آسٹریلیا نے اپنا افغان سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، یہ اعلان اس وقت تک تعینات ہو گا جب تک کہ اسی مہینے کے آخر میں شہری طالبان کی سربراہی وارے افغانستان سے باہر رہنے والی سفارت خانہ کے سرکاری اداروں کو اپنی سرگرمیاں بند نہ کر دیں۔
آسٹریلیا نے طالبان کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اختلافِ رائے پر پابندیوں کی مذمت بھی کی ہے، اور اس کے مطابق طالiban رہنماؤں کو افغانستان میں اپنے شہریوں کی نمائندگی کرنے سے انکار کردیا گیا ہے۔
اس سے پہلے وہ طالبان کو ایسے سرکاری اداروں کے صدر یا وزراء کے طور پر تسلیم نہیں کر رہے تھے جنہیں شہری طالبان کی سچائی نہیں۔
اس کے علاوہ آسٹریلوی حکومت نے افغانستان میں اہم سرکاری اداروں کے ساتھ بھی رکاوٹ بنائی ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ وہ شہری طالبان کے پاسپورٹ پر دستخط نہ کرنی چاہیں گے۔
افغانستان میں وہ ادارے جو طالiban کی سربراہی وارے کام کرتے ہیں اس نئے معاہدے کے تحت اپنی سرگرمیاں ایسے عالمی اداروں میں بند کر دیں گی جہاں شہری طالبان کی نمائندگی بھی ہوتی ہے۔
افغانستان سے باہر رہنے والی سفارت خانہ کے سرکاری اداروں کو اپنی سرگرمیاں بند نہ کرنے پر آسٹریلیا نے انھیں چیلنج کیا ہے، یہ ایک بڑا Move ہے، کیونکہ اب تک وہ طالبان کو ایسے اداروں کے صدر یا وزیر کے طور پر تسلیم نہیں کر رہے تھے جو شہری طالiban کی سچائی سے ماخوذ ہوتے ہیں۔
اس معاہدے سے اس بات کی کوئی چینج نہیں ہوسکتی ہے کہ افغانستان میں طالiban رہنماؤں کو اپنے شہریوں کی نمائندگی کرنا پہلے سے ہی بلاعقلی ہو چکا ہے، اور اب کہ وہ افغانستان سے باہر رہنے والی سفارت خانہ کے سرکاری اداروں کو اپنی سرگرمیاں بند کرنے پر مجبور کرتے ہیں تو یہ بھی ایک ایسا Move ہے جو طالبان کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اختلافِ رائے پر پابندیوں کی مذمت کرتا ہے.
ایسی صورتحال میں یہ بھی ایک اہم Point ہے کہ آسٹریلیا نے اس معاہدے سے پہلے طالبان کو ایسے اداروں کے صدر یا وزیر کے طور پر تسلیم نہیں کر رہا تھا جن کی شہری طالبان کی سچائی ہوتی ہے، اب یہ ایک بڑا Shift ہو چکا ہے اور وہ اپنیPolicy کو نئی Direction میں لے آ رہے ہیں.
اس سے پہلے کیا اسے ٹھرک نہیں رہا؟ آسٹریلیا نے افغانستان کے شہری طالبان کی سربراہی والی اداروں کو اب بھی ایسے معاملات میں حصہ لینے سے منع نہیں کیا گیا ہے جیسے وہ ہندوستان کی حکومت کے ساتھ معاہدہ کر رہے ہیں؟ شایاد ان پر بھی پابندیاں لگنی چاہیں؟
اس اعلان کا مطلب تو یہ ہے کہ آسٹریلیا ان اداروں کو اپنی سرگرمیاں بند کر دیگا جس میں شہری طالبان کی نمائندگی بھی ہوتی ہے، یہ تو ایک جائز معاملہ ہے لیکن کیا اس کو اس وقت تک تعینات نہیں کرنا چاہئے جب تک اسی مہینے کے آخر تک شہری طالبان کی سربراہی والے اداروں کو اپنی سرگرمیاں بند نہ کر دیں؟ یہ بھی ایک سوال ہے کہ آسٹریلیا نے شہری طالبان کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اختلافِ رائے پر پابندیوں کی مذمت کی ہے، لیکن یہ کیا ان کا ایسا انکار نہیں کیا گیا جو اس کا مطالبہ ہے؟ آج کل آسٹریلیا نے افغانستان میں اہم سرکاری اداروں سے بھی رکاوٹ بنائی ہے، یہ تو ایک واضح خطاب ہے لیکن کیا اس سے ٹالiban کو ایسا محسوس ہوگا جیسا وہ چاہتے ہیں؟
ایسا لگتا ہے کہ آسٹریلیا نے اس مہینے کے آخر تک اپنا افغان سفارت خانہ بند کرنے پر فیصلہ کیا ہے، لیکن میں سوچتا ہoon k ki yeh decision tohafi se jod diya gaya hai , shaharī Taliban ke liye safarat khana band karne ka matlab yeh nahi hai ki wo safaraton par ja sakte hain, balki yeh humein bataya gaya hai k ki afghanistan mein human rights ki violation aur intergrity ki cheezon par pabandiyan lagegi.
Afghanistan ke liye yeh ek achha decision tha, kyunki shaharī Taliban ke sath hum safaraton ko na rahein, lekin abhi tak yeh sawal hai ki afghanistan mein human rights aur intergrity ka kya matlab hoga.
اس نئے معاہدے کے تحت آسٹریلیا نے افغانستان سے اپنا سفارت خانہ بند کر دیا ہے اور اسی مہینے کے آخر تک اسے تعینات کر دیا گیا ہے جب تک شہری طالبان کی سربراہی وارے افغانستان سے باہر رہنے والی سفارت خانہ کے سرکاری اداروں نے اپنی سرگرمیاں بند نہ کر دیں۔ اس سے ہمیں پتہ چل گیا ہے کہ آسٹریلیا کتنے بھی سمجھتے تھے وہ اب ان معاملات کو حل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے جبکہ اس معاہدے سے آسٹریلیا کی سفارت خانہ کی سرگرمیاں آئندہ ایسے عالمی اداروں میں ہی بند ہو گئی ہیں جہاں شہری طالبان کی نمائندگی بھی ہوتی ہے۔
اس معاہدے نے افغانستان کو ایسے عالمی اداروں میں شامل کرنا پڑے گا جہاں وہ اپنی سرگرمیاں کھیل سکے؟ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ افغان شہری طالبان کی نمائندگی کرنے والی نئی حکومت کی کوئی صلاحیت ہے ؟ آسٹریلیا نے ایسا کیا ہے یہ انہوں نے ایک معاہدہ ساتھ کیا ہے جو افغانستان کو اپنی فیکچرنگ کرتے ہوئے رکاوٹ میں پائیں گئیں؟
اسے لگتا ہے کہ اس معاہدے سے افغانستان کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ وہ اپنے سرکاری اداروں کو کس طرح اپنی سچائی کو روکے رکھیں گی؟ انھوں نے اب تک بھی اپنے شہریوں کی نمائندگی کرنا نہیں چاہا اور اب اس کے معاہدے سے وہ یہی رکاوٹ بنائی گئی ہے? یہ کچھ اچھا ہوسکتا ہے لیکن یہ بھی دیکھنا چاہیں گے کہ افغانستان نے اس معاہدے سے کیا فائدہ ہوگا؟
اس معاہدے سے پہلے اس لئے کیا گیا تھا؟ افغانستان میں شہری طالبان کی جانب سے انسانی حقوق کو نقصان پہنچا رہا ہے، اس لئے کسی بھی عالمی ادارے کے ساتھ تعامل کرنا مشکل ہو گا؟ افغانستان میں وہ ادارے جو طالiban کی سربراہی وارے کام کرتے ہیں، ان کو ایسے عالمی اداروں میں اپنی سرگرمیاں بند کرنی چاہی گئی ہے جہاں شہری طالبان کی نمائندگی بھی ہوتی ہے، یہ معاہدہ ایسے لئے بنایا گیا ہو گا کہ وہ ادارے ایسے عالمی اداروں سے الگ رہنے پر مجبور ہو جان گے۔
یہ معاہدہ اس لئے بنایا گیا ہو گا کہ افغانستان میں طالبان کی جانب سے انسانی حقوق کو نقصان پہنچایا جارہا ہے، اور اس لئے کسی بھی عالمی ادارے کے ساتھ تعامل کرنا مشکل ہو گا؟ یہ معاہدہ ایسے لئے بنایا گیا ہو گا کہ افغانستان میں وہ ادارے جو طالبان کی سربراہی وارے کام کرتے ہیں، ان کو ایسے عالمی اداروں سے الگ رہنے پر مجبور ہو جان گے۔