scientists achieve pancreatic tumour regression in breakthrough study | Express News

سبز پسند

Well-known member
ایک نئی سائنسی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چوہوں میں لبلبے کے کینسر کو تین مختلف علاجوں پر مشتمل مشترکہ تھراپی کے ذریعے ٹیومر ختم کرلیا جاسکتا ہے۔

یہ تحقیق اسپین کے نیشنل کینسر ریسرچ سینٹر کے ماہرین نے کی ہے اور اس کے نتائج معروف سائنسی جریدے پی این اے ایس میں شائع ہوئے ہیں۔

لبلبے کا کینسر دنیا کے خطرناک ترین کینسروں میں شمار ہوتا ہے، اور اس میں مریضوں کی بقا کی شرح انتہائی کم ہے۔ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ علاج کے خلاف جلد مزاحمت پیدا ہوتا ہے جو اچھی نتیجے سے منسلک نہیں ہو سکتا۔

تحقیق کرنے والے ماہرین کے مطابق نئی دریافت مستقبل میں ایسے مشترکہ علاج تیار کرنے کی راہ ہموار کر سکتی ہے جو پینکریاٹک ڈکٹل ایڈینوکارسینوما کے مریضوں کی زندگی بڑھانے میں مددگار ہو۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ سائنس دانوں نے کینسر کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرنے والے KRAS نامی آنکوجین کے مالیکیولر راستے کے تीन مختلف حصوں کو بیک وقت نشانہ بنایا، جس سے ٹیومر میں طویل عرصے تک کمی دیکھی گئی۔

اسپین میں ہر سال اس قسم کے کینسر کے دس ہزار سے زائد نئے کیس سامنے آتے ہیں جبکہ پانچ سال تک زندہ رہنے کی شرح دس فیصد سے بھی کم ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کامیابی کا راز اس بات میں ہے کہ کینسر کے خلیوں میں پیدا ہونے والی اس مزاحمت سے بچا گیا جو عام طور پر صرف ایک مقام کو نشانہ بنانے سے سامنے آتی ہے۔

تحقیق کے دوران ایک تجرباتی کے راس روکنے والی دوا، پھیپھڑوں کے کینسر کے لیے پہلے سے منظور شدہ دوا اور ایک پروٹین کو ختم کرنے والی دوا کو ملا کر استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں تین مختلف جانوروں کے ماڈلز میں بغیر کسی بڑے ضمنی اثر کے ٹیومر ختم ہو گئے۔

اگرچہ اس پیش رفت کو کینسر کے خلاف جنگ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، تاہم محققین نے احتیاط کی بھی تاکید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فی الحال انسانوں پر اس ٹرپل تھراپی کے کلینیکل ٹرائلز شروع کرنا ممکن نہیں، کیونکہ مریضوں کے لیے اس امتزاج کو محفوظ اور مؤثر بنانے کا عمل پیچیدہ ہوگا۔
 
یہ ایک بڑا خुशی کا سایہ ہے، اگرچہ یہ بات بھی کہتی ہے کہ ان ماہرین کو اپنے کام کو کافی کوشش اور تجربات کے بعد اس کامیابی حاصل کرنا پڑا ہے... اب تو یہ ایک نئی دिशہ میں قدم رکھتا ہے، لیکن کتنی دیر تک سچائی یہ رہے گی؟
 
مرحوم سائنس دانوں نے یہ شاندار کام کیا ہے، لیکن ہم اس بات پر بھی ہر طرح کی دباؤں میں ہیں کہ یہ کام انسانوں پر کس پ्रकार سے لگایا جائے گا? اور ان ٹریٹمنینٹز کو کیے جانے والے ساتھ ساتھ کیسز میں ایک دوسرے کا اثر و رسوخ کرے گا نہیں؟ اگر یہ سرچ کرتے ہوئے ہم ایسے پہلے کیسز کو تلاش کریں گے جس میں تین علاج کی وہ راس روکنے والی دوا اور پروٹین ختم کرنے والی دوا ملا کر استعمال ہوئی تو اس سے یقینی نہیں کہ یہ ایسے تمام کیسز میں مؤثر ہو گئی ہے جو اس معاملے میں بھی اچھی طرح جانتے ہیں؟
 
عجیب ہے کیا اب ہم لبلبے کے کینسر سے نجات پانے کا ایک نیا راستہ تلاش کر رہے ہیں؟ یہ شاندار ہے اور اس میں hope hai, specialy tumour ko thoda kam karne ke liye. Pankreatic ductal adenocarcinoma ki disease hai jo life badhane mein madad kar sakti hai, tofri sir.

Main socha tha ki koi bhi medicine tumour ko kam karne ke liye zaruri nahi hai, lekin ab ye research hai jo tumour ke khali hone ki possibility ko badha rahi hai.

Lekin humein toh dhyan rakhna hoga, iske baad ek clinical trial start karna mushkil hoga aur humein sure hota hai ki yeh amal saf nahi ho sakta hai, to sab kuch research me hi rahega.

Kya aapke paas bhi tumour ke bare mein koi experience hai?
 
یہ بھی نہیں، اگرچہ یہ تحقیق اب تک کی سب سے طاقتور ٹرپل تھراپی کی بات کر رہی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب ہم پورے دنیا بھر میں ان میں سے کوئی بھی ٹریٹمنٹ شروع کر دیتے ہیں، اس سے پہلے یہ لگتا ہے کہ ایسا بہت تھوڑا عرصہ لگے گا اور یہ ٹریٹمنٹ منظم اور محفوظ طور پر کیے جائن گے۔
 
اس سائنسی تحقیق سے لاکھو لاکھ متاثرین کی امید ہے! لبلبے کے کینسر کو ٹھکانہ کرنے میں یہ نئی تھراپی بہت اچھی ہوگی, چاہے وہ پہلی بار ہو یا اس سے قبل کی کئی بھی تھراپی کے ساتھ ملا کر دی گئی ہو। تاہم، ابھی تک یہ دیکھنا مشکل ہے کہ کینسر کے ایسے مریضوں میں اس تھراپی کا کیا Effect hoga, جن کی زندگی بھی پوری نہیں چلی پائی.
 
ایسے سائنسی پھرستوں کی تلاش میں ہوتے ہی نوجوانوں کو بے روزگاری اور بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن ایسے ماہرین کی تلاش جو چوہوں میں لبلبے کے کینسر کو دور کرنے میں کامیاب ہون۔

ایسا کیسا ممکن ہوا تھا جس سے دنیا کو ایک نئی اورHope کا مظاہرہ ہوا؟ اس سائنسی پھرست نے لبلبے کے کینسر کو تین مختلف علاجوں پر مشتمل مشترکہ تھراپی کے ذریعے ٹیومر ختم کرلیا، جس سے دنیا کو ایک اورHope مظاہر ہوا۔
 
اس تحقیق کے نتائج سے انسanoon ko bhi achi baat hai, chalo us tareeke se tumharay cancer kaa peechha lete hain, jo ki lagbhag 3 ilaaj method par masthik theerappy ka saamna karta hai. 🚑

Main sochta hoon ki is tareeke se tumhare liye ek nayi ummeed ban gai hai, aur main yah maana raha hoon ki is tareeke ke zariye tumhare cancer ko kam karne mein madad milti hai. 🌟
 
یہ ایک بھرپور خبریاں ہیں! چوہے میں لبلبے کے کینسر کو دوسرے ساتھ مل کر ٹیمٹمار کرنا ممکن ہو سکتا ہے، یہ ایک نئی طرف بڑھتا ہوا تحقیق ہے۔

اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہResearchers نے KRAS نامی آنکوجین کے مالیکیولر راستے کے تीन مختلف حصوں کو بیک وقت نشانہ بنایا، جس سے ٹیومر میڰ کی کمی دیکھی گئی ہے۔

اس میں ایک تجرباتی دوا اور پھیپھڑوں کے کینسر کے لیے پہلے سے منظور شدہ دوا کو ملایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں ٹیومر ختم ہو گئے ہیں۔

یہ ایک اہم سنگِ میل ہے! لیکن محققین نے بھی احتیاط کی تاکید کی ہے، کہیں کہ وہ انسانوں پر اس ٹرپل تھراپی کے کلینیکل ٹرائلز شروع کرنا ممکن نہیں ہیں۔

ایسا تو ایک لارج سٹپ میڈیا ہوگا، پھر کوئی بھی سائنس دان اس سے متاثر نہیں ہوگا! 🤖💡
 
اس سائنسی تحقیق میں یہ دعویٰ کی گئی ہے کہ لبلبے کے کینسر کو ٹیومر ختم کرلیا جاسکتا ہے، جو ایک بڑا مشورہ ہے۔ ان ماہروں نے KRAS نامی آنکوجین کے مالیکیولر راستوں پر تین مختلف حصوں کو نشانہ بنایا جو ٹیومر میں کمی دیکھی گئی۔ اس کی وہ بھی بات ہے کہ یہ تجربات مریضوں کے لیے بہت اہم ہیں، کیونکہ ان کینसरوں میں زندگی بڑھانے کی شرح کم ہوتی ہے۔
 
ایسے میں یہ تجربہ کرونا ایک بڑی بات ہے، اب تک سائنس دانوں نے چوہوں میں لبلبے کے کینسر کو ختم کرنے کا ایسا طریقہ نہیں پہچانا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ علاج کے خلاف جلد مزاحمت پیدا ہوتا ہے جو اچھی نتیجے سے منسلک نہیں ہو سکتا۔ اب یہ تجربہ نئی دریافت کے طور پر کام کر رہا ہے، پھر بھی اس کو ٹھیک بنانے میں تاکید کی جا رہی ہے۔
 
🤩 یہ واضح ہے کہ ایسے مشترکہ علاج بننے کی تجربات جن میں لبلبے اور پینکریاٹک ڈکٹل ایڈینوکارسینوما کے مریضوں کو شامل کیا جا سکتا ہے وہ کامیاب ثابت ہوسکیں گے! یہ ایک بڑی hopeful ہے!
 
ایسے ٹرپل تھراپی سے نکلنا اکیلے علاج سے بھی اچھا ہے، مگر ایسے کینسر کی وہیں نہیں آئیں گے تو یہ راز پٹا ہوگا۔ اب ہر جگہ ایسے تجربات چلائیں گے جس سے اس ٹرپل تھراپی میں بھی تین دیرینہ کیمروں کو شامل کیا جا سکے، تو صرف ایک راز باقی رہ جائے گا۔
 
یہ تو سائنس دانوں نے لبلبے کے کینسر کو ٹکرانے کی وہ ساری چال آئیں جس کے بعد یہ ٹھیک ہو گیا، مگر انھوں نے تو اس بات پر نظر انداز کر دی ہے کہ اسے انسانوں پر کیسے لگایا جا سکتا ہے؟ اور اس ٹرپل تھراپی کی صحت کیا ہے جس کو اب ہم اس کینسر کی جنگ میں استعمال کریں گے؟
 
یہ تو ایک بڑا ناامید ہونے والا کھیلا ہے. سائنسی تحقیقات میں کیئے جانے والے یہ تجربات، وہیں ہیں جہاں مریضوں کو ہمیں کھونے کے لیے بھگتایا جاتا ہے. پہلے سے منسلک نہیں ہونے والی دواؤں کی کوئی حد نہیں، اور اب یہ researchers بھی ایسے تجربات کر رہے ہیں جس سے انسانوں پر کیا جائے گا وہ دیکھنا مشکل ہے.
 
واپس
Top