کچے میں ایک ڈاکو نے اپنی ساتھیوں کے ساتھ سرنڈر کر دیا ہے، جس میں ان کے ساتھیوں کے ساتھ ہتھیار بھی ڈالے گئے ہیں۔
ترجمان پنجاب کے مطابق بدھ کو رحیم یار خان نے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ اور ٹارگٹڈ آپریشن میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے، جو انھوں نے اپنی ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیے ہیں اور انھیں سرنڈر کر دیا ہے۔
ان کے ساتھ فدا عرف راٹھور لٹھانی اور زلفی لٹھانی بھی خود کو پولیس کے سامنے سرنڈر کر چکے ہیں، جو انہیں بھی Police Girdar Teng ہو گیا ہے۔
ترجمان پنجاب کے مطابقPolice DPO Rahim Yar Khan عرفان علی سموں کی قیادت میں Police کی کچے کے علاقے میں کرمنلز کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری ہیں، وہ گرفتार ڈاکو قتل، پولیس پر حملوں، اغوا برائے تاوان سمیت سنگین جرائم میں ملوث اور ریکارڈ find ہیں۔
آئی جی پنجاب عثمان انور نے بدنام زمانہ ڈاکو کے ساتھیوں کے ساتھ ہتھیار ڈالنے پر Police DPO Rahim Yar Khan اور ان کی ٹیم کو شاباش دیا ہے۔
police DPO Rahim Yar Khan کا کہنا ہے کہ ہتھیار ڈالنے والوں کے لیے راستے کھلے ہیں اور انہیں بہتر زندگی گزارنے کا پورا موقع دیا جائے گا، Police کا عزم ہے کہ کچے کے علاقے کو جرائم سے پاک کیا جائے گا۔
دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کچے میں بڑے آپریشن کا اعلان کردیا ہے، اور انھوں نے کہا کہ انھیں ڈاکوؤں کے خلاف ایک بے رحمانہ کارروائی کریں گے، اور انھیں اپنی پوری کوشش سے کچے میں ناکام کرنا ہے۔
سندھ پولیس نے پنجاب کے ساتھ مل کر زبردست آپریشن کیا، اور وہ آئی جی سندھ کو آئی جی پنجاب سے رابطے کا کہا ہے، مجھے پوری امید ہے کہ انھوں نے کچے کے ڈاکوؤں کو نیست و نابود کیا ہے۔
وزیر داخیلہ سندھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ آپریشن میں فوج کی ضرورت فی الحال نہیں، جو ڈاکو خود کو چیمپئن سمجھتے ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
ایسا لگتا ہے کہ کچے میں ڈاکوؤں کو پکڑنا ایسی بات نہیں جو کوئی بھی اسٹاپ نہیں کرے گا। انہیں سرنڈر کر دیا گیا اور اب وہ ساڈھے راستے پر ہیں، اگر وہ فوری طور پر جال میں پڑتے تو یہ آپریشن کامیاب نہ ہوتا۔
میں سوچتا ہوں کہ انہیں جھیل سے بھی بھیجا جا سکتا تھا، پھر کچے میں ایسا ڈاکوا نہیں رہتا جو کچھ لالچ کرتا ہو، لیکن اب وہ سچم کرنے والے ہیں اور اب ان کی زندگی بہتر بننے کی بہت صلاحیت ہے۔
ہمیشہ سے لوگ بات کرتے ہیں کہ پہلی بار اچھا اور ناکام رہتے ہیں، لیکن یہ بھی دیکھو تو بدناک ڈاکوؤں کو Police DPO Rahim Yar Khan نے ایک ساتھ سرنڈر کر دیا ہے اور انھیں اپنی زندگی کے لیے ایک نئی شروعات کرنے کی پوری سازش دی گئی ہے! اس نے ان کے لیے راستے کھولا ہے اور انھیں زندگی میں سہولت دی گئی ہے، یہ ایک جیت کا راہ ہے!
یہ بات کچھ دیر سے توہان تھی، اور اب وہ سرگرہ میں بھی دکھ رہی ہے۔ کچھ دیر پہلے سے ایسا لگتا تھا کہPolice DPO Rahim Yar Khan کے ہتھوں ناکام ڈاکوؤں کو کچلنا اتنا مشکل ہو گا، مگر وہ انصاف کی حلقہ درحال سے اپنے راستے پر چل رہے ہیں۔
اس بات پر کوئی شبہ نہیں کہ اسOperation کے بعد سرگرہ کا ایسا منظر بن گیا ہے جس میں دکھنہ ہے۔ اگر اس operation میں انصاف کا کوئی پریشانی نہیں تھی تو شاید اب سندھ میں بھی کچھ دیر کے لئے دکھ رہا ہوتا۔
اس operation سے پوری حکومت کو خوشی ہوئی ہوگی، اور وہ اس پر توجہ دیں گے کہ Police DPO Rahim Yar Khan نے کچھ دیر سے بھی پریشانیوں میں لگا رہا ہے، مگر وہ اپنے فیلڈ ایکسپیرینس کی وجہ سے ہی اس کو کامیاب بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔
ایسا تو لگتا ہے کہ Police DPO Rahim Yar Khan کو اپنی کامیابی پر فخر ہو رہا ہے، لیکن وہ ان ساتھیوں کو بھی دھمکایا ہے جو ڈاکو بن گئے تھے کہ آسودھے جीवन گزارنا شروع کریں گے...
بھائیو! یہ لگتا ہے کہ کچے کی علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ اور ٹار گٹڈ آپریشن میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جو ڈاکوؤں کے ساتھیوں کو سرنڈر کر دیا گیا ہے اور ان کو ہتھیار ڈال کر بھی رکھ دیا گیا ہے۔
لیکن پھر یہ سوجتا ہے کہ ڈاکو کی دنیا میں گریٹیفیکیشن کس کی بات کر رہا ہے؟ ان کو ہتھیار ڈالنے کے لیے پورا آپریشن کرنا پیا اور پھر بھی وہ اپنی ساتھیاں لے کر سرنڈر کر دیا گیا، اس کی وہی جگہ ہوگی جو وہی رہتی ہے۔
مگر یہ آپریشن کچے میں ہونے کے بعد سے کیا گیا تھا؟ اور ان ڈاکوؤں نے کیا کیا کہنے کی پوری کوشش کی تھی کہ وہ اپنی زندگی بہتر بنائیں گے؟
وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا ہے کہ انھوں نے ایک بے رحمانہ کارروائی کا اعلان کیا ہے، جو اس پر بھی ہمیں واضح نہیں کرتی ہے کہ کیوں اور کس پر یہ کارروائی ہوگی۔
مگر یہ لگتا ہے کہ سندھ پولیس نے پنجاب کے ساتھ مل کر ایک زبردست آپریشن کیا ہے، اور وہ آئی جی سندھ کو آئی جی پنجاب سے رابطے کا کیا ہے؟ یہ بھی یقینی نہیں کہ انھوں نے ڈاکوؤں کوnest و نابود کیا ہے یا نہیں؟
جی تو یہ دیکھنا ہی بہت اچھا تھا کہ ڈاکو نے اپنی ساتھیوں کی ساتھ سرنڈر کر دیا ہے، وہ مینٹل انسٹروکشن کو استعمال کر رہے تھے، اور اب ان کے پاس راستہ نہیں ہوگا، لیکن یہ بھی دیکھنا ہی بہت اچھا تھا کہ Police DPO Rahim Yar Khan کو ان کی کامیابی میں شاباش دی گئی ہے، وہ سچمے اپنے فیلو پر اچھی دیکھ بھال کر رہے ہیں، Police اور فوج دونوں کا یہ کہنا بھی اچھا تھا کہ ہتھیار ڈالنے والوں کو راستہ کھلنا ہوگا اور انہیں بہتر زندگی گزارنے کا پورا موقع دی جائے گا، وہ سچمے ایسا کر رہے ہیں۔
یہ وہ ڈاکے تھے جو ساتھیوں کی ساتھ سرینڈر کر دیا کر دیتے، اب ان کو کچے میں Police Girdar Teng بنایا گیا ہے اور وہیں اسے ٹھیک نہ کرنے پر Police DPO Rahim Yar Khan کے ساتھے police girdar teng ہونے والوں کو راستہ کھلنا ہوگا اور انہیں بہت بھرپور زندگی گزارنے کی پوری سہولت ملے گی؟
اس آپریشن میں ان کا ایسا اور منفی تعلق تھا جو مجھے یقین دہانی تھی کہ وہ سب کچے میں نکلنے والے ہیں، اور اب کبھی ان کی کوئی رہنمائی بھی نہیں ہوگی۔ Police DPO Rahim Yar Khan کا یہ کہنا کہ ہتھیار ڈالنے والوں کو راستہ کھلا ہوا ہے، تو مجھے یقین تھا کہ ان کا یہ کہنا صرف ایک چٹان کے طور پر بن گیا ہو گا۔ اور اب وہ ان کی مدد کرنے والی ڈےٹا کو بھی نہیں ہیں، بلکہ اچھے کچے میں ہتھیار ڈالنے والوں کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے اس کا استعمال کر رہے ہیں۔
میں تو بتاؤ یہ آپریشن کچے میں بھی اچھا سایہ ہے، پھر کیا کیونکہ ڈاکوں نے اپنی ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال لیئے ہیں اور انھیں سرنڈر کر دیا ہے? یہ تو Police DPO Rahim Yar Khan اور اس کی ٹیم کی بے مثال کوشش ہے، وہ آپریشن میں بہت کامیابی حاصل کرچکے ہیں! ہمت ہوا سٹی کو سیکھو!
یہ دیکھ کر مجھے بہت خوفناک لگتا ہے کہ وہ لوگ کیسے ہوتے ہیں جو کچے میں اپنی ساتھیاں سمیت ہتھیار ڈال کر سرنڈر کر دیتے ہیں؟ ایسے لوگوں کی زندگی میں ان کی پوری کوشش سے ناکامی ہوگی، اور وہاں بھی پولیس نے ان کو سرنڈر کر دیا ہے۔ مجھے یہ سننا اچھا لگتا ہے کہ Police DPO Rahim Yar Khan نے ان لوگوں کو رستے پر چلنے کی آواز دی ہے، اور انہیں بہتر زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے گا۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کی جسمانی کارروائی وہ فائدہ پہنچانے کے لئے نہیں ہو گی، بلکہ وہ ڈاکوئیوں کوISTEM سے ناکام کرنا چاہتے ہیں۔
یہ کام بالکل اچھا کیا گیا ہے، Police DPO Rahim Yar Khan کی طرح شاندار کیریئر! انٹیلی جنس بیسڈ اور ٹارگٹڈ آپریشن میں بڑی کامیابی حاصل کرنے والوں کو تمھارا لطف ملا ہو گا، لیکن پچھلے دنوں سے ڈاکو قتل وغیرہ کی بارٹ انہیں اچھی طرح نہیں بھی گزاری تھی، تو کیا اب انہیں سرنڈر کر دیا گیا ہے?
آئی جی پنجاب کی بھی بات اچھی ہو گی، انھوں نے شाबاش کے ساتھ Police DPO Rahim Yar Khan کو شکر دیا ہے، لیکن مجھے یہ دیکھنا مشکل تھا کہ وہ فوج کی ضرورت کے بارے میں کیا کہتے تھے؟
میں ان سے پوچھیں گا کہ آپریشن میں کتنے مظنون ڈاکو ہوئے، اور انھیں کیسے سرنڈر کیا گیا؟
یہ ایک بڑا اعلان ہے کہ Police DPO Rahim Yar Khan نے کچے میں ڈاکوؤں کو سرنڈر کر دیا ہے، اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ بھی، جو ایک گھنٹی کی کارروائی میں ہوئی تھی। یہ ایک بڑا کامیابی کا شکار رہا ہے، اور مجھے لگتا ہے کہ Police DPO Rahim Yar Khan کی ٹیم نے اس آپریشن میں اپنی پوری کوشش سے کچلے ہیں۔
اس آپریشن میں ان کے ساتھ فدا عرف راٹھور لٹھانی اور زلفی لٹھانی بھی شامل تھے، جو پولیس کے سامنے سرنڡر کر چکے ہیں۔
اس پر وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ انھیں اپنی پوری کوشش سے ڈاکوؤں کو نیست و نابود کرنا ہے، اور مجھے یہ بات کافی افسوسناک لگ رہی ہے کہ ان کے خلاف ایک بے رحamanہ کارروائی کی گئی ہو۔
لیکن پوری دuniya کو یہ شکار نہ ہونا چاہیے کہ ڈاکوؤں کو آخری سانس دیا جائے، اور انھیں اپنی زندگی بھر ایک Criminal رہنے کا موقع نہ دئیا جائے۔
یہ اچھا ہے کہPolice DPO Rahim Yar Khan نے ڈاکوؤں کو سرنڈر کر دیا ہے اور ان کی ساتھیوں کو بھی Police Girdar Teng بنایا ہے، لیکن ابھی تک یہ دیکھنا مشکل ہے کہ وہ ڈاکو قتل کرنے اور پولیس پر حملوں کی کارروائی میں اس سے متاثر ہوئے ہیں یا نہیڹ۔ مجھے لگتا ہے کہ انھیں اس کا فائدہ اٹھانے کی کوئی چالاکیت پکڑنی تھی۔
اس دuniya mein police ko bhi kisi cheez ki aavashyakta nahi hai, unki cheez sahi thi woh police dukaan par aaye aur apne sathi ko arrest kar ley. police ko pata tha ke koi daakaan dene wala hai usse arrest karne ke liye.
یہ بھی ہوتا ہے کیوں نہ ہوٹا، سرنڈر کرنا ہمیں ساتھیوں کے ساتھ ہتھیار لگائے ہوئے ڈاکوؤں کو پکڑنا ، یہ کوئی نئی بات نہیں۔ اور دوسری جانب جس کی تلاسم پر ڈाकو خلاف آپریشن چل رہا ہے وہ اپنی کوششوں سے ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں۔
اس کے علاوہ وزیر داخلہ کو تھوڑا اچھا خیال ہوا کہ انھیں اس صورتحال میں ایک نئی کامیابی دکھائی دی جا سکے تو یقیناً وہ بھی فلم بنن گے۔
بھی ہے یہ آپریشن، Police DPO Rahim Yar Khan کو بھی دیکھ کر ہمت ہوئی، وہ ان ساتھیوں کو سرنڈر کر دیا جس کے ساتھ ایک دو گنا دوسرا ساتھی تھا اور وہ ہر سال 10 کرایے ادا کر رہے تھے، اب ان کی توڑ پھوڑ تو ہی نہیں ہوگئی، جبکہ ان کے ساتھی فدا عرف راٹھور اور زلفی لٹھانی بھی پولیس میں سرنڈر کر چکے ہیں، اب وہ Police Girdar Teng بن گئے ہیں، یہ کامیابی ہی ہے اور جس طرح ان پر پابندی لگائی گئی ہے وہ ہمیں بھی سکون دے گی