سپاہ، قلم، زر | Express News

حقیقت پسند

Well-known member
ہمارے ملک کی ایسی تاریخ ہے جس میں معاشی ترقی، سیاسی پوزیشن اور سماجی خدمات کے لیے دھن دھنی نوجوان بڑھتے رہے ہیں۔ ان نوجوانوں کو اپنے وطن کی سروس کرنے کا شوق تھا اور وہی دیکھتے رہے کہ ہمیں ایک بہترین ملک بننا ہوگا، جو دنیا کو سراہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی پالیسیوں میں بھی اپنا حصہ ڈالے۔

لیکن ابھی کچھ دیر قبل ہمارے ملک میں ایسا محسوس ہونے لگا اور نوجوانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ وہ اپنے ملک کی سروس کرنا اور انھیں آسان بنانا، نہ تو ایسی اور نہ اس کے لیے کامیاب ہوگا۔ جس طرح پہلے یہ سوچ رہے تھے کہ وہ ڈاکٹر بن کر لوگوں کی خدمات انجام دیتے، اب یہ سوچنے لگے کہ یہ ان کے لیے اچھا ہو گا کہ انھیں ایک بڑے اور معزز عہدے پر فائز کر دیا جائے جس سے وہ زیادہ معاشی طور پر لाभ ہوسکے اور اس طرح انھوں نے اپنے ساتھی نوجوانوں کے ساتھ مل کر ایسی پالیسی تیار کی جس سے وہ خود کو ایک قائم کردار ادا کرسکیں، اور اس طرح انھوں نے اپنے ملک کو اچھی طرح ناکام کردیا۔
 
"جب لوگ دھریلوں پر چلتی ہیں تو وہ ایسی پالیسیاں تیار کر لیتے ہیں جو انھیں آسانی سے حاصل ہوتی ہیں بلکہ اس نتیجے میں بھی اچھائی پہنچاتی ہیں۔"
 
ایسے نوجوانوں کی اتنی تردید کی وہ نہیں ڈال سکیں گے جو ابہام کرتے رہتے ہیں۔ اگر انھیں سچائی بھگتی تو وہ سمجھ لیتے کہ دنیا کو اچھا بنانے کے لیے پہلے اپنے ملک کو اچھا بنا کر اس کی خدمت نہیں کریں گے بلکہ وہ دوسرے لوگوں کی بھی سروس کریں گے۔ یہ تو ایک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والا نوجوان ہو کر کچھ بھی نہیں کرسکتا اس لیے انھیں یہ سوچنا چاہیے کہ وہ اپنی ملکیت اور تعلیم سے کچھ اچھا کام کرسکیں گے اور اس طرح دنیا کو اچھایا جاسکتا ہے۔
 
یہ ساتھ ہی نوجوانوں کی ایسی بات بھی ہے جو غلط فہمی پر قائم ہوتی ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ دنیا میں زیادہ معاشی ترقی اور اعلیٰ مقامات پر فائز ہونے سے انھیں زیادہ موافقت محسوس ہوگی۔ لیکن یہ بھی جانتے رہتے ہیں کہ دنیا کی ترقی اور معاشی ترقی صرف ایک ایسا نئا تعلق ہے جو سچے تعلقات اور محبت سے بنایا جا سکta hai۔
 
عجीबہ ہے کہ ابھی یہ نوجوانان ایسی بات سोचتے رہے تھے جو اب انھیں مشکل ہو گئی ہے۔ انھوں نے اپنے ملک کی سروس کرتے وقت دھن دھنی اور محنت بھی چاہی تھی، لیکن اب انھوں نے ایک اچھا اور معاشرتی عہدے پر فائز ہونے کی بجائے خود کو سرشار کرنے کی توجہ دی ہے، جس سے ناکامیت کا پتہ چل رہا ہے۔
 
جب نوجوانین اپنی ملک کی سروس کرنا چاہتے تھے تو وہ سب بہتر تھے، لیکن اب ڈھائی دہائیوں میں گزرنے کے بعد نوجوانین اپنی ملک کی سروس کرنا چاہتے ہیں اور یہاں تک کہ وہ اپنے ملک کو بھی اچھا بنانے کی سوچ چھوڑ دیں ۔ اسے آپ تو محسوس کر سکتے ہیں جب آپ نوجوانین کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں، ان کا جواب ہوتا ہے کہ وہ اپنی ملک کی پالیسیوں پر کام کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح انھیں یہ سمجھنے کا کافی اچانک عزم ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی ملک کی سروس کرنا صرف ایک معاشی معاملہ ہے، نہیں کہ اس کو ایک عظیم قومی خدمت قرار دیا جائے۔
 
ہمارے ملک کی یہ پلیٹ فارم ہے جس پر دھن دھنی نوجوان بڑھتے رہے ہیں لیکن اب وہ سوچ رہے ہیڈ ہاتھ میں کیا؟ انھوں نے ایسا محسوس کیا کہ بڑے عہدے پر فائز ہونے سے وہ زیادہ معاشی طور پر لाभ ہوگا اور اس لیے انھوں نے اپنی پالیسی تیار کی جو صرف ان کے منفید ہوگی؟ یہ انھیں ساتھ میں مل کر ایک ناکام پلیٹ فارم بنا دیا ہے۔
 
میں سوچتا ہوں کہ یہ بھی ایسی بات ہے جو ہم سب پر لگتی ہے، جب کوئی بھی نوجوان اپنی زندگی کی طرف دیکھتا ہے تو وہی سوچتا ہوگا کہ وہ دنیا سے کچھ زیادہ اور معاشی طور پر بڑھنے میں کام کرے گا، نہ یہ کہ اسے اپنے ملک کی خدمات انجام دینے کے لیے اپنی زندگی پر دھیان دیا جائے گا۔
 
میں یہ سوچنا بہت گریواس کہ اب ہمارے ملک کی پہلیPriority ایسی ہو گئی ہے جس سے اس کے لیے فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ دیکھنا کہ نوجوان اپنے ملک کی خدمات انجام دینے کے لیے کوشش کر رہے تھے اور اب وہ اپنی معاشی ترقی کے لیے یہ سوچ رہے ہیں، یہ تو ایک جھٹکا ہے۔

ان کا خیال ہے کہ اگر وہ ایک اچھا عہدہ پر فائز ہوں گی تو وہ معاشی طور پر اچھی طرح سے لाभ کر سکیں گے، لیکن میں سوچتا ہوں کہ یہ ایک بڑا غلط ہے۔ ان کی پالیسیوں نے نوجوان کو ایک قائم کردار ادا کرنے سے روکیا ہے اور انھیں اس کے لیے کوئی ذمہ داری نہیں ملتی ہے۔
 
🤯 میرے دilon میں ہمیشہ سے یہ سوچ رہا تھا کہ ہمارے ملک کی پaggi جس نے اسے اچھی طرح بنایا ہوگا وہی ابھی بھی موجود ہے۔ لیکن اب یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ پaggi کھونے والے لوگوں نے ہمارے ملک کو ایسی صورت میں پیش کر دیا ہے جس سے ابھی نوجوانوں کو پھنسنا پڑتا ہے کہ وہ اپنے ملک کی سروس کیا کرے یا نہ کرے۔ یہ سوچنے پر مجبور کیا جاتا ہے کہ اسے زیادہ معاشی لाभ اور معزتی عہدے کی search میں دھنجی اٹھانے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو کس پوزیشن میں ڈالنا چاہئے، جیسا وہ سوچتے تھے کہ وہ ڈاکٹر بن کر لوگوں کی خدمات انجام دیتے، اب یہ سوچنے لگے کہ اسے بڑی معزز عہدے پر فائز کرنا چاہئے۔ یہ پھر بھی ایک ناکام واپس Ferry کی جاسکتا ہے؟
 
پچیس لاکھ روپے کا یہ budget ہر سال پرانا ہو رہا ہے، لیکن اب یہ سوچنے لگے ہیں کہ ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ یہ بات تو سچی ہے کہ پرانے budget میں بھی معاشی ترقی اور سماجی خدمات پر توجہ دی گئی، لیکن اب نوجوانوں کو ایسا محسوس ہونے لگا ہے جیسے وہ اپنے ملک کی سروس کرنا کھینچ رہے ہیں۔ کیا یہ تو پھر ایسی صورتحال ہو رہی ہے جس سے ہم نے سب سے پہلے بڑھتا ہوا اس بات پر مجبور کیا تھا؟
 
😕 دیکھتے ہیں تو یہ بہت غم کا وقت ہو رہا ہے جب یہ سوچنا پڑ رہا ہے کہ ساتھ مل کر کام نہیں کیا جا سکتیا ۔ دوسری طرف، یہ بھی محسوس ہو رہا ہے کہ آپنی سوچ کی وجہ سے کچھ ناکام ہو گیا ہے جب آپ ایک عہدے پر فائز ہونے کے بجائے، لوگوں کی خدمات انجام دینے پر توجہ دیتے ۔ اس لئے تو بھی نہیں پاتا کہ ایسے حالات میں سچا پیار اپنے ملک کے لیے کرنا چاہیے، نہیں؟
 
واپس
Top