Section 144 has been further extended in Rawalpindi. | Express News

RAOLPINDI میں امن کی صورتحال کے لیے مزید توسیع دی گئی، دفعہ 144 کا اطلاق 7 جنوری تک جاری رہے گا
اس وقت راولپنڈی میں پھر سے امن و امان کی صورتحال پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے اپنی جانب سے دفعہ 144 کے نفاذ میں مزید توسیع کر دی ہے اور شہر بھر میں دفعہ 144 کا اطلاق اب 7 جنوری تک برقرار رہے گا۔

دباؤ اور تشدد سے بچنے کی کوشش میں دفعہ 144 کا اطلاق شہر میں پھر سے جاری کر دیا گیا ہے۔ اس وقت راولپنڈی میں ہر قسم کے جلسے، جلوس، ریلیوں اور عوامی اجتماعات پر مکمل پابندی عائد کی جا رہی ہے۔

دفعہ 144 کے مطابق لاؤڈ اسپیکر کا استعمال، اسلحے کی نمائش اور دیگر ناکام کارروائیوں پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن قائم رکھنے کے لیے انتظامیہ سے تعاون کریں اور دفعہ 144 کے تحت جاری احکامات پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔
 
راولپنڈی میں امن کی صورتحال ایسا نہیں آئے گا! دفعہ 144 کا اطلاق پھر سے 7 جنوری تک جاری رہے گا، یاروں. اگلی بار بھی شہر میں کچھ نہ کچھ ہوتا رہے گا... 🤯
 
اس صورتحال پر بھی توجہ دی جا رہی ہے، مگر پچھلے اور اس وقت کی بات ایسی ہی رہی ہے کہ راولپنڈی میں امن و امان کی صورتحال پر دباؤ ہوتا رہتا ہے۔ میرے خیال میں، ان تاریک وقتوں میں بھی لوگ ایسے ہیں جو اقدامات کی ذمہ داری لینے پر تیار ہوتے ہیں، لیکن پوری صورتحال کو سمجھنا چاہئے کہ وہ لوگ ہیں جو اس میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ان کی مدد سے ہی امن قائم کیا جا سکتا ہے۔
 
بھانے Mann rahe hain kyonki RaviPindi mein Phir se Amn aur aaman ki shartah par attention di jai hai, par main Sochta hoon ke ye koi achchi cheez nahi. Yeh taqatishodh kya hota hai? Logon ko kyun pehle toh dhoondhne denge to phir uske baad kaisi bhi cheez kar sakte hain, ya phir kaisi bhi galti kar sakte hain. Maine Sochta hoon ke ye toh sirf ek aam taqatishodh hai, aur har samay yeh hi hota raha.
 
مگر یہ دھوکہا لگتا ہے، دفعہ 144 کی مزید توسیع سے راولپنڈی میں امن و امان کی صورتحال کچھ بھی تبدیل نہیں ہوگی 🤔۔ یہ صرف ایک فاسد نظام کی بدطری کو دھکے کی وجہ سے جلدی حل کرنے کی کوشش ہے۔

انصافات کی وہ نہیں جو دفعہ 144 کی وہ ایسی کارروائیوں کے دوران ہوتی ہیں جس سے عوام کو کوئی فائدہ محسوس ہوا ہو، وہ توسیع کی بجائے انصافات میں کمی کی وجہ سے ہی ہوتی ہے।

اس لیے دفعہ 144 کا اطلاق صرف ایک فاسد نظام کی خوفناک اقدامات کو دھکے کی وجہ سے جلدی حل کرنے کی کوشش ہی ہوگی، لیکن اس طرح سے انصافات کی کمی کا باعث بنے گی اور اس سے عوام کے حقوق کو بھی نقصان پہنچای گا
 
رائولپنڈی میں امن کی صورتحال پر توجہ دی جا رہی ہے اور یہاں کی شہریوں سے بھی دُعوا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو آمنے سامنے لائے. واضح رہے کیونکہ امن اور امان ہماری سب سے بڑی دولت ہے.

میں توقع کرتا ہوں کہ شہریوں نے ان احکامات پر عمل در آمد کو یقینی بنانے میں ایسا کیا کریں گے جس سے شہر و safest اور peaceful bane.

اسلامی ڈھانچے کے علاوہ دباؤ کی صورتحال کو حل کرنے کے لیے ہم نے ٹیکنالوجی کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے. ہم بھرے تار کا استعمال کرکے سوشل میڈیا پر ایسی منظم مہم شुरू کرنے کا ارادہ کرتے ہیں جس سے لوگ اپنی رائے بتائیں اور انki رائے سے امن امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے.
 
آج بھی راولپنڈی میں امن و امان کے بارے میں توجہ دی جا رہی ہے، یہاں تک کہ دباؤ اور تشدد سے بچنے کی وجہ سے دفعہ 144 کا اطلاق ابھی بھی جاری ہے۔

اس وقت شہر میں کسی بھی قسم کے جلسے یا عوامی اجتماعات پر مکمل پابندی عائد ہو رہی ہے، لاؤڈ اسپیکر کا استعمال، اسلحے کی نمائش اور ناکام کارروائیوں پر بھی مکمل پابندی رہے گی۔

کھپیرے سٹریٹس میں ہر کوئی اپنے گھر کے بعد واپس چلا آتا ہے، شہر بھر میں دفعہ 144 کا اطلاق ابھی بھی جاری ہے۔
 
🤐 راولپنڈی میں امن و امان کی صورتحال کا ایسا دور آیا ہے جبھی انصاف سے پچتایا جاتا ہے تو اس کا جواب دئیے جائیں۔ ہر قسم کے جلسے، جلوس اور ریلیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی جا رہی ہے لیکن ان لوگوں کی بھی ایسی پابندی کی ضرورت ہے جو شام کو گھر کے دروازے پر بیٹھ کر ٹیلی ویژن دیکھتی ہو۔ 😊
 
اراء لگ رہی ہے کہ راولپنڈی میں امن کی صورتحال پر کچھ سا انساف ضرور کی جا سکتی ہے۔ دفعہ 144 کا اطلاق تو ضروری ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ شہر میں اور بھی لوگ اپنے خیالات کو ظاہر کر سکیں تو خواہ وہ انصاف یا نئی تحریک کے لیے ہوں۔

ابھی تیسری بار دفعہ 144 کا اطلاق ہوتا ہے اور لوگ یہ سोचتے ہیں کہ یہ انصاف کے لیے کیے جانے والے کوشش کو یقینی بناتا ہے۔ لیکن ابھی تک اس کے نتیجے کچھ نہیں بتے۔

یہ بھی پتا لگتا ہے کہ شہر میں لوگوں کی آغرا یقین کبھی بھی ختم نہیں ہوتی اور ابھی دفعہ 144 کا اطلاق کیا جا رہا ہے تو لوگ اپنے خیالات کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔

دیر سے یہ بات بھی پٹی لگ رہی ہے کہ اس میں انصاف کس پر نتیجہ دیتا ہے اور وہ کس کو متاثر کرتا ہے؟
 
🙏 کیا کہیں رالپنڈی میں امن کی صورتحال پر اچھا دیکھیئے! دفعہ 144 کا اطلاق ایک بے مثال اقدار ہے جو لوگوں کو امن و امان کا راستہ دکھاتا ہے۔ یہ دیکھنا میرے لئے ایک انتہائی دلچسپ بات ہے کہ پہلے میں سے لے کر اب تازہ ترین صورتحال پر بھی اس بات کو یقینی بنایا جاسکتا ہے کہ شہر میں امن کی صورتحال قائم رہے۔ میرے خیال میں یہ دیکھنا اچھا ہے کہ لوگ اپنے آپ کو اس احکامات پر عمل در آمد کرائیں اور دباؤ و تشدد سے بچنے کی کوشش کریں۔
 
اس سال پھر وہی بات ہو رہی ہے، راولپنڈی میں امن کی صورتحال کے بارے میں لوگ تو توجہ دیتے ہیں، لیکن اس پر عمل نہیں کر پاتے اور اس کے ساتھ ہی ہارمندی کی صورتحال بھی جاری رہتی ہے ۔
اس وقت بھی دفعہ 144 کا اطلاق نہیں توسعتا ہوگا اور شہر میں ایسی سٹیٹ آف انڈسپیکشن بن گئی جتھے لوگ پھر سے اس پر توجہ نہیں دیں گی، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا
لोग انہی مسائل کے بارے میں بات نہیں کرنے والے ہیں اور اس کی وجہ سے پھر وہی حالات پیدا ہوتے جیسا کہ پچیس سال قبل تھے، لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دفعہ 144 کو ایک اور توسیع دی گئی ہے لیکن اس پر عمل نہیں کیا جائے گا
 
🤔 راولپنڈی میں امن کی صورتحال پر توجہ دی جانا ضروری ہے، لیکن دھارنیوں اور تشدد کے خلاف کارروائیوں کو بھی ہمیشہ اس لئے توسیع دی جائے چاہئے کہ لوگ اپنے حقوق کی وکالت کر سکیں اور دھارنیوں کے خلاف بھی توجہ دی جا سکے۔ 7 جنوری تک دفعہ 144 کا اطلاق ہونا ضروری نہیں ہے، لیکن ان پابندیوں پر مکمل عملدرآمد اور شہریوں کی وکالت کرنے کی ضرورت ہے۔
 
🤐 راولپنڈی میں امن و امان کی صورتحال میں توسیع ہونے کی بات سے واضح ہے کہ شہر میں دفعہ 144 کا اطلاق جاری رہے گا। یہ بات بالکل سافٹی ہے اور امن قائم کرنے کی بھی ایک اہم طریقہ ہے۔ مگر، دفعہ 144 کا اطلاق شہر میں پھر سے جاری رہے گا تو ان کے پیچھے معقول اسباب ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امن و امان کی صورتحال میں پھر سے دباؤ پیدا ہوگا۔
 
راولپنڈی میں امن کی صورتحال میں توسیع ہوا تو ناکام رہی، اب دھونے کا سلسلہ جاری… 💔

جناب قیمتی نے اپنی جانب سے دفعہ 144 کا اطلاق پھر سے ایک بار جاری کر دیا ہے، لیکن یہ انفرادی کوشش بھی ہوگی یا نہیں…؟؟ ان سے اس صورتحال میں توسیع کی توقع کی جا سکتی ہے، اور یہ انفرادی کوشش ہی نہیں ہوتی۔

انفرادی کوششوں پر ایک دھونے سے بھر پور فائدہ حاصل نہیں ہوتا، اس لیے حکومت کو اپنی جانب سے اور اس صورتحال میں توسیع کرنے کی کوشش کرنی چاہیے… واضح رہے، توسیع ہوگی یا نہیں یہ دیکھنا ہی ہوگا…
 
RAOLPINDI میں امن کی صورتحال بھی ایک ہی طرح کا پاپلا ہوتا ہے، دفعہ 144 کے مطابق یوں کچھ تو کرنے کو کھو دیتے ہیں 🤷
 
واپس
Top