غیر معمولی حد تک بڑے اور شدید گرم چٹانی ڈھانچے سے متعلق رازوں کو زمین کی سطح کے نیچے پہنچایا گیا ہے، جو انسان کو اپنی ہی سیارے کے نیچے چھپے بے شمار حقائق سے واقف نہیں کرایا جاسکتا۔
انسان نے خلائی جہازوں کو تقریباً 25 ارب کلو میٹر کے فاصلے تک بھیجا ہے، لیکن زمین میں کھدائی کی حد صرف 12 کلومیٹر تک پہنچ سکی ہے، اس لیے گہرے حصوں میں جا کر براہِ راست مشاہدہ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔
اس لئے ماہرین نے جدید کمپیوٹر ماڈلنگ اور قدیم مقناطیسی ریکارڈ کی مدد لی، جو ان کے لیے زمین کے پرانے مقناطیسی میدانوں کو دوبارہ تخلیق کرنے اور اس میں تبدیلیوں کا تجزیہ کرنے کی اجازت دی۔
نتائج سے یہ پتا چلا کہ زمین کی اندرونی تہوں کی سرحد پر درجہ حرارت ایکے برعکس ایکے جیسا نہیں، جبکہ ان چٹانی ڈھانچوں کے نیچے کچھ علاقوں میں غیر معمولی طور پر زیادہ گرم ہیں۔
ماہرین کی یہ دریافت بہت اہم ہے، اس سے نہ صرف قدیم مقناطیسی میدان کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے بلکہ زمین کے گہرے حصوں کی ساخت اور اس کی طویل مدت ارتقائی خصوصیات پر نئی روشنی پڑتی ہے۔
انسان نے خلائی جہازوں کو تقریباً 25 ارب کلو میٹر کے فاصلے تک بھیجا ہے، لیکن زمین میں کھدائی کی حد صرف 12 کلومیٹر تک پہنچ سکی ہے، اس لیے گہرے حصوں میں جا کر براہِ راست مشاہدہ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔
اس لئے ماہرین نے جدید کمپیوٹر ماڈلنگ اور قدیم مقناطیسی ریکارڈ کی مدد لی، جو ان کے لیے زمین کے پرانے مقناطیسی میدانوں کو دوبارہ تخلیق کرنے اور اس میں تبدیلیوں کا تجزیہ کرنے کی اجازت دی۔
نتائج سے یہ پتا چلا کہ زمین کی اندرونی تہوں کی سرحد پر درجہ حرارت ایکے برعکس ایکے جیسا نہیں، جبکہ ان چٹانی ڈھانچوں کے نیچے کچھ علاقوں میں غیر معمولی طور پر زیادہ گرم ہیں۔
ماہرین کی یہ دریافت بہت اہم ہے، اس سے نہ صرف قدیم مقناطیسی میدان کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے بلکہ زمین کے گہرے حصوں کی ساخت اور اس کی طویل مدت ارتقائی خصوصیات پر نئی روشنی پڑتی ہے۔