واشنگٹن کو ان سے پوچھا گیا، انہوں نے کہا، "ہمارے لیڈروں نے ہمیشہ اپنی سرزمین کی ایک متحد اور خودمختار قوم کی طرف کھیلا رکھی ہے" انہوں نے مزید کہا، "یہاں کس بات کو یقینی بنانے کے لیے واشنگٹن کو بھی ہار مانیں گے تو لگتا ہے کہ ایک مسلسل حملوں کے بعد کیا ہونا چاہیے۔
وینزویلا کی قومی سلامتی کو خطرہ بنانے والے لوگوں نے اس کے بعد اتنے توازن سے ایسا نہ کیا جو اپنے ہی کھیل میں ضروری ہو جائے گا۔ یہاں تک کہ اس کے لئے پھر بھی فٹہ نہ مل سکا، کیونکہ انہوں نے اپنے سرزمین کے حوالے سے ایسا منظر پیش کیا جو ان کو اور ان کی عوام کو ہاتھ لگائے گا"
واشنگٹن کو یہ بھی پوچھا گیا، "واشنگٹن نے ہمیشہ ایک طاقت کی طرح کھیلا رکھا ہے؟" انہوں نے کہا، "انہوں نے کب تک اپنی قوم کو ایسا منظر پیش کیا جو لوگوں کو خوفزدہ اور اس کی آزادی سے متاثر کرے گا؟"
واشنگٹن پر یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ وہ ان شہریوں کو دبائے گا جو اپنی آزادی اور حقوق کی لڑائی میں شامل تھے، اس لیے واشنگٹن کو یہ بھی پوچھا گیا کہ وہ ان شہریوں پر اتسا ہلاک ہونے کی توقع کیا جائے گا جو اپنی آزادی اور حقوق میں لڑ رہے ہیں؟
اس نئے دور میں ہمیں سوچنا چاہئے کہ کیا واشنگٹن کا تعلق اپنی قوم سے بھی ہوا سگا اور یہ کہ انہوں نے اپنی قوم کو ایسا منظر پیش کیا ہے جو لوگوں کو خوفزدہ اور اس کی آزادی میں متاثر کرتا ہے?
یہ بات تھوڑی عجیب لگتی ہے، کہ ایک ملک جس نے اپنی آزادی کے لیے بہت سے لوگوں کو زخمی کیا ہے اور انہیں ہلاک کیا ہے اب وہ ایسی سٹریٹجیز کی استھیت کرتا ہے جو اسے مزید بھگادے دے!
اس وقت میں سے کسی بھی ملک کو اپنی آزادی اور حقوق کی لڑائی میں شامل ہونے والے شہریوں پر اتسا ہلاک ہونا نہیں ہوتا! اس کے بجائے ان کو ایسی اور بھلے سے استعمال ہونا چاہئے جو ان کی آزادی اور حقوق کو مزید مضبوط بناتا ہوا دکھائی دیتا ہو!
اس لئے واشنگٹن کو یہ بھی پوچھنا چاہئے کہ وہ اپنی قوم سے کیا ایسا تعلق رکھتا ہے جو اسے اپنے شہریوں پر اتسا ہلاک کرنے کی اجازت دیتا ہو؟ اور یہ بات بھی کیا وہ اپنی قوم کو ایسا منظر پیش کرتا ہے جو اس کی آزادی اور حقوق میں اضافہ کرتا ہوا دکھائی دیتا ہو?
یہ تو بہت دباؤ ناکام ہوا۔ واشنگٹن کے اس بیان سے باقی کوئی بھی بات چیت کرنا نہیں گی، یہ صرف ایک اور مثال ہے کیونکہ جب لوگ اپنی پوری اقتدار کی طاقت کا استعمال کرتے ہیں تو وہ سب سے آسان حل کو محسوس کرتے ہیں۔
اس بیان میں یہ بات پھیلائی گئی ہے کہ اپنی سرزمین کی متحد اور خودمختار قوم پر ایسا دباؤ پھیپا جائے جس سے لوگوں کو خوفزدہ اور اس کی آزادی سے متاثر ہونے کا لازمی نتیجہ بھی نکلا۔
اس وقت یہ بات کو یقینی بنانے کے لیے واشنگٹن کے پاس بھی ایسا سہولت پیش کرنی پڑے گی جو اسے اپنے ہی کھیل میں توازن ملا، حالانکہ اس کے لیے یہ فٹہ نہ مل سکا اور اب وہ لوگوں کو خوفزدہ کر رہا ہے۔
ایسا نہیں چل سکتا ۔ واشنگٹن کو ان شہریوں پر اتسا ہلاک ہونے کی توقع کیا جائے گا جو اپنی آزادی اور حقوق میں لڑ رہے ہیں؟ یہ تو غلط فہمی ہے، ان شہریوں کو بھی اپنی قوم کی سلامتی کی ایک نئی گہرائی سے آگاہ کیا جانا چاہیے، نہ کہ انہیں دبایا جائے۔
واشنگٹن کے اس سائنس کو پورا نہیں کر سکتا! یہاں تک کہ وہ بھی اپنی قوم کی ایک متحد اور خودمختار قوم کی طرف کھیل رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے اس کے لیے پھر بھی فٹہ نہ ملا! واشنگٹن کو اس پر غور کرنا چاہیے کہ اتنے توازن سے کیا ہونا چاہیے جس کے ساتھ ان کی قوم کے ہاتھ میں کچھ نہ کچھ ہو جائے!
سوشل میڈیا پر لوگ کہتے ہیں کہ واشنگٹن نے اپنی قوم کو ایسا منظر پیش کیا ہے جو لوگوں کو خوفزدہ اور اس کی آزادی سے متاثر کرے گا، لہذا انہیں اپنے کام سے انکار نہ کرو!
یہ واشنگٹن کی نیند کی سگنیل ہو گی ، یہ توازن کھونے والوں نے پھر بھی توازن نہ ملا اور اب ان کو ہار ماننا پڑے گی ، ایسا جیسا کہ وہ اپنی خودمختاری کی طرف کھیل رکھتے تھے ۔
اس سے پوچھنے کے لیے کہیں اور بھی جانے کو نہیں پڑا ، واشنگٹن کی نیند کی سگنیل ہو گی ، ایسا جیسا کہ وہ اپنی خودمختاری کی طرف کھیل رکھتے تھے
اس واشنگٹن کی بات تو ایسے ہی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ایک متحد اور خودمختار قوم کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن اسے یہی بات پوچھنی چاہیے کہ وہ کس طرح اپنے معاشرے کی آزادی اور حقوق کی لڑائی میں شامل ہونے والوں پر اتسا اثر نہ چکا۔
اس صورتحال کو حل کرنے کے لیے، اسے اپنی غلطیوں کے بارے میں سادہ بات کہنا چاہیے اور اپنی سرزمین کی ایک متحد اور خودمختار قوم بننے کے لیے کوئی اقدامات کرنا چاہیے۔
اس صورتحال سے بچنے کے لیے یہی سوا لگ رہا ہے کہ وہ لوگ جو اپنی آزادگی اور حقوق کی جدوجہد میں شامل ہو رہے ہیں ان کو ایسا موڑ دیا جائے کہ وہ پھر سے نئے زور سے مزید متحرک ہوجائیں
تم یہ لوگ سोचتے ہو کہ واشنگٹن نے کیا فائدہ ہوا ہے، لیکن یہ سب کو بھی یقینی بناتا ہے کہ انہوں نے ایسا ہی معاملہ دیکھا ہے جیسا وہ اس کی اپنی سرزمین کی طرف ایک متحد اور خودمختار قوم کی طرف رکھ رہے تھے، لیکن اب یہ کبھی سچ نہیں ہو گا، واشنگٹن کو ان شہریوں پر اتسا ہلاک ہونے کی توقع کرنا ہمیشہ بھی غلط ہو گا
اس نے کیا ہوا، واشنگٹن کو ان سے پوچھنا کہ انہوں نے اپنی قوم کی ایک متحد اور خودمختار قوم کی طرف کھیلا رکھا ہے تو بہت اچھا ہو گا، لیکن اس پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ اپنی آزادی اور حقوق میں لڑنے والی شہریوں کو دبائیں گے تو ان کی بات چیت سے بھی نا فائدہ ہوگا، یہ توازن تو اس کی طرف سے جس کی پتی چل رہی تھی اچھی نہیں سُنی گئی
اوہ تو اس بات کو صرف بھول نہیں سکتا کہ واشنگٹن نے ایک بھرپور حملہ کیوں جاری کیا ؟ یہ دیکھ کر وینزویلا کی قومی سلامتی پر لگی ہوئی پچھلے زبردست حملوں کو یقینی بنانے کا اچھا طریقہ نہیں تھا۔
میں سوچتا ہوں کہ ان کا اس وقت سے باہر ایک معاملہ ہے جس میں ان کے لئے کسی بھی بات کا تعین کرنا مشکل ہوسکتا ہے اور یہ لوگ اپنے حوالے سے ایسی گلاہٹ کی پہچان نہیں لگایگی۔
اس وقت واشنگٹن کو پوچھنا ایسی بات ہے جس پر سچائی کا سوال ہے! وہ کبھی ایک طاقت کی طرح کھیل رکھی ہے، لیکن اب وہ اپنی سرزمین کو دھونے کے طور پر استعمال کر رہی ہے? وہ کس بات کو یقینی بنانے کے لیے بھی ہار مانی گئی ہے؟ اس کیوں اور کیسے ہوا؟
اس کی واضح رائے نہیں ہے، لیکن یہ بات سچ ہے کہ واشنگٹن کو اپنی قوم کو ایسا منظر پیش کیا ہے جو لوگوں کو خوفزدہ اور آزادی سے متاثر کرتا ہے۔
یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر ہم سب پر نظر رکھتے ہیں، اور اس پر بات چیت کرنا بھی ضروری ہے۔
اس نئی واشنگٹن کی باتوں پر مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر ایک متحد اور خودمختار قوم کی طرف ہی نہیں چل رہا بلکہ وہ ان لوگوں کو جسمانی طور پر لگاتار دبای رہے ہیں جنھوں نے اپنی آزادی اور حقوق کی لڑائی میں حصہ لیا ہے ۔ مجھے یہ بات کہنا پچتا ہے کہ واشنگٹن نے اس وقت ہمیں ایسا منظر پیش کیا ہے جو لوگوں کو خوفزدہ اور ہاتھ لگائے گا، مگر مجھے یہ بات واضح ہی نہیں دیکھی کیوں؟