آئی سی سی مذاکرات: مہمان گھر آئے تو بہت سی باتیں بھلا دی جاتی ہیں، چیئرمین پی سی بی

قلمکار

Well-known member
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے درمیان بات چیت جاری ہے، وہاں سے کوئی اطلاع آئے گی تو اس پر تبصرہ کریں گے۔ جب کوئی مہمان خود چل کر گھر آجائے تو بہت سی باتیں بھلا دی جاتی ہیں۔

پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے ملتان سلطانز کی نیلامی کی تقریب کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈکپ میں مسئلہ بنگلادیش اور آئی سی سی کے درمیان تھا۔ بنگلادیش ہمارا برادر ملک ہے، ان کی حمایت کے لیے وہی کیا جو کرنا چاہیے تھا۔

اس وقت آئی سی سی اور بنگلادیش کے درمیان بات چیت جاری ہے، کوئی اطلاعات سامنے آئیں گی تو پھر ہی اس پر گفتگو کی جاسکتی ہے۔

بھارت سے میچ نہ کھیلنے کی صورت میں ممکنہ پابندیوں سے متعلق سوال پر محسن نقوی نے کہا کہ نہ میں دھمکیوں سے ڈرتا ہوں اور نہ ہی حکومت ڈرتی ہے اور فیلڈ مارشل کو تو آپ جانتے ہی ہیں۔

مذاکرات کے دوران آئی سی سی کے رویے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ مہمان کی عزت کرنا سیکھا ہے اور جب کوئی خود چل کر گھر آجائے تو بہت سی باتیں بھلا دی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر کچھ دوست ممالک بھی رابطے میں ہیں، ہم نے انہیں اپنے مؤقف سے آگاہ کردیا ہے، جلد ہی سب کچھ واضح ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ یہ سارا معاملہ اس وقت شروع ہوا تھا کہ جب انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بھارتی انتہا پسند ہinduؤں کے دباؤ میں آکر بنگلا دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو ریلیز کردیا تھا۔

جس کے بعد بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے سیکیورٹی خدشات کی بنا پر بھارت میں شیڈول ورلڈکپ میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی تھی جسے آئی سی سی نے مسترد کردیا تھا اور بنگلا دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ایونٹ میں شامل کرلیا تھا۔

جواب میں پاکستان نے بنگلادیش سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر ورلڈکپ میں 15فروری کو بھارت سے شیڈول میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد سے آئی سی سی کی جانب سے پاکستان کو بھارت کے خلاف میچ کھیلنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔

اس سلسلے آئی سی سی کا خصوصی وفد لاہور پہنچا، جس نے گزشتہ روز چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے طویل ملاقات کی جو چار گھنٹے تک جاری رہی۔ اس ملاقات میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بھی شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، پاک بھارت میچ اور کرکٹ کے حوالے سے مختلف معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے واضح طور پر مؤقف اپنایا گیا کہ وہ اپنے لیے کسی قسم کی رعایت یا فوائد حاصل کرنے کی خواہش مند نہیں تاہم بنگلا دیش کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر خاموش نہیں رہ سکتا۔

آئی سی سی کی درخواست پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے وزیراعظم سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات جلد متوقع ہے۔

پی سی بی نے واضح کیا ہے کہ بھارت کے خلاف میچ کھیلنے یا نہ کھیلنے کا حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے، جبکہ آئی سی سی کو بھی پاکستان کے مؤقف اور شرائط سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
 
ایسے میچوں میں نہ کھیلنے کی صورت میں کسی بھی طرف پر پابندیاں اور دباؤ پڑتے ہیں، انڈین ٹیم سے متعلق بات چیت کر رہے ہیں لیکن یہ بات پٹھانی کی جا سکتی ہے کہ بھارت کا معاملہ بھی آئی سی سی میں ہوتا ہے تو اچھا ہوگا یا نا ہوگا، یہ بات دیکھنی پڑتی ہے کہ کیا پاکستان کرکٹ بورڈ وہی ہوا سکتا ہے جس کی آئی سی سی اور بنگلہ دیش کی طرف سے اس پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

🤔
 
ਮੈਂ ਥوڑੀ دیر سے پچھलے ورلڈکپ کے معاملے پر بات کر رہا تھا کہ یہ بھی اس وہی سلسلے میں ہے۔ آج بھی بنگلہ دیش اور ہندوستان کے درمیان بات چیت جاری ہے، اور یہ بات تو پتہ چلتا ہے کہ یہ معاملہ سے نکلنے میں بھی چیلنجز آئے گا۔ محسن نقوی کی وضاحت کی جائے تو انھوں نے بتایا ہے کہ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا تھا جب بھارتی ٹیم نے مستفیض الرحمان کو ریلیز کیا، اور اب وہی معاملہ باقی رہ گیا ہے۔
 
بنگلادیش کی جانب سے کی گئی ایک بڑی بات چیت، اس میں تو یہ بات پتہ چلی کہ آئی سی سی اور بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

مالا ملاقاتوں پر غور کرتے ہوئے، دیکھا جاسکتا ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان کی جانب سے بھی کافی کوشش کی جا رہی ہے اور واضح طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ باقی سارے ممالک اور کرکٹ بورڈ میں بھی یہ بات پتہ چلی ہوگی کہ پاکستان کے دباؤ پر آئی سی سی کو کوئی نہ کوئی تعینات یا رعایت کی جاسکتا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی واضح کیا ہے کہ اگر یہ معاملہ حل نہ ہونے پر آ جائے تو اس پر بھی سارے ممالک اور کرکٹ بورڈ میں دباؤ پڑے گا۔
 
ٹی ٹی وی پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے درمیان بات چیت جاری ہے، ایسا لگتا ہے کہ ایسی بات ہوگی تو اس پر تبصرہ کی جائے گی۔

بھارت سے میچ نہ کھیلنے کی صورت میں ممکنہ پابندیوں سے محسن نقوی نے کہا ہے کہ وہ اور حکومت دھمکیوں سے ڈرتے ہیں، اس کو کبھی بھی سراہنا نہیں چاہیں گا۔

اس معاملے پر پاکستان نے اپنا موقف پکڑا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ اپنے لیے کسی قسم کی رعایت یا فوائد حاصل کرنے کی خواہش مند نہیں ہیں، لہذا بنگلہ دیش کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر خاموش نہیں رہ سکتا۔

جی پتہ چلے گا کہ آئی سی سی کی جانب سے پاکستان کو بھارت کے خلاف میچ کھیلنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔
 
بھارت کی طرف سے انڈیا پی ایل نے مستفیض الرحمان کو ریلیز کیا تو یہ بھی ایک ایسا معاملہ تھا جو آئی سی سی پر دباؤ پڑا ہے، لہٰذا جب محسن نقوی نے کہا کہ ورلڈ کپ میں مسئلہ بنگلادیش اور آئی سی سی کے درمیان تھا تو اس پر واضح ہو گیا کہ پچھلے سाल سے یہ معاملہ چل رہا ہے۔

بنگلہ دیش کی جانب سے شپ نامہ بھی نہیں تھا، تو کیا آئی سی سی کو کچھ پتہ ہو گیا تھا؟ پھر یہ کہہ کر محسن نقوی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ مہمان کی عزت کرنا سیکھا ہے، لہٰذا اس معاملے پر بھی وہی روایت قائم کی جا سکتی ہے۔
 
اللہ Bless Pakistani Team!!! 😊🇵🇰 انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور بنگلادیش کرکٹ بورڈ کی بات چیت جاری ہے، ابھی تک کسی نتیجے تک پہنچنے والی نہیں ہوئی، لیکن پاکستان کا ٹمور پرست ماحول ہمیں یقین دلاتا ہے کہ آئی سی سی کے ساتھ بات چیت کروگے اور پاکستانی کرکٹ کو ایسا نتیجہ ملے گا جو ہماری उमید میں بھی ہو، اللہ Bless Pakistan Cricket!!! 🙏🇵🇰
 
🤔 بھارت اور پاکستان کے مابین ورلڈکپ میچز پر بات چیت جاری ہو رہی ہے، یہ تو ایسی بات نہیں ہوتی جو پہلے ہی ہو جاتی! 🤷‍♂️ آئی سی سی اور بنگلادیش کے درمیان بات چیت جاری ہے، کوئی Informationen سامنے آئیں تو پھر ہی اس پر گفتگو کی جاسکتی ہے۔ 📰

بھارت سے میچ نہ کھیلنے کی صورت میں ممکنہ پابندیوں سے متعلق سوال پر محسن نقوی نے کہا کہ نہ مین دھمکیوں سے ڈرتا ہو اور نہ ہی حکومت ڈرتی ہے! 🙅‍♂️

اس معاملے پر کچھ دوست ممالک بھی رابطے میں ہیں، ہم نے انہیں اپنے مؤقف سے آگاہ کردیا ہے، جلد ہی سب کچھ واضح ہوجائے گا! 🕰️

جب کوئی مہمان خود چل کر گھر آجائے تو بہت سی باتیں بھلا دی جاتی ہیں! 😊
 
ان کا یہ جواب تو واضح ہو گا۔ آئی سی سی بھی ایسے وقت تک ہر ایک کی جانب سے بات چیت کرے گی جتنی ایسی صورت میں نہیں آ جائے گی، یہ اس سوال پر ان کا جواب دے گئی اور اچھی طرح سمجھائی گئی ہے۔
 
کیا اس معاملے میں ابھی تک ناکام ہونے کی وجہ کیا ہو رہی ہے؟

بھارت سے 15 فروری کو میچ نہ کھیلنے پر پاکستان کا یہ اعلان تو دیکھ کے اچھا لگتا ہے لیکن ابھی تک بھارتیوں نے جواب دیا ہے وہ کیا؟

کبھی یہ سمجھنا مشکل تھا کہ مہمان خود چل کر گھر آ جاتے تو ان کی عزت کس کے ذریعے دی جاتی ہی؟
 
اس میچ کی صورت میں باقی سب بھی بھرپور ہوگا، نہ تو اس میچ کھیلنے سے قبل کوئی بات چیت ہوتی ہے اور نہ ہی وہ کھیلتے ہیں۔ یہ ایک عظیم موقع ہے جس پر ہم سب انڈیا سے ایک تعاونات्मक مزاج دیکھنا چاہیں گے اور وہ بھی جو کچھ کرنے کی کوشش کریں گے۔
 
ایسا لگتا ہے کہ ایسے مظالم میں آئی سی سی بھرپور بات چیت نہیں کرتا۔ وہ بنگلہ دیش کی جانب سے زیادہ تراقب نہیں کرتا اور اس طرح بھارتی جاسوسوں کی چالیسیوں کو بھگتایا جاتا ہے?
 
اس بات پر توجہ دیر سے دی جاتی ہے کہ آئی سی سی اور بنگلادیش کی بات چیت کیسے شروع ہوئی؟ کچھ لوگ اس معاملے میں انڈیا کا کہنا اور پھر پاکستان کا کہنا تھا، لیکن یہ سوال ابھی بھی نہیں سایا گیا ہے؟
 
واضح طور پر یہ بات واضع ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے پاکستان کو بھارت کے خلاف میچ کھیلنے پر آمادہ کرنے کی کوشش جاری ہے۔ لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آئی سی سی کا رویہ واضح طور پر متزلزع ہے، خاص طور پر جب اس نے پاکستان کو ایک جانب میچ کھیلنے اور دوسری جانب نہ کھیلنے کا فیصلہ کرنا پڑا تھا۔

مگر اس معاملے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کو آئی سی سی کی جانب سے اپنی جگہ ملا کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ خود بھارت کے ساتھ تعاون اور تعامل کے لئے تیار ہیں۔
 
😊 اچھا یہ واضح ہو گيا ہے کہ ایسے معاملات پر بات چیت کرنے سے بڑی کوئی دوسری نہیں پگھلتی، بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے اچھا مشورہ دیا ہوگا کہ وہ آئی سی سی سے بات چیت کریں اور فیصلے پر اپنے ماحول کی رائے متصدی ہون۔ بھارت کے خلاف میچ کھیلنا یا نہ کھیلنا یہ تو ایک دوسرے کا تعلق رکھتا ہے، لاکھ لاکھ روپیاں ملنے کے بعد بھی وہ فیصلہ خود کرلیں گا یا نہ کرلیں گا۔ ایسے میچوں پر بات چیت ہونا اچھا ہے، تاکہ کوئی دوسرا براہ راست متاثر نہ ہوگا۔
 
واپس
Top