کوما سے باہر ہونے والے 8 سالہ بچے کے گھر میں ایسی کیلا ہوئی جو دilon کو پوچھتی تھی اور دل کو ٹوٹنے لگا دیتی تھی۔
ان 8 سالہ بچے نے اپنی زندگی کے کسے ایسے لمحے میں کوما کی طرف متوجہ کیا جس سے ان کے دماغ کو شدید نقصان پہنچا اور اس نے 55 دن تک اپنی دنیا سے الگ رہا تھا۔
یہ بچہ چین کے ہونان صوبے میں پیدا ہوا تھا اور نومبر 2025 میں ایک ٹریفک حادثے میں جھیل گیا تھا۔ اس حادثے میں اس کے دماغ کو بھی شدید نقصان پہنچا اور اس کے ہسپتالوں میں لے کر جانے والی مہم نے ان کی زندگی کو ایک خطرے سے باہر لے جا دیا تھا۔
اس حادثے کے بعد جب اس کو ہسپتال میں لایا گیا تو دوسرے ہسپتالوں میں لے کر جانے کی مہم نے ان کی زندگی کو ایک خطرے سے باہر لے جا دیا تھا۔ اس وقت کے ڈاکٹروں نے اس کے جانی پہچاننے کا بھی امکان نہیں لیا تھا اور ان کا بتایا تھا کہ اس کا ہوش آننے کا امکان نہیں تھا۔
لیو کی والدہ نے اس حادثے میں اپنا بیٹا کھو لیا تھا اور اس کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی تھی۔ انہوں نے چلنے والی موسیقی سے اس کی دماغ کو متحرک کیا اور گھر پہنچتے ہی اس نے اپنی پلاٹفارم کا استعمال کرکے اپنے دوستوں کو اکٹھا کیا تاکہ وہ ان کے ساتھ اپنا سفر مکمل کر سکیں۔
لیو کی اس لڑائی نے اسے ایک ساتھی اور ایک دوستانہ گروہ کی طرف متوجہ کیا۔ اس کی یہ لڑائی اس کی والدہ نے بھی اپنے بیٹے کی جان پر چلائی تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے گھر میں آئی تھی۔
چالیس ڈین کی پریشانی کے بعد اس نے ایک ساتھی کے ساتھ منہ گھلایا تھا اور اب اس نے ایک دوستانہ گروہ کو اپنا سفر مکمل کرنے کے لیے اکٹھا کیا ہے۔
لیو کی یہ لڑائی اسے اس وقت تک ساتھ دیتی رہی جب تک اس نے ایک ساتھی کو آزاد کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس کے اس ساتھی نے بھی اس کی آواز سنی اور اس کے دماغ میں جانی پہچان آئی۔
45 دن بعد یہ بچہ ایک ساتھی کے ساتھ ہلچل لگا دیا اور اس نے اپنے دوستوں کی آواز سن کر بہت خوش ہوا اور اس کے دماغ میں جانی پہچان آئی۔
55 دن بعد یہ بچہ مکمل طور پر اپنی دنیا سے واپس آیا اور اب اس کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔
ان 8 سالہ بچے نے اپنی زندگی کے کسے ایسے لمحے میں کوما کی طرف متوجہ کیا جس سے ان کے دماغ کو شدید نقصان پہنچا اور اس نے 55 دن تک اپنی دنیا سے الگ رہا تھا۔
یہ بچہ چین کے ہونان صوبے میں پیدا ہوا تھا اور نومبر 2025 میں ایک ٹریفک حادثے میں جھیل گیا تھا۔ اس حادثے میں اس کے دماغ کو بھی شدید نقصان پہنچا اور اس کے ہسپتالوں میں لے کر جانے والی مہم نے ان کی زندگی کو ایک خطرے سے باہر لے جا دیا تھا۔
اس حادثے کے بعد جب اس کو ہسپتال میں لایا گیا تو دوسرے ہسپتالوں میں لے کر جانے کی مہم نے ان کی زندگی کو ایک خطرے سے باہر لے جا دیا تھا۔ اس وقت کے ڈاکٹروں نے اس کے جانی پہچاننے کا بھی امکان نہیں لیا تھا اور ان کا بتایا تھا کہ اس کا ہوش آننے کا امکان نہیں تھا۔
لیو کی والدہ نے اس حادثے میں اپنا بیٹا کھو لیا تھا اور اس کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی تھی۔ انہوں نے چلنے والی موسیقی سے اس کی دماغ کو متحرک کیا اور گھر پہنچتے ہی اس نے اپنی پلاٹفارم کا استعمال کرکے اپنے دوستوں کو اکٹھا کیا تاکہ وہ ان کے ساتھ اپنا سفر مکمل کر سکیں۔
لیو کی اس لڑائی نے اسے ایک ساتھی اور ایک دوستانہ گروہ کی طرف متوجہ کیا۔ اس کی یہ لڑائی اس کی والدہ نے بھی اپنے بیٹے کی جان پر چلائی تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے گھر میں آئی تھی۔
چالیس ڈین کی پریشانی کے بعد اس نے ایک ساتھی کے ساتھ منہ گھلایا تھا اور اب اس نے ایک دوستانہ گروہ کو اپنا سفر مکمل کرنے کے لیے اکٹھا کیا ہے۔
لیو کی یہ لڑائی اسے اس وقت تک ساتھ دیتی رہی جب تک اس نے ایک ساتھی کو آزاد کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس کے اس ساتھی نے بھی اس کی آواز سنی اور اس کے دماغ میں جانی پہچان آئی۔
45 دن بعد یہ بچہ ایک ساتھی کے ساتھ ہلچل لگا دیا اور اس نے اپنے دوستوں کی آواز سن کر بہت خوش ہوا اور اس کے دماغ میں جانی پہچان آئی۔
55 دن بعد یہ بچہ مکمل طور پر اپنی دنیا سے واپس آیا اور اب اس کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔