سانحہ گل پلازہ اور پیپلز پارٹی پر تنقید کرنا ایم کیو ایم رہنماؤں کو بھاری پڑ گیا | Express News

شبنمکیبوند

Well-known member
کراچی میں سیاسی کشیدگی کی وجہ سے شہر قائد میں سیکیورٹی پر چھاپ لگا دھماکہ گل پلازہ جیسے واقعات کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنماؤں کو بھی خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔

ایک مظالم میں، پیپلز پارٹی کی ناراضگی کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سمیت دیگر سینئر رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔ اس میں سرکاری سیکیورٹی کا ایک موبائل فوری طور پر واپس بلا دیا گیا تھا، اسی طرح کے ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کو بھی واپس لے لیا گیا تھا۔ اس سے قبل انیس قائم خانی کی سیکیورٹی بھی ختم کر دی گئی تھی، جبکہ آپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کے ساتھ بھی ایک موبائل اور 8 سیکیورٹی اہلکار واپس لے لیے گئے تھے۔

وزارت داخلہ نے سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کو فوری طور پر واپس آنے کی ہدایت جاری کروائی تھی، جو اس عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مظالم میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے ساتھ ایک موبائل اور 8 سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے، جبکہ ڈاکٹر فاروق ستار کے پاس ایک موبائل اور 10 اہلकर موجود تھے۔ انیس قائم خانی کے ساتھ ایک موبائل اور 8 سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے، جو واپس لے لیے گئے۔

مظالم میں مزید بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی فوری طور پر واپس لے لیتے ہوئے ایم کیو ایم نے اچانک اور شدید ردعمل کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل، سینیئر رہنماؤں کے ساتھ سیکیورٹی پر بھاری چھاپ لگائی گئی تھی اور وہ تمام مظالم میں ناکام ہو گئے تھے۔
 
اس بات کو سمجھنا مشکل ہے کہ شہر قائد کی سیکیورٹی پر چھاپ لگا دھماکہ گل پلازہ جیسے واقعات نے ہمیشہ اس بات کو ظاہر کیا ہے کہ politics and security ki jo sabse achhi dost nahi hoti. ab kya humein khud ko bhi is tarah se risk me jana padega? 🤔

jo jo hua tha voh to sikhata hai ki humein apne leaders ke beech bhi khilaaf dhang ka sahi uthana chahiye, kyunki agar humein sirf security ke kram me rahna hi chahiye toh yeh situation toh aur bhi badal dega. kyunki politics mein safety aur security ki koi limit nahi hai, yeh alag-alag situations par depend karti hai.
 
ایسا بات ہی کیے جو حال ہی میں کر چکا ہے یہ سکیورٹی کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ پوری دنیا بھر میں ہی ہوتا ہے لیکن پاکستان میں یہ ایسے لوگوں سے زیادہ رکھ دیوں کی چاہیڈ کیا ہے جو انیس قائم خانی جی کی بھی جگہ لے لیتے ہیں تو یہ نیند کتنی اچھی ہوتی ہے؟
 
مذاکرات کی پھرتی کا ایک زیادہ سے زیادہ جسمانی رسوا ہونے کا مشاہدہ ہوتا دیکھنا مشکل نہیں ہے اور یہ بات تو صاف ہے کہ سینیئر رہنماؤں کو زیادہ سے زیادہ سیکیورٹی کی ضرورت نہیں پائی جاتی بلکہ ان پر توجہ دیلنی چاہئیے۔

اس کے علاوہ، ڈھماکہ گل پلازہ جیسے واقعات کی وجہ سے شہر قائد میں بھی سیکیورٹی پر توجہ دی جا رہی ہے اور یہ بات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سیکیورٹی کو پہلی سے زیادہ مظالم کی پھرتی کا ناطے بنایا جائے تو یہ ساتھ نہیں آتا۔

اس وقت ہمیں یہ دیکھنا چاہئیے کہ مظالم کو حل کرنے میں انیس قائم خانی اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے جسمانی قدم उठائے جائیں گے۔

[ASCII Art: دھماکہ گل پلازہ کا ایک اسکنار]

[Emoticon:]
 
[Image of a person getting chased by security guards 😂]

ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو سرگری کرنے کا یہ بڑا تماشہ دیکھا جاتا ہے! 🎉
 
ایسا محض منظر جھوٹا نہیں ہے؟ اچانک سیکیورٹی پر چھاپ لگنے کا یہ عمل، انیس قائم خانی اور دوسرے رہنماؤں کے بھی خیر خواہ ہوں گے؟ 🤔

ایسے میڈیا میزائل پر سٹریٹجک پلیٹ فارم لگائے جاتے ہیں، تاہم یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان میڈیا کے اسٹریچر نے آئے دن کے حالات کو کیسے پہچانتے ہیں؟ اور یہ بھی جانیے گی کہ اچانک سیکیورٹی پر چھاپ لگایا جانے والا یہ عمل، ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو ناکام کرنے کے لیے ہی نہیں بلکہ اچانک سیکیورٹی پر چھاپ لگایا جانے والا یہ عمل، انیس قائم خانی اور دوسرے رہنماؤں کو بھی خطرے میں ڈالنے کے لیے ہی نہیں بلکہ ایسا محض منظر جھوٹا ہے؟
 
پولیس کو اچھا کام کرسکتا ہے لیکن اب بھی دھماکوں کا Cause پتا نہیں چلا! 😕
 
اسے سمجھنا چاہیے کہ یہ سیکیورٹی پر چھاپ لگا دھماکہ گل پلازہ جیسے واقعات کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنماؤں کو خطرے میں ڈالنا، صرف ایک سادہ اور اچانک کارروائی نہیں ہے۔ انھیں سمجھنا چاہیے کہ مظالم کی ایسی صورت ہو گئی ہے جس میں سینیئر رہنماؤں کو سیکیورٹی واپس لے لیا گیا ہے۔ یہ ایک بڑا خوفناک واقعہ ہے اور اس پر سارے لوگوں کو توجہ دی جانی چاہیے۔

🚨ایسے منظر کچھ متعلقہ کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے، اس لیے سینیئر رہنماؤں کو اپنی جانوں کو قیمتی بنانے اور خود کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے.

اس بات پر بھی توجہ دی جانی چاہیے کہ وزارت داخلہ نے سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کو فوری طور پر واپس آنے کی ہدایت جاری کی ہے، جو اس عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ ایک اچھی بات ہے، لیکن اس کے بعد بھی سینیئر رہنماؤں کو اپنی جانوں کو قیمتی بنانے کی ضرورت ہے۔
 
ہر دوسری چیز کے ساتھ ساتھ اس معاملے کی بھی رکاوٹ کی جا رہی ہے، ایسا لگتا ہے کہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو واپس لے جانے سے پہلے ان کے مظالم سے ان کی سیکیورٹی چھپا دی جائے گی تو؟ اور فوری طور پر سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہو تو، ایم کیو ایم کی یہ ناکام ہونے والی پالیسی اس وقت تک بھرپور رہے گی؟ اور یہ بات کو کچھ دیر سے پریشانی لگائی ہوئی ہے کیوں کہ اس معاملے میں انیس قائم خانی، ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کو بھی سیکیورٹی واپس لے لیا گیا ہے؟ ایسا کیا ہوتا ہے؟
 
واپس
Top