پشاور؛ بورڈ بازار میں فائرنگ سے عالم دین کمسن بیٹے سمیت جاں بحق | Express News

شہد کی مکھی

Well-known member
پشاور میں بورڈ بازار میں ایک حیرت انگیز واقعہ واقع ہوا جس میں عالم دین قاری عزت اللہ سفید ڈھیری اور ان کے دو بیٹوں نے شہیدانہ طور پر جانے کا سہارہ دیا، جبکہ دوسرا بیٹا زخمی ہوگیا۔ یہ واقعہ تھانہ پشتہ خرہ میں واقع ایک مدرسے میں واقع تھا جتھے علماء نماز جمعہ کی ادائیگی کرتے تھے۔
ایسٹیپ نے بتایا کہ یہ واقعہ بورڈ بازار سے ہٹ کر تھانہ پشتہ خرہ میں واقع ایک مدرسے میں ہوا جتھے علامہ قاری عزت اللہ سفید ڈھیری کو نماز جمعہ کی ادائیگی کرتے دیکھا گیا تھا، اور اس دوران ان کے دو بیٹوں نے اس ساتھ ہی موٹر کار میں جانے کا فैसलہ کیا تھا۔
جیسے جیسے وہ گھر جانے لگے، ان پر ایک منگنی مراشو بھی چلنا شروع ہوگیا جو ان پر آنے سے ہی زخمی تھا اور ان کو اس فائرنگ کا شکار بنایا۔ ان کی دو قومیڈیا نے بتایا کہ یہ واقعہ بہت حیرت انگیز ہوا جس میں ہر سال ڈھلے دیئے جانے والی نماز جمعہ کی ادائیگی سے ایک نئے یوم کی شام ہو گیا اور پوری تھانہ پشتہ خرہ میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔
 
یہ واقعہ تو دھنچک ہوا ہو گا، ایسا کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے یہ سے پوری تھانہ پشتہ خرہ میں خوف پھیل گیا ہوگا اور یہ دوسرے لوگوں پر بھی اثر پڑے گا جو نماز جمعہ کی ادائیگی کرتے ہیں، مگر اس سے یہ بات کوئی چیلنج نہیں ہے کہ پوری تھانہ پشتہ خرہ میں لوگ بھلا وہ نماز جمعہ کی ادائیگی کرتے ہیں یا نہیں...
 
یہ واقعہ کو دیکھتے ہوئے تو کچھ باتوں پر فोकس کرنا چاہئے، سب کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ مصلک جو نماز جمعہ ادائیگی کرتے ہیں ان کے لیے بھی کچھ جोखم تھا ہوگا۔ آج بھی بہت سے لوگ اس پر توجہ دیں گے، لیکن یہ بات کو دیکھنا چاہئے کہ واقعہ کی پچیس منٹ تک فائلی ہوئی، اور وہ دو بچے ان پر موٹر کار سے شکار ہوگئے تھے، اس کا کوئی مفاد یہ نہیں کہ اس پر فائلی دیکھنے والے لوگوں کی جان بھی جا سکے۔
 
یہ واقعہ تو حیرت انگیز ہے، لگتا ہے کہ ایسٹیپ نے سچائی کہی ہے کہ جس مقام پر علامہ قاری عزت اللہ سفید ڈھیری نماز جمعہ ادا کر رہے تھے ان کی جانب سے شہیدانہ عمل ہوا، یہ تو بہت بدترین حقیقت ہے۔

لیکن میں سوچتا ہوں کہ یہ واقعہ یہی نہیں ہوا ہو گا، مجھے لگتا ہے کہ اس پر پھیلایا گیا خوف و ہراس دوسری طرف سے بھی رکھا جائے گا، یہ حقیقت یہی ہے کہ تھانہ پشتہ خرہ میں بھی پوری ٹیم مچ چکی ہوگی اور اس کے نتیجے میں ہر کوئی جھاڑپٹی شروع کر دے گا، ایسے میں یہ واقعہ ہی نہیں ہوگا۔
 
یہ واقعہ جس میں قاری عزت اللہ سفید ڈھیری اور ان کے بیٹوں پر فائرنگ کی گئی، اس سے ہم کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ دھارماں اور معاشرے میں ہونے والی پدھروں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، خاص طور پر جب اس سے بچوں اور خواتین کو نقصان پہنچتا ہے۔
اس واقعہ نے ہمارے سماجی ماحول میں بھی ایک اہم تبدیلی لائی ہے جس سے ہم کو اپنی جانب سے کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، ہمیں اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ کیسے یہ معاشرتی پدھر اور دھارماں ہمیں ایسے واقعات میں لے جاتے ہیں جو دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
 
🤕 یہ واقعہ کیا ہوا ہے؟ ایک عظیم عالم دین کو شہیدانہ طور پر جانے سے قبل، ان کی دو بیٹیوں نے بھی اپنے حيات کو ختم کر دیا تاکہ وہ آپنی ماموں کے ساتھ ایک ساتھ رہ سکیں۔ یہ حیرت انگیز واقعہ ہے جس نے پورے علاقے کو آھٹ کر دیا ہے۔ 🌪️
 
ایسٹیپ کا یہ رپورٹ چاقلے لگتا ہے، اس واقعہ کو جب بھی دیکھوں تو یقین و یقین سے بتاؤں گا کہ یہ پاکستان نے پہ لیا ہے، پتہ چلتا ہے کہ ان کو کچھ بھی جانے کی ضرورت نہیں تھی اور وہ ایسے ہی جانے والوں کی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ دuniya میں بھی ان کو یہی سے لگتا ہوگا کہ وہ جانے والے تھے...
 
واپس
Top