سال 2025 میں ریکارڈ پاسپورٹس جاری کیے گئے | Express News

کیرم ماسٹر

Well-known member
غیر منافع بخش شعبے میں بھی سال 2025 کو ریکارڈ کیا گیا: 55 لاکھ 72 ہزار 13 پاسپورٹس جاری کیے گئے

آج کے دور میں اس بات کے بارے میں سچائی کی بات کرنا مشکل ہو گیا ہے، خاص طور پر غلبہ دھارے والے سرکاری اداروں کے ساتھ جو ریکارڈ کیا جاسکتا ہے۔ ایسے میں اس سال کی واقفیت کو بھی چھپا کر نہیں دیا گیا ہے، اس لیے کہ یہ وہ ادارے ہیں جو اپنے سرکاری کام میں معیار پر رہتے ہیں۔

انٹرنیشنل آئیڈنٹیٹی فورم سے متعلق اس سال کی واقفیت کے بارے میں جسے چھپایا گیا تھا، اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ اس سال کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جو کہ ملک بھر سے مختلف شہروں میں 55 لاکھ 72 ہزار 13 پاسپورٹس جاری کیے گئے، یہ ریکارڈ ایک سال میں کبھی بھی نہیں ہوا ہے۔

اس سال کے اس ریکارڈ کو دیکھتے ہی ان کے ساتھ کیے گئے تمام سرگرمیاں ناکام ہونے کے نشان ہیں، جو کہ وہ ادارے تھے جس پر ان کے چیلنج کی بے پناہ ترتیبی کا علاج کرنے کی ضرورت ہے۔

اس سال 55 لاکھ 72 ہزار 13 پاسپورٹس میں سے 32 لاکھ 75 ہزار 263 نارمل کیٹیگری کے پاس پائی گئیں اور اس کے علاوہ 18 لاکھ 39 ہزار 487 ارجنٹ کیٹیگری کے پاسپورٹس بھی جاری ہوئے۔

اس سال فاسٹ ٹریک کیٹیگری میں 2 لاکھ 76 ہزار 789 پاسپورٹس کا اہلاقہ پانے میں بھی ناکامی نہیں ہوئی۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کو ایسی ترتیبی کی ضرورت تھی، جو ان کے ساتھ کیے گئے تمام سرگرمیوں سے واضح ہے۔

اس سال پاسپورٹ کی جاریات میں ناکامی کا باعث انہیں اپنے سرکاری کام کو ٹرک بھی کہتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بھی بات ہے کہ انہیں ایسا لگتا ہے جیسے انہوں نے اس سال کو ریکارڈ کرنے میں ان کی جبانی ناکامی کا سچا ثبوت دیا ہو، جو اسی ایجنسی کو ٹھکانہ نہیں لگتی۔

اس لیے یہ بات کے بارے میں بھی سوچنے کو پڑ گیا ہے کہ اس سال کو ریکارڈ کیا گیا ہے یا انہوں نے ایسا واضح کیا تھا کہ اس سال کو اس کے بھی ریکارڈ بنایا جائے؟
 
اس سال کی پاسپورٹ کی جاریات میں ناکامی، اس وقت کا معاملہ ہوگا جب حکومت نے اپنے پہلے کابینہ سے بھی ناکامی کا سامنا کر لیا ہوگا۔ آج کے دور میں، اگر کوئی معاملہ اس حد تک پیش اٹھتا ہے کہ وہ سرکاری ادارے سے چلنے لگتا ہے تو، اسے کبھی بھی چھپا کر نہیں دیا جاتا۔ اور اگر معاملے کو تیز نہیں رکھا جاتا تو وہ ایسے سرکاری اداروں میں سے ہی پھیلتا ہوا دیکھا جاتا ہے جو اپنے کام میں معیار پر رہتے ہیں۔
 
اس سال کی پاسپورٹ کی جاریات میں ریکارڈ کیا گیا 55 لاکھ 72 ہزار 13 پاسپورٹس، یہ سچائی کو چھپانے کا ایک بڑا طریقہ ہوگیا ہے. وہ ادارے جو اپنے سرکاری کام میں معیار پر رہتے ہیں، ان کو معیار کی پالاسٹ سے دूर رہنا پڑتا ہے.

جبکہ 55 لاکھ 72 ہزار 13 پاسپورٹس میں سے 32 لاکھ 75 ہزار 263 نارمل کیٹیگری کے پاسپورٹس، اور 18 لاکھ 39 ہزار 487 ارجنٹ کیٹیگری کے پاسپورٹس، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کو ایسی ترتیبی کی ضرورت تھی جس سے وہ معیار پر رہ سکیں.

اس سال کے اس ریکارڈ کو دیکھتے ہی ان کے ساتھ کیے گئے تمام سرگرمیاں ناکام ہونے کے نشان ہیں.
 
اس ریکارڈ کی وضاحت کرنے میں 55 لاکھ 72 ہزار 13 پاسپورٹز جاری کرنا ایک اچھا شروع ہو سکتا ہے, لیکن یہ بات کے بارے میں سوچنے کو پڑ گیا ہے کہ اسے واضح طور پر چھپایا گیا تھا کہ یہ ریکارڈ ایک سال میں نہیں ہوا ہے۔

اس کی ترتیبی اور واضحات کے بارے میں ان سے پوچھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کو یہ ریکارڈ بنانے کی ضرورت تھی، جو اس کی ناکام سرگرمیوں سے واضح ہے।

اس لیے، اگر انہوں نے ایسا کہا ہوتا تو یہ ریکارڈ کبھی بھی نہیں بن سکتا تھا اور اس کو واضح کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔
 
اس کے علاوہ تو یہ بات ہے کہ میری مہربانی سے آپ نے انٹرنیشنل آئیڈنٹیٹی فورم کو کس کا اہلاقہ دیتے ہیں؟ 🤔 یا وہ اپنی خودی میں ایک اہلوں بن گئے تھے جیسے یہ اہلq کے پاسپورٹس ان کو دیکھتے ہی اس کا ریکارڈ بن سکتے ہیں؟
انہوں نے ابھی تو یہ کہیا تھا کہ یہ ادارہ اپنے سرکاری کام میں معیار پر رہتا ہے، لیکن اس کے بعد بھی ان کو ایسا لگا کہ ان کی واقفیت چھپا کر نہیں دی جاسکتی?
ایسی سٹوری بہت ہی دلچسپ ہے، لیکن اس میں تو آپ کو پوچھنا پڑے گا کہ اس کے بعد انہوں نے کیا کیا؟
 
اس سال میں پاسپورٹ کی جاریات میں یہ ناکامی اچھی بھی بات ہے، مگر پوری رپورٹ کے بعد یہ سچائی تھی کہ اب اسے چھپا کر دیا گیا تھا، جس کے بارے میں اب ہمیں پتہ چلتا ہے۔

اس سال کی واقفیت میں بھی اس ناکامی کو ایک اور شعبہ میں دیکھنا مشکل ہو گیا، جس کے لئے اس بات کو سچائی بنایا گیا تھا کہ اس سال کو ریکارڈ کیا گیا ہے، جو اب تک بھی نہیں ہوا ہے۔

اس سال پاسپورٹ کی جاریات میں ناکامی کا ایک اور واضح ثبوت اس بات ہے کہ ان سے دیکھتے ہی ان کے ساتھ کیے گئے تمام سرگرمیاں اچھی طرح ناکام ہو گئی ہیں۔

اس رپورٹ کو دیکھتے ہوئے یہ بات بھی سوچنی پڑگی کہ اس سال کو اس کا ریکارڈ بنایا گیا یا انہوں نے ایسا واضح کیا تھا کہ اسے بھی اس کا ریکارګ بنایا جائے؟
 
اس سال کی پاسپورٹ کی جاریات میں 55 لاکھ 72 ہزار 13 پاسپورٹس ریکارڈ کرنے کا یہ ریکارڈ بہت ہی انحطاط جہت ہے، جو اس کی پوری ناقصیت کو ظاہر کرتا ہے۔

اس سے بات چیت کرنا مشکل ہو گا کہ یہ ریکارڈ کس سال میں بنایا گیا تھا، کیونکہ اسے دیکھتے ہی پتا چلتا ہے کہ جو بھی سرگرمیاں ہوئیں وہ تمام ناکام رہیں، اور یہ ریکارڹ کو ان کی تمام ناکامیوں کا ثبوت بناتا ہے۔

اس سال کی پاسپورٹ کے بھی ریکارڈ کو دیکھتے ہی ان کی سرگرمیوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انہیں اپنے کام میں معیار پر نہیں رہنے پین، جو اس لیے بھی ہے کہ ان کی سرگرمیوں سے واضح ہے کہ انہیں جبانی طور پر یہ ریکارڈ بنانے میں ناکامی ہوئی ہے۔
 
اس سال پاسپورٹ کی جاریات میں 55 لاکھ 72 ہزار 13 پاسپورٹس، انہیں بھی سرگرمیوں سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے پابند نہیں رہنا چاہیے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ادارے جو اپنے کام میں معیار پر رہنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں بھی ایسا ہی محسوس ہوتا ہے اور وہ بھی اس سے نجات کے لیے کوشش کر رہے ہوں گے۔
 
اس سال پورے ملک میں 55 لاکھ 72 ہزار 13 پاسپورٹس کا اہلاقہ پانے کے باوجود، یہ بات کھوتے ہیں کہ ان کی سرگرمیوں میں سے کتنی ہی ناکام ہوئیں؟ یہ بھی کہتے ہیں کہ اسی ایجنسی نے اپنے سرکاری کام کی وجہ سے انہیں ٹرک کہا، جو کہ ان کی جبانی ناکامی کا اسال ہی تھا! میرا خیال ہے کہ ان کو ایسا لگتا ہے جیسے انہوں نے اپنی ناکامی کو اسی ایجنسی کا سچا ریکارڈ بنایا ہو! 😳
 
اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاسپورٹ جاری کرنے والوں کی سرگرمیوں میں کوئی ترتیبی کا علاج نہیں ہوا، یہ صرف ایک بھرپور کامیابی کا حمدول اللہ تھا جو ناکام ہوئی ، ان کی سرگرمیوں سے واضح ہوتا ہے کہ وہ کس طرح اپنے کام کو آسانی سے توڑ دیتے ہیں 🤦‍♂️
 
اس سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے ایسا کیا تھا کہ اب یہ ریکارڈ واضح ہی ہے، مگر اس پر ان کی جبانی ترتیبی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

انہوں نے اپنی جسمانی اور ذہناتی صلاحیتوں میں بھی ٹرک کیا ہے، جو کہ ان کے لیے ان کی واقفیت کو تباہ کرنے والا اہم عمل ہے۔

اب یہ ریکارڈ ایک سال کی واقفیت پر ایک ساتھ لگایا گیا ہے، جو کہ ان کے لیے ایک خطرناک بات ہے اور ان کی واقفیت کو ٹرک کرتا ہے۔

اسے دیکھتے ہی مجھے یہ لگتا ہے کہ اس سال کو ایک ریکارڈ بنایا گیا ہے اور اس پر ان کی جبانی ترتیبی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
 
میری نظر میں ان سے کئی سال قبل ہی انہیں کسی نہیسی جاری کاروائی کی واقفیت ہونے کا ایک ساتھ ساتھ ریکارڈ بنانے کی ضرورت تھی، لیکن اب یہ بات پوری طور پر واضح ہو گئی ہے کہ انہوں نے اسے چھپا کر دیا تھا، اور اب انہوں نے بھی اس سال کو ریکارڈ کیا ہے، جو کہ ان کے ساتھ کیے گئے تمام سرگرمیوں کے نشان ہیں! 😒
 
میں یہ سوچتا ہوں کہ ان سے بڑی ناکامی ہوئی ہے لیکن اس کی وجہ کو میں سمجھ نہیں سکا، وہ لوگ جو ریکارڈ کیے گئے پاسپورٹس کی تعداد 55 لاکھ 72 ہزار 13 سے متاثر ہوئے تو میں ان پر غور کرتا ہوں اور میں سوچتا ہوں کہ وہ لوگ جسمانی طور پر بھی ناکام ہوئے، لیکن اس کو نہیں سمجھ سکتا، یا وہ جو ان کے پاسپورٹ کی جاریات میں ناکامی کا شکار ہوئے تو وہ لوگ بھی نہیں سمجھتے کہ اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟
 
یہ بات کہیں بھی کہہ دیوں تو انٹرنیشنل آئیڈنٹیٹی فورم کی اور ایسے سرکاری اداروں کا ریکارڈ بھی نہیں ہوتا جو اپنے کام میں معیار پر نہیں رکھتے۔
اس سال کو 55 لاکھ 72 ہزار 13 پاسپورٹس کے ساتھ دیکھو تو یہ ایسا ہی تھا جیسا کہ اس نے کہا تھا۔

اس سال کی واقفیت میں انہوں نے بہت سی سرگرمیاں کیں اور ان میں سے کچھ ناکام رہیں، لیکن یہ بات اس کے پاس نہیں تھی کہ وہ ان سب کے ساتھ بیٹھ کر بیٹھ کر ہار جائیں اور ایک نئا ریکارڈ بنایا جائے۔

اس سال کی پاسپورٹ کی جاریات میں ناکامی کو دیکھتے ہی یہ بات کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے کہ انہوں نے اسے اپنے لیے ایک معیار بنایا ہے اور اب وہ اسے پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
 
عجیب کہ یہ ریکارڈ 55 لاکھ 72 ہزار 13 پاسپورٹس کے ساتھ آیا، جو کہ ایک سال میں کبھی بھی نہیں ہوا ہے। یہ واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ انہوں نے اپنے سرکاری کام میں معیار پر رہتے ہوئے، جو کہ اس سال کو ریکارڈ کرنے کے لیے چھپایا گیا ہے।

اس ریکارڈ کو دیکھتے ہی ان کے ساتھ کیے گئے تمام سرگرمیاں ناکام ہونے کے نشان ہیں، جو کہ وہ ادارہ تھا جو ان کے چیلنج کو حل کرنے کے لیے کافی ترتیبی کرتا تھا۔

اس ریکارڈ میں سے 32 لاکھ 75 ہزار 263 نارمل کیٹیگری کے پاسپورٹس اور 18 لاکھ 39 ہزار 487 ارجنٹ کیٹیگری کے پاسپورٹس، ان میں سے کچھ بھی ناکام ہونے کے نشان ہیں۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کو ایسی ترتیبی کی ضرورت تھی، جو ان کے ساتھ کیے گئے تمام سرگرمیوں سے واضح ہے۔

اس ریکارڈ کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے سرکاری کام کو ٹرک بھی کیا تھا، اور اس لیے یہ بات سوشل میڈیا پر پھیل رہی ہے کہ انہوں نے ایسا واضح کیا تھا جیسے اس سال کو ریکارڈ کرنے میں ان کی جبانی ناکامی کا سچا ثبوت دیا ہو۔
 
جب تک یہ سچائی نہیں کی جاتی، اور سرکاری اداروں کو اپنی کارکردگی پر کچھ بات کرنا پڑتی ہے تو اس طرح کے ریکارڈ ہوں گے۔ میرا خیال ہے کہ ان کے پاسپورٹس جاری کرنے کی ایسی بھی لگن تھی جس کے ساتھ انہوں نے یہ ریکارڈ کیا ہو، اس لیے کیونکہ اگر وہ سچائی نہیں کرتے تو ان کا ریکارڈ بھی سچا نہیں ہوسکتا۔
 
میں سوچتا ہوں کہ انہوں نے اسی میں سے 32 لاکھ 75 ہزار 263 نارمل کیٹیگری کے پاس پائی گئیں، لیکن اس کی وضاحت یہ ہے کہ وہ ادارے اس وقت میں تھے جب انہوں نے اپنی سرگرمیوں کو پورا کرنے کا محنت بھی کروائی تھی۔

لیکن میں یقین رکھتا ہوں کہ اس سال کو ریکارڈ کیا گیا ہے، کیونکہ ان سے متعلق تمام سرگرمیاں بھی ناکام ہوئیں اور وہ ادارے ابھی تک اپنے سرکاری کام میں معیار پر رہتے ہیں۔
 
اس سال پاسپورٹ کی جاریات میں 55 لاکھ 72 ہزار 13 پاسپورٹس چھپانے کی بات سے نکل کر اس معاملے کا جواب دے کر کہ یہ کیسے ممکن ہوا؟

یہ واضح رہا ہے کہ انہوں نے اپنے سرکاری کام میں معیار پر رہتے ہوئے، اس معاملے کو بھی چھپایا ہے۔ لekin ye sach hai, 55 lakh 72 हजار 13 pasporats chhipne ki kya taqat?

Agar ye aik shawq ka maja tha to kya unhe apni naitiqat par rakh sakte the? yeh kaisa possible hai?

Inke liye ek aisa nizam hona chahiye jahaan inke sabhi giriye transparent ho.
 
اس سال کی پاسپورٹ کی جاریات میں 55 لاکھ 72 ہزار 13 پاسپورٹس نکلنے کی بات اچھی نہیں ہے، کیونکہ یہ ریکارڈ ایک سال میں کبھی بھی نہیں ہوا ہے۔ اس کی وضاحت کا مطلب ہو سکتا ہے کہ ان اداروں کو اپنے کام پر توجہ نہیں دی گئی یا انہوں نے صاف توہت نہیں کی ہو سکتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اپنے سرکاری کام میں معیار پر رہنے کے بجائے، کسی اور چیز کو ترجیح دی ہو کیوں کہ وہ ہی چل رہا ہے۔
 
واپس
Top