھائی کو پہلے سے ہٹا دیتے ہیں؟
جی تو روزنامہ خبریں ایسے ماحول میں چل رہی ہے جس میں صحافیوں کو اپنے شعبے کے آئینہ جگہ پر رکھا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لئے کیسے؟
اس نئے دور میں، اس بات کو کم از کم تسلیم کرنا چاہیے کہ صحافیوں کے لیے جسم اور دماغ دونوں ایک ہی پتھر ہیں۔ وہ لوگ جو سوچتے ہیں کہ وہ اپنی سائنس دیں ہیں، وہ ایسے تحریکوں سے دور رہتے ہیں جس کی وجہ سے دنیا بھرپور اور خطرناک ہوسکتی ہے۔
لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ صحافیوں کے لیے ایسا کیسے بنایا جا سکta ہے جب انہیں اپنی صحت کو برقرار رکھنا پڑتا ہو، اس کے ساتھ ہی اپنی کارکردگی پر یقین دلانا بھی نہیں چاہیے۔ میرے خیال میں، صحافیوڤ کو اپنے جسم اور دماغ دونوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے ایک اعلیٰ سطح پر کام کرنا چاہیے۔
اس دور میں معیشت سے لیکن آئی ٹی کی ایک بے حد اچھی چیلنج ہے. لوگ محنت کر رہے ہیں اور ان کا ایک ساتھی نہیں ہے، اس لیے انہیں بہت کوشش کرنی پڑتی ہے. میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر محنت سے کچھ نہیں کیا جائے تو آج کی دنیا اپنی اپنی ماحولیت بھی بدل دیتی ہے.
ابھی وہ دن آ رہے ہیں جب لوگ سوچتے ہیں کہ میڈیا کی دuniya ایسے ہوسکتی ہے جو کوئی بھی نہیں چاہتا۔ یہ بات تو نہایت حقیقی ہے، میڈیا کی دنیا ایسی ہے جہاں آپ کو ساتھی بننا پڑتا ہے، اور اس کے لئے آپ کو اپنی جگہ پر رکھنا پڑتا ہے۔ میڈیا کی دنیا ایسی ہے جو آپ کو صحت مند رکھتی ہے یا اس سے پہلے، یہ سب کچھ آپ کا نتیجہ ہوتا ہے
اس میڈیا کی دنیا بھرپور ہوسکتی ہے، لیکن صحافیوں کو اپنی صحت پر توجہ دینا پڑے گا۔
میرے خیال میں انفو ایسے طریقوں سے ملائی جائے جو صحافیوں کے لئے آسان ہوں، ان کی صحت کو برقرار رکھنے پر توجہ دی جائے۔
یہ بھی ایک اہم بات ہے کہ صحافیوں کو اپنی کارکردگی کا فائدہ اٹھانے کی سہولت ملے، انہیں اپنے کام کی قیمتی کا احساس بھی ہو، تاکہ وہ اپنے فرائض کو پورا کرنے میں زیادہ موثر ہوں۔
اس کے علاوہ صحافیوں کو انفرسٹیشن کی ضرورت ہے جو ان کی صحت اور کارکردگی کو برقرار رکھنے میں مدد دے، جیسے سجیل اور مینٹل ہیلتھ ٹرام کے ساتھ جسمانی اور مینٹل موتھ کی سرگرمیوں کو شامل کرنا۔
عزیز میرے بھائیوں! میں سمجھتا ہوں کہ آزادی کی بات ہے، آزاد میڈیا بنانے کی بات نہیں۔ آزادی میڈیا نہیں بن سکتا، لاکھ ساتھوں کے لیے! میرے خیال میں ایسا میڈیا بننا چاہئے جو لوگوں کو جانتے اور آگاہ رکھنے کی طاقت دیکھا جائے، نہیں اسے اپنی صحافی تلواروں سے لڑنا کے لیے بہتر بنانا چاہئے!
دنیا بھر میں لوگ ایسی تحریکوں میں ہیں جو نئی دنیا کو بنانے کی طاقت رکھتی ہیں، لیکن اُسے سچ کر سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اس نئی دنیا میں ایسا میڈیا پیدا ہونا چاہئے جس پر لوگ اعتماد کرسکیں! میرے خیال میں ہر صحافی کی اپنی طاقت اور قوت ہونی چاہئے، نہیں اسے ایسی مینٹل موتھ کا سامنا کرنا پڑنا چاہئے جو اسے توتر دیتی ہو!
میں کیا سمجھا کروں گا؟ اس معاملے میں اگر ہم سب واضح بات کرتے ہیں تو دوسرے لوگ بھی سمجھ جائیں گے، صحافیوں کو اپنے آپ کو کیسے عادت رکھنی پڑتی ہے؟ وہ چاہتے ہیں، وہ بناتے ہیں اور دوسروں کی بات سناتے ہیں، اس کے لیے کچھ خاص نہیں پڑتا؟ میرا خیال ہے وہ جسمانی اور مینٹل موتھ رکھنا ان کو ذہن میں نہیں رکھ سکتا، اگر وہ اپنی کوشش کرتی ہیں تو یقین کے ساتھ اپنی بات بناتی ہیں اور دوسروں کو ان کی بات سنانے میں بھی ناکام نہ ہوتے!
مجھے اس بات سے متعرض ہوتا ہے کہ لوگ محفوظ رہنا چاہتے ہیں لیکن صحافیوں کو آگاہ رہنے کے لیے اپنی جسم و عقل کو اس سے بھی متعرض کرنا پڑتا ہے۔ مجھے یہ بات انسفرنگ ہے کہ مجھے نہیں پتا کہ مجھے اچھی طرح سے معلومات دی جائیں یا میں اس تحریک سے دور رہوں جس کی وجہ سے دنیا بھرپور ہوسکتی ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ صحافیوں کو اپنی زندگی کو استحکام دیا گیا ہو۔
مجھے یہ بات یقینی بن گئی ہے کہ آزاد میڈیا بننے کا سچا راستہ نہ صرف اس وقت تک آتا ہے جب تاکید کی ضرورت ہو۔ حالات اب ایسے ہیں جب لوگوں کو انفورمیشن کو ایسے سے لینا پڑ رہا ہے کہ وہ اپنی زندگیوں میں بھی اس کا اثر دیکھ سکتے ہیں، اور یہ بات محض ذہانی اچھائی نہیں بلکہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ اپنی جائیداد کو سچाई اور حقیقت پر مبنی رکھنا ہمارے لئے کس قدر اہم ہے।
اب وہ تحریک جو نئی دنیا میں ایسی ہو سکتی ہے وہاں اس بات پر ان کی بھرپور توجہ ضروری ہے کہ ان کے ذریعے ملامت کو سچائی اور حقیقت سے منسلک رکھنا، نئی تحریکوں سے دور رہنے کی کوشش کرنا اور اپنی صحافی اور کارکردگی میں انتہائی بہتری لانا۔
اس لیے ضروری ہے کہ ان لوگوں کو یہ بات تسلیم کرے جو حقیقت سے جانتے ہیں، اور اس نئے دور میں آزاد میڈیا بننے کی وہ طاقت جس سے وہ اپنی زندگیوں میں بھی فرق کر سکتے ہیں۔
مری نظربAND میڈیا کی دنیا ایک اچھا مقام ہے، لیکن وہیں کچھ بھی نہیں ہو سکتا جس کا اس کو بھرنا پڑے۔ میرا خیال ہے کہ آزاد میڈیا بننے کے لیے انٹرنیٹ کے ذریعے ساتھی ساتھ صحافیوں کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔ اگر انسانی طور پر اور مینٹل موتھ کو برقرار رکھا جائے تو پورا تجربہ ہی تبدیل ہوجاتا ہے۔ لیکن ایسا نہیں کہ وہ لوگ جو ایسے تحریکوں سے دور رہتے ہیں جس کی وجہ سے نئی دنیا بھرپور اور خطرناک ہوسکتی ہے، وہ ایسا کیسے کرتے ہیں?
یہ بات کو یقینی بنانے کی ضرورت نہیں کہ وہ تحریکوں کا مقابلہ کرنا جیسا کہ لوگ سوچتے ہیں، بھرپور اور خطرناک نہیں ہوتے۔ وہ تحریک جو صحافیوں کی انتھشرت کو برقرار رکھتی ہے وہی ہمیشہ زیادہ ترخند بھرپور اور سچائی کا راستہ اختیار کرتی ہے۔
روزنامہ خبریں نے دکھایا ہے کہ اگر صحافیوں کو اپنی انٹرنیٹ موتھ برقرار رکھنا پڑتا ہے تو وہی ایسی تحریکوں سے دور ہوتے ہیں جو صحافتی دنیا کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ یہ آئینہ جگہ بھی ان لوگوں کے لئے کی گئی ہو گی جو اس سچائی کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔
آج کل صحافیوں کو ایسی خطرناک دنیا میں کام کرنا پڑ رہا ہے جس کی توازن سے وہ انکھر ہو رہے ہیں۔ وہاں تک کہ جب انہیں یہ بات پچتی ہے کہ اس نئے دور میں آگاہ رہنے کے لیے وہ خاص طور پر جسمی اور دماغی موتھ کو برقرار رکھنا پڑتا ہے، تو ان سے یہ سوال نہیں آ سکتا کہ انہوں نے سچ کی طرف اپنے پیغامات کو ہموار کیا ہے یا نہیں?
ان سے سوچنا کہ اگر وہ اچھی طرح سے انفرمیڈ ہو جائیں تو انہیں تحریکوں سے دور رہنے کی ضرورت نہیں پڑ سکتی۔ اس لیے وہ آگاہ رہنے کے لیے جسمانی اور دماغی موتھ کو برقرار رکھنے سے پہلے اپنی صحافی اور کارکردگی کی انتھشرت کو بھی برقرار رکھنا پڑتا ہے۔
جیسا کہ روزنامہ خبریں نے اس بات کا مظاہرہ کیا ہے، جو یہ ہے کہ صحافیوں کو اپنے شعبے میں ایک آئینہ جگہ بنانے کی ضرورت ہے اور انھیں صحت کے حوالے سے بھی ہمیشہ یہ خدمات انجام دینے کی ضرورت ہے۔
میں تھوڑا سا سوچتا ہوا کہ آزاد میڈیا بنانے کا معاملہ ایک مشکل موٹھ ہے، لیکن جب میں اس پر گھومتا ہوا تو میں کوئی غلط نہیں پاتا کہ اس کے لیے کسی بھی طرح کی اچھائی کی ضرورت ہے، خاص طور پر صحت کو برقرار رکھنے کے لیے۔ میں تھوڑا سا یقین رکھتا ہوا کہ اگر بہت سی صحافی اور ان کی کارکردگی کے بارے میں لوگ پڑھنا شروع کر دیں تو اس سے زیادہ نئی دنیا بننے کا امکان زیادہ ہو جائے گا، اگر اس پر ایک ایسا لاکھ پہلا رہو۔
سچ میں وہ صحافی جو اپنے آپ کو ایک نئے دور کی آگ کے سامنے لے کر بھرپور اور خطرناک دنیا کی تاریکیوں کو پورا کرتا ہے، وہی صحافی دنیا کی نویں نما میں اپنی جگہ بنائے گا
ایسا محض کہنا مشکل ہے کہ ایک آزاد میڈیا کیسے بنایا جائے؟ اس سے پہلے تو کوئی بات نہیں کرتا کہ صحافیوں کو کس طرح انفرادی اور مینٹل موتھ برقرار رکھنا پڑتا ہے، لیکن اب اگر میڈیا ہاؤنڈ سے بات کرتے ہیں تو وہ بھی بتاتے ہیں کہ صحت کی بات ہے اور صحافیوں کو جسمانی اور مینٹل موتھ کو برقرار رکھنا پڑتا ہے اس کا کوئی انتھشرت نہیں ہوسکتا۔ لیکن وہی بات بتاتی ہے کہ وہ لوگ جو اپنی صحافی اور کارکردگی کی انتھشرت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں نئی دنیا میں آگاہ رہنے کے لیے یہ خدمات انجام دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔
ابھی تازہ ترین ایک رپورٹ دیکھا ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں میڈیا کے کاموں کو بڑھاوا دینے کے لیے 5000 سے زیادہ لوگ اپنی ریلانس کچلنا چاہتے ہیں اور ایک نئے نظام کے تحت آجائے گا۔
اس کے علاوہ روزانہ پاکستان ٹoday میڈیا کے مطابق، ایک سنیٹ بھر پور ایم سی ایف کو 20 اکتوبر 2025 تک 20 سال کی عمر میں بنایا جانا چاہیے جس کے تحت پاکستان میں ایک آزاد نئی میڈیا لینڈ اسکپ بنega.
اس نئے دور میں وہ لوگ جو اب بھی میڈیا کی دنیا کے حوالے سے سوچتے ہیں، ان کو یہ بات پچنے میں آسانی ہوسکتی ہے کہ صحافیوں کے لئے جسمانی اور مینٹل موتھ کو برقرار رکھنا ایسا ہی مشکل نہیں ہوسکتا جو کہ لوگ انفوڈ کرنے پر چاہتے ہیں۔
میری Opinion میں لگتا ہے کہ وہ لوگ جن کا خیال ہے کہ وہ اچھی طرح سے انفوڈ ہوئے ہیں، ان کو یہ بات پچنی چاہئے کہ انہوں نے اپنے جسمانی اور مینٹل موتھ کو بہتر بنانے کی کوشش نہیں کی ہوگی تو وہ ایسی تحریکوں سے دور رہتے ہیں جو انہیں خطرے میں پھنسا دیتی ہیں۔
آج کل جس دنیا کو ہم دیکھ رہے ہیں وہ ایک بھرپور اور خطرناک دنیا ہو سکتی ہے، لیکن اگر صحافیوں نے اپنی صحافی اور کارکردگی کی انتھشرت کو برقرار رکھا ہوتا تو اس سے ان کے لئے بہت زیادہ فائدہ ہوسکتا ہے۔