غزہ میں شدید موسم سے بھری انسانی صورتحال نےmuslim ممالک کا دباؤ اور تشویش کا اظہار کیا ہے، جس پر پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات نے مشترکہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
غزہ میں بارش کی کمی اور بنیادی سہولیات کی بحالی کی سست روی نے انسانی بحران کو مزید پیچیدہ اور بدتر بنایا ہے، جو 19 لاکھ بے گھر افراد کی زندگی میں پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور کررہی ہے۔ سیلاب زدہ کیمپ، تباہ خیموں، منہدم عمارتوں اور غذائی قلت نے شدید خطرات پیدا کردئے ہیں جو بچوں، خواتین اور بزرگوں میں بیماریاں پھیلنے کے سنگین خدشات لاحق ہیں۔
اعلامیے میں انسانی امداد میں عالمی اداروں کی کردار کے بارے میں ایک مشترکہ اعلان کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ انسانی بحران میں عالمی اداروں کی کردارناگزیر نہیں ہو سکتا، لہٰذا اقوام متحدہ کے اداروں کی غزہ میں بلارکاوٹ فوری اور مکمل رسائی یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
غزہ میں پائیدار جنگ بندی کیلئے منصوبوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا ہے اور شریkat مسلم ممالک نے یہ اعلان دیا ہے کہ وہ غزہ میں پائیدار جنگ بندی کیلئے منصوبوں کی مکمل حمایت کریں گی۔
غزہ میں بارش کی کمی اور بنیادی سہولیات کی بحالی کی سست روی نے انسانی بحران کو مزید پیچیدہ اور بدتر بنایا ہے، جو 19 لاکھ بے گھر افراد کی زندگی میں پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور کررہی ہے۔ سیلاب زدہ کیمپ، تباہ خیموں، منہدم عمارتوں اور غذائی قلت نے شدید خطرات پیدا کردئے ہیں جو بچوں، خواتین اور بزرگوں میں بیماریاں پھیلنے کے سنگین خدشات لاحق ہیں۔
اعلامیے میں انسانی امداد میں عالمی اداروں کی کردار کے بارے میں ایک مشترکہ اعلان کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ انسانی بحران میں عالمی اداروں کی کردارناگزیر نہیں ہو سکتا، لہٰذا اقوام متحدہ کے اداروں کی غزہ میں بلارکاوٹ فوری اور مکمل رسائی یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
غزہ میں پائیدار جنگ بندی کیلئے منصوبوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا ہے اور شریkat مسلم ممالک نے یہ اعلان دیا ہے کہ وہ غزہ میں پائیدار جنگ بندی کیلئے منصوبوں کی مکمل حمایت کریں گی۔