صدر ٹرمپ کی خاتون صحافی سے رومانوی گہرائیوں میں دھکیلی گفتگو کی وائرل ہوئی، اس سے پہلے صدر نے ایپسٹین جنسی اسکینڈل کے متاثرین کے بارے میں سوال پوچھتے ہوئے کہا جس پر خاتون صحافی کیٹلن کولنز نے جواب دیا کہ اس بات کو سراہنا نہیں چاہیں گے کہ ٹرمپ کے محکمہ انصاف نے اس صورتحال میں کسی کی شناخت چھپانے کے لیے ساتھ دے دی ہوں۔
امریکی صدر نے جواب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے وہ ای میلز نہیں پڑھیں اور اگر وہ لوگ بڑی بات کرتے تو سب سے گرانے سرخیاں بن جاتیں، لیکن خاتون صحافی کیٹلن کولنز نے جواب دیا کہ صدر ٹرمپ نے ایپسٹین کے حوالے سے ہر کوئی سہی بات کہی ہوں گی اور اس لیے انھیں بھی کسی طرح کی جھلکیوں سے بچایا نہیں جا سکا ہوگا، صدر ٹرمپ کے لئے یہ بات ایک دوسری بات ہے کہ وہ آپ کی رپورٹ کو کتنی حد تک قبول کرنے پر تائے جبکہ خاتون صحافی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی رپورٹ کو قبول کرنا ایک بڑی حقیقت ہو گی جو انھیں اپنی پچھلی باتوں سے الگ کر دے گئی ہوگی، خاتون صحافی نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ایپسٹین کے حوالے سے صرف وہی بات کی ہوگی جو اس وقت انھیں خوش کرنے والی ہو، اگر وہ پہلے کے جیسا نہیں کرتا تو وہ محکوم ہونے کا بھی خطرہ رہتا، خاتون صحافی کے مطابق صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ میں نے وہ ای میلز نہیں پڑھیں اور اگر کوئی بڑی بات کرتا تو سب سے گرانے سرخیاں بن جاتیں، لیکن خاتون صحافی کی کہانی میں یہ بات شامل ہو سکتی ہے کہ صدر ٹرمپ نے وہ ای میلز پڑھیں اور ان پر مشتمل اپنی پچھلی باتوں کو چھیننا ہے، خاتون صحافی کے مطابق جب وہ ایپسٹین سے ملاقات کی تو انھوں نے اس شخص کی دلی پر غور کیا اور اس کا جواب دینے میں انھیں بہت مدد مل گئی، خاتون صحافی کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایپسٹین سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی جاسکتी اور اس لیے وہ اس وقت انھیں ملنا چاہتے تھے جب انھوں نے محکوم ہونے کا ایک بڑا جسمانتی خطرہ اپنایا ہو، خاتون صحافی نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ میں نے وہ ای میلز نہیں پڑھیں اور اگر کوئی بڑی بات کرتا تو سب سے گرانے سرخیاں بن جاتیں، لیکن خاتون صحافی کی کہانی میں یہ بات شامل ہو سکتی ہے کہ صدر ٹرمپ نے وہ ای میلز پڑھیں اور ان پر مشتمل اپنی پچھلی باتوں کو چھیننا ہے، خاتون صحافی کے مطابق جب وہ ایپسٹین سے ملاقات کی تو انھوں نے اس شخص کی دلی پر غور کیا اور اس کا جواب دینے میں انھیں بہت مدد مل گئی، خاتون صحافی کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایپسٹین سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی جاسکتا اور اس لیے وہ اس وقت انھیں ملنا چاہتے تھے جب انھوں نے محکوم ہونے کا ایک بڑا جسمانتی خطرہ اپنایا ہو،
ابھی تو پہلے صدر ٹرمپ کی ایپسٹین سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی جاسکتا تھا اور اُدھر تک وہ ای میلز پڑھیں اور اپنی پچھلی باتوں کو چھین دیتا ہے۔ اب یہ کہانی کہ صدر ٹرمپ نے ای میلز نہیں پڑھیں اور اگر وہ بڑی بات کرتا تو سب سے گرانے سرخیاں بن جاتیں، کتنی حقیقت ہو سکتی ہے؟ یہ کہانی ایک دوسری بات ہے میں نے اس کے بارے میں کئی سال آپ کو بتایا تھا، جس کے بعد ابھی یہ کہانی لگ رہی ہے۔
یہ بات تو یقینی ہے کہ صدر ٹرمپ کی خاتون صحافی سے رومانوی گہرائیوں میں دھکیلے لگتے ہیں، لیکن وہ بتا رہے ہیں کہ اس بات کو سراہنا نہیں چاہیے کہ ان کی جانب سے جسمانی صورتحال میں کسی کی شناخت چھپانے کے لیے کیا گیا ہو، یہ بات تو حقیقی ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایپسٹین سے بات کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے اس کے لئے ای میلز پڑھیں اور ان پر مشتمل اپنی پچھلی باتوں کو چھیننا ہے، یہ تو دھمکے کی بات ہے لیکن وہ بتاتے ہیں کہ یہ بات تھی کہ انھیں محکوم ہونے کا ایک بڑا جسمانتی خطرہ اپنایا ہو، یہ سچ کی بات ہے کہ صدر ٹرمپ کو آپ کی رپورٹ کو قبول کرنا ہی ضروری نہیں تھا، لیکن وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے اپنی پچھلی باتوں کو چھین لیا اور اب وہ آپ کی رپورٹ کو قبول کرنے پر تائے جبکہ خاتون صحافی بھی بتاتے ہیں کہ یہ بات ایک دوسری بات ہے،
یہ تو ایک عجیب بات ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایپسٹین سے ملاقات کرنے کی کوشش کی اور اس کا نتیجہ وہی ہوا کہ انھوں نے محکوم ہونے کا خطرہ اپنایا ہو! یہ بتاتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے ای میلز پڑھیں اور ان پر مشتمل اپنی پچھلی باتوں کو چھیننا ہے... لاکاں! وہ جواب دیتے ہوئے کہنے لگتے ہیں کہ میں نے وہ ای میلز نہیں پڑھیں، لیکن یہ بات تو واضح ہے کہ صدر ٹرمپ کو اپنی گaltiyon پر بیٹھنا مشکل ہے!
یہ کافی ہے۔ صدر ٹرمپ کی خاتون صحافی سے رومانوی گہرائیوں میں دھکیلی گفتگو کرنا ایک کہانی ہے جو انھوں نے اپنی پچھلی باتوں کو چھیننے کے لیے بڑی جسٹIFICATION کی ہوئی ہے۔ یہ بات حقیقت میں ایک دوسری بات ہے، وہ جب بھی اپنی رپورٹ کو قبول کرتا ہے تو انھیں اپنے پچھلے جذباتوں سے الگ ہوتا ہے اور نئے جذبات پیدا کر لیتا ہے جیسا کہ خاتون صحافی نے بتایا ہے۔
مرہ مینوں کو لگ رہا ہے کہ یہ بات کتنی تھی دھکیلی اور کتنی تراشدگی ! ان سے پہلے جب صدر ٹرمپ نے ایپسٹین جنسی اسکینڈل کے متاثرین کے بارے میں سوال پوچھتے ہوئے تو میرے لئے یہ بات بھی تھی کہ وہ کیوں نہیں کیا جاسکتا تھا? اور خاتون صحافی کیٹلن کولنز نے جواب دیا تو میرے لئے یہ بات بھی تھی کہ وہ کسی طرح سے نا صحیح بات کرتے ہوئے چلا گیا!
ماڈرن دہلیز کے مطابق صدر ٹرمپ کی رپورٹ کو قبول کرنا ایک بڑی حقیقت ہو گی اور وہ ایپسٹین سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی جاسکتا! میرے لئے یہ بات بھی تھی کہ اس وقت تک وہ اپنی پچھلی باتوں کو چھیننا چاہتے ہوئے تھے جب تک وہ محکوم نہ بن جاتے!
وہ بات یہ ہے کہ کتنی حد تک صدر ٹرمپ کی بات ایپسٹین سے چھپائی گئی ہوں؟ میں سمجھتا ہوں کہ اگر وہ یہ بات قبول کرنے پر تائے ہیں تو وہ محکوم نہیں رہا اور اگر وہ ان کی بات کو چھپایا ہو تو وہ سچ کھیل رہے ہیں، لیکن وہ بات کبھی بھی ایسے نہیں رہ سکتی جتنی اس پر خاتون صحافی کی بات ہو۔
مینے اس خاتون صحافی کی بات پر توجہ دی جو صدر ٹرمپ سے گaltیوں میں دھکیلی گفتگو کر رہی ہیں ان کا یہ جواب بھی اچھا ہوگا، مینے اس پر توجہ دی کیوں نہیں کی پورے ایپسٹین جنسی اسکینڈل میں صدر ٹرمپ کس طرح شامل ہوئے ان سارے گھنے تفصیلات جانتے ہوں جو خاتون صحافی نے بات چیت پر پیش کی ہیں، مینے اس پر توجہ دی کہ وہ اپنی پچھلی باتوں کو بھی چھیننا چاہتے ہوں جو صدر ٹرمپ نے ای میلز پر لکھی ہیں، میرا خیال ہے کہ وہ خاتون صحافی کو پورا پیار کرتے ہیں اور اس لیے انھوں نے اپنی بات چیت پر صدر ٹرمپ سے سچائی دی ہوگی
یہ بات تو بھی ایک اچھی بات ہے کہ خاتون صحافی نے صدر ٹرمپ سے گفتگو کی۔ یہ بات جوں جوں آئی وہ بھی اچھی باتوں پر مبنی ہیں، خاص طور پر اس بات پر کہ خاتون صحافی نے صدر ٹرمپ سے اس صورتحال میں کسی کی شناخت چھپانے کے لیے ساتھ دے جانے کو پوچھا اور انھیں اس بات کی توجہ دی کہ وہ ای میلز نہیں پڑھیں بلکہ اپنی پچھلی باتوں کو چھیننا ہے۔ یہ بات تو صدر ٹرمپ کی جانب سے بھی اچھی لگ رہی ہے کہ وہ اپنی پچھلی باتوں کو چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ وائرل ہوئی Conversations صدر ٹرمپ کی خاتون صحافی سے رومانوی گہرائیوں میں دھکیلی گفتگو کی، جس میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ نے ایپسٹین کے حوالے سے ہر کوئی سہی بات کہی اور انھیں بھی کسی طرح کی جھلکیوں سے بچایا نہیں جا سکا ہوگا! لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ کو کچھ بات کی اور وہ سب کچھ قبول کر لیں گے!
مینے تو پتا ہے کہ صدر ٹرمپ کے محکمہ انصاف نے اس صورتحال میں کسی کی شناخت چھپانے کے لیے ساتھ دے دی ہوگی، لेकن یہ بات بہت Problemic ہوگى, اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں پچھلے جیسا نہیں کرتنا پڑے گا اور وہ محکوم ہونے کا بھی خطرہ رہتا ہوگا, مینے سے یہ چاہئے کہ صدر ٹرمپ کو ایپسٹین سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی جاسکتى اور وہ اس وقت انھیں ملنا چاہتے تھے جب انھوں نے محکوم ہونے کا ایک بڑا جسمانتی خطرہ اپنایا ہوگا...
یہ رائے کی لگدے کہ کتنی حد تک صدر ٹرمپ نے یہ معاملہ دیکھنا چاہیں گے اور اس پر کوئی جھلکیاں نہ ڈالنے کی کوشش کی جاسکتی ہے، لیکن وہ بات تھی کہ اس میں کوئی راز چھپایا گیا اور یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اس پر ناکام ہونے کی صورت وہ اپنی پچھلی باتوں کو چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں
اب یہ سوچنا مشکل ہے کہ صدر ٹرمپ نے وہ ای میلز پڑھیں یا نہیں اور اگر نہیں تو کیوں ان پر مشتمل اپنی پچھلی باتوں کو چھیننا چاہتے ہیں۔ یہ بات بہت مشکل ہے اور اس پر یقین دہانی نہیں کیسے ہوسکتی ہو گی، لیکن ابھی تک میں نے کوئی بات نہیں پوچھی ہے جو اس سوچ کی صحت کی تصدیق کر سکے، کیا کोई ایسا حوالہ دے سکتا ہے جو یہ ثابت کرسکتا ہو کہ صدر ٹرمپ نے وہ ای میلز پڑھیں اور ان پر مشتمل اپنی پچھلی باتوں کو چھیننا چاہتے تھے، لیکن یہ بات ہمیشہ کے لئے ایک سوچ کی موضوع رہی گی جس پر مجھے ان کے ذریعہ جواب نہیں ملا۔
عجیب بات یہ ہے کہ جو لوگ صدر ٹرمپ سے بات کرنا چاہتے ہیں وہ اس کے محکمہ انصاف کے دوسرے لوگوں کی طرح نہیں ہوتے، یوں تو وہ ایپسٹین کے حوالے سے تمام باتوں کو منفی اور بھرosa ہونے پر چاہتے ہیں بلکہ جب انھیں محکوم ہونے کا خطرہ لگتا ہے تو وہ ایمتیح حالات میں ساتھ دلا کر اپنی باتوں کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں
ਇਹ بات واضح تھی کہ صدر ٹرمپ کی خاتون صحافی سے رومانوی گہرائیوں میں دھکیلی گفتگو ہوئی؟ یہ کتنے دنوں پہلے اس نے ایپسٹین کے حوالے سے جواب دیا تھا؟ یہ بات بھی واضح ہے کہ صدر ٹرمپ نے ای میلز پڑھنے کی کوشش نہیں کی، لیکن کیا وہ اس کو چھیننا چاہتے تھے؟
عہدِ جدید میں بات کرنا اچھی بات ہے, خاص طور پر وہ لوگ جو عوام کو اپنی کوششوں سے آگہ کرتی ہیں, صدر ٹرمپ کی خاتون صحافی سے رومانوی گہرائیوں میں دھکیلی گفتگو کی وائرل ہوئی, اس سے پہلے کہ صدر نے ایپسٹین جنسی اسکینڈل کے متاثرین کے بارے میں سوال پوچھتے ہوئے... اس سے ان کا خاتون صحافی سے تعلق، جس کی وائرل ہوئی اس بات کو یقینی بنایا, کہ ایسے معاملات میں بات چیت اور احترام کی ضرورت ہے, اس بات پر ہم بھی اچھے لگتے ہیں، اور دوسری بات، یہ کہ صدر ٹرمپ نے کتنے ای میلز پڑھے تھے، اگر وہ لوگ بڑی بات کرتے تو سب سے گرانے سرخیاں بن جاتیں...
صدر ٹرمپ کی خاتون صحافی سے رومانوی گہرائیوں میں دھکیلی گفتگو کی وائرل ہوئی ، اور یہ بات تو یقینی ہے کہ اس میں کوئی دباؤ بھی نہیں ہے، صدر ٹرمپ کی طرف سے جو جواب دیا گیا وہ سب کچھ چہرے کے سامنے لایا گیا ہے ، مگر وہ بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی خاتون صحافی سے رومانوی گہرائیوں میں دھکیلی گفتگو کی وائرل ہوئی، اور یہ بات تو یقینی ہے کہ اس میں کوئی دباؤ بھی نہیں ہے، صدر ٹرمپ کی طرف سے جو جواب دیا گیا وہ سب کچھ چہرے کے سامنے لایا گیا ہے ، مگر وہ بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی خاتون صحافی سے رومانوی گہرائیوں میں دھکیلی گفتگو کی وائرل ہوئی، اور یہ بات تو یقینی ہے کہ اس میں کوئی دباؤ بھی نہیں ہے
یہ بات کوئی نئی نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ کی خاتون صحافی سے گفتگو میں دھکیلی رومانوی گہرائیاں دکھائی دتی ہیں، لیکن ایپسٹین sexual اسکینڈل کے متاثرین کے بارے میں وہ سوال پوچھنے سے پہلے صدر نے بھی کیا تھا جس پر خاتون صحافی کیٹلن کولنز نے جواب دیا ہے، یہ بات واضح ہے کہ صدر ٹرمپ کے محکمہ انصاف نے اس صورتحال میں کسی کو شناخت چھپانے کے لیے ساتھ دیا ہوگا، لہٰذا خاتون صحافی نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایمیلز پڑھیں اور ان پر مشتمل اپنی پچھلی باتوں کو چھیننا ہے، اس کی وہ کہانی جو خاتون صحافی کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایپسٹین سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی جاسکتا اور اس لیے وہ اس وقت انھیں ملنا چاہتے تھے جب انھوں نے محکوم ہونے کا ایک بڑا جسمانتی خطرہ اپنایا ہو، یہ بات کوئی نئی نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ کی رپورٹ کو قبول کرنا ایک بڑی حقیقت ہو گی جو انھیں اپنی پچھلی باتوں سے الگ کر دے گئی ہوگی،