سکول کے دوستوں کی آواز سن کر 8 سالہ بچہ 55 دن بعد کوما سے باہر نکل آیا

شعرونثر

Well-known member
central asia کی ایک 8 سالہ بچے کو ایک ٹریفک حادثے کے بعد کوما میں چلا گیا تھا، اس حادثے میں اس کے دماغ کو شدید نقصان پہنچا جبکہ پھیپھڑے بھی زخمی ہوئے۔ 55 دن کی پابندی سے بعد لیو نے اپنے ہوش میں آنے کا مौकہ دیکھا جب اس کے دوستوں نے ان کو سنایا۔

لیونٹول سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون 55 دن بعد اپنی آواز سن کر اپنے ہوش میں آ گیا۔ اس حادثے کے بعد لیو کو دماغی نقصان پہنچا تھا جس کے باعث ان کی کامیابی کی ایک بھائی کے لئے گم ہوئی اور ہوش میں آنے کا امکان نہیں رہا اور وہ کوما میں رہتے تھے، لیکن ایک نوجوان بچے کی والدین نے اپنے بیٹے کو مختلف ہسپتالوں میں لے کر گئے اور ان کی مدد کے لئے مختلف مشوروں پر عمل کیا۔

لیونٹول کے ساتھیوں نے اپنی آواز سنانے کے لیے ایک سیریز میسجز ریکارڈ کی جس میں وہ چالتی ہوئی دکھائی دیا گیا تھا، لیونٹول نے اس سیریز کو سنایا اور اس کے بعد اس کے پلکوں میںMovement پیدا ہو گئے، اس وقت وہ اپنے ہوش میں آ گیا جب اس نے اپنی آواز سنی اور اس نے مکمل طور پر ہوش میں آنے کے 55 ویں دن کو مسکرایا۔
 
🤕 ایسا بات کیا جائے? ایک ٹریفک حادثے کے بعد 8 سالہ بچے کو کوما میں چلا گیا اور اس کے دماغ کو شدید نقصان پہنچا ہے، اور اب وہ اپنے ہوش میں آ گئے ہیں! یہ ایک بہت ہی مشقوں والی بات ہے، لیکن اس کا شکر کرنا پڑتا ہے کہ اس کی والدین نے اس پر یقینیان عمل کیا اور اس کے ساتھیوں نے اسے سنایا اور اسے ایک منظم سیریز میسج ریکارڈ کرائی تھی، حالانکہ یہ بات بھی ہے کہ دماغی نقصان پہنچنا ایسی چIZ ہے جس کی کوئی حد نہیں ہوتی اور اس پر عمل کرنا بھی آسان نہیں ہوتا۔

اب وہ اپنی آواز سنی رہے ہیں اور یہ ایک بہت ہی گمشدہ ہوائی چل رہی تھی، لیکن اب وہ مکمل طور پر ہوش میں آ گئے ہیں! یہ ایک انسپائریشن ہے کہ جب ہم اپنے پورے وجود کو اٹھانے والے ہوتی ہیں، تو ہمارا مستقبل کچھ نہ کچھ ہوتا ہے!
 
یہ ایک دیرپا معاملہ ہے، اس بچے کی پیدائش سے قبل نہیں سوچتا تھا کہ اس کے دماغ میں کتنے نقصان پہنچ سکتے ہیں، ایک ٹریفک حادثے میں ان کی زندگی بھی تباہ کر دی گئی، اور اب وہ اپنی ماں کو سناتا ہے جیسا کہ اس نے سیکھا تھا یہ ایک حقدار دکھی دیتا ہے جو بچپن کی زندگی میں ہی اس کے ساتھ رہتا، اور اب وہ اپنی دنیا میں واپس آ گیا ہے، یہ ایک جملہ ہے جو دل کو دبایگا।
 
🤗 یہ بات ایک دلچسپ بات ہے، آج تک کیا ان کے ساتھی بھی اس حادثے میں شامل تھے یا نہیں؟

اس عجیب واقعے کی وجہ سے ہم سوچتے ہیں کہ دنیا بھر میں یہاں تک جانے والے ٹیکنالوجی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، لیکن پریشان کن بات یہ ہے کہ جسے یہ ٹیکنالوجی مینٹن کرتی ہے وہ بھی اس طرح کی حادثات سے دوچار ہوسکتی ہے؟

لیونٹول کی آواز سنانے کا یہ واقعہ دنیا میں ایک نئی بات کا پتہ چلا دیا ہے جو یقینی نہیں ہے کہ اس پر کیا اثر پڑے گا؟

میں سوچتا ہoon کہ یہ واقعہ ایک اہم بات کی بات ہے جو ہمیں صارفینوں کو بھی آہستہ کرنا چاہیے، اس لیے کہ ہم ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی زندگیوں میں ایک نئی دuniya بنانے کی کوشش کر رہتے ہیں، لیکن یہ سچائی بھی ہے کہ اس نئی دuniya میں آپ کو ہی کبھی ٹرانسفورم نہیں کرنا پڑتا؟
 
اس حادثے کا ایسا منظر دیکھنا میرا دل ٹوٹ گیا 🤕، ایک نوجوان کی آواز سننے سے پہلے اس پر کیسے لگتا تھا؟ 55 دن تک وہ کوما میں رہتے، اس گھر وालوں نے ان کی مدد پر کام کیا اور انھیں ہسپتالوں میں لے کر گئے۔ #ہاتھمیل
لیونٹول کی یہ طاقت وہی ہے جو ہمیں động کرتا ہے، اس نوجوان کی آواز سننے سے پہلے کیا ہوتا تھا؟ #ہمیشہ_زندگی_ہو
اس نوجوان کی یہ قوت بے مثال ہے، وہیں جب اس نے اپنی آواز سنی تو پچھلے 55 دن کو بھول گیا، اب وہ مکمل طور پر ہوش میں ہے #حوالہ
یہ حادثے ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ زندگی ایسے ہی ہوتا ہے، آپنی آواز سنانے سے پہلے کیا ہوتا تھا؟ #زندگی_کی_کبھی_ناچ
اس نوجوان کی یہ جیت ایک ہتما کہانی ہے جو ہمیں دلچسپ دیتی ہے، وہیں جب اس نے اپنی آواز سنی تو وہ مکمل طور پر ہوش میں آ گیا #حوالہ
 
یہ ایک گہری تھकkan کی کہانی ہے، 8 سالہ بچے کو ٹریفک حادثے میں شدید نقصان پہنچا اور وہ 55 دن تک کوما میں رہتے تھے۔ ان کی سوچ اور آواز سنانے کے لیے کسی کو بھی کوشش کرنا مشکل ہو جاتا۔ لیکن اس نوجوان خاتمے نے اپنے دوستوں کی محبت اور حمایت سے اپنی آواز سنانے کا موقع دیکھا۔ اس کے 55 ویں دن کو مسکرا کر وہ ہوش میں آگی۔ یہ ایک بہت ہی خुशناک واقعہ ہے، اور اس سے ہمیں دلچسپی ہے کہ اس نوجوان کی زندگی کیسے تھی اور اس کی صحت کیسے پہنچتی ہے۔
 
عجیب کچھ ہوا ہے یہ حادثہ، 8 سالہ بچے کو کوما میں رکھا گیا تھا اور اس کی دماغی صحت میں بھی کچھ نقصان پہنچا تھا، لیکن یہ چھوٹی لڑکی ایک اچھی سے اچھی نہیں مٹی ہوا! اس کی صحت میں بہت بڑی تبدیلی ہوئی، ایسا کہ اس نے اپنے ہوش میں آنے سے قبل آواز سنائی تو پھر وہ مکمل طور پر ہोश میں آگی۔ یہ بچوں کی صحت کو دیکھ کر میرا دل خوش ہوا!
 
یہ بچوں کی زندگی کھیلتے ہوئے تو ایک جگہ کوما میں تھک جاتے ہیں اور دوسری جگہ دماغی نقصان سے دوڑ رہتی ہیں 🤯 یہ بچوں کی زندگی کتنے خطرناک ہیں، لیکن وہ ہمیں کھیل دیتے رہتے ہیں۔
 
یہ ایک بھرپور واقعہ ہے جو آپ کو حیران کر دے گا۔ ایک بچے کی دماغی نقصان کیسے کمزور ہو سکتا ہے؟ پھیپھڑوں میں زخمی ہونے کی بات بھی نہیں ہوتی، لیکن یہ واقعہ اس قدر متاثر کیا ہوا ہے کہ اب بھی ماں اور باپ کو اس کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

لیونٹول کی قریباً 55 دن کی لڑائی کیسے تھی؟ یہ بات بھی نہیں آئی کہ اس کے دماغ میں کس طرح نقصان پہنچا، لیکن اس نے اپنی آواز سنانے کی کوشش میں ایک سیریز میسجز ریکارڈ کی۔ یہ بات بھی قابل ذہن ہے کہ اس کے ساتھیوں نے ان کو سنایا اور اس کے پلکوں میںMovement پیدا ہو گئے، جس سے وہ اپنی آواز سنا کر ہوش میں آ گیا۔
 
"جنت کی پہلی بارش، جس میں ایک سے زائد رکھنے والوں نے اپنا بھی سہارا، اور وہ سرتاوتوں کا شکار نہ ہو کے، پہلے کو سہرا دیکھتا تھا" 😊
 
مریض کی یہ قوت و قدرت بھی دیکھنی چاہیے۔ ایک صاف سے لینا، پھر جب ہو سکے تو آواز سنانا۔ وہ بچہ صرف 8 سالا تھا، اس کا یہ جوش نہیں بھولنے والا۔ پھر اس کی والدین کو ان کی مدد کرنے لگنا اور ان سے مشورہ لینا، وہ بھی ان کی مدد کرتے تھے نہیں ہو سکتے، لیکن ان्हوں نے اپنی بات سمجھی اور اس نے اس نوجوان کو ہوش میں آنا میں مدد کی۔ مگر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس کے ساتھیوں نے اس پر اس طرح کس طرح کام کیا جس سے وہ آواز سن سکے۔

[😊]
 
یہ بھی یقینی ہو گيا کہ لوگ جب آپ کے ساتھ یہاں نہیں ہوتے تو وہ آپ کی آواز سننے پر توجہ دیتے ہیں، لیونٹول کو بھی اس طرح کا ایمٹی کو سنا پڑا، وہ اپنی آواز سن کر ہोश میں آ گیا، مگر یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کے دماغ کو شدید نقصان ہوا تھا، اب اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کی زندگی بھی آسان نہیں رہتی ، اس میں یہ بات ہمارے لئے سکھنے کی ہے کہ اپنی آواز سنائی دینا ہر مہانیات سے بھی کم نہیں ہوتا
 
یہ ایک دیرینہ حادثے کیخبر ہے، یہ بچے کو کتھے تک پہنچا کروگا؟ وہاں تک جس تک پہنچے ان کی مدد سے یہ کیسے آگے بڑھتا? میں بھی اس حادثے کی یاد دلاتا ہوں، میری بچپن کی دوڑوں میں ایک سائنس گفٹر میں اپنی آواز سنانے کا ماحول جیسا تھا جو وہ ابھی نئے ہسپتال میں وہاں تک پہنچا، یہ ایک دیرینہ دن تھا کیوں کہ اس سے قبل کبھی بھی ایسا وقت نہیں آچکا ہوتا تھا، اب وہ لائبریری کے ٹرنل میں آتے تو اسٹوڈنٹز اپنی آواز سنا کر ہی نہیں سکتے، یہ ایک نئی دنیا ہے، پھر بھی ایسا کیا ہو رہا ہے؟
 
یہ ایک بھرپور عجائب ہے! 😲 میرے خیال میں اس نوجوان کی وکالت کرنے والے والدین کو بہت بڑا شکر گزارنا چاہیے، انھوں نے اپے بیٹے کی مدد کے لئے پوری کوشش کی اور اسے ایسے ہسپتالوں میں لے گیا جہاں سے انھیں کامیاب نہیں ہونے والا تھا۔ 🙏 لیکن یہ بھی ایک بات اچھی ہے کہ 55 دن تک اسے اپنی آواز سنانے کی کیورٹی نہیں رکھی گئی، یہ انسافر کا معاملہ تو ہے لیکن ابھی سے وہ اپنی آواز سنانے کی کوریج میں رہتے تھے، یہ ان کے لئے ایک بڑا نقصان تھا۔
 
یہ بھی ہوا یہ بات تو پتہ چلتا ہے کہ لوگ ایسے حادثات میں جب ان کے ہوش نہیں آتے تو پوری دنیا ان کی آواز سنتی ہے اور اس پر کوئی حد نہیں پھنسی، اس سے یہ بات ملتی ہے کہ ہر رخ پر انسان کا ایک ہatrہل بھاے بنتا ہے اور آپ سے زیادہ کچھ نہیں چلتا، یہ ایسا عجیب سا ماحول ہوتا ہے جہاں لوگ بلاشکہ اپنی آواز سناتے ہیں تاہم اس حادثے کے بعد یہ بات ہر دوسری بار پتہ چلتا ہے کہ ایسے حادثات میں بچوں کو زیادہ نقصان پہنچتا ہے
 
یہ بچے کی کہانی ایک شدید حادثے کے بعد جس سے وہ 55 دن تک کوما میں رہتے تھے، پھر یہ بات منہدم ہے کہ اس نے اپنے ہوش میں آنے کی کامیابی اور ایک بھائی کی واپسی کا امکانات بھی ہیں …… 🤞
 
یہ کتنا یقین دہانی ہے! 8 سالہ بچے کو ٹریفک حادثے میں شدید نقصان پہنچ گیا اور کوما میں چلا گیا تھا، لیکن وہ 55 دن کی پابندی سے بعد اپنی آواز سن کر ہوش میں آ گیا! یہ تو ایک حقیقت ہے جس کا کوئی منفی اور مثبت Interpretation نہیں کرسکتا، لیکن اس سے پوچھنا چاہیے کہ ایسی صورتحال میں ہسپتالوں کی خدمات کا انعقاد کیسے کیا جاتا ہے? اور یہ بھی کہ 55 دن کی پابندی سے قبل کیا ہسپتال نے اس بچے کو کامیابی سے مڑنے کا موقع دیا؟ یہ بات بھی پوچھنی چاہیے کہ ایک بچے کی دماغی صحت کو لے کر کیے گئے فیصلے کیسے اور اس کی زندگی میں کس طرح اثر انداز ہوئے؟
 
یہ بات بھی جاننا چاہئے کہ لیونٹول سے تعلق رکھنے والی نوجوان خاتمون کے پاس ایک مہم جواب تھا، اس کے ساتھ 55 دن تک بھی وہ اپنی آواز نہیں سنی پاتی۔ ان کی آواز سننے والے لاکھوں لوگوں کو محنت کرنا پڑی اور اس کا فائدہ اس کی والدین کو ملا۔
 
واپس
Top