پرسنل بیگیجز اسکیم کو ختم کرنے کا فیصلہ واپس لیں، ایچ ایم شہزاد کا وزیراعظم کو خط

ہرن

Well-known member
وزیراعظم شہباز شریف کو ایک خط بھیجا ہے جو ان کے ذمہ دار تعینات کرنے والوں کی پریشانیوں سے نمٹنے کا مقصد رکھتا ہے، اس طرح انہوں نے حکومت کو ایسے معاشیاتی مشیروں سے واپسی کرنے کی مطالبہ کی ہے جو سمندر پار پاکستانیوں کے لیے گاڑیاں بھجنے میں مشکلات پیدا کر رہے ہیں، اور اس سے ان کی معاشی زندگی پر بھی زیادہ نقصان ہوا ہوگا۔

چئرمین آل پاکستان موٹر ڈیلر ایسوسی ایشن نے پیش کردیا کہ وہ سمندر پار پاکستانیوں کی گاڑیوں کو برانٹ سے بھیج رہے تھے، جو اس طرح کے مشیروں سے بھاگتے ہوئے پاکستان میں پہنچنے پر ان کی گاڑیاں برطانیہ میں چل کر گزر جاتی ہیں اور اس طرح وہ اس سے بھگتے ہوئے لوگوں کے حوالے بھیج رہے تھے، انہوں نے کہا ہے کہ اس طرح گاڑیاں پاکستان بھیجنے میں مشکلات ہونگی اور پاکستان میں گاڑیوں کے کاروبار سے وابستہ ڈیلرز کو نقصان ہوگا۔

اس طرح انہوں نے حکومت کو اس پر نظرثانی کرنے کی مطالبہ کی ہے اور اس میں پاکستان کی حکومت 9 دسمبر کو ای سی سی کے اجلاس میں سے اس معاشی مشیروں کو واپس لانے پر موافقت کرنی پائی، اور اس طرح سمندر پار پاکستانیوں کو گاڑیاں بھجنے میں مشکل ہونے والی جائنسی کی صورت سے بچایا جا سکتا ہے۔
 
یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ سمندر پار پاکستانیوں کو گاڑیاں بھجنے میں مسائل پیدا کرنے والے معاشی مشیروں سے ٹوٹنا پوری حکومت کی ذمہ داری ہے، جبکہ ان کے ذمہ دار تعینات کرنے والوں کو بھی اپنی جانب سے کام کرنا پڑسکتا ہے۔

لگتا ہے اس صورت میں یہ معاشی مشیروں کو واپس لانے پر حکومت کی طرف سے موافقت کروائی جائے گی، جو سمندر پار پاکستانیوں کو گاڑیاں بھجنے میں مشکل ہونے والی جائنسی سے بچاسکتا ہے اور کاروباری معیشت کو بھی محفوظ رکھتا ہوگا।
 
یہ بات تو واضع ہے کہ یہ معاشی مشیروں نے صرف ایسے لوگوں کو نقصان پہنچایا ہے جو اپنی گاڑیاں سمٹار پار بھینے کی کوشش کر رہے تھے، اور اب وہ ان سے چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں تو یہاں تک چل پڑتے ہیں کہ گاڑیاں بھیج کر برطانیہ جانے لگتی ہیں اور وہ لوگ جو ان کی گاڑیاں دیکھ رہے تھے ان کو پچتایا جاتا ہے، یہ بھی ایک نئی شکل کا معاشی جراثیم ہے جنہوں نے Pakistan میں گاڑی کی صنعت کو خراب کیا ہے تو اب وہ اس سے بچنا چاہتے ہیں اور جائنسی کے معاملے سے بھگتا ہوا ان کے حوالے کر رہے تھے تو اب ان کو اس پر نظرثانی کرنا چاہتے ہیں اور اس سے پاکستان کی حکومت کو بھی نقصان پہنچنے کا موقع ملتا ہے؟
 
اس معاشی مشیروں سے بھاگتے ہوئے سمندر پار پاکستانیوں کو گاڑیاں پہنچانے کی صورت ایسا نہ ہونا چاہئیے، یہ کافی خطرناک اور معاشی نقصان دہ بھی ہے۔
 
اس حقیقی معیشت پر غور کرنا چاہئے، جس کے نتیجے میں پاکستان کو پھنسایا گیا ہے، اور اس سے سمندر پار پاکستانیوں کی گاڑیاں بھیجنی میں مشکلات پیدا ہونگی۔ اگرچان چئرمین ایسے کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں، لیکن اس پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہوگی، اور یہی رکھنا مشکل ہوگا۔
 
اس خط سے بعد مہربانی کا معاملہ نہیں بلکہ یہ سمجھنا زیادہ اہم ہے کہ وہ تعینات کرنے والوں کی پریشانیوں سے نمٹنے کا مقصد ایسا ہی ہے، جیسے بھی اس سے ان معاشیاتی مشیروں کو واپس لانے پر موافقت کی جائے۔ میں نہیں کہنغا کہ ان تعینات کرنے والوں کو پریشانی ہوئی ہو، لیکن یہ ایک اچھا قدم ہے جو حکومت کے ساتھ ایسے معاشی مشیروں کو لانے پر موافقت کی جا سکے جس سے سمندر پار پاکستانیوں کو گاڑیاں بھجنے میں مشکلات نہ ہوں اور ان کے لیے ایک اچھی زندگی میں رہائش حاصل کی جا سکے.
 
اس بات کو واضح کرتے ہوئے کہ سمندر پار پاکستانیوں کو گاڑیاں بھجنے میں ایسے مुशکلیں پیدا ہوتی ہیں، تو اس کی واضح وجہ نہیں ہے کہ یہ گاڑیاں ٹھیک چلوں، بلکہ ان کو برانٹ سے بھیج کر ہی یہ مشکل پیدا ہوتی ہے؟ اور اس طرح کی معاشیات کو ختم کرتے ہوئے وہ لوگ جسمانی طور پر کیسے پھر سکتے ہیں؟
 
وزیر اعظم کی یہ کارروائی بہت اچھی ہے، اگر انہوں نے اس معاشی مشیروں کو واپس لانے پر موافقت کا مطالبہ کیا تو سمندر پار پاکستانیوں کو گاڑیاں بھجنے میں مشکل ہونے والی جائنسی کی صورت سے بچایا جا سکتا ہے، اور یہ معاشی زندگی پر نقصان ہونے والوں کو بھگتے ہوئے لوگوں کے حوالے گاڑیاں واپس لینے سے نجات مل سکتی ہے

میں یہ سوال کرن گا کہ کیا اس معاشی مشیروں کو اس طرح واپس لانے کی پوری کوشش کے بعد بھی ان کے ذمہ دار تعینات کرنے والوں کو کچھ نئی پریشانیyan مل جائیں گی، یا یہ معاشی مشیروں کو اس طرح واپس لانے سے سرانجام ہون گا?
 
🚨 آج کی خبروں سے کہیں زیادہ چिंتاجوں ہیں! وزیراعظم نے ایک خط بھیجا ہے جو تعینات کرنے والوں کی پریشانیوں سے نمٹنے کا مقصد رکھتا ہے، لیکن اس کی اچھائی نہیں کہ وہ حکومت کو معاشی مشیروں سے واپسی کرنے کی مطالبہ نہیں کی۔

علاوہ ازیں چئرمین آل پاکستان موٹر ڈیلر ایسوسی ایشن نے بھی کہا ہے کہ وہ سمندر پار پاکستانیوں کی گاڑیاں برانٹ سے بھیج رہے تھے! یہ تو واضح طور پر بے ایمان ہے اور اس سے حکومت کو آگاہ کرنا چاہئے کہ اس طرح کی مشیروں سے ان کی گاڑیاں برطانیہ میں پہنچ کر بھی ٹوٹ جاتی ہیں اور وہ ایک بار ٹوٹ جانے پر اسے بھی چل کر گزر نہیں دیتے!

اس طرح اس پر نظرثانی کرنے کی مطالبہ کیا جا رہا ہے اور یہ سیکھنا بھی اچھا کہ اگر سمندر پار پاکستانیوں کو گاڑیاں بھجنے میں مشکل ہونے والی جائنسی کی صورت سے بچایا جا سکے تو وہ لوگ اپنی معاشی زندگی کے لیے چنگا ریس کرسکتے ہیں۔

اس پریشانی سے نمٹتے ہوئے انھوں نے پاکستان کی حکومت کو بھی ایسے معاشی مشیروں سے واپسی کرنے کی مطالبہ کی ہے جو سمندر پار پاکستانیوں کے لیے گاڑیاں بھجنے میں مشکلات پیدا کر رہے ہیں!

اس پر واضح طور پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے اور یہ سیکھنا بھی اچھا کہ اس طرح کی مشیروں کو ایسے تعینات کرنے والوں سے منسلک نہیں کیا جانا چاہئے جو سمندر پار پاکستانیوں کے لیے گاڑیاں بھجنے میں مشکلات پیدا کر رہے ہیں!


<img src="https://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/thumb/9/93/Screwdriver.svg/800px-Screwdriver.svg.png">

ایسا نہیں کہا جائے اس معاشی مشیروں کو ایسے تعینات کرنے والوں سے منسلک ہونے پر حکومت کی انہیں بھی نقصان ہوا دے۔
 
Wow 💸 پکدے ہوئے معاشی مشیروں کو واپس لانے پر موافقت کرنا ایسا کھل کر مفید اور پاکستان کی حکومت کے لیے بھی بافida ہوگا 🙏
 
واپس
Top