روسی حملوں کے بعد کیف میں توانائی بحران شدید سردی میں ہزاروں عمارتیں بجلی سے محروم

الو

Well-known member
کیف میں روس کی حملوں کے بعد ایک سو سے زیادہ ہزار عمارتیں بجلی سے محرومیں گھیر لگی ہیں۔ یہ حملے صاف اور جھیلڈی تھے، نہ صرف شہر کی زندگی کو دھماکہ دیا گیا بلکہ یوکرین کے سارے توانائی نظام پر بھی گھسا کر کام کرنے کے لیے قائم ہوئیں۔

شہر کی عمارتوں میں تیز ہونے والی سردی کے ساتھ ساتھ بجلی کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا، جس سے یہاں کے رہائشی لوگ گریوں میں بیٹھتے ہوئے گیس اور بجلی کے بغیر اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔

شہر کی میئر سے مطلع ہونے پر صدر ولادیمیر زیلنسکی نے یوکرین کو یہ مشورہ دیا کہ روس نے جو حملے کیے تھے وہ صاف ناکام رہتے ہیں اور ان پر یوکرینی فوج کی طرف سے جارہا ہے۔

آج تک یوکرین کے شہر میں تقریباً 2,000 عمارتیں بجلی سے محرومیں سے باہر نکل گئی ہیں، لیکن یوکرینی حکام کے مطابق 3,200 سے زیادہ عمارتوں میں یہ کاروائی نہیں کر سکتی۔

شہر کی عماراتوں میں بھاپ کا درجہ تیزی سے ترقی کرتا ہوا، جس کی وجہ سے گیس اور بجلی میں بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔ یوکرینی حکام نے بتایا کہ شہر کے لاکھوں لوگ گریوں میں رہتے ہیں، جو اس سے بھی تیز تھیں، اور یہاں کوئی کام نہ کرنے کے لیے نہ تو پارسائی دی گئی بلکہ نہ ہی ایسا کر سکتی۔

میئر وٹالی کلچکو کی طرف سے یوکرین میں شہری زندگی پر روس کے حملوں کا اثر دیکھتے ہوئے، نے بتایا کہ روس نے اپنی فوج کو یوکرین کی طرف بھیج کر اس کی ایک نئی جنگ شروع کر دی ہے۔
 
بڑی ساری عمارتیں چلی گئیں تاکہ وہ اچھی طرح محرومیں میں نہ جائیں، لیکن اب یوکرین کی طرف سے جو کام کیا جا رہا ہے وہ دیر سے ہوا تھی، پھر یوکرین نے ایسا بھی کیا کہ اس کے شہری لوگ گیس اور بجلی کے بغیر اپنی زندگی گزار رہے ہیں اچانک تو یہ کام آئے گا لیکن اس کے لیے پہلے سے دھنی لگا دینے کی ضرورت ہوگی।
 
روس کی حملوں کے بعد یوکرین کے شہروں میں جو situation آ چکی ہے وہ بہت بد تھی۔ لوگ گریوں میں بیٹھ کر گیس اور بجلی سے محروم رہ رہے تھے، یہ کہنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا کہ وہ کیسے اپنی زندگی جاری رکھیں۔ اور یوکرین کی حکومت نے بھی اپنا کام جاری رکھنے کے لیے ایسا ہی کیا تھا۔

لیکن وہ شہری جہالت کرتے تھے کہ روس کی یہ حملے اور ان کی فوج کی واپسی نے ان کو کیسے پھنسایا ہوا ہے۔ میئر کلچکو نے بتایا کہ روس نے اپنی فوج کو یوکرین کی طرف بھیج کر ایک نئی جنگ شروع کر دی ہے، لیکن یہ بات چلتी تھی کہ روس کو اس جنگ میں کچھ فائدہ نہیں ہوا گا۔

جنتا کے طور پر میری بات یوکرین کی سرگرمی سے نمٹ کر رہی ہے، لیکن یہ بات بھی چلتी تھی کہ یوکرین کی حکومت کو اپنی زندگی جاری رکھنے کے لیے کچھ اور طریقے تلاش کرنا پڑتے ہیں۔
 
یہ دیکھنے کی بات قابل خुशی ہے کہ ایسے میں بھی یوکرین کی حکومت کو اپنی فوج کو اس سے لڑانے کے لیے تیار کرنا، اس سے ان کی قوت اور کوشش کی جگہ ہے
 
روسی حملوں کے بعد یوکرینی شہر میں عمارتیں بجلی سے محرومیں گھیر لگی ہیں، یہ بے حد غمزن ہے. لوگوں کی زندگی گزارنے کے لیے کافی سا کام نہیں ہو رہا ہے. میئر کو شہری زندگی پر ایسے حملوں کا اثر دیکھتے ہوئے، بے شک کسی جہت سے ان کی انتقاد نہیں کرنی چاہیے. یوکرینی حاکمیت کو اس پر کام کرنا چاہئے کہ وہ شہر کی عمارتوں میں بجلی اور گیس کی فراہمی میں بھی بہتر طریقے تلاش کریں.
 
روس کی حملوں سے توڑے ہوئے پیٹراوڈوفسکی میگاڈیم 😩، یوکرین کے ایک اہم شہر میں اب گریوں میں بیٹھتے ہوئے لوگ اپنی زندگی گزار رہے ہیں! اس سے پہلے بھی تین سال سے یہاں کے لوگ نہاتھوں سے جھونٹ لیتے رہے ہیں، لیکن اب ایسا نہیں کر سکتیں! میرے خیال میں یہ روس کی فوج کو اس کے حملوں کے نتیجے میں پھنسنا چاہیے اور اب وہاں کی شہری زندگی پر ہمیشہ سے زیادہ تیز قدم उठانے کی ضرورت ہے!
 
یہ تو بالکل جھیلڈی ہوا! روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو انھوں نے صرف شہر کو دھماکے دیے اور اب انھوں نے بھی ایسا ہی کیا ہے! عمارتوں میں بجلی کی ذمیات سے لوگ اپنی زندگی گزار رہے ہیں، جس سے یہاں کے لوگ بہت متاثر ہوئے ہیں۔

شہری زندگی کو دھماکے دیتے ہوئے روس نے صاف اور جھیلڈی ہوا یوکرین پر حملہ کیا، اور اب انھوں نے بھی ایسا ہی کیا ہے! میئر وٹالی کلچکو کی بات کو سمجھنا پڑتا ہے، لوگ نہ صرف اپنی زندگی گزار رہے ہیں بلکہ انھیں یہ بھی پتا ہوا ہے کہ روس کی فوج نے یوکرین میں ایک نئی جنگ شروع کر دی ہے! 😡
 
روس کے حملوں کے بعد یوکرین کی شہری زندگی کہتے ہیں ایسا تو ہوا ہی گيا، لیکن یہ بتایا نہیں کہ ابھی تک ان حملوں سے جو نقصان پہنچا وہ ابھی تو بھارپور ہیں، شہر کی عمارتوں میں بجلی اور گیس کی قلت کے نتیجے میں یہاں کے لوگ ایسے معيشت کا جین رہتے ہیں جو غلبہ سے تھوڑا اور زیادہ ہی تھوڑا ہے۔

جیتے ہوئے یوکرین کی فوج نے ان حملوں کا بدلہ لینے کے لیے کوئی گنجائش بھی نہیں دی، حالانکہ یہ بتایا جارہا ہے کہ روس نے جو حملے کیے تھے وہ صاف ناکام رہتے ہیں، لیکن ابھی تک یوکرینی فوج کو کافی گنجائش مل چکی ہے۔

ابھی تک شہر کی عمارتوں میں تیز سردی اور بجلی کا نقصان وہی بھرپور ہیں، جس سے یہاں کے لوگ اس قدر معیشت کا جین رہتے ہیں جو ایک معیشت سے زیادہ ہی تھوڑا ہے، حالانکہ میئر نے بتایا ہے کہ روس نے اپنی فوج کو یوکرین کی طرف بھیج کر ایک نئی جنگ شروع کر دی ہے۔
 
روسی حملوں کے بعد یوکرین کے شہر میں گریوں میں بیٹھتے ہوئے لوگ اپنی زندگی گزار رہے ہیں।
 
Wow! 🤯 ہزاروں عمارتیں بجلی سے محرومیں گھیر لگی ہیں, یوکرین کا پورے شہر گریوں میں بیٹھ گیا ہوا. ایسے ماحول میں رہائشی لوگ کیسے چل سکتے ہیں؟
 
واپس
Top