Scientists have discovered two giant structures hidden deep within the Earth | Express News

کلامِعشق

Well-known member
غیر معمولی حد تک بڑے اور شدید گرم چٹانی ڈھانچے سے متعلق رازوں کو زمین کی سطح کے نیچے پہنچایا گیا ہے، جو انسان کو اپنی ہی سیارے کے نیچے چھپے بے شمار حقائق سے واقف نہیں کرایا جاسکتا۔

انسان نے خلائی جہازوں کو تقریباً 25 ارب کلو میٹر کے فاصلے تک بھیجا ہے، لیکن زمین میں کھدائی کی حد صرف 12 کلومیٹر تک پہنچ سکی ہے، اس لیے گہرے حصوں میں جا کر براہِ راست مشاہدہ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

اس لئے ماہرین نے جدید کمپیوٹر ماڈلنگ اور قدیم مقناطیسی ریکارڈ کی مدد لی، جو ان کے لیے زمین کے پرانے مقناطیسی میدانوں کو دوبارہ تخلیق کرنے اور اس میں تبدیلیوں کا تجزیہ کرنے کی اجازت دی۔

نتائج سے یہ پتا چلا کہ زمین کی اندرونی تہوں کی سرحد پر درجہ حرارت ایکے برعکس ایکے جیسا نہیں، جبکہ ان چٹانی ڈھانچوں کے نیچے کچھ علاقوں میں غیر معمولی طور پر زیادہ گرم ہیں۔

ماہرین کی یہ دریافت بہت اہم ہے، اس سے نہ صرف قدیم مقناطیسی میدان کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے بلکہ زمین کے گہرے حصوں کی ساخت اور اس کی طویل مدت ارتقائی خصوصیات پر نئی روشنی پڑتی ہے۔
 
یہ ٹھیک ہے کہ ماہرین نے زمین کے اندرونی تہوں کی ساخت کو دوبارہ تخلیق کر لیا ہے، لیکن یہ بھی ٹھیک ہے کہ وہ ایسے آن لائن پر فOCس نہیں کیا جو آپ کو چیلنجز پेश کرے یا نئی تفہیموں کا ایک نیا ماحول پیش کرے۔ یہ سب سافٹ ویریٹیبل ہے، وہ اس بات پر توجہ دیتے ہیں کہ زمین کی ساخت کیا ہو رہی ہے اور اس نے کیا ہو رہا ہے ، لیکن وہ اس وقت اپنی بنیادی ترتیبات پر انتباہات نہیں دیتے۔
 
اس ٹیکنالوجی کو سمجھنے سے پہلے کچھ سوالات آتے ہیں... یہاں تک کہ ان چٹانی ڈھانچوں میں کچھ علاقوں میں گرم ہونے کی بات آئے تو ابھی اس پر سسٹم کے درجہ حرارت کی جانب دیکھنا کتنا challenging ہوا کریگے؟
 
بھی چلو، یہ سب جانتے ہیں کہ زمین کا انڈرجراؤنڈ ریزرویس لگتا اچھا ہے تاہم حال ہی میں گہری تہوں کی سرحد پر جس حرارت کو پتہ چلا گیا وہ ایکے برعکس ایکے جیہا ہی نہیں ہے، یہ بات بھی اچھی ہے کہ ان چٹانی ڈھانچوں میں کچھ علاقے ایسے گرما ہیں جو دوسرے نہیں، یہ جاننا اچھا ہے تاہم مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
 
یہ بہت اچھا ہے کہ ماہرین نے زمین کے اندرونی تہوں کی سرحد پر درجہ حرارت کے بارے میں کچھ نئی معلومات لائے ہیں، اور یہ بات سے پتا چلا کہ ان چٹانی ڈھانچوں کے نیچے بھی کچھ زیادہ گرم علاقے ہیں جس سے انسان کو واقف نہیں رہا ہوتا۔

اس بات پر زور دینا چاہئے کہ زمین کی گہرائیوں میں براہِ راست مشاہدہ کرنا تقریباً ناممکن ہے، لیکن ماہرین نے کمپیوٹر ماڈلنگ اور مقناطیسی ریکارڈ کی مدد سے زمین کے پرانے مقناطیسی میدانوں کو دوبارہ تخلیق کرنے میں کامیاب ہوئے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ماہرین زمین کی ساخت اور اس کی طویل مدت ارتقائی خصوصیات پر بہت اہم معلومات لائے ہیں، جو سوشل میڈیا پر شेयर کرنے سے نہ صرف لوگوں کو واقف بناتے ہیں بلکہ زمین کی حفاظت اور ماہرین کے کام کو بھی واضح کرتی ہیں. 🌎
 
ایسا تو کھیلا ہے، چٹانیاں زمین کی سب سے گہرائیوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ لیکن یہ سوال ہے کہ ایسے کمپیوٹر ماڈلنگ سے نکلنے والی معلومات کا مطلب کیا ہے؟ اور زمین کی اندرونی تہوں میں ایسی تبدیلیاں ہیں جو ہم کو معلوم نہیں، تو یہ بہت اہم ہے۔
 
agar toh yeh sach bolta hai ki har raaz jo humne apni zameen ke nazar se hi dekha hai woh sirf ek chota hissa hai, to phir kya har cheez jo hum kar sakte hain woh bhi sirf ek chota hissa hi hai? maan lijiye ke humne yeh 25 arab km tak ki baari nahi ki thi, toh kya humein yah pata laga tha ki hum apni zameen ke niyaman nahi jaante? aur ghar par bas raksha karke raha hai toh kya humein apne aap ko bhi surakshit samajha ja sakta hai?

lagaayein, kya humein apni zameen ki gahraaiyon ka hissa na hona chahiye? ya phir humara ek din ke liye kaam karne wala hi maqsad nahi hai? har raaz ko samajhna aur uske peechhe ka hissa nikalna to phir kya khas hai yeh?
 
ایسا لگتا ہے کہ ماہرین نے زمین کے نیچے جاننے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر انہوں نے یہاں تک کوئی حد نہیں پھیر رکھی۔ زمین پر چٹانی ڈھانچے بہت لمبی اور طویل ہوتے ہیں، لہٰذا ان کے نیچے جاننے کا کام بھی گھبراہٹ سے نکلتا ہے۔

ایسے میڈیم مینٹل کی مدد سے انہوں نے زمین کے مقناطیسی میدان کو دوبارہ تخلیق کر لیا، اور اس میں تبدیلیاں کا تجزیہ بھی کیا۔ اس سے یہ پتا چلا کہ زمین کی اندرونی تہوں پر درجہ حرارت ایک ہاتھ سے ایک ہاتھ سے بدلی رہا ہے۔ اور ان چٹانی ڈھانچوں کے نیچے کچھ علاقوں میں غیر معمولی طور پر گرم ہیں، یہ بھی ایک شاندار واقعہ ہے۔

یہی نہیں بلکہ یہ دریافت ماہرین کو زمین کے گہرے حصوں کی ساخت اور اس کی طویل مدت ارتقائی خصوصیات پر نئی روشنی پھیلاتی ہے۔
 
یہ تو دیکھ لیے کچھ لوگ اب بھی سمجھنے میں قیمتیں رکھتے ہیں... 25 ارب کلومیٹر تک گانے والا خلائی جہاز پھر سے زمین پر کچھ کرنے کے لئے نہیں پہنچتا? انھوں نے زمین کے اندر وہاں کچھ نہ کچھ تلاش کیا ہوگا، لیکن ایک اسی حد تک اور اس لئے جو وہ گناہ کرتے ہیں وہی ساتھ ہی جہاں آ کر آتے ہیں، یہ تو ایک بڑا مشق ہوگا...

اس میں کچھ نئی چIZ ہوئی ہے، کمپیوٹر ماڈلنگ اور مقناطیسی ریکارڈ کو ملا کر کے زمین کے پرانے میدان کو دوبارہ بنانے کی کوشش ہوئی ہے... لیکن یہ بھی دیکھتے ہیں کچھ لوگ اسی بات پر تکرار کر رہے ہیں... زمین کا درجہ حرارت اور چٹانیڈھانچوں میں تبدیلیاں ایسے نہیں ہیں جو لوگ بتاتے ہیں... 😐
 
اس خوفناک situación سے کیسے نجات ملے گی؟ زمین کے اندر چھپے بے شمار حقائق، جو انسان کو اپنی سیارے کے نیچے چھپا رکھے ہیں? اور حال ہی میں معلوم ہوا کہ زمین کی اندرونی تہوں پر درجہ حرارت ایک سے ایک جیسا نہیں! یہی نہیں بلکہ ان چٹانی ڈھانچوں کے نیچے کچھ علاقوں میں غیر معمولی طور پر زیادہ گرم ہیں؟ ہمارے علم کا ایسا ایک پہلو ہے جو زمین کی ساخت کو بہتر سمجھنے میں مدد دیتا ہے، لیکن یہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ وہاں تینچ کرنا بھی ایسا ہی difficult ہے جیسا کہ زمین میں 25 ارب کلومیٹر تک بھیگی گئی خلائی جہازوں کی حد!

Chart :
- زمین کی اندرونی تہوں پر درجہ حرارت:
- superficial layer: 10°C – 30°C
- intermediate layer: 50°C – 100°C
- deep core: 5000°C – 6000°C

Graph :
- Earth's internal temperature variation with depth
( Note: above values are approximate )

Data Points:
- بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارہ (ISRO) کے مطابق، زمین پر موجود چٹانی ڈھانچوں کی تعداد 10 لاکھ 20 ہزار سے زیادہ ہے
- خلائی جہازوں نے بھیجے گئے فاصلے میں زمین کا محور تقریباً 25 ارب کلومیٹر
- زمین کی اندرونی تہوں پر درجہ حرارت ایک سے ایک جیسا نہیں، ان چٹانی ڈھانچوں کے نیچے زیادہ گرم علاقے دیکھے گئے
 
واپس
Top