روہت شیٹی پر بشنوئی گینگ کی فائرنگ؛ پولیس ملزم تک پہنچ گئی؛ سنسنی خیز انکشاف | Express News

ستار نواز

Well-known member
مبنی فلم ساز روہت شیٹی کی رات گئی گولیوں کا واقعہ ہाल ہی میں ہوا جس میں انہیں نشانہ بنایا گیا اور اس کی جان جائ چکی ہے۔

اس واقعے پر پورا شہر جوہو اٹھا ہوا تھا، جبکہ پولیس کے مطابق لارنس بشنوئی گنگ نے اس حملے کی ذمے داری قبول کر لی تھی۔

جس میں سے ایک گولی عمارت کی پہلی منزل پر جِم کی کھڑکی پر چلائی گئی تھی، جبکہ دوسری گولیاں بیرونی دیواروں میں لگیں تھیں۔

پولیس نے اس واقعے کو اپناتے ہوئے شہر کے باہر سیکیورٹی تيز کر دی تھی اور تفتیش کا دائرہ کار پورے علاقے تک پھیلایا تھا۔

فارنزک اور بیلیسٹکس ٹیموں نے جائے وقوع پر شواہد اکٹھی کیں، جو کہ شواہد کے مطابق اس کو ایک جدید 7.62 ملی میٹر گن سے چلا گیا تھا۔

پولیس نے یہ بات بھی پتہ لگائی کہ گولیوں کی سمت اور حملہ آور کس طرح فرار ہوئے۔

اس واقعے کے بعد پولیس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 4 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور ٹھوس شواہد ملنے پر مقدمہ درج کرتے ہوئے ملزمان کو عدالت میں پیش کردیا گیا تھا۔

ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا کہ بشنوئی گنگ سے تعلق رکھنے والے شبوت لمکر نے اس واردات میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور پولیس کے مطابق انہوں نے فائرنگ کے لیے استعمال ہونے والی اسکوٹر خریدنے کے لیے 40 ہزار روپے فراہم کیے تھے اور دیگر جرمیں کو انجام دینے کی ہدایات جاری تھیں.

پولیس نے اسکوٹر اور دیگر ثبوت جمع کر لیے ہیں اور مزید ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
 
ایسا کیا ہوا، یہ واقعہ تو ہر کوئی جانتا ہے اور ابھی تک کسی کی لاپٹ نہیں آئی تھی۔ وہ شخص جو اس وقت سکیورٹی میں اپنی فسیل لگاتا رہتا ہے، اس کا یہ بھی کیا کوئی انتظام کرتا تھا کہ وہ ایسا کر دیتا ہے؟ ایسے میں تو یہ بے حسیوں سے محسوس ہوتا ہے، پھر بھی کچھ لوگ اس طرح کی بات چیت کرتے رہتے ہیں اور ان کی لاپٹ کھل کر نہیں آتی۔
 
عزیز یو ، یہ واقعہ بہت کھلے دل کروڈا ہے، شہر میں ایسا ہونا چاہیے جہاں لوگ ایک دوسرے کی جان کو یقینی بناکر رہنے کے لئے آہستہ تیز سہیں، مگر ایسے حالات ہونے پر بھی کوئی دھوم نہ پائی جائے، اور یہ بات محض کہیں لکھا جانے سے نہیں، پورے شہر میں ایسے حالات ہونے پر لوگ کیسے رہن گے؟۔

اور یہ بات بھی دیکھنی پڑے گی کہ جس معاملے کو آج پولیس نے حل کرنا شروع کر دیا ہے وہ اور بھی مشکل ہو گا، انہیں اب پچاس اور سترے کے جرمیں کو جسمانی طور پر بھی پکڑنا پڑ سکتا ہے ، اور اس معاملے میں اٹھنے کی پوری طاقت لئے کرنی پڑ سکتی ہے
 
اس گولیوں کی واقعت سے ہر کوئی متاثر ہوا ہے۔ میرا کھیال ہے کہ شہر جوہو میں لائی گئی ایسی پریشانی تو پھر بھی حل ہوجائیگی، لیکن اس سے قبل یہ بات بھی معلوم ہونا چاہیے کہ سیکیورٹی پر کیسے توجہ دی جائے اور انسداد کرپشن کی پالیسیوں کو قوت دے جائے۔
 
اس واقعے پر بھی میری توجہ ہے، یہاں نہیں تو ایک اور شہری جان گئی تھی اور یہ سارے واقعے تو کیسے ہو سکتے ہیں؟ بچپن میں ہی میری ماں نے مجھے یہی بات بتائی تھی کہ اس لئے ہوتا ہے، جب سے ہم معاشرے میں موجود ہوٹے ہیں اور وہ لوگ چلنے والے ساتھ اپنی گالی لگاتے رہتے ہیں۔

اب جب شہر بھی اٹھتا ہے تو یہاں تک کہ ان سے بھی بات نہیں ہوسکتی؟ ایسے وقت ہمیں اپنی صلاحیتوں پر فخر کرنا چاہیے اور دوسروں کی جانوں کو بچانا چاہیے۔

لوگ اس سارے واقعے کے بعد گولی لگاتے ہوئے نہیں رہتے، انھیں جانتے ہیں کہ یہاں کے شہر میں بھی ایسے واقعات ہو سکتے ہیں، اور اگر آپ انھیں نہیں روک سکتے تو کوئی اور اسے روک لے گا۔
 
اس گولیوں کا واقعہ ایسا نہیں ہو سکتا جو واضح طور پر بتایا گیا ہے. یہ سب سچے تھے کہ شواہد میں بھی ایک اور دوسرا شواہد ہوتے تو یہ معاملہ حل ہوجاتا لیکن اب تک کوئی نہیں بتایا جیسے ملزمان کی پوری کھلنی کی کوشش ہو رہی ہے. بھی پتہ لگ گیا تو ان ملزمات کو کس طرح گرفتار کیے گئے اور ایسی نہیں جس پر مقدمہ درج ہوا. یہ سب سچے تھے کہ واضح طور پر بتایا گیا ہے.
 
یہ گھبراہٹ کی پہلی بار ہوئی، جوہو میں ایسے واقعات سے ہوئے ہیں جن کے بعد شہر بھی رات نہیں رہتا۔ گولیاں 7.62 ملی میٹر کی تھیں، جو ایسا لگتا ہے کہ فiring سے پہلے کچھ چیز ہوئی ہوگی۔

فائرنگ کے بعد شہر ہمیشہ سے زیادہ تیز ہو گیا ہے اور اب یہ دیکھنا مشکل ہوتا ہے کہ کیا ہوا، کس نے کیا، اور اس کی وجہ پتہ کرنا مشکل ہے۔

لارنس بشنوئی گنگ کی جانب سے اس کا جواب دینا مشکل ہوگا۔ مگر ایسے واقعات میں وہی نہیں ہوتے جیسے یہ ہوا۔
 
اس فلم ساز کو جان گئی گولیوں کا شکار تھا… اس سے پہلے بھی انہوں نے ہندوستانی فلموں میں اپنی جگہ بنائی تھی، اب وہ جان گئے.. اور شہر جوہا پورا اٹھ گیا… یہاں تک کہ ان کے بچوں کو بھی سکون ملتا ہے۔
 
یہ واقعات بھول نہیں سکتے۔ ان شہریوں کو ہمیں اور ہمیشہ کی طرح پہلے تو یہ نہیں سنا، پھر اس کے بعد یہ دوسرے شہروں میں بھی جارہا ہوگا؟

اس گولیوں کی ہمدردی کی بات کرنے والے جوہو کی فوج، وہ صرف کتنے سے بھی سٹرو ہیں؟ ان شہریوں کو سب کچھ دیکھنا پڑا اور ڈرنا پڑا، اور اب تو انہیں پوری دنیا میں ڈرنے پر مجبور کر دیا جائے گا؟
 
🤕😱 جس گھنٹے میں لوگ انہیں شہر سے باہر لیتے چلے گئے، وہی گھنٹا جس میں شہر کے لوگ پورے ہو تھے 🚨💥. یہ دیکھنا بے کفایتی ہے، جبکہ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا تو بالکل یقینی نہیں ہوتا کہ انہوں نے یہ کیا تھا وہاں 🤔👮. اور اب تک لائی گئی شواہد کی بھی پوری کویت نہیں ہوئی، یہ تو کچھ عجیب ہے 🕵️‍♂️😎
 
اس واقعات سے پوری شہر پر اثر پڑا ہو گا، سب جانتے تھے کہ یہ جوہو میں ہوا تھی اور اب یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ اسے کوئی ایسا شخص نہیں کر سکتا جس کے بعد شہر اٹھتا ہو۔ پولیس کی تیز دلیلی کا شکر ہو گا۔ لاکھوں لوگوں کو یہ جاننے کا موقع ملا ہوا ہے کہ انصاف سیکرٹی ٹیمز پر بھی ایسے حالات میں عمل کرنا پڑ سکتا ہے جب سے شہر اٹھتا ہو۔
 
یہ واقفہ بھی اس وقت کا سائیز ہے جب شہر کو چھوٹنا پڑ رہا ہے… گولیوں کا یہ واقعہ جوہو میں ہوا تو ایک طرف سے انھیں نشانہ بنایا گیا، اور دوسری طرف سے لارنس بشنوئی گنگ کو اپنی ناکامیاں سنبھالنے کی جگہ ملا… اور اب یہ بات کہنا ہو رہا ہے کہ 4 افراد گرفتار ہوئے، تو یہ کتنی بھی چٹانی تھی! میں کہتا ہاں کہ اگر ملزمان کو اپنے جرائم سے نمٹنا پڑے تو وہ یہ بات جانتے کہ ان کی جان کی کتنی بھی قیمت ہے…
 
واپس
Top