آسام اسمبلی انتخابات میں ایک اہم چیلنج بی جے پی کے سامنے ہے، جو اس کی برتری حاصل کرنے کے علاوہ دیگر مسائل کے باعث بھی سر درد ہونے کا امکان ہے۔ تازہ ترین ووٹ وائب سروے میں NDA اور انڈیا الائنس کے درمیان صرف 2.5 فیصد کی فرق ہے، جو الیکشن قریب ہونے کو دلالت دیتی ہے۔ تاہم، اس میں ایک اہم موڑ ہے کہ 20% ووٹرز ابھی تک غیر فیصلہ کن ہیں، جو الیکشن کا فیصلہ کر سکتے ہیں، اور حکومت مخالف جذبات مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔ بے روزگاری اور سیلاب جیسے روایتی مسائل کے ساتھ ساتھ زوبین گرگ کی موت کے ارد گرد جذباتی زاویہ الیکشن کو مزید دلچسپ بنا رہا ہے۔
سروے کے مطابق NDA کو 33.4% ووٹز حاصل ہوئی ہیں، جبکہ انڈیا الائنس کو 30.9% ووٹز حاصل ہوئی ہیں۔ اس میں NDA کی برتری صرف ایک فیصد ہے، جو اس سے انڈیا الائنس کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ تاہن، 20% ووٹرز ابھی تک فیصلہ نہیں کیا ہیں، جو الیکشن کا فیصلہ کر سکتے ہیں، اور یہ غیر فیصلہ کن ووٹر ایک اہم موڑ ہے جو الیکشن کو متاثر کر सकतے ہیں۔
سروے کے مطابق 18-24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں انڈیا بلاک سب سے زیادہ پسند کی جانے والی پارٹی ہے، جبکہ NDA کو 22% نوجوانوں نے ترجیح دی ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ نوجوانوں میں حکومت مخالف جذبات مضبوط ہیں، جو الیکشن کو متاثر کر سکتے ہیں۔
سروے کے مطابق NDA کو 33.4% ووٹز حاصل ہوئی ہیں، جبکہ انڈیا الائنس کو 30.9% ووٹز حاصل ہوئی ہیں۔ اس میں NDA کی برتری صرف ایک فیصد ہے، جو اس سے انڈیا الائنس کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ تاہن، 20% ووٹرز ابھی تک فیصلہ نہیں کیا ہیں، جو الیکشن کا فیصلہ کر سکتے ہیں، اور یہ غیر فیصلہ کن ووٹر ایک اہم موڑ ہے جو الیکشن کو متاثر کر सकतے ہیں۔
سروے کے مطابق 18-24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں انڈیا بلاک سب سے زیادہ پسند کی جانے والی پارٹی ہے، جبکہ NDA کو 22% نوجوانوں نے ترجیح دی ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ نوجوانوں میں حکومت مخالف جذبات مضبوط ہیں، جو الیکشن کو متاثر کر سکتے ہیں۔