جے ڈی یو سے رشتہ ختم ہوگا؟
کے سی تیاگی نے بھرپور اور گھنّے تنشہ کے بعد اپنی پارٹی سے کنارہ کشی کرتے ہوئے ایک نئی پریشانی پیدا کی ہے۔ جے ڈی یو کے ساتھ ان کی رشتہ، جو بھرپور طاقت اور تیز گزرتے حالات میں مچھلے لگتی رہی ہے، اب اس پر جھیلنا پڑتا ہے کہ کے سی تیاگی کی نئی پارٹی سے یوں اور تعلقات میں بدلائیں گے یا نہیں۔
آر ایل ڈی کے قومی جنرل سکریٹری ملوک نگر نے کے سی تیاگی کو پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے اور ان سے یہ بات بھی پوچھی ہے کہ کیا انہیں اس کی وعدے پر عمل کرنا چاہیں گے۔
ملوک نگر نے بتایا کہ جب کے سی تياگی کو پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تو انہوں نے اس پر عمل کرنے کے لئے استعذار کیے تھے، لیکن اب وہ بات یقینی طور پر کیا سکتے ہیں کہ وہ پارٹی میں شامل ہوں گے یا نہیں۔
اس بارے میں بات چیت کرنے والا ملوک نگر بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ تیاگی کی برادری میں سے زیادہ تعداد مغربی اتر پردیش ہی رہتی ہے، اس لیے اگر انہیں پارٹی میں شامل ہونے میں مدد ملے تو یہ سماجی بنیاد پر استحکام لائیں گے۔
ملوک نگر نے کے سی تیاگی جی کو بتایا کہ پارٹی صدر جینت چودھری اس فیصلے میں حصہ لگائیں گی اور وہ ان کی رائے سے متصادم نہیں ہوگئیں۔
جے ڈی یو کی طرح آر ایل ڈی بھی فی الحال بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے کا حصہ ہے۔
کے سی تیاگی نے ابھی تک وعدے پر عمل کرنے کے لئے انکار کیا تھا، لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں اس سے متصادم ہونے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
جے ڈی یو سے منسلک رشتہ کی بات کرتے ہوئے، ملوک نگر نے بتایا کہ جینت چودھری کو ان کے ساتھ بات کھینچنی پڑتی ہے اور وہ اس پر عمل کرنے کے لئے استعذار کیے تھے، لیکن اب وہ بات یقینی طور پر کیا سکتے ہیں کہ وہ پارٹی میں شامل ہوں گے یا نہیں۔
کے سی تیاگی جی کو پہلے تو جینت چودھری کا یہ فیصلہ مقبولیت حاصل تھا، لیکن اب وہ بات یقینی طور پر کیا سکتے ہیں کہ وہ پارٹی میں شامل ہوں گے یا نہیں۔
جینت چودھری کے دادا، چودھری چرن سنگھ، ملک کے وزیراعظم تھے، اور ان کے والد، چودھری اجیت سنگھ، مرکزی وزیر تھے۔ آر ایل ڈی کی حمایت کا مرکز مغربی اتر پردیش میں ہے جو کے سی تياگی کی آبائی ریاست بھی ہے۔
آر ایل ڈی سے منسلک رشتہ، جو جے ڈی یو کی طرح فی الحال بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے کا حصہ ہے، اب اس پر ان کے لئے ایسا ہی کوئی تحریری یا رسمی کارروائی نہیں کی گئی جس سے انہوں نے یہ بات پکھ سکتی ہو۔
مگر پارٹی کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس رشتہ میں مچھلی لگنے کی صورت میں ان کی موجودگی بہت مشکل ہو گئی ہے۔
کے سی تیاگی نے جینت چودھری کے ساتھ اپنی کتاب کا Igorاء کیا تھا، لیکن اس عرصے میں انہوں نے ایک بار پھر یہ بات پھیلائی ہے کہ ہر پارٹی کو کے سی تیاگی جی کی طرح ایک اچھا لیڈر کی ضرورت ہے۔
کے سی تیاگی نے بھرپور اور گھنّے تنشہ کے بعد اپنی پارٹی سے کنارہ کشی کرتے ہوئے ایک نئی پریشانی پیدا کی ہے۔ جے ڈی یو کے ساتھ ان کی رشتہ، جو بھرپور طاقت اور تیز گزرتے حالات میں مچھلے لگتی رہی ہے، اب اس پر جھیلنا پڑتا ہے کہ کے سی تیاگی کی نئی پارٹی سے یوں اور تعلقات میں بدلائیں گے یا نہیں۔
آر ایل ڈی کے قومی جنرل سکریٹری ملوک نگر نے کے سی تیاگی کو پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے اور ان سے یہ بات بھی پوچھی ہے کہ کیا انہیں اس کی وعدے پر عمل کرنا چاہیں گے۔
ملوک نگر نے بتایا کہ جب کے سی تياگی کو پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تو انہوں نے اس پر عمل کرنے کے لئے استعذار کیے تھے، لیکن اب وہ بات یقینی طور پر کیا سکتے ہیں کہ وہ پارٹی میں شامل ہوں گے یا نہیں۔
اس بارے میں بات چیت کرنے والا ملوک نگر بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ تیاگی کی برادری میں سے زیادہ تعداد مغربی اتر پردیش ہی رہتی ہے، اس لیے اگر انہیں پارٹی میں شامل ہونے میں مدد ملے تو یہ سماجی بنیاد پر استحکام لائیں گے۔
ملوک نگر نے کے سی تیاگی جی کو بتایا کہ پارٹی صدر جینت چودھری اس فیصلے میں حصہ لگائیں گی اور وہ ان کی رائے سے متصادم نہیں ہوگئیں۔
جے ڈی یو کی طرح آر ایل ڈی بھی فی الحال بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے کا حصہ ہے۔
کے سی تیاگی نے ابھی تک وعدے پر عمل کرنے کے لئے انکار کیا تھا، لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں اس سے متصادم ہونے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
جے ڈی یو سے منسلک رشتہ کی بات کرتے ہوئے، ملوک نگر نے بتایا کہ جینت چودھری کو ان کے ساتھ بات کھینچنی پڑتی ہے اور وہ اس پر عمل کرنے کے لئے استعذار کیے تھے، لیکن اب وہ بات یقینی طور پر کیا سکتے ہیں کہ وہ پارٹی میں شامل ہوں گے یا نہیں۔
کے سی تیاگی جی کو پہلے تو جینت چودھری کا یہ فیصلہ مقبولیت حاصل تھا، لیکن اب وہ بات یقینی طور پر کیا سکتے ہیں کہ وہ پارٹی میں شامل ہوں گے یا نہیں۔
جینت چودھری کے دادا، چودھری چرن سنگھ، ملک کے وزیراعظم تھے، اور ان کے والد، چودھری اجیت سنگھ، مرکزی وزیر تھے۔ آر ایل ڈی کی حمایت کا مرکز مغربی اتر پردیش میں ہے جو کے سی تياگی کی آبائی ریاست بھی ہے۔
آر ایل ڈی سے منسلک رشتہ، جو جے ڈی یو کی طرح فی الحال بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے کا حصہ ہے، اب اس پر ان کے لئے ایسا ہی کوئی تحریری یا رسمی کارروائی نہیں کی گئی جس سے انہوں نے یہ بات پکھ سکتی ہو۔
مگر پارٹی کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس رشتہ میں مچھلی لگنے کی صورت میں ان کی موجودگی بہت مشکل ہو گئی ہے۔
کے سی تیاگی نے جینت چودھری کے ساتھ اپنی کتاب کا Igorاء کیا تھا، لیکن اس عرصے میں انہوں نے ایک بار پھر یہ بات پھیلائی ہے کہ ہر پارٹی کو کے سی تیاگی جی کی طرح ایک اچھا لیڈر کی ضرورت ہے۔