روسی صدر کی اسرائیل کو ایران کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش

آن لائن یار

Well-known member
روسی صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم کو ایران میں کشیدگی کو कम کرنے اور بات چیت شروع کرنے کا مشاورتی خط دیا ہے۔ جس سے وسط مشرق میں بڑھتی ہوئی تناؤ کو کم کرنے اور امن کو فروغ دینے کی کوشش کی جا سکے گی، پوٹن نے خط کے ذریعے یہی مشاورت کی پیشکش کی ہے۔

یہ خط جسمانی صورتحال کو کم کرنے اور ایران میں بڑھتی ہوئی تناؤ سے نمٹنے کے لیے انصاف اور امن کا راستہ تلاش کرنے کے مقصد سے لاتھا ہے جس میں ماسکو نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

پوٹن نے اس خط میں یہ بھی ذکر کیا ہے کہ وہ فوری طور پر تصادم سے बचنا چاہتے ہیں اور تمام ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مشاورت کی ایک پیغام کی پیشکش کر دی ہے جس سے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مذاکرات کو تسلسل دیا جا سکے گا اور امن کا حل تلاش کیا جا سکے گا۔

یہ مشاورت ایران میں بڑھتی ہوئی تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس سے علاقائی تناؤ میں بھی کمی آئے گی اور امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے گا۔
 
Russia ki president ne israeli prime minister ko Iran mein tension ko kam karne aur batichat shuru karne ka mashwara diya hai. Yeh kai cheezon se bada hota hai, sabse pehle isska matlab hai ki koi bhi tarah ki galti se phele nahi hua, aur dono taraf se ek dusre ke saath mushkilot ko hal karne ka mauka mil jaaye.

Russia ki president ne iske liye ek mashwara likha hai jismein yeh bataya gaya hai ki furiy tor par conflict se bachna chahiye, aur sabhi deshon ke beech diplomatic relationships ko mazboot karna chahiye. Yeh shiksha bahut achhi hai, kyunki humein isliye samajhna chahiye ki koi bhi galti se phele nahi hua, aur humein ek dusre ke saath mushkilot ko hal karne ka mauka mil jaane do.

Iske alawa, Russia ki president ne Iran mein tension ko kam karne aur aman ko badhava dene ka mashwara bhi diya hai. Yeh ek achchi baat hai, kyunki humein apni deshon ke beech tension ko kam karke aur aman ko badhane ka mauka mil jaana chahiye.
 
Russia ka president ne israeli prime minister ko Iran mein tension ko kam karne aur bat chit shuru karne ke liye ek mashwari kitab diya hai. Yeh koshish regional tension ko kam karne ki ja sakti hai aur aman ko badhawa dena. Pootin ne kitabe mein yeh bhi likha hai ki voh furi tor par clash se bachna chahte hain aur sabke beech diplomatic rations ko mazboot banana chahte hain. Unhone ek communication kee peishak ki hai jis se sabhi stakeholders ke beech discussions ko chalanaa ja sakta hai aur aman ka sahaara dene ki koshish ki ja sakti hai.
 
Russia ki president ne Israel ki prime minister ko Iran mein tension ko kam karne aur batichai shuru karne ka moshavarati letter diya hai. Yeh se Middle East mein bade hue tension ko kam karne aur aman ko badhava dena chahiye, yeh ek achha kadam hai.

Poutine ne is letter mein Iran mein badi hue tension se nimtan karne ke liye samanta aur aman ka sahi rasta khojna diya hai. Masco ne isamda aham kirdar nibhaya hai.

Poutine ne is letter mein yeh bhi bola hai ki vah apni taraf se attack se bachna chahta hai aur sabhi deshon ke beech diplomatic raiton ko mazboot banana chahta hai. Vah message ek dialogue shuru karne ka ek pyega deta hai jisse sabhi related fairon ki taraf se mushawaraat ho sakti hai aur aman ka samadhaan khojna ho sakta hai.
 
اس خط کی بات کرتے ہوئے، میں سوچتا ہوں کہ یہ ایک بہت اہم کوشش ہے جو روس کی طرف سے کیا گیا ہے تاکہ وسط مشرق میں بڑھتی ہوئی تناؤ کو کم کیا جا سکے اور امن کی طرف بڑھا جا سکے 🙏

پوٹن نے ایسا ہی خط دیا ہے جس میں انصاف اور امن کی راہ تلاش کرنا ہے اور فوری طور پر تصادم سے باہر رہنا چاہتے ہیں، جو یقینی بات ہے کہ تمام ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔

یہ خط ایران میں بڑھتی ہوئی تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور علاقائی تناؤ میں کمی آئے گی تاکہ امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے، یہ ایک اچھی طرف کی کوشش ہے جو اس وقت ضروری ہے جب سب کو ایک دوسرے کے ساتھ تشدد نہ کرنا پڑتا ہے۔
 
روسی صدر کا مشاورتی خط اسرائلی وزیر اعظم کو دیکھ کر میرے لئے یہ سب سے اچھی بات ہے کیوں کہ وسط مشرق میں بڑھتی ہوئی تناؤ سے نمٹنا بہت چیلنجنگ ہے اور صدر پوٹن نے ان تمام کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں جس سے امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے گا۔

ایک بار پھر، میرے خیال میں، یہ سب کچھ ایک دوسرے کے لیے ضروری ہے اور ان تمام ممالک میں سفارتی رابطوں کو مضبوط بنانا چاہئے تاکہ اسے امن کی لہر سے ہٹا جا سکے گا۔
 
عجیب عجیب! روسی صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم کو Iran میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک مشاورتی خط دیا ہے؟ یہ کیا کہیں نہ کہہ کر انہوں نے انہیں Iran میں گئے بھی نہیں تھے؟ پوٹن کی طرف سے دی گئی ایسا کہتے ہوئے خط، کہیں یہ اچھی فیکٹری میں کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے Iran میں بڑھتی ہوئی تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن وہ یہ جانتے ہیں کہ ایران میں انہوں نے کیے گئے کارروائیوں کی واضح صورتحال ہے؟ 🤔
 
ایسا لگتا ہے کہ پوٹن کی مشاورت ایک نئا راستہ ہو گیا ہے جو وسط مشرق میں بڑھتی ہوئی تناؤ کو کم کر سکے گا۔ لیکن یہ سوال ہے کہ کیا ایران کی حکومت اس خط پر استماع کرے گی؟ اور کیا اسرائیل اور ایران کی حکومت ایسے بات چیت میں شامل ہو سکتی ہیں جو ان کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ کو کم کر سکے گا؟ یہ سچے سوال ہیں، کیونکہ ایران میں حال ہی میں بڑی ہلاچی آئی تھی اور اب وہاں ماحول بہت گہرا تھا...
 
روس کی پوٹن صدر نے ایک مشاورتی خط دیا ہے جس میں یہ مشاورت کی پیشکش کی ہے کہ اسMiddle East کے تناؤ کو کم کیا جا سکے اور امن کو فروغ دیا جا سکے

اس خط نے Iran میں بڑھتی ہوئی تناؤ سے نمٹنے اور انصاف کا راستہ تلاش کرنے کے مقصد سے شروع کیا ہوا ہے اور پوٹن نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ وہ فوری طور پر تصادم سے बचنا چاہتے ہیں اور تمام ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں

اس مشاورت کی پیشکش نے Iran میں بڑھتی ہوئی تناؤ کو کم کرنے اور امن کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے اور Middle East regional tension کو کم کرنے کی کوشش کی ہے، ہمیں उम्मید ہے کہ یہ مشاورت امن اور استحکام کو فروغ دینے میں مدد فراہم کرسکیگی
 
اس خط کی ایک بیچ لگ رہی ہے کہ صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم کو ایران میں اس تناؤ سے نمٹنے کے لیے ایک اور راستہ تلاش کرنا چاہئے، بے سواہیوں سے نمٹنا ہی نہیں تھوڑا سا پودھڑنا بھی یہی ہے. اگر انہوں نے مشاورت کیا تو حالات تھوڑا اچھے ہوئے ہوتے، اس سے کہا جائے کہ صدر پوٹن نے اسرائیلی وزیر اعظم کو ایران میں ایک مشاورت کی پیشکش کی ہے، یہی کیوٹن سے بھی بات چیت ہوئی۔
 
آج تو ایران میں دوسرے دن کچھ نئی تھس میں بیٹھ کر سنیا ہوا ہے، روس کی سرکاری ایجنسیوں نے بتایا ہے کہ یہ تہران میں اس وقت تک لگنا بچے گا جب تک کہ یہ واضع نہیں ہو جاتا کہ ایران کے قائد نے انھوں سے کیا معاملہ کیا ہے، اور اس کے بعد بھی ان کے پاس گارنٹی ہونے والی بات نہیں ہے ۔
 
Russia ki President ne Israel ka Prime Minister ko Iran mein tension ko kam karne aur dialogue shuru karne ke liye sujhavati letter diya hai. Yeh middle east mein growing tension ko kam karne aur peace ko badhava dena chahta hai 🤝

Mujhe lagta hai ki yeh koi achha idea tha, lekin kabhi-kabhi tensions ko kam karne ke liye humein apni side par bhi kuch karna hoga. Iran ki situation thoda complex hai, toh koi single solution nahi hai. Lekin if Russia aur Israel dono ek saath mein ek din ka kadam uthate hain, to phir result definitely milega 🤞

Global context ko dekhte hue, mujhe laga ki yeh middle east mein peace ko badhava dena zaroori hai. Kuch countries apni internal issues ke liye bhi tension banaye rakhti hain, toh humein sabko ek saath baithkar solve karna hoga 🌎
 
🙏
آپنے ہی پالٹو پر بہت سارے دوسروں کی زندگی کھیلنا بھی نہیں چاہئے بلکہ آپ اپنی زندگی کو ایسی بنائیں جو اس کے لئے اچھی ہو۔
 
واپس
Top