ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو تہران میں ایک خصوصی ذریعہ پناہ گاہ منتقل کر دیا گیا ہے جس پر مقیم انھوں نے اس کے بارے میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ کسی امریکی حملے کے خوفی درجہ پر ہیں۔
اس مقام کو ایک مضبوط کمپلیکس سمجھا جاتا ہے جس میں سرنگیں شامل ہیں جو ایک دوسرے سے जڑی ہوئی ہیں اور ان کی جان کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہیں۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے تیسرے بیٹے مسعود خامنہ ای نے ان کے دفتر کی ذمہ داریوں کو سنبھال لیا ہے اور اب وہ رہبر اعظم اور حکومت کے جرائے اجراء شعبوں کے درمیان بنیادی رابطے کا کام انجام دے رہے ہیں۔
دوسری جانب، ایرانی حکام نے سرکاری طور پر ان رپورٹس کی تردید کی ہیں جو یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ سپریم لیڈر کو بنکر میں پناہ لینے کی ضرورت ہے۔
ایسا بات نہیں کہ انسپیکٹر جنرل کو پناہ گاہ دی جائے، یہ ایک سماجی مسئلہ ہے جس پر مبنی مشوروں سے حل ملتا ہے۔ وہ لوگ جو ان کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں، اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ ان کی باتوں سے ہرThing بدلتا ہے اور ان لوگوں کو بھی پناہ گاہ دی جائے تو وہ یہی کہے گا کہ اب وہ اپنی لالچوں سے باہر نہیں ہیں۔
ان کو پناہ گاہ دی جائے تو وہ معاملات کو مزید تیز کر دیتے، لیکن اس کے بجائے وہ اس بات پر فokus کرسکتے تھے کہ ہم ان کے خلاف نئی اقدامات شروع کریں تاکہ وہ اپنی چالاوانیوں کو روکن۔
چھوٹا سا سوال ہے، مگر یہ کیا واضع نہیں کہ اس مقام پر کوئی بھی شخص پناہ لینا ایک بھرپور انتظام کے ساتھ ہوتا ہے؟ ایسے میکانزم بنانے کی بھی کچھ اور دلیل ہوگی، مگر اب تک یہ بات پتہ نہیں چلی تھی کہ وہ اس مقام پر کیسے محفوظ ہوں گے?
ایران کے تہران میں یہ خبر ہوئی ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کو ایک خصوصی پناہ گاہ دی گئی ہے جس پر انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ امریکی حملے کے خوف میں ہیں...
لیکن، میرا خیال ہے کہ یہ کچھ بھی نہیں ہوگا... آیت اللہ خامنہ ای کو پناہ گاہ کی ضرورت پڑنی والی ہے، لیکن جس سے انھوں نے دعویٰ کیا ہے وہ صرف ایک چٹ्ठا ہے... یہ دراصل وہ چٹ्ठا ہے جو انھیں امریکی حملے سے بچانے کی اجازت دے رہا ہے... لیکن، میرا خیال ہے کہ اس چٹ्ठے کو پورا نہیں کرنے والا...
انھوں نے اپنے بیٹے مسعود خامنہ ای کو ان کے دفتر کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، لेकین یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وہ کیسے کام کر رہے ہیں... کیونکہ پرانے سے نئے میزبان پر منتقلی کو سمجھنے میں بہت مुशکیل ہوتی ہے...
دوسری جانب، ایرانی حکام نے رپورٹس کی تردید کر دی ہیں... لیکن، یہ رپورٹ سیکھنے کے لئے بہت اچھی ہوگی... کیونکہ اس سے ہمیں پتا چلا ہوگا کہ انھوں نے کیا کیا ہے...
علاوہ ازیں، یہ رپورٹس میرے لئے ایک جھگڑا بن گئی ہے... کیونکہ میرا خیال ہے کہ انھوں نے پناہ گاہ کی ضرورت کی واضح ادراک نہیں کی ہے... لیکن، یہ رپورٹس اس بات کو ظاہر کر رہی ہیں کہ انھوں نے پناہ گاہ کی ضرورت پڑنی والی ہے۔
علاوہ ازی، ایران کی حکومت نے ایسا کیا ہے یا نہیں وہ مجھے معلوم نہیں ہوتا، لیکن یہ بات بھی صاف ہے کہ ایرانی فیکٹریوں میں کام کرنے والے لوگ جب انہیں دیکھتے ہیں تو وہ بہت خوش ہوجاتے ہیں، اور یہ بات نہیں کہ اس کی وجہ وہ تھی کہ وہ ان سے ساتھی ہو کر بین الاقوامی سماجی میڈیا پر کام کرتے ہیں اور اپنے دوسرے رہبرز کے برعکس ہم آہنگی پیش کرتے ہیں۔
بھانے بھانے انہوں نے یہ معاملہ اپنی طرف اٹھایا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ سچ میں کیسے محفوظ ہیں؟ ایران میں تباہی کی صورت حال کیا رکاوٹ نہیں دیتے، لیکن اسے پناہ گاہ میں لے جانے سے وہ یقیناً بھرپور طور پر محفوظ ہو جائیں گے!
ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کا یہ بہت دلچسپ سلسلہ ہے! وہ اس پر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ امریکی حملوں کے خوف میں ہیں، لेकن یہ بات کبھی نہیں کی جائے گی کہ ان کا یہ دعویٰ کیا ہوا ہے؟
آج دہشتی سرنگیں اور بین الاقوامی سکیورٹی کے حوالے سے اس مقام کو ایک مضبوط کمپلیکس سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ بھی بات کوئین نہیں کرتی کہ اس مقام پر کیا خفیہ کام ہو رہے ہیں؟
اور وہ اپنے تیسرے بیٹے مسعود خامنہ ای کا یہ انتخاب بھی اچھا ہے، لکین ان کی یہ ذمہ داریاں کس طرح ہیں؟ وہ رہبر اعظم اور حکومت کے جرائے اجراء شعبوں کے درمیان بنیادی رابطے کیا کر رہے ہیں؟
بھارتی اور امریکی دونوں پکڑ میں آئے ہیں، اس کے بعد ان کی یہ تردید کیا جائے گی یا ان کی ناکامی کا مظاہرہ کر دیا جائے گا؟
بہت غم انداز، ایران کی صورت حال میں تو ایسا نہیں ہو سکا کہ سپریم لیڈر کو تھانڈین میں ایک خصوصی پناہ گاہ دی گئی ہے اور وہ امریکی حملے کے خوف میں ہیں… یہ تو بالکل اچھا نہیں ہے، جبکہ ان کی بیٹی کو ان کے دفتر کی ذمہ داریاں سنبھالنے میں کیا سہولت ہوئی؟
ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایran کے سپریم لیڈر کو پھر ایک خصوصی پناہ گاہ میں منتقل کر دیا جائے۔ میرے خیال میں وہ اس وقت ان شقوں سے نکلنے کے لئے بہت قریب ہیں جس سے وہ فرار ہونے کی ضرورت ہے۔
میں اس بات پر متفق ہoon کہ یہ مقام ایک مضبوط کمپلیکس ہے جو ان کے لیے جان کی حفاظت کا پہلے سے ہی مقصد ہے۔ لگتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ایک نئی پہلو کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
میری بات یہ ہے کیا یہ سرنگیں ایسے کھلے دروازے پر بنائی گئی ہیں جیسے امریکی حملوں سے بچنے کے لیے؟ توہین پھیلانے والے لوگ کبھی کسی بھی مقام پر ان کا راز نہیں دیتے، وہ صرف ڈرامے بناتے ہیں اور لوگوں کو اچھے سے نہ سمجھتا ہے، یہ تو ایک کلاسکس راز ہے، یا مجھے لگتا ہے کہ ایران میں اب بھی یہی سانس لے رہا ہے جیسا اس نے پہلے کیا تھا؟