پاکستان کے مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں ترسیلات زر میں ایک بھاری اضافہ ریکارڈ ہوا ہے جس کی وجہ سے اکتوبر تک جو معیار رہا تھا، وہ اب 11 ارب 85 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہو گیا ہے جبکہ ان 4 ماہ کی شروعات میں انڈیکس میں ایک فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا تھا۔
ان کے علاوہ برآمدات بھی دو فیصد اضافے سے 10.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جبکہ اپ ڈیٹ میں ملتا ہے کہ درآمدات میں بھی 9.6 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا تھا اور یہ معیار اب 20.7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جس سے کرنٹ اکاؤنٹ میں بھی 73 کروڑ ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔
پاکستان میں نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی سے بھاری کمی دیکھنے میں آئی ہے، ایسے کے برعکس زرعی شعبے کو 845 ارب روپے کے قرضے ملے تھے جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 18.6 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ماہانہ اپ ڈیٹ کے مطابق ملک میں نجی شعبے سے سرمایہ کاری 26 فیصد کمی کرنے میں آئی ہے جس کی وجہ سے 74 کروڑ 77 لاکھ ڈالر رہے ہیں جو گزشتہ سال کا مقابلہ 2 روپے 60 پیسے سے زیادہ تھا۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ماہانہ اپ ڈیٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جولائی سے اکتوبر تک ٹیکس ریونیو میں ایک فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا تھا جو اب 3834 ارب روپے تک پہنچ کر رہا ہے جبکہ نان ٹیکس ریویو میں 0.4 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ہے جو اب 3008 ارب روپے تک پہنچ کر رہا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق جولائی سے اکتوبر کے درمیان بجٹ میں 2119 ارب روپے سرپلس رہے ہیں لیکن اس میں تقریباً ایک فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا تھا جس کے بعد اس نے اپنا معیار 3497 ارب روپے تک پہنچ کر رہا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق یہ بات بھی بتائی گئی کہ جولائی سے ستمبر تک بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 4.08 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا تھا۔
پاکستان کے مالی سال میں سب سے زیادہ ترسیلات زر میں ایک بھاری اضافہ دیکھنے کو آ گیا ہے، یہ بات تو تو اچھی ہو گی لیکن اس کی وجہ کیا پوچھتا ہے؟ نوجوانوں کو ملازمت سے باہر رہنے پر مجبور کرنا کیسے؟ یہ بات بھی دیکھنا مشکل ہو گی کہ ایسے معاملات میں کیے جانے والے اقدامات کا نتیجہ کیا ہوگا
"جب انچے کی لپٹ ہوئی تو خوف کو دیکھنا ہر وقت کھاتا ہے"
اس خبر سے پتہ چل رہا ہے کہ زراتی معیار میں ایک بھاری اضافہ ریکارڈ ہوا ہے اور نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی سے کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس کے خلاف ایسا نہیں کہزراتی معیار میں اضافے سے زرعی شعبے کو Quinn ارب روپے کے قرضے مل گئے ہیں، جس سے ان کے لیے hope mil raha hai.
ایک دوسرے سال اس طرح کے اعدادوشمار دیکھنے سے کچھ خुशی ہوتی ہے ، ڈالر کی گزری ہوئی رقم ایسی نہیں تھی جس کا مقصد صرف زراعت کو دیکھنا تھا ، انڈیکس میں بھی 5 فیصد اضافہ ریکارڹ ہوا تو یہ صرف زراعت کا بھی نہیں۔
بہت غلط ہے! نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی سے کیسے کام کرے گا؟ وہیں زرعی شعبے کو بھی 845 ارب روپے کے قرضے ملے تھے، اس لیے یہ معیار اب زیادہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ سال کی طرح اکتوبر تک بھی نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی سے کام کرنا چاہئیے تاکہ معیشت پر مثبت اثرات ڈالنے پڑ سکیں۔
ایک نوجوان کوئی کھانے والا بھی نہیں بن سکتا جب تک اس کی والدات انسولین پر غور نہیں کرتی! پاکستان کے معاشی معاملوں میں یہ سب توڑ تودھر ہو رہا ہے، زرعی شعبے کو بھی قرض دیتے ہیں اور نجی شعبے کو قرضوں سے رکھتے ہیں! یہ ایسی بات بھی کہیں نہ کہ جو ملک میں معاشی استحالتیوں کو بہتر بنانے کی جانب سے ہر دفعہ انہیں اپنا خیرات ہٹا رہے ہیں!
اس نئے سال میں ملک کے معاشیات کو بھی ایسی سے بدل دیا جا رہا ہے جیسا نہ ہو سکتا، یہ توڑ تودھر ملوث ہوتے جاسکتی ہیں لیکن ان کے ذریعے کچھ حاصل کرنے کی کوئی possibility نہیں!
میں تو سوچتا تھا کہ یہ دیکھنا گا کہ معیشت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگئی، لیکن اب پھر اس بات کو بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ انڈیکس اور برآمدات میں اضافہ ریکارڹ ہوا ہے جو کوئی بدلाव نہیں ہوگا। سرانجام میرا فیصلہ ثابت ہوئا کہ معیشت میں بھی تبدیلیاں دیکھنی پڑتی ہیں اور ہم کو اپ ڈیٹ رکھنا چاہیے
اس معیشت کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے تو منہ و جبھن کرتا ہوں، پچیس سے چلٹی ہار گئی، مگر ہالے اکتوبر تک یہ معیار اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ سایہ تو ہوا بھی ہو کر ٹکراتا ہے۔
نجی شعبے کی قرضوں کی کمی دیکھتے ہوئے تو ایسا لگتا ہے جیسے لوگوں نے اپنی منی مینو کی کافی گنجائش چھوڑ دی ہے، لیکن زرعی شعبے کو قرضوں کی بہت سارے پیسے ملے ہیں جس سے یہ معیشت اور بھی تھم کر رہی ہے۔
ٹیکس ریویو میں ایک فیصد اضافہ، وہاں تک کہ ٹیکس لینے والوں کے ذخائر میں کمی دیکھنے کو آئی ہے۔ اس کے نال بھی جو اکتوبر تک کرنٹ اکاؤنٹ میں جائیداد کی کمی دکھنی پڑی ہے وہ تو یہ ہی نہیں بلکہ نوجوانوں کو بھی ایسا محسوس کر رہا ہے کہ ان کے پاس اور بھی چھوٹا پیسا ہے۔
میں سوچتا ہوں کہ اس میں اگلی بار بھی ایسا ہی ہو گا، یہ معیار 12 ارب ڈالر تک چلے جائیں گے تو یقین ہے نہیں؟ مزید یہ کہ اس میں بھی ایک فیصد اضافہ ریکارڈ ہوگیا ہے جو اس کے ساتھ ہوتا ہے، لاکھوں لوگوں کی زندگی پر ایسا ہونا چاہئے نہیں؟
ایسا لگتا ہے کہ زرعی شعبے نے اپنا کارोब بڑھاتے ہوئے معیار حاصل کر لیا ہے، لیکن نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی سے کمائی میں کمی واقع ہونے کا یہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، اس میں گھریلو اور کاروباری معیشت میں تبدیلی کی طرف اشارہ ہے جو پابندی کے ساتھ نہیں آئی تھی، یہ بھی واضح ہے کہ جولائی سے اکتوبر تک معیشت میں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے لیکن اس میں کاروباری اور گھریلو معیشت کی ترسیلات میں فرق ہے، پانی کو جھیلوٹ کرنے والی معیشتوں کا یہ معیار حاصل کرنا دیکھنے کو Mills ملا رہا ہے
اس وقت اس کی کوئی گھبراہٹ نہیں بےتھ کر سکتے ہیں کہ پہلے چار ماہ میں ترسیلات زر میں اچھی طرح اضافہ ہوا ہے؟ اس کا مطلب یہ کہ ملک کی معیشت بھی واضح طور پر مزید تیز ہوئی ہے۔ اب معاشیاتی منظر نامے سے ملنے والے ان پہلوؤں کا مشاہدہ کرنا چاہئے جس کی وجہ سے زرati زر میں ایک اضافہ ریکارڈ ہوا ہے اور اس معیار اب 11 ارب 85 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہو گیا ہے۔ 20.7 ارب ڈالر تک پہنچ کر رہا ہے جو اس وقت کے معیار میں ایک بھاری اضافہ ہے جس کی وجہ سے اکتوبر تک معیار زیادہ تھا۔
mera khayal hai ki Pakistan ko kisi bhi samasya ke liye taalaab nahi chahiye, bas apni khud ka upyog karke samasyayein hal karna chahiye. kya aapko lagta hai ki zaroorat ہی sab kuchh kar deta hai?
aur koi baat jo main socha tha us par main thoda jhoot bol dunga, Pakistan ka maal import kyun nahi hota? bas kharidariyaan kharidta hain aur aage wale logon ko bhi kharidaunga. kya humein apni zaroorat ke hisaab se sirf khareedna chahiye ya humein bhi aane wale generation ko koi moolya nahi milta?
یہ ناجائز ہے کہ ہم اپنی معیشت کے داستانی جھنکاؤوں پر یقین کرتے ہیں، ایسے میں کیونکہ پورے ماہانہ اپ ڈیٹ کو سب سے پہلے انڈیکس اور معیشت کا اندازہ لگانے والوں نے تیار کیا، جو کہ اب ایک پیروکار کی بھرپور ملازمت ہے۔ اگر انڈیکس میں ایک فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا تھا تو اور بھی یہ بات قابل疑ت نہیں کہ پورے ملک میں معیشتی معیار میں بھی واضح پیٹن ریکارڈ ہو گیا ہے۔
نوجوانوں کو گرانے کے لئے اس وقت بھی ایسے ماحول کی ضرورت ہے جتھے وہ اپنی ترسیلات اور قرضوں پر غور کرسکیں اور انہیں پہلے سے زیادہ موثر طریقے سے نہیں سمجھ سکیں.