سائنسدانوں نے نئے مطالعہ میں خلائی مخلوق کے وجود کے امکانات کو بڑھا دیا ہے اور یہاں تک پہنچا ہے کہ قابل رہائش سیاروں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو سکتی ہے۔ اس تحقیق میں نہ صرف زمین پر موجود ماہرین کو نہ تو رکھا ہے بلکہ یہ بات بھی سچ نہیں تھی کہ اس معیار پر پورا سیارہ اترتا ہے جو زندگی کی اجازت دیتا ہے، جسے قبل سے سمجھا جاتا رہا تھا کہ یہ سچ نہیں ہے۔
تحقیق میں نہ صرف یہ بتایا گیا کہ ایک قسم کی سیاروں کی تعداد سے بھی زیادہ میکانزم وہی ہو سکتی ہے جسے پہلے یقینی طور پر نہیں سمجھا گیا تھا اور ان کا ایک روپ کو زمین کی طرح مائع پانی رکھنا پڑ سکتا ہے۔
تحقیق میں خاص طور پر ان سیاروں کی طرف دیکھا گیا جس کا رخ اپنے ستارے کے گرد بھی گھومتا رہتا اور اس کو اپنی محوری گردش نہ کرنا پڑتا ہے، یعنی جو ساتھوں میں ایک طرف اچھی جگہ ہوتی ہے، دوسرے طرف وہاں بھی رہنا بھنکا مگر یہاں تک پہنچ سکتا ہے کہ وہاں کی گرما گریت اور سردی کے درمیان اسے لگتا ہے جیسے وہ اپنی محوری گردش کرتے ہوئے رات والے حصے تک پہنچ سکتا ہے، اور یہاں تک پہنچنا اس بات کو یقینی بنا دیتا ہے کہ ان سیاروں پر پانی رکھ سکتا ہے۔
اس تحقیق نے ایک اور بات کو بھی چیلنج کیا کہ وہ سیارے جنہیں پہلے بہت زیادہ سرد سمجھے جاتے تھے، وہاں بھی یہ بات یقینی بن جاتی ہے کہ ان میں مائع پانی رکھ سکتا ہے اور یہاں تک پہنچ سکتا ہے کہ اس میں زندگی کی اجازت مل سکتی ہے اور یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ممکن ہے کہ کائنات میں ایسے پانچ سالہ ستاروں کو بھی ملا سکتا ہے جو کیپریشن کا مرکز بنتے ہیں اور انہیں بھی قابل رہائش سمجھا جاسکتا ہے۔
ایک بات یقینی ہو گئی ہے کہ زمین سے بہت دور ان سیاروں میں زندگی کی امکانات ہیں اور وہاں موجود مائع پانی کے ذریعے کائنات کو بھی نئے مواقع پیش کرنا شروع کر سکتا ہے۔ لیکن اب یہ بات بھی صاف ہو گئی ہے کہ اس کے لئے ان سیاروں کو بھی زمین کی طرح اچھی جگہ پانے کی ضرورت نہیں۔ وہاں تک پہنچنا جس سے ان میں مائع پانی رکھ سکتا ہے اسے یقینی بناتا ہے کہ ان کیوں نہ رہائش یقینی ہو سکتی ہیں اور اسی لئے اس تحقیقی میں نہ صرف یہ بتایا گیا کہ پانی کے ساتھ وہاں تک پہنچنا ایک اور اہم بات ہے۔
یہ ایک ایسا خبر ہے جو مجھے کچھ دیر سے منظر عام پر لانے کی تھی... سائنسدانوں نے بھی اپنے کہرے میں ایسے بات چیت کی ہے جو مجھ کو یقین دلاتی ہے کہ زمین پر رہنے والے لوگ ان حالات کو سمجھتے ہیں یا نہیں... میرا خیال ہے کہ میکانزم اور پانی کی موجودگی سے بھرپور سیارے پائے جانے پر ہمیشہ سے بتایا گیا تھا کہ وہ قابل رہائش نہیں ہو سکتے ہیں... لیکن اب یہ بات چیلج کر رہی ہے کہ میکانزم بھی ایسا ہو سکتی ہے جس کی وہ سمجھتے تھے نہیں...
یہ تو ایک دلواری نہیں! ساروں کو بھاگنا پڑتا ہے اور اب لوگ کہتے ہیں کہ خلا میں بھی پانی ہوسکتا ہے؟ چلو وہ لوگ بتائیں یہ کہ زمین پر سے ایک فٹ انچ باقی نہ رہ جائے تو کیا ہوتا ہے?
اب یہ سچ نہیں چلا کہ زمین کی طرح ایک سیارے میں مائع پانی ہے یا نہیں؟ اس بات پر ایسا مطالعہ چلا گیا جو اب تک کے مطالعوں سے زیادہ اچھا ہے۔
یقیناً پہلے نہیں سمجھا جاتا تھا کہ ایسا مطالعہ کرنا ممکن ہے جو اس بات کو یقینی بنائے، لیکن اب ہم یہ بات بھی جانتے ہیں کہ ایک سیارے میں مائع پانی رکھ سکتا ہے اور وہ قابل رہائش ہو سکتی ہے۔ یہ ایک بڑا واضح ثبوت ہے کہ اس بات کو جانتے ہیں کہ کیپریشن ممکن ہے اور اس میں یہ بھی کچھ ہے جو کیپریشن کی طرف لاتا ہے۔
اس سے پہلے لوگ نہیں سوچتے تھے کہ اسی طرح ایک سیارے پر ان کے ساتھوں میں ایک طرف رہنے والا بھی ہوسکتا ہے جو دوسرے तरफ پہنچتا ہے، لیکن اب یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسی طرح ایک سیارے کی طرف جاتے ہوئے وہاں کو رات والے حصے تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ کچھ بے مثال ہے، اور میں اس بات کی بھی کوشش کرتی ہوں گی کہ ایسے مطالعوں کو مزید بڑھانے کی کوشش کریں جو زمین پر موجود ماہرین کو یہ محسوس کرائیں۔
اللہ یہ محسوس کرنے دیا کے نہیں تو! اگر ایسی سیاروں کی تعداد میں گناڑا اضافہ ہو جائے تو یہ ہمارے لیے اچھی نئی دنیا بن سکتا ہے! آپنے رہنے کے لیے قابل ہونے کی صلاحیت اس کے ساتھ ساتھ مائع پانی رکھنا بھی ایسا دیکھا گیا ہے جو دنیا کو ایک نئی طرف لے جائے گا!
لیکن تو یہ کیا فہم کرتے ہو؟ کہیں تک یہ بات بھی نہیں تھی کہ ایسی سیاروں میں زندگی کی اجازت دیتی ہیں اور پورا سیارہ ایسا ہی اترتا ہے جیسا قبل سے سمجھا جاتا تھا!
ایسے نئے مطالعے میں ہمارے لیے نئے وارثات کی امید کے لیے کوئی چیلنج نہیں، نہیں تو! اس طرح یہ محسوس کرنے دیا جاسکتا ہے کہ دنیا ایک نئی طرف دھار رہی ہے جو ہمیں ایک نئے مستقبل کی طرف لے جائے گی!
لگتا ہے کہ اس نئے مطالعے سے پہلے یہ بات بھی نہیں تھی کہ زمین پر موجود ماہرین کو نہ رکھا جائے اور ایسے معاملات میں وہ لوگ باہم بات نہ کرسکیں جو مختلف خیالات سے لادے ہیں، اب یہ بات یقینی بن چکی ہے کہ جیسا کہ سائنسدانوں نے بتایا ہے اسی طرح میکانزم بھی ایسا ہو سکتا ہے جو قبل سے سمجھا نہیں گیا تھا، اس لیے یہ بات بھی کہنی چاہئے کہ جب تک ماہرین اپنے خیالات کو سامنے لاتے ہیں تو صرف ایسا ہی کچھ کرنا ہوتا ہے اور اس میں کسی بھی بات کو آسان بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
یہ سچ نہیں کہ سیاروں پر پانی نہیں ہوتا! اچھا نیوز!
میں سوچتا تھا کہ اس بات کو کوئی نہیں چیلنج کر سکتا اور اب یہ بتایا گیا ہے کہ قابل رہائش سیاروں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتی ہے!
میں ایسا سوچتا تھا کہ یہ ممکن نہیں ہوتا اور اب میں بتایا گیا ہے کہ کائنات میں مائع پانی رکھ سکتا ہے!
میں اس بات کو بھی نہیں مانتا تھا کہ ایسے سیاروں پر پانی ہوسکتا ہے جس کا رخ اپنے ستارے کے گرد گھومتا رہتا ہے، اب یہ بتایا گیا ہے!
میری نظر سے یہ بات بہت خطرناک ہے کہ نیند کی ضرورت نہیں رکھنا پڑسکتی ہے اور وہ لوگ جو اس معیار پر پورا سیارہ اترتا ہے وہاں سے چلے جاتے ہیں تو یہ بات بھی تھی کہ وہاں سے کسی کی ضرورت نہیں رکھنا پڑسکتا ہے، لیکن اب اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ ایسی سیاروں پر بھی مائع پانی رکھ سکتے ہیں اور وہاں کی گرما گریت اور سردی میں رہنا بھی ممکن ہوسکتا ہے۔ یہ بات کیسے تھی کہ کائنات میں ایسے پانچ سالہ ستاروں کو بھی ملا سکتے ہیں جو کیپریشن کا مرکز بنتے ہیں؟ یہ بات تو بہت چیلنج دیتی ہے لیکن میں یہ ماننا چاہتا ہوں کہ یہ صرف ایک جانب سے نظر انداز کی جائے اور دوسرے جانب سے بھی توجہ دی جائے
عجیب بات یہ ہے کہ سائنسدانوں نے ایک بار پھر ایسے مقامات کو محو الہوہی کیا ہے جو قبل سے سمجھے جاتے تھے کہ وہ رہائش یقینی نہیں کرتے ہیں، حالانکہ اب تک نہیں سنا گیا تھا کہ ان پر پانی رکھ سکتا ہے اور زندگی کی اجازت مل سکتی ہے! یہ سائنسدانوں کی جانب سے کیا جارہی ہے؟
اور ان سیاروں پر پانی رکھنا اور زندگی کی اجازت ملنا ایسی چیلنج ہے جو اس وقت تک نہیں سنا گیا تھا جب تک کہ وہ محوری گردش میں آئیں! یہ ایسا لگتا ہے کہ آپ کو نہ ہونے کی امید ہو!
میں صرف یہ بتاتھا کہ سائنسدانوں نے کیا کہا، اور اب کتنی چیلنجز لاتی ہیں!
یہ research بہت اچھی ہے، اس نے مجھے یقین دिलایا کہ کائنات میں کیسے مائع پانی رکھ سکتا ہے، اور یہ research بھی بتاتا ہے کہ ایسی سیاروں کی تعداد بھی زیادہ ہو سکتی ہے جو ہم نے سیکھا تھا اور اسے پورا سمجھنے میں مجھے بھی کچھ فائدہ ہوا ہے!
یہ research ایک بار پھر بتاتا ہے کہ کائنات میں بھی کئی واضح نہیں تھی اور مجھے یہ بات بھی مل گئی ہے کہ زندگی کی اجازت دेनے والی سیاروں کو سیکھنا بھی ایک چیلنج تھا!
نئے مطالعہ سے لگتا ہے کہ زمین پر موجود ماہرین نے اپنی تحقیق کی کمیوں کو بھی انھوں نے دیکھ لیا ہے اور یہ بات تھی کہ اب ایک سیارہ اس معیار پر اتر سکتا ہے جس پر زندگی کی اجازت دی جائے گی، اب تو ہم نہیں جانتے کہ وہ کیسے اترेगا۔
[تصویر: ایک شخص سیارہ پر کلب کر رہا ہے، ایک دوسرا اس کی طرف دیکھتا ہے اور اسے سائنسدانوں سے پوچھتے ہیں]
[تصویر: زمین کے بارے میں ایک شخص جو کہتا ہے "میں جانتا ہoon ki apne star ki ghoomta rehaun hai"... دوسرا اس کی طرف دیکھتا ہے اور اسے چھوٹی سی سیارہ پر رکھتے ہوئے دیکھتا ہے]
[تصویر: ایک کائنات میں ایک سیارہ جو اپنی محوری گردش کر رہا ہے، پھر وہاں سے کبھی اور اس کے درمیان ٹھوس پانی رکھتا ہے]
[تصویر: ایک شخص جو کہتا ہے "میں ان سیاروں میں مائع پانی رکھ سکتا ہoon"... دوسرا اس کی طرف دیکھتا ہے اور اسے پانچ سالہ ستاروں کو بھی قابل رہائش سمجھتے ہوئے دیکھتا ہے]
یہ بات بھی مندرجہ سے سامنے آئی ہے کہ زمین سے باہر کی سیاروں پر رہائش جگانا بہت مشکل ہے، لیکن یہ بات پوری طور پر نہیں ہی تھی کہ اس سے قبل یقینی طور پر سمجھا گیا تھا کہ کس سیاروں کو قابل رہائش سمجھا جاسکتا ہے اور کس نہیں؟ اور اب یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس معیار پر پورا سیارہ اترتا ہے جو زندگی کی اجازت دیتا ہے! یہ ایک عجیب بات ہے، بہت سے ماہرین نے اس بات کو بھی بتایا ہے کہ پانی رکھنے کی اہمیت، لیکن اب یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پانی نہیں ضروری ہی!
بہت اچھا! یہ سائنس کی دuniya میں ہمارے لئے ایک نئا ماحول پیدا کر رہی ہے۔ قابل رہائش سیاروں کی تعداد میں گناں اضافہ ہونے کا خیال بہت انتباہی ہے، میران کیا یہاں تک پہنچ سکتا ہے؟
سپیس کی جگہوں پر مائع پانی رکھنا ایک بڑا میرتکاز بن سکتا ہے، یہ نہ صرف زمین پر سائنسدانوں کو لائٹ کرتا ہے بلکہ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ہمارے Planet par rahne ka maza kaisa bhi hota hai?
میڈیم sized stars ko bhi life banane mein samajhna ek aisa cheez hai jo ہمara future kaisi banayegi, toh agar 5-year-old star bhi possible ho to woh Kaisi cheez ہongi?
ایسا نہیں تھا کہ یہ سب سچ ہو گا کہ قابل رہائش سیاروں کی تعداد میں ایک گنا اضافہ ہو جائے گا! تاہم، یہ بات تو ٹھیک ہے کہ زمین پر موجود ماہرین کو نہ رکھا گیا اور سچ کا مطالعہ شروع کرنا ایک بڑا کامیابی ہے!
ایسا نہیں تھا کہ پورا سیارہ اترتا ہو جائے گا جو زندگی کی اجازت دیتا ہو۔ تاہم، اس تحقیق سے یہ بات تو بھی آتی ہے کہ مائع پانی رکھنے والی سیاروں کی تعداد بھی زیادہ ہوسکتی ہے!
لیکن، ایسا نہیں تھا کہ یہ سب سچ ہو جائے گا! مگر اس تحقیق سے تو یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ پانی رکھنے والی سیاروں کی تعداد سے زیادہ میکانزم بھی ہوسکتا ہے!
اس investigación کو چیلنج کرنا ہر وقت کھلچڑ کا کام تھا اور اس کے بعد بھی کچھ باتوں کو سامنے لانے کا کام کیا جا سکتا ہے!
اور یہ بات کو کس طرح سمجھنے کی جا سکتی ہے کہ ایک سیارے پر پانی رکھنا بہت آسان ہو جاتا ہے؟ سچ نہیں، یہ تو ابھی تو ہوا کی دباؤ اور فشن میں ہم کے بیٹھنے کے مقام پر یہ بات تو یقینی ہے، لیکن ان سیاروں کا رخ اپنی ستاروں کے گرد گھومنا اور وہاں پانی رکھنا جہاں گہری گرما گریت یا سردی کی وجہ سے ہوتا ہے، یہ صرف ہم کے بیٹھنے کی طرح دیکھنا ہے! ہمارے لیے یہ سچ نہیں کہ ان میں اچھے اور بہت خراب علاقے ہیں، اس میں بھی کیا رہتا ہے؟
یہ بات کوئی نئی چیز نہیں ہے کہ لوگ تو دیکھتے ہیں اور پھر ٹوٹ لگاتے ہیں۔ نئے مطالعے میں انہیں یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ آپ کو دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن ایک بار جب آپ اپنی زنجیروں کو توڑ دیں اور اپنے غلبے سے باہر رہ نکلجئے تو آپ کا معادلی کھیل ہو جاتا ہے، وہ توڑ لگا کر دکھائی دیتے ہیں لیکن آپ کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ وہ آپ کو دیکھنا چاہتے ہیں یا نہیں، اس سے ان کی موڑی سے بھی بھرپور معاملات پیش آتے ہیں اور یہیں تک پہنچتے ہیں کہ آپ کو معلوم نہیں کہ اس سے کیا لाभ ہوگا یا نقصان۔