پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں کروڑوں کی چوری

ہاتھی

Well-known member
پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں چوری کا ایک عظیم معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں سینٹرل اسٹور سے ساڑھے چار کروں روپے سے زیادہ مالیت والے قیمتی میڈیکل سامان کی چوری ہونے کا اعلان ہوا ہے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے، اسپتال نے خود investigatory کارروائی کا آغاز کیا اور میلوث چار ملازمن کو گرفتار کرکے پولیس کی جاسوسی کے حوالے کیا ہے۔

پرسنل آف کارڈیالوجی کے مطابق ابتدائی تخمینے میں، اس چوری سے متعلق سامان کی مالیت تقریباً چار کروں پچاس لاکھ روپے ہوتی ہے، تاہم حتمی رقم بعد میں مکمل آڈٹ اور تفصیلی انکوائری کے بعد طے کی جائے گی۔ اس معاملے میں سے ایک بات یہ ہے کہ مسروقہ سامان میں زیادہ تر وہ میڈیکل اشیا شامل تھیں جو سرکاری طور پر خرید کر مریضوں کو علاج کے لیے فراہم کی جاتی ہیں۔

تحقیقات نے یہ بات بھی سامنے لگی ہے کہ ملزمان نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت سامان کے ڈبوں کی سیل کھول کر اندر سے قیمتی اشیا نکالیں۔ یہ معاملہ پورے پشاور میں فروخت کیے جانے کا امکان ہے اور اس پر مزید چھان بین جاری ہے۔

میڈیکل سٹور میں تعینات ملازمین کو معطل کرکے، محکمانہ کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے اور انہیں ملازمت سے بھی فارغ کر دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں پولیس نے چاروں ملظم کو گرفتار کرکے محفوظ مقام پر رکھا ہے۔

ڈائریکٹر پی آئی سی قاضی سعداللہ کی رپورٹ کے تحت حیات آباد تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس میں اس معاملے میں سے تمام ملوث افراد کو بے نقاب کیا جائے گا اور ان پر قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جاے گئی۔
 
یہ ایک بڑا ڈرامہ ہے! میں یہاں تک پہنچ گیا ہوں کہ ان تمام اچھے ماڈلز کو چوری سے بھگت دیا گیا ہے جنہیں ہم سب کے سامنے پریشان نہیں دیکھ رہے تھے۔ ان کے منصوبوں میں کتنے لوگ شامل تھے؟ ان ملازموں کی زندگی کس طرح تھی؟ یہ سب چوری سے سستا ہو گیا ہے۔

اس معاملے کو سمجھنے کے لیے پورے شہر میں محفوظ مقام پر لکیر لگی دی جائی چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں اچھے ماڈلز کو کس طرح بچایا گیا? ان کی زندگی کیسے تھی؟ یہ سب سوالات پوچیں ہیں جو اب تک نہیں پوچیں گئیں۔
 
یہ معاملہ دیکھتے ہیں کہ یہ نچوڑنے والے لوگ ہزاروں روپے کی چوری کر رہے ہیں اور اس سے متعلق کسی بھی بات پر کوئی دباؤ نہیں لگا رہا ہے، یہ کہیں لہجہ ضرور پڑے کہ ان ملازمن کی چوری ہوئی یا وہ بھرنے والے بن گئے؟ اور اس معاملے میں سے ایک بات یہ ہے کہ وہ سارے سامان جو علاج کے لیے مریضوں کو فراہم کیا جاتا تھا، اور اسے بھی ان نچوڑنے والوں نے چوری کر لیا ہے۔
 
اس معاملے میں سب سے دیکھنی بات یہ ہے کہ ملازمین نے واضح طور پر منصوبہ بنایا تھا اور ان کی چوری کرنے کے بعد بھی پولیس کو اس بات میں ناکام رہنا ہے کہ وہ ان کے Behind کے کھل کر وہ لوٹنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک بڑا معاملہ ہے اور پوری ملازمت کی سانس لینا پڑگئی ہو گی
 
پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہوا چوری کو سمجھتے ہوئے، یہ بات غلط نہیں کہ ان ملازمین کی جگہ پر ایسے افراد ملاں جو شاغل تھے اور اپنی جگہ کو مانتے تھے لیکن وہی وجہ ہے کہ انھوں نے جگہ کی ممانعت سے بچنے کے لیے اسی جگہ پر کام کرنا شروع کر دیا، پھر یہ معاملہ اس kadar تیز ہو گیا جو انہیں ایسے کام کرنے پر مجبور کر دیتا ہے جو وہ آگہ نہیں تھے
 
ایسے تو ہو گیا، چوری کے بعد تو بھی ملازمین کو معطل کر دیا جاتا ہے، یہ کتنے ایمٹس پچاس لاکھ روپے میں ریکارڈ کیا جاتا ہے؟ 🤔 اور چوری کرنے والوں کو ڈائریکٹر کے کھانے کی وکٹ نہیں، ایسا کرو دیتے ہیں۔
 
واپس
Top