رواں برس کی پہلی قومی انسدادِ پولیو مہم چوتھے روز بھی ملک بھر میں جاری

وی لاگر

Well-known member
پolio مہم نے ملک میں ایک نئی ہمت کی شروعات کی: 4 لاکھ سے زائد پولیو ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو پلیو کے قطرے پلا رہے ہیں
سعود پاکستان اور افغانستان میں پلیو مہم چوتھے روز جاری
ابتدائی تین روز میں ملک بھر میں 3 کروڑ 89 لاکھ سے زائد بچوں کی ویکسینیشن مکمل کرلی گئی ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہوا جیسا کہ نیشنل ای او سی کے مطابق پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جو بچوں کو زندگی بھر کے لیے معذور کر سکتی ہے، پلیو ورکرز کے لیے دروازے کھولیں اور اپنے بچوں کو پلیو کے قطرے لازمی پلَوائیں۔

پاکستان اور افغانستان میں پاکستان اور افغانستان میں چوتھے روز پلیو مہم جاری ہے، جو ایسا نہیں ہوا جیسا کہ نیشنل ای او سی کے مطابق پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جو بچوں کو زندگی بھر کے لیے معذور کر سکتی ہے، پلیو ورکرز کے لیے دروازے کھولیں اور اپنے بچوں کو پليو کے قطرے لازمی پلَوائیں۔

آج تک ملک میں 3 کروڑ 89 لاکھ سے زائد بچوں کی ویکسینیشن مکمل کرلی گئی ہے، جبکہ پھلن-फوilon میں اور ایسی صورت حال کی پیشنیاں بھی نہیں بنتیں۔

سعود پاکستان اور افغانستان میں چوتھے روز پلیو مہم جاری ہے، جس کے ذریعے انڈر ایکٹ 7 کے مطابق دو سال کی عمر سے کم بچوں کو ویکسینیشن دی جا رہی ہے۔
 
اوہ اور پلیو مہم! یہ تو ایک بڑا کامیاب کھیل ہے! اب تک 3 کروں سے زائد بچوں کو ویکسینیشن دی گئی ہے، اس کی خुशی ہمیں سب پر نہایت خوشی سے لگی رہتی ہے! پلیو ورکرز بھی اچھے ہیں ان کو بھی پیار کیا جا سکتا ہے!
 
پولیو مہم نے دھارہ دھارہ کرکے ایک نئی ہمت کی شروعات کی ہے؟ یقیناً 4 لاکھ سے زائد بچے اپنے گھر-گھر پھیل کر پلیو کے قطرے پلا رہے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہوا جیسا کہ وہ کہتے تھے! پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جو بچوں کو زندگی بھر کے لیے معذور کر سکتی ہے، اس لیے اس کے خلاف لڑنے کی جگہ نہیں ہے۔ پلیو ورکرز کے لیے دروازے کھولیں اور اپنے بچوں کو پلیو کے قطرے لازمی پلَوائیں!
 
ایسا کچھ بھی نہیں ہوا جیسا کہ پولیو کے خلاف مہم پر کہا گیا تھا، پھر بھی پولیو ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو پلیو کے قطرے پلا رہے ہیں...! اور اب تک صرف چار لاکھ سے زائد ویکسینیشن مکمل کرلی گئی ہے، جو کہ پوری ملک میں تین کروڑ ninety لاکھ بچوں کی ویکسینیشن کی گئی ہے...! اور ابھی تک اس کا نتیجہ کبھی نہیں دیکھا گیا...!
 
تھامس ادرن، پاکستان کی سب سے چھوٹی پلیو ورکر اور اب اس نے اپنے بچوں کے لیے پلیو کا قطرہ پلایا ہے, آج تک انھوں نے 10000 سے زیادہ قطرے پلائے ہیں 🤣
 
پولیاں چھٹی رات کی گولیاں نہیں بنتیں، لیکن پولیو ورکرز کتنی پریشانیوں میں دلبند ہوتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو پلیو کی قطرے لازمی پلاؤ رہے ہیں؟ یہ تو سچ ہی پریشانی ہے کہ لوگ اس بات کو محسوس نہیں کر رہے کہ پلیو ایک لاعلاج بیماری ہے!
 
🤣 پھر یہ سوال آتا ہے کہ اس مہم میں شام کی قوم بھی شامل ہو گی؟ اور ایسا نہیں ہوا جیسا کہ لوگ کہتے ہیں پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے، تو یہی وہ عجیب بات ہے جو پالیو ورکرز کے لیے دروازہ کھلائی۔ اور اچھا، اب تک ملک بھر میں 3 کرور سے زیادہ بچوں کی ویکسینیشن مکمل ہو گئی ہے، یہ تو خushi ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پلیو ورکرز کو پولیو سے بچنا کیسے ہوتا ہے؟
 
ایسا نہیں ہوا جیسا کہ لوگ بات کرتے تھے پولیو مہم نے ملک بھر میں بچوں کو پلیو کی ویکسینیشن دی ہے، اب تک 3.89 لاکھ سے زیادہ بچے اپنی وекسنسشن مکمل کر چکے ہیں، یہ بہت بھاگے ہیں اور پلیو ورکرز کو ہم سب کی مدد سے ویکسنسن ملا رہا ہے 🙌
 
بچوں پر یہ مہم اچھی ہو گی، ان کے لیے پلیو کی وبا سے بچنا ضروری ہے جس سے وہ زندگی بھر تک معذور رہتے ہیں
 
واپس
Top