شکارپور کے قریب ریلوے ٹریک پر دھماکا، جعفر ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں

گول گپہ فین

Well-known member
شکارپور کے قریب ریلوے ٹریک پر دھماکے سے جس طرح شہر ہمایوں پر بھارپور رہتا ہے وہیں اس دھماکے نے ان کے لیے ایک عجیب واقعہ پیش کیا، جس میں شکارپور کی پانی پٹی پر اترنے والی جعفر ایکسپریس کی 4 بوگیاں ٹکر کر گئیں۔

حالیہ دھماکے میں سندھ کے شکارپور ضلع میں ریلوے ٹریک پر دھماکے کے نتیجے میں جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم اس حادثے کا نتیجہ شکارپور کی پانی پٹی پر اترنے والی بوگیاں کی صورت میں ظاہر ہوا جس سے سروس میں عارضی خلل پیدا ہو گیا ہے۔

حال ہی میں شکارپور کے علاقے ہمایوں کے قریب ریلوے ٹریک پر دھماکے سے جس طرح سندھ کی پانی پٹی پر اترنے والی بوگیاں کی زندگی ختم ہوئی، وہیں نئی جہاں سے کوئٹہ سے راولپنڈی جا رہی جعفر ایکسپریس کے لیے بھی اس دھماکے کا پورا اثر بھر گیا جو اس کی بوگیاں ٹکر کرائیں گئیں، اور اس واقعے نے ان کو اچانک ایک نئے مقام پر اترنے کی اجازت دی جس کے نتیجے میں سروس میں عارضی خلل آیا ہے۔
 
یہ وہ شکارپور ہوا جس سے اس ریلوے ٹریک پر دھماکے کا اثر بھر گیا تھا، یہ کیا ہونگے کہ یہ بوگیاں تو صرف ایک بار اترتی تھیں اور پھنس جاتی، اسی طرح اور اس حادثے نے شکارپور کی پانی پٹی پر اترنے والی جعفر ایکسپریس کو بھی ایک نئی زندگی عطیہ کر دی ہوگی؟
 
یہ سب بتاتا ہے کہ شکارپور کو اچھی طرح ماحول میں جاننا چاہئیے, یہ علاقہ ریلوے کے ٹریک سے ہوتے ہوئے بھی زیادہ سے زیادہ دھماکے دیکھنے کا موقع ملتا ہے, اور یہ سب کچھ نئی جہاں سے جوا رہی جعفر ایکسپریس کو بھی اس دھماکے کا شکار ہونے پر مجبور کر دیا تھا, ابھی تو یہ علاقہ اپنی خود کو سمجھنے میں اچانک ہی نہیں آتا
 
یہ حادثے دیکھتے ہی یہ سوچتا ہوں کہ شکارپور کی جانب سے بھی ایک نئی جہاز تیار کرنا چاہیے اور اس کو کوئٹہ سے راولپنڈی تک پہنچانے میں ان کے لوگوں کی مدد بھی کروائی جا سکتی ہے، یہ نئا جہاز اس دھماکے سے باہر رہتا ہو اور شکارپور کے لوگ کوئٹہ سے راولپنڈی تک پہنچنے میں ایسے تین سال کی ٹرک کے بدلے بھی اس نئے جہاز میں بیٹھتے رہ سکتے ہیں جو آج تک اس راستے پر چل رہا ہے، یہ ایک اچھا موقع ہو گا
 
یہ واضح ہے کہ ریلوے ٹریک پر دھماکے کی صورت میں کتنے بھی چھپے، اس حادثے سے منسل्क تمام شکارپور کی پانی پٹی پر اترنے والی بوگیاں کے لیے ایک نئے مقام پر آ گئی ہیں جو انھیں اپنی راتوں کی ذمہ داری سے مفت ہونے کی لئے، پوری یہ بات واضح تھی کہ یہ چار بوگیاں اس لیے اٹھیں گئیں کیونکہ ان کو ہمایوں پر دھماکے کے نتیجے میں اپنی راتوں میں ختم ہوجانے کی بھی نہیں پتہ تھا، یہ چار بوگیاں اب اس نئے مقام پر اٹھ کر رات کا تعطیلہ گزار رہی ہیں اور مجھے یہ سوچنا مشکل ہوتا ہے کہ ان کو ان کے پرانے مقام پر واپس واپس جاتنے کی اجازت نہیں دی گئی ہو گی یا ان کی یہ راتوں کی ذمہ داری اب کسی اور کو سونے کا موقع دی گئی ہوگی
 
🤔 وہ واقعہ بھی ہوا جہاں ریلوے ٹریک پر دھماکے کے بعد شکارپور کی پانی پٹی پر اترنے والی بوگیاں انہیں بہت سارے مسائل لے آئیں، مگر یہ واقعہ ان لوگوں کو بھی تلاصمی نہیں ڈالتا جو نئی جہاز پر چل رہے ہیں اور ان کے لیے یہ ایک ایسا موقع ہوگا جس سے ان کی پوری سفر کا اندازہ لگنا مشکل ہوگا।
 
اس دھماکے کا واقعہ بھی اسی بات کو مجھے یہیں لاتا ہے کہ نہیں تو گزرنے والی ٹرین کی تیز رفتار اس علاقے سے گزرت رہی، اور نہیں تو شکارپور کی پانی پٹی پر اترنے والی بوگیاں یہاں ہی پھوس کر دیں، یہی وجہ ہے کہ سروس میں عارضی خلل پڑ گیا، لیکن ایسے مواقع پر توجہ دینا اور اپنے گزرنے والے مقامات کو منظم کرنا بہت ضروری ہوتا ہے، اس کے علاوہ سروس کی ناقصیتوں اور موثر منصوبہ بندی سے بھی نتیجہ نکالنے کی ضرورت ہے
 
وہیں تھا شکارپور ریلوے ٹریک پر دھماکے کی بات تو سب جانتے ہیں، لیکن اس وقت کی گنجائش کے بغیر یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں کہ ریلوے ٹریک پر دھماکے کی نتیجے میں جس سے شکارپور کے لوگ پانی پٹی پر اترتے ہیں وہیں دیگر علاقوں میں بھی اپنے اثرات ملا رہا ہے، اچانک ایسا بھی ہوا جس کے نتیجے میں کوئٹہ سے راولپنڈی جا رہی جعفر ایکسپریس کی بوگیاں ٹکر کر گئیں، اور اس پر شکارپور کی پانی پٹی کے لوگ ٹھیک ہونے والے میں دیر ہو گئی ۔
 
یہ دھماکہ تو بہت غضبتاً پैदا کر رہا ہے، لوگ ایسے مقام پر اترنے کے لیے کیا جاسکتا ہے؟ اس سے تو نئی جگہ تک پہنچنے کا راستہ بھی ٹوٹ گیا ہے، مگر کیا اس پر ہی ذمہ دارییں سونپ کر چکے ہیں؟ ریلوے کی ایسے سرکراتی کارروائیوں کو تو پورا انصاف کیا جاسکتا ہے، مگر ابھی بھی لوگ اچانک چلے آتے ہیں اور دوسرے کے قائل ہوتے ہیں، یہ تو نا منصفانہ ہے
 
وہاں سے یہ دھماکے ریلوے ٹریک پر کیے جاتے ہیں، تو اس کے لئے چوتھائی بوجھ کا ایسے مقام پتہ لگتا ہے جس پر سروس میں بھی خلل آ سکتا ہے؟ اور یہ دھماکے اس لیے کیے جاتے ہیں تاکہ ریلوے ٹریک پر جاننے والی بوگیاں پانی پٹی پر آ سکیں?
 
بھی، یہ دھماکے تو پوری دنیا کے لئے ایک خطرناک صورتحال ہیں، لیکن شکارپور کے علاقے میں جس دھماکے نے ان بوگیاں ٹکر کرائیں، وہ سب سے گھبرا کے لئے ایک بے حد عجیب واقعہ ہیں! 🤯

اس کے بعد کوئٹہ سے راولپنڈی جانے والی جعفر ایکسپریس، اس دھماکے کی پوری ٹکر کر گئی، اور اب ان بوگیاں نے ایک نیا مقام حاصل کیا ہے۔ میں یہاں تک بھی لگتا ہو کے شکارپور کے علاقے میں جس دھماکے نے ان بوگیاں ٹکر کرائیں، وہ ایک انتہائی عجیب واقعہ ہیں، اور اس کی وجہ سے شکارپور کے علاقے میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں رہتی ہو گی، یہی لازمی ہوگا! 😊
 
میں یہ سوچتا ہوں کہ یہ دھماکے تو کیا ہوئے؟ پہلی بار سندھ کی پانی پٹی پر اترنے والی بوگیاں ٹکر کر گئیں، اور اب وہیں شکارپور کے علاقے ہمایوں کے قریب کوئٹہ سے راولپنڈی جا رہی جعفر ایکسپریس کی بوگیاں ٹکر کر گئیں، وہاں تک کہ ان کی life bhi khush hui! 🤣

اس کے باوجود میں یہ سोचta hoon ki اس حادثے سے ہماری ریلوے نظام کو بھی انوکھا اور ایسا ہوا جیسا تو نہیں دیکھا، وہاں تک کہ انبوغ اور ایسی گھریلو صلاحیت کا استعمال کرنا پڑتا ہے تاکہ سروس میں خلل نہ پیدا ہو اور پانی پٹی پر اترنے والی بوگیاں کو ایسا سہی راستہ مل جائے تاکہ وہ اپنی life enjoy kar sakein. 💡
 
اس دھماکے کا ایسا لگتا ہے جو ہم کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کی زندگی بھی ایسی ہی ہو سکتی ہے جیسے یہ ریلوے ٹریک پر ہوا تھا۔ وہاں شہر کچھ دیر تک ہمایوں پر بھارپور رہا، اسی طرح ہمیں بھی اپنی زندگی میں کچھ دیر اس کے بعد بھی ایسا لگ سکتا ہے جیسے ہو سکتا ہے۔ اور اگر ہم اپنے گم رہے ہاتھ کو نہیں پھیلایں تو، یہ عارضی خلل کسی بھی جگہ کچھ دیر ہونے پر باہر نکل جائے گا۔
 
یہ واقعہ تو اچانک ہی نہیں ہوا ، یہ بھی شکارپور کی پانی پٹی پر اترنے والی بوگیاں کے لیے ایک نیا مقام مل گیا ہے جو اسے ریلوے ٹریک سے دور کر دے گا، اب یہ انساف نہیں ہوتا کیوں کہ شکارپور کو ایک نئے مقام پر اترنے والی بوگیاں کو ریلوے ٹریک پر رکھنا مشکل ہو گا، یہ صرف ایک ایسی صورتحال ہے جس سے اس پانی پٹی کے لیے آسانی ہو سکتی ہے
 
یہ ریلوے ٹریک پر دھماکے نہایت عجیب ہیں، شکارپور کے قریب ان کی ٹکر کر گئی تو ان بوگیاں کو اچانک ایک نئے مقام پر لے جایا گیا ہے، یہ سروس میں بھی عارضی خلل پیدا کر دیا ہے جس کا پورا سامنا ریلوے سروس کو ہونا پڑا ہے، اگر وہ دھماکہ تو چھپاتا تو شہر میں بھی ایسی کئی حالات آتے جیسے شکارپور میں نہیں آتے ہیں، یہ دیکھنا بہت چیلنجنگ ہے اور ریلوے کی سروس کو یہ کچھ عارضی خلل بھی نہا دیا ہے
 
یہاں تک کہ ریلوے ٹریک پر دھماکے نے شکارپور کی پانی پٹی پر اترنے والی بوگیاں کو ایک نئے مقام پر اترنے کی اجازت دی ہوئی، اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شکارپور کی پانی پٹی پر اترنے والی بوگیاں اس مقام پر اتر کر چلنی ہیں یا نہیں؟ میں یہ سوچتا ہوں کہ اگر انہیں ایک نئے مقام پر اترنے کی اجازت دی گئی تو اس لیے کوئی بھی دھماکا ہوتا تو ان کی زندگی ختم ہوجائے گی، لیکن اب یہ شکارپور کی پانی پٹی پر اترنے والی بوگیاں ایک نئے مقام پر اتر رہی ہیں جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب ان کی زندگی کیا ہو گی؟
 
یہ واقعہ بھی ہوا نہیں کہا کہ شکارپور کے قریب دھماکے کے بعد کوئٹہ سے راولپنڈی جانے والی بوگیاں کی زندگی ختم ہوئی، یہ واقعہ نہیں کہا کہ اس نے سروس میں عارضی خلل پڑایا، مگر دھماکے سے ایسا نہیں ہوا کہ لوگوں کو خوف لگااور وہیں ہی رہتے، آج بھی شکارپور میں لوگ ٹرکٹر چلائے رہتے ہیں اور اس شہر کی پانی پٹی پر بھی لوگوں کا قائم رہتا ہے، یہ واقعہ ایک عجیب بات ہے کہ شکارپور میں دھماکے سے کوئی نقصان نہیں ہوا مگر اس نے لوگوں کو ایسا محسوس کرایا کہ ان کا مقام تبدیل ہو گیا۔
 
ایسا تو حیرانی کر دیتا ہے، شکارپور کے قریب ریلوے ٹریک پر دھماکے کے بعد بھی بوگیاں اچانک ایسے مقام پر اتر جاتی ہیں جو سروس میں عارضی خلل پیدا کر دیتا ہے؟ یہ واقعہ واضح طور پر بات چیت نہ کرتا ہے، تو کیوں؟ لگتا ہے وہ بوگیاں ایسے مقام پر آتی ہیں جہاں سروس کو بھرپور رکاوٹ میں پہنچا دیا جائے?
 
یہ دھماکے کی شدید پرشانی کا مظاہرہ ہے، ریلوے ٹریک پر دھماکے نہ سٹ Opسٹ کرنے کی بھی وہیں ایسی نہیں بن جاتی جو آپ میں رکھا ہوا ہوتا ہے، یہ شکارپور کے علاقے میں ایک خطرناک پہلو بھی بن گیا ہے۔
 
🚨یہا دھماکے کے واقعے نے مجھے ایک بے چینی محسوس کرائی، جیسے کہ یہ کبھی بھی ہوا ہو گا کہ ریلوے ٹریک پر دھماکے نہیں ہوتے تو اچانک بوگیاں ٹکر کر جاتی ہیں اور سروس میں عارضی خلل پیدا ہوتا ہے، یہ کتنی بھی ایسے مواقع ہوئے ہوں گے تو پھر کبھی کیا؟ اس نے مجھے یاد دلایا کہ ان سروسز کو چلانا آسان نہیں ہوتا، جیسا کہ یہ لگتا تھا کہ پانی پٹی پر اترنے والی بوگیاں کی زندگی ختم ہو گئی ہے تو اب اور بوگیاں نئے مقام پر اتر کر سروس کو چلانا پڑے گی، ایسے نئے مقام پر اترنے کے لیے بھی پوری بھاری مشقت اور کوشش کی ضرورت ہوگی، میں یہ کہننا چاہتا ہوں کہ اس سروس کو اپنی ذمہ داری سے ناجائز معاوضہ کرنا پڑے گا
 
واپس
Top