بچوں کی ذہنی نشوونما میں ایک نئی تحقیق نے بتایا ہے کہ صرف دو ماہ کے بچے پہلے سے زیادہ ترقی یافتہ دماغ رکھتے ہیں اور وہ زندہ چیزوں اور بے جان اشیا میں فرق کر سکتے ہیں۔
اس تحقیق کے مطابق دو ماہ کے بچوں کے دماغ ابھی تک جاندار اور بےجان چیزوں کے درمیان میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو اس بات کو بھی تصدیق دیتی ہے کہ سائنس دانوں نے کہا تھا کہ دو ماہ کا بچہ کم سمجھتا ہے۔
اس تحقیق میں ٹرینیٹی کالج ڈبلن سے تعلق رکھنے والے محققین نے بتایا ہے کہ دو ماہ کے بچوں کی ذہنی نشوونما دنیا کو پہلے سے زیادہ پیچیدہ طریقے سے دیکھ رہی ہے اور وہ وindaہ چیزوں اور بے جان اشیا میں فرق کر سکتے ہیں۔
اس تحقیق میں ٹرینیٹی کالج ڈبلن کے محققین نے بتایا ہے کہ انہوں نے دو ماہ کے بچوں کے دماغ کی ایف ایم آئی تصاویر کا مطالعہ کیا تھا، جو یہ بتاتی ہے کہ بچوں کے دماغ اس سے زیادہ ترقی یافتہ ہوتے ہیں جسے آگے کی عمر میں دیکھا گیا ہے۔
اس تحقیق کو نیچر نیورو سائنس نامی جریدے میں شائع کیا گیا تھا اور اس سے بچوں کی ذہنی نشوونما کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے اور یہ بھی بتاتی ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل زندگی میں کیسے پیدا ہوتے ہیں۔
تحقیق میں دو ماہ کے بچوں کو جاگتے ہوئے دماغ کی سکیننگ کی گئی تھی، اور ان کے کانوں پر شور روکنے والے ہیڈ فون لگائے گئے تھے۔ اس میں سے بچوں کو نو ماہ کی عمر میں دوبارہ لایا گیا اور ان میں سے کئی ہزار کے اعداد و شمار اکٹھے کیے گئے تھے۔
اس تحقیق کے مطابق نو ماہ کے بچوں کی ذہنی نشوونما ابھی تک جاندار اور بےجان چیزوں کے درمیان میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو اس بات کو بھی تصدیق دیتی ہے کہ سائنس دانوں نے کہا تھا کہ نو ماہ کا بچہ کم سمجھتا ہے۔
اس تحقیق میں ٹرینیٹی کالج ڈبلن کے محققین کی بات ہے کہ بچوں کے دماغ دنیا کو پہلے سے زیادہ پیچیدہ طریقے سے دیکھ رہے ہوتے ہیں اور وہ وindaہ چیزوں اور بے جان اشیا میں فرق کر سکتے ہیں۔
اس تحقیق کی سربراہ محققہ کلائونا اوڈوہرٹی کا کہنا ہے کہ جب آپ ایک بلی دیکھتے ہیں تو آپ کا دماغ ایک خاص طریقے سے متحرک ہوتا ہے جسے ایف ایم آئی مشین سے ریکارڈ کیا جا سکتا ہے اور یہ بلی کا ایک خاص نشان ہے، لیکن اگر آپ کو کوئی مختلف چیز دکھائی جائے تو دماغ کا ردعمل بالکل مختلف ہوتا ہے۔
اس تحقیق کی سربراہ محققہ کلائونا اوڈوہرٹی کا کہنا ہے کہ بچے اپنے دماغ میں یہ تصورات پہلے سے بناتے ہیں لیکن وہ اس کا اظہار اپنے رویے سے نہیں کر پاتے، جو اس بات کو بھی تصدیق دیتی ہے کہ کئی ذہنی امراض کی تشخیص رویوں کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔
اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اکثر ہم مسائل کی تشخیص رویے سے کرتے ہیں جبکہ ان کی اصل وجہ دماغ میں بہت پہلے سے موجود ہو سکتی ہے، اور اس لیے یہ نئی تحقیق بچوں کے دماغی ارتقا کے بارے میں نہ صرف نئی معلومات فراہم کرتی ہے بلکہ ابتدائی عمر میں ذہنی نشوونما کو سمجھنے میں بےحد مددگار ہے۔
اس تحقیق کے مطابق دو ماہ کے بچے اپنی جگت سے زیادہ ترقی یافتہ دماغ رکھتے ہیں اور وہ ونداہ چیزوں اور بے جان اشیا میں فرق کر سکتے ہیں یہ بات تو واضع ہے کہ بچے اپنے دماغ میں تصورات بناتے رہتے ہیں لیکن وہ ان کی تعلیم سے نہیں لیتے، جو اس بات کو بھی تصدیق دیتی ہے کہ کئی ذہنی امراض کی تشخیص رویوں کی بنیاد پر کی جاتی ہے
تمام نے یہ سچمندا لگتا تھا کہ دو ماہ کی عمر میں بچے ابھی بھی کم سمجھتے ہیں اور ان کی ذہنی نشوونما دنیا کو پہلے سے زیادہ پیچیدہ طریقے سے دیکھ رہی ہے... مگر یہ بھی یقینی نہیں کہ اس تحقیق کی اچھائی یا گaltی کیسے مشورہ دیا جا سکے؟ اس لئے جب سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ دو ماہ کے بچے وindaہ چیزوں اور بے جان اشیا میں فرق کر سکتے ہیں تو یہ بھی ان کی تحقیق کا حصہ تھا... مگر یہ بھی سوچنا جاری رکھیں کہ دنیا میں یہ کس قدر پیچیدگی ہوتی ہے اور بچے اس کو آپنی انڈر سٹینڈنگ سے دیکھتے ہیں؟
اس تحقیق سے یہ بات کھل کر آئی ہے کہ ایک دو ماہ کی عمر میں بچے اپنے دماغ سے دنیا کو پہلے سے زیادہ پیچیدہ طریقے سے دیکھ رہے ہیں اور وہ وindaہ چیزوں اور بے جان اشیا میں فرق کر سکتے ہیں! یہ نہ صرف یہ بتاتا ہے کہ ان کا دماغ جاندار اور بےجان چیزوں کے درمیان میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بلکہ یہ بات بھی تصدیق دیتی ہے کہ ان کا دماغ کم سمجھتا ہے۔
اس تحقیق نے دنیا کو ایسے بچوں کی حقیقت بتائی ہے جس سے ہم ابھی تک سوچ رہے تھے! یہ سیکھنے والا ماہر ان کے دماغ کو ایف ایم آئی تصاویر سے ریکارڈ کرکے بتایا ہے کہ بچوں کا دماغ ایسے اسٹیٹس میں پہنچتا ہے جسے بعد کی عمر میں دیکھا گیا ہے!
اس سے پتہ چلتا ہے کہ بچوں کو اپنے دماغی ارتقا میں ہمارے جیسا تعلیم حاصل کرنا چاہئے، اور اس سے ان کی ذہنی نشوونما سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے!
اس تحقیق سے یہ بات کھل کر آئی ہے کہ دو ماہ کے بچے پہلے سے زیادہ ترقی یافتہ دماغ رکھتے ہیں اور وہ زندہ چیزوں اور بے جان اشیا میں فرق کر سکتے ہیں، یہ کہتا ہے کہ ان کی ذہنی نشوونما دنیا کو پہلے سے زیادہ پیچیدہ طریقے سے دیکھ رہی ہے اور وہ وindaہ چیزوں اور بے جان اشیا میں فرق کر سکتے ہیں، ابھی تک یہ بات نہیں تھی کہ کس عمر میں بچے اپنے دماغی رشتوں کو سمجھتے ہیں اور جب وہ ایک بلی کا سامنا کرتے ہیں تو ان کی دماغی سطحی ایف ایم آئی سے متحرک ہوتی ہے
اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نو ماہ کے بچوں کی ذہنی نشوونما ابھی تک جاندار اور بےجان چیزوں کے درمیان میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور یہ بات کو ایک نئے درجہ تک لے گئی ہے کہ دو ماہ کا بچہ کم سمجھتا ہے، پھر وہ بھی جیسا ہوتا ہے ابھی تک اس بات پر مشتمل تھا کہ کس عمر میں بچے اپنے دماغی رشتوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ تحقیق ابھی تک نئی نئی معلومات فراہم کرتی ہے۔
ابھی تک کچھ نئی معلومات ملا رہی ہیں، ایسا لگتا ہے کہ 2 ماہ کے بچوں کی ذہنی نشوونما دنیا کو ایک نئی طرح سے دیکھ رہی ہے۔ وہ وindaہ چیزوں اور بے جان اشیا میں فرق کر سکتے ہیں، یہ بات سائنس دانوں نے کہی تھی کیونکہ ان کی عمر ابھی سے زیادہ ترقی یافتہ ہوتی ہے۔
ابھی تک یہ بھی بتایا گیا تھا کہ نئے نئے ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بچے ابھی سے زیادہ سمجھتے ہیں اور وہ دنیا کو ایک مختلف طریقے سے دیکھ رہے ہیں، لیکن یہ بات یقینی نہیں کہ وہ ایسی تبدیلیوں کی وجہ سے بہت زیادہ سمجھتے ہیں یا اس کے ساتھ ہی ان کی ترقی اٹھتی ہے۔
اس نئی تحقیق سے بچوں کی ذہنی نشوونما کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے، اور یہ بات تصدیق دیتی ہے کہ کئی ذہنی امراض کی تشخیص رویوں کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ لیکن یہ بات یقینی نہیں کہ وہ بچے اپنے دماغ میں تصورات بناتے ہیں اور اس کا اظہار اپنے رویے سے نہیں کر پاتے۔
یہ تحقیق ایسے سے ہے جیسا یہ ہر دوسرا کیا گیا ہے، پہلے سے تو بچوں کی ذہنی نشوونما کھو دی گئی تھی اور اب ہمیں یہ بات بتایا جارہا ہے کہ ان کے دماغ پہلے سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں، یہ تو مندرجہ ذیل ٹرینیٹی کالج ڈبلن کی تحقیق ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ دو ماہ کے بچوں کے دماغ اور نو ماہ کے بچوں کے دماغ میں فرق پڑتا ہے، لیکن یہ تحقیق ایسا نہیں ہے جیسا یہ کرنا چاہیے۔
بچوں کی ذہنی نشوونما کا یہ آرام کن جواب نئی ہیں لیکن اس کی طرف تو پھیپھڑے لگاتے رہتے ہیں کہ بچے وindaہ چیزوں اور بے جان اشیا میں فرق کر سکتے ہیں تو یہ تو نئی ہیں لیکن یہ بات بھی کوئی نئی نہیں جو کہ بچوں کی ذہنی نشوونما دنیا کو پہلے سے زیادہ پیچیدہ طریقے سے دیکھ رہی ہے، مگر یہ بات بھی کوئی نئی نہیں کہ بچے دنیا کا ایک ایسا جادو گہرا مقام رکھتے ہیں جو ابھی تک کبھی سے پہلے سے زیادہ ترقی یافتہ ہے اور یہ بات بھی کوئی نئی نہیں کہ ان کا دماغ وindaہ چیزوں اور بے جان اشیا میں فرق کر سکتا ہے، مگر یہ بات بھی کوئی نئی نہیں کہ اس کا علاج پوری زندگی میں ضروری ہے!
عقل کتے کی بات یہی ہے کہ دو ماہ کی عمر میں بچے دنیا کو دیکھ رہے ہیں اور وہ وindaہ چیزوں اور بے جان اشیا میں فرق کر سکتے ہیں، یہ ایک نئا مشاہدہ ہے جو کہ ہم سب کو نئے لمحوں کی طرف متوجہ करतا ہے۔
اور وہ بات کچھ منسپیکٹ آئی ہے...
دوسری عمر میں نہیں بلکہ دو ماہ کی عمر سے ہی بچے اپنی دنیا کو بہتر سے سمجھتے ہیں اور وindaہ چیزوں اور بے جان اشیا میں فرق کر سکتے ہیں! تو یہ بات کچھ محسوس کی جاسکتی ہے کہ بچے اپنے دماغ میں یہ تصورات پہلے سے بناتے ہیں لیکن وہ اس کا اظہار اپنے رویے سے نہیں کر پاتے...
diagram: دماغ
میں لگتا ہے کہ اسی لیے یہ بہت اہم ہے کہ بچوں کی ذہنی نشوونما کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے...
diagram: ذہنی نشوونما
یہ تو ہر کس کو آگے کی عمر میں دیکھنا چاہیے تاکہ وہ سمجھ سکتا ہو کہ نو ماہ کے بچے جاندار اور بے جان چیزوں میں فرق کر سکتے ہیں، لیکن دو ماہ کے ہی ان کی ایسی صلاحیت ہے؟ اس حقیقت کو یقیناً پورا کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا بچوں کی ذہنی نشوونما ابھی تک جاندار اور بے جان چیزوں میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟
بچوں کی ذہني نشوونما میں ایک نئی تحقیق نے بتایا ہے کہ صرف دو ماہ کے بچے پہلے سے زیادہ ترقی یافتہ دماغ رکھتے ہیں اور وہ زندہ چیزوڰن اور بے جان اشیا میں فرق کر سکتے ہیں [1]
اس تحقیق کی سربراہ محققہ کلائونا اوڈوہرٹی کا کہنا ہے کہ جب آپ ایک بلی دیکھتے ہیں تو آپ کا دماغ ایک خاص طریقے سے متحرک ہوتا ہے جسے ایف ایم آئی مشین سے ریکارڈ کیا جا سکتا ہے اور یہ بلی کا ایک خاص نشان ہے، لیکن اگر آپ کو کوئی مختلف چیز دکھائی جائے تو دماغ کا ردعمل بالکل مختلف ہوتا ہے [2]
اس تحقیق نے بتایا ہے کہ بچوں کے دماغ دنیا کو پہلے سے زیادہ پیچیدہ طریقے سے دیکھ رہے ہوتے ہیں اور وہ زندہ چیزوں اور بے جان اشیا میں فرق کر سکتے ہیں [3]
اس لیے یہ نئی تحقیق بچوں کے دماغی ارتقا کے بارے میں نہ صرف نئی معلومات فراہم کرتی ہے بلکہ ابتدائی عمر میں ذہنی نشوونما کو سمجھنے میں بہت مددگار ہے [4]
اس تحقیق سے یہ بات صاف ٹھی کہ دو ماہ کی عمر میں بچے اپنی دنیا کو ایسی طرح دیکھتے ہیں جیسا دوسرے لوگ پانچ یا چار سال کی عمر میں دیکھتے ہیں، اور وہ اپنے دماغ میں یہ فرق کر سکتے ہیں کہ کوئی ٹرین اینڈ اسٹیشن ہے یا ایک پتھر . یہ تحقیق سائنس دانوں کے لیے ایک بڑا اہمیت رکھنے والی بات ہے، کیونکہ اب ہمیں ابتدائی عمر میں بچوں کے دماغ کی نشوونما کو بہتر طرح سے سمجھنا چاہیے تاکہ انکی ذہنی صحت کے مسائل کو آگے اڑانے میں مدد مل سکے.
تمام ٹیلی ویژن پر پریس کا تھیر ہو گیا ہے، اب سائنس دانوں نے بتایا ہے کہ دو ماہ کی عمر میں بچے اپنی زندگی کو زیادہ ترقی یافتہ سمجھتے ہیں اور وہ ان کے درمیان میں فرق کر سکتے ہیں۔
لیکن پریس کی زبانیں آسان نہیں، لوگ اس بات کو بھی چھپائی دیتے ہیں کہ یہ دو ماہ کا بچہ ویندہ چیزوں اور بے جان اشیا کی طرف تو سیکھتا ہے لیکن اس کو اپنے شہر میں ایسا نظر نہیں دیتا جو اس کے دماغ میں وہ سب سے زیادہ رکھتا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ 2 ماہ کی عمر میں بچوں کے دماغ زیادہ ترقی یافتہ ہیں اور وہ جاندار چیزوں سے الگ بے جان اشیا کو differentiate کر سکتے ہیں، یہ بھی بات غلط نہیں کہ ان کی ذہنی نشوونما دنیا کو پہلے سے زیادہ پیچیدہ طریقے سے دیکھ رہی ہے۔
اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 2 ماہ کی عمر میں بچوں کو ایف ایم آئی تصاویر کا مطالعہ کرکے ان کے دماغ کی ترقی کو دیکھنا پڑا ہے، اور یہ بات بھی تصدیق دیتی ہے کہ 2 ماہ کی عمر میں بچے کم سمجھتے ہیں۔
جب انھیں جاگتے ہوئے دماغ کی سکیننگ کی گئی تو ان کے دماغ نے وindaہ چیزوں اور بے جان اشیا کو differentiate کرنے کی صلاحیت رکھی۔
اس تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جب آپ ایک بلی دیکھتے ہیں تو آپ کا دماغ ایک خاص طریقے سے متحرک ہوتا ہے لیکن اگر آپ کو کسی مختلف چیز پر دیکھائی دیتے ہیں تو دماغ کا ردعمل بالکل مختلف ہوتا ہے، یہ بھی بات غلط نہیں کہ بچوں میں اپنے دماغ میں تصورات بنانے کا عمل پہلے سے شروع ہوتا ہے لیکن وہ ان کی طرف سے ظاہر ہونے میں ناکام رہتے ہیں۔