یہ گھریلو ٹیکنالوجی ہمیشہ ایسے حادثات میں ملوث رہتی ہے جو ہمیں خوفزدہ کرتے ہیں۔ پوڈی کوئر ٹریلر کی موٹر سائیکل میں یہ دھمکیاں لگ رہی ہیں جس سے ہمیں اس سے بچنے کے لیے تنگ آ رہا ہے۔ یہ سائیکل کم از کم ایک سال پہلے تیار کی گئی تھی اور اب اس پر یہ دھمکیاں لگائی جاتی ہیں؟ یہ تو بھرپور مفرط ہے!
اس حادثے کی بات کرنے کے بعد، مجھے یہ لگتا ہے کہ آج بھی شہر میں ایسے ہی دھمکیاں اٹھائی جارہیں ہیں جو پچیس کیوں نہیں، یہ تو ٹریلر سے ہوتے ہوئے جان لیوا حادثات ہوتے رہتے ہیں، ایسے نوجوان جس کی عمر ان کے مرنے کا وقت بھی نہیں، اس سے یہ لگتا ہے کہ ہمارے شہر میں آپ کو ہمیشہ ایک بار پھر سے اپنی جان اور زندگی کی خطرے میں ڈال دیا جاتا رہتا ہے، یار!
ਇੱਕ عجیب بات یہ ہے کہ کراچی میں ہر روز ایسے سے نئے حادثے ہوتے چلے آتے ہیں جیسے یہ اس کی پریشانی ہو جسے صاف کیا جانا چاہیے۔ ٹرولر سے ایک اور حادثے میں نوجوان کی زندگی ختم ہو گئی، اور یہ تو ایسی بات نہیں ہوتی جو صاف ہوسکے۔ جب آپ یہ دیکھتے ہیں کہ 25 سال کی عمر میں بھی ان کو جان لیوا حادثے میں نوجوان زندگی ختم ہوئی، تو آپ پر غم اور غصہ آتا ہے۔
اس سے پوچھنا ہوتا ہے کہ کیہ ان کو اپنی زندگی بھر میں ایسا ہی نہیں ہوا جیسا اس حادثے میں، اور کیہ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ انہیں اس حادثے سے پہلے کیا ملتا تھا؟
یہی تھا میں نے سوچا کہ یہ شہر ٹریلر سے ایسے ہی حالات ہو رہے ہیں، پھر کوئر ٹریلر کی موٹر سائیکل ٹکر کر گئی تو یہ کیسے ہوسکتا ہے، ایسے ہی حالات میں نوجوان زندگی سے لڑنا پڑتے ہیں اور انھیں بھی جان لیوا حادثات کا شکار ہونا پڑتا ہے
ان کی موٹر سائیکل اور لاش جناح اسپتال چلی گئی تو یہ بتانا کتنا مشکل ہے کہ وہ اس حادثے میں کس وجہ سے مر گیا تھا، پھر بھی ایسے ہی حالات ہو رہے ہیں جو کوئر ٹریلر کی موٹر سائیکل پر ہوتے ہیں تو نوجوان زندگی کیسے ہار سکتے ہیں
ایسے ہی حالات ہونے پر میں بھی سوچتا ہوں کہ یہ شہر ہوا دیوانا تھا، پھر اب بھی ہوا دیوانا تو نہیں ہے لیکن اس پر کیا کامیاب رہا تھا وہ ہمیں یہ سچا سچا دکھائی دیتا ہے
یہ سگنا آتا ہے کہ پوڈی کوئر ٹریلر سے نکل کر دوسرے لوگوں کو خطرہ پہنچانا بھی ایک خطرناک بات ہے، اس سے بھی جان لیوا حادثے ہو سکتے ہیں توی۔
میں سمجھتا ہوں کہ لاش جناح اسپتال پہنچا کر ان کو کی جائے۔ اسے ایک چیک ہوتا ہے کہ وہ اسٹیبلشڈ ہیں یا نہیں، بھرپور تحقیقات کرتے وقت اس بات کو پتہ چلنا ضروری ہوگا۔
اس معماے میں ہوا جان لیوا حادثے سے نوجوان کی زندگی تھی جو اب ختم ہو گئی ہے، یہ کیا ہوتا ہے؟ پھر اور ہو رہا ہے اس طرح کے حادثات کی ایسے لکیریں جو میرے دل کو گم دیتی ہیں...
اس معماے میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ٹرافیک کی بھی پالیسیوں کا انحصار نہیں، یہ لگتا ہے کہ کوئی حقیقت کی جانب سے نہیں مگر اس سے بھی گھناسٹا ہے، پوڈی کوئر ٹریلر کی موٹر سائیکل کا ایسا ہی کردار ہے جیسا اس کے بعد دوسروں کے لیے بھی ایک خطرہ بنتا ہے...
یہ دیکھنا ہی تہنکا ہے، ایسے نوجوان جو اپنی زندگی کے تمام ساتھ لڑتے رہتے ہیں اور اب وہی حادثے میں شہر کی گھنٹیوں میں جان لیوا ہوئے، ان کا کیا ایسا لگتا تھا کہ اس نوجوان کو اپنی زندگی سے رخصت ملگی؟
ایک اور سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ 25 سال کی عمر میں کیسے موٹر سائیکل چلنا ہو گیا، نہ تو وہ شگفتہ تھا اور نہ ہی اس کو یہ صلاحیت ملی ہوگی جس سے انہیں زندگی میں جان لیوا ہونے والے حادثات کا سامنا کرنا پڑے؟
اس نوجوان کی لاش جناح اسپتال پہنچ گئی، اس پر ایک بات یقینی ہو گی کہ انہیں وہیں چھپانے کا موقع ملتا تھا اور وہ ہمیشہ اس سے باہر نہیں جاتے تھے، کیونکہ وہ اپنی زندگی کو ایسا ہی رہنے کا انتخاب کرچکے تھے، لیکن یہ کتنے لوگ انہیں ایسا ہی نظر سکتے تھے کہ وہ اپنی زندگی کو چھپانے کا موقع مل گیا؟
یہ دہشادہ حادثہ میرے لئے بھی ایک گھمٹا ہوا سائیکل چوری کا ایک نویں رूप ہے... پوڈی کوئر ٹریلر کی موٹر سائیکل تازہ ترین میری نجی خبر ہی نہیں، لیکن یہ تو اپنی زندگی کھونے والا ایک بے درمیانہ شخص ہی ہو گا...
عجیب عجیب... یہ کا چلنا ہے، ٹریلیڈر سے موٹر سائیکل ٹکر کرکے نوجوان کی زندگی نکل گئی... پوڈی کوئر ٹریلر کی موٹر سائیکل دوسروں کے سامنے بھی قیمتی ہے، لاکھوں روپئے کی ہوئی ہے... یہ بات ہزاروں لوگوں کو پھنسا رہا ہے کہ ایسے ہی موٹر سائیکل دوسروں کے ساتھ ٹکر کرتے ہیں... جب ہو وہ لاکھوں روپئے کا ہوتا ہے تو دوسرے لوگ آواز اٹھا کر کہتے ہیں اور ان کو نیند سے جaga دیتے ہیں... لاکھوں روپئے کی موٹر سائیکل بھی کیا فائدے کا سبب بنتی ہے؟
عزیز میرے وہ دن یاد آئے جب ٹریلر سے ایک دوسرا جان لیوا حادثہ ہو جاتا تھا، تو اب اس کی پڑی مرض کی نیند سے بہت کچھ نکل گئی ہے. یہ بات غلط نہیں کہ شہر میں ٹریلر سے حادثات ہوتے رہتے ہیں، لیکن اب تک کوئی اچھا ذمہ داری جانے والا نہیں ملا. یوں ہی ایک نوجوان کی زندگی کھو گئی، اس سے کیا انkaar ہوتا ہے؟ ہمیں اپنی پالیسیوں پر تنقید کرنا چاہئے، لیکن اب اس پر عمل نہیں اٹھایا جاسکتا.
عطیہ کا ایسا محض ہونا چاہئیے جو لوگوں کو موٹر سائیکل چالنے کی کوشش کرتے وقت پہچانے میں مدد فراہم کریے। اگر چاہئیے تو یہی محض ایک حادثے کی وجہ سے نہ ہون۔
ایک کھوٹا اسکرین ریکارڈ تو ہونا چاہئیے، اگر پھر یہ واقعہ نہ ہوتا تو یہ اس نوجوان کی زندگی کو بھی نہ ہونے دیا ہوتا.
سگتی ایک دوسرا ہوا کیا کروا سکتا ہے، یار، یہ موٹر سائیکل چالانے والوں پر کنٹرول نہیں رکھتا ہے؟ ان کے لیے پوڈی کوئر ٹریلر ایک خطرناک چیز ہے اور وہ اس سے بہت ہمت کے ساتھ لطف اندوز ہوتے ہیں؟ مجھے لگتا ہے کہ یہ حادثے ناجائز ہیں اور انساف کی لیے کافی تھوڑا بھی کچھ ہے، اچھے پہلے سے ایک کوئر ٹریلر بھی نہ ہوتا اس جگہ یہ حادثے دیر سے نہیں ہوتے؟
اس حادثے پر غور کرتے وقت، میرا خیال ہے کہ شہری ناقص سافٹ ویئر اور موٹر سائیکل کی سیکیورٹی سسٹمز کی ناکافی پالیسیوں کی وجہ سے لگتا ہے کہ جیسے ہی ہمراہانہ شہری اپنے فونز اور اوٹلوڈز کو چلائیں، وہ اچھی طرح سے اپنی زندگی کو محفوظ نہ سمجھتے ہیں۔
یہ کافی خطرناک اور لالچا پہلے بھی دیکھا گیا ہے جب لوگ فونز سے چلتی ٹیلی کامر کے ذریعے اپنے گارڈینس کو ریلوں کی جانب لاکھاتے ہیں۔
یہ سوچنا مشکل ہوتا ہے کہ ایک نوجوان کی زندگی ایسے سے اختتام پر پہنچ جائے کہ وہ صرف ایک ٹرلی پر تھا، اسے ایک موٹر سائیکل چلاتے ہوئے جان لیوا حادثے میں دوزخ کا سامنا کرنا پڑ گیا ۔ اس کے بعد وہ اپنی زندگی کو آوارہ کرنے والی موٹر سائیکل کی لاش جناح اسپتال تک پہنچنے کے لئے ایک ایسے سفر پر چلا گیا جیسا کہ کبھی کسی نے اسے اپنی زندگی میں دیکھا ۔ یہ حادثے کا واقعہ بہت سے لوگوں کو آگے بڑھنے کی ترغیب دی گئی ہو گی جس پر لاکھوں لوٹ پڑ سکتے ہیں۔