روہڑی میں فائرنگ سے پولیس اہلکار کی شہادت پر وزیر داخلہ سندھ نے نوٹس لے لیا | Express News

کراچی میں روہڑی میں نامعلوم ملzmanوں نے پولیس اہلکاروں کی فائرنگ کر دی، ان تمام کھراب حالات پر وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے سخت نظر لیا ہے۔

شہید ہونے والے پولیس اہلکار کی شہادت کے واقعے پر انہوں نے ایس ایس پی سکھر سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے، اس واقعے کو انہوں نے قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی اور پولیس پر حملے ناقابلِ برداشت ہیں، اس طرح کسی بھی سمجھوتے کے لیے کوئی جواز نہیں دیا جائے گا۔

انہوں نے شہید اہلکار کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہید کی جانب سے کوئی بدلہ لینے کا پتہ نہیں چلتا، انہوں نے ان سے اپنی اور ملک کے لیے بھرپور تحفظ کا وعدہ کیا ہے۔

وزیر داخلہ سندھ نے پوری گنجائش میں رائیگاں کی پولیس سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان کو ان کے لیے ہنگامی اقدامات پر عمل کرنے کی ہدایت کرتے ہیں، روہڑی واقعہ میں ملوث عناصر کو ہر صورت قانون کے کٹھرے میں لایا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی تازہ کیا ہے کہ سندھ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے، ان کا یہ کہنا تھا کہ کسی صورت میں حملہ آوروں کو کisi صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔
 
اس واقعہ پر بے ساتھ اور بے عقل کی چپکتی کو دیکھ کر مینے سوچا ہے کہ اس میں تو کچھ سمجھوتے کی بات نہیں کی جا سکتی۔ پھر وہ لوگ جو ان لوگوں کے خلاف حملہ بھی کر سکتے ہیں، اور وہ لوگ جو ان لوگوں کو اپنی جان دیں گے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ انہیں فائدہ ہو گا... میرے بھائی نے ایک دوسرے سال میسور میں اپنی بیوی کو کچلنا تھا، مگر اس کا کس کو پتہ چلا؟ اور اب یہ لوگ روہڑی میں شہید ہونے والے اہلکار کی جان دی رہے ہیں، یہ تو بھی دیکھو گا کہ کس طرح بے ساتھی ہنسی پھرتی ہیں... میرے سامنے یہ بات تھی کہ کوئی بھی ادارہ خود پر جال نہیں ہوتا...
 
بہت گھبرا ہوا اور دھمکے ہوئے روہڑی میں، یہ لگتا ہے کہ شہید ہونے والے پولیس اہلکار کو اس واقعے کی پوری ذمہ داری نہیں مل سکتی 🤕

ان واقعات سے بعد میں سے ایسا لگ رہا ہے کہ شہادت کے بعد بھی جسمانی اور ذہنی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پولیس اہلکار کی جانب سے ہوا ان واقعات میں یقین نہیں دی جا سکتی

وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کا یہ کہنا کہ ملزمان کو ہنگامی اقدامات پر عمل کرنے کی ہدایت کرتے ہیں، بےشک ضروری ہے لیکن اس صورت میں کسی سمجھوتے کی طرف بڑھنا تو مشکل ہو گا

اس واقعے سے پوری سندھ حکومت پر یہ تازہ ہے کہ عوام کے تحفظ کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں، جس کا ان شہدائوں سے زیادہ احترام اور سرہ کوئی نہ کوئی ہوگا
 
اس روہڑی واقعے سے ہمیشہ یہ سوچ کر بھی گزشتہ کئی سالوں میں بھرپور تحفظ کی کوشش نہیں کیا جاسکتا ، شہید ہونے والے پولیس اہلکار کی شہادت دہشت گردی اور ان پر حملوں سے بھی لچک ہے۔
 
یہ واقعہ تو تو کچھ دیر سے چل رہا ہے، لेकن اب جب شہید اہلکار کی جان سے گزشتہ ہو چکی ہے تو پوری توجہ اس پر مرکوز ہونے کی ضرورت ہے۔ مگر یہ بھی دیکھنا اچھا ہے کہ وزیر داخلہ سندھ نے ان تمام کھراب حالات پر سخت نظر لی ہے، جس کی وہی وعدہ کر چکی تھیں۔ روہڑی واقعہ میں ملوث عناصر کو قانون کے سامنے لانے کی یہ کوشش بہت اچھی ہے، نا کہ وہ شہید اہلکار کی اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کیا تو نے اس کی مدد میں پورا یقین رکھتا ہوں۔
 
اس روہڑی واقعے پر تو ہوتا ہے، یہ بھی ہوتا ہے لیکن یہ پوری ٹیم کو ایسے حالات میں لایا جاتا ہے کہ آپ اس سے انچاراج نہیں کرنا چاہیے؟ آج کے دور میں یہ تو بھرپور شہدت کی بات ہو رہی ہے لیکن پھر ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اس شہدت کو ایک فوری رپورٹ کے ذریعے ساتھ لے جاتے ہیں؟ میری بات یہ نہیں کہ روہڑی میں واقع ہونے والا واقعہ تو بھی قابل مذمت ہے لیکن ایسے سٹریٹجیز کو کم کرنا چاہئیے جس سے یہ ایک فوری رپورٹ کے ذریعے پھیلتا ہوا دیکھا جائے، نہیں تو یہ ایک بڑی مہنگائی بن جاتا ہے؟
 
یہ واقعہ بہت ہی درامہ ہے … اس سے پتا چلتا ہے کہ شہریوں کی امانتیں کوئی بھی نہیں سمجھ سکta … روہڑی میں کیا کر رہے تھوڑے لوگ … انھوں نے اپنی جان بھی نہیں سوچتی … واضح ہے کوئی بھی جواز نہیں ہونا چاہیے اور انھوں نے سندھ حکومت کی تحفظ کا لطف لیا ہے …
 
رای اور واضع ہے، میرے خیال میں یہ واقعات کچھ زیادہ گہری حقیقت سے منسوب ہوگا। پھر بھی شہید اہلکار کی جانب سے کسی کو بدلہ لینے کا عمل نہیں چلے گا، اس پر یقین رکھو۔ میرے خیال میں یہ روہڑی واقعات کو دیکھتے ہوئے ملزمان کی جانب سے ایسے Elements کا اٹھنا ہے جو شہری life ko risk kar raha hain. کچھ لوگ بتایenge کہ یہ کیسے ہوا, لے آئیں، میرا خیال تو ہے کہ کسی بھی ملزم کو پکڑ کر انki life ko thoda barhayein aur unka kya karna tha woh bata dein.
 
واپس
Top