شدید موسم سےغزہ کی صورتحال ابتر مسلم ممالک کا سخت تشویش کا اظہار

عقاب

Well-known member
غزہ میں شدید موسم سے بھری انسانی صورتحال نےmuslim ممالک کا دباؤ اور تشویش کا اظہار کیا ہے، جس پر پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات نے مشترکہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

غزہ میں بارش کی کمی اور بنیادی سہولیات کی بحالی کی سست روی نے انسانی بحران کو مزید پیچیدہ اور بدتر بنایا ہے، جو 19 لاکھ بے گھر افراد کی زندگی میں پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور کررہی ہے۔ سیلاب زدہ کیمپ، تباہ خیموں، منہدم عمارتوں اور غذائی قلت نے شدید خطرات پیدا کردئے ہیں جو بچوں، خواتین اور بزرگوں میں بیماریاں پھیلنے کے سنگین خدشات لاحق ہیں۔

اعلامیے میں انسانی امداد میں عالمی اداروں کی کردار کے بارے میں ایک مشترکہ اعلان کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ انسانی بحران میں عالمی اداروں کی کردارناگزیر نہیں ہو سکتا، لہٰذا اقوام متحدہ کے اداروں کی غزہ میں بلارکاوٹ فوری اور مکمل رسائی یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

غزہ میں پائیدار جنگ بندی کیلئے منصوبوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا ہے اور شریkat مسلم ممالک نے یہ اعلان دیا ہے کہ وہ غزہ میں پائیدار جنگ بندی کیلئے منصوبوں کی مکمل حمایت کریں گی۔
 
یہ ایک بے قاعدہ صورتحال ہے، غزہ میں انسانی بحران کا سبب کم بارش اور بنیادی سہولیات کی بحالی کی نہمیت ہے، انصاف کے لیے بھی کوئی اقدامات نہیں ہوئے تو وہاں کی صورتحال और بھی بدتھی ہوگی…
 
یہ شدید انسانی بحران کے لیے بے مثال دیکھنا ہے، غزہ میں لوگ سست روی کا سامنا کر رہے ہیں تو ہم نے مشترکہ لینے کی announcی ہوئی ہے مگر یہ کچھ نہیں حل کرتا، بنیادی سہولیات کی بحالی کا ان کا مطالبہ بھی ابھی تک نہیں تلافی ہوا ہے، ایسے میں وہ لوگ بھی دوسری صورتحال میں پڑتے ہیں اور اس کا بدلنا بھی نہیں ہوتا 🌪️
 
سچمے تو اس قدر ناکام ہیں ان لوگوں کو جو پانچ سाल سے یہاں رہ رہے ہیں اور اب یہاں سے باہر نکلنا ایک جادو ہے، ان کے لئے ایسا کرنے کے لئے پھنسایا گیا ہے، گزہ میں شریkat مسلم ممالک نے اچھی رائے دی ہے لیکن ابھی یہوں تک کہ ایسے خطرات کو دور نہیں کرایا گیا، جو لوگ باقی دنیا سے آنکھ پھیلائیں گے تو یہ تو ان کا اچھا اور بہتر ہوگا، لیکن یہی نہیں بلکہ میرا خیال ہے کہ دنیا کی اقوام متحدہ سے غزہ میں اس طرح کے خطرات کو دور کرنے کی لازمی ذمہ داری ہے
 
بھیگڑا ہوا تھا ایسے حالات میں کہ غزہ میں بچوں اور خواتین کو پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور کر دیا گیا ہے، ان لوگوں کو صحت سے دوری کے ساتھ اور غذا کی کمی سے دوچکھی لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے! یہ بھی گaltی ہے کہ عالمی اداروں نے ان humanity crisis میں کیسے حصہ لیا؟
 
سپچر @MubashirAhmed

غزہ میں دھارے ہوئے سیلاب اور انسانی بحران کا یہ سارہ واقعات بہت غم گسل رہے ہیں۔ میرے خیال میں، یہ ایک خطرام ماحول کا واقعہ ہو چکا ہے جو کہ پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات میں ایسی مشترکہ پائیدار لین کی کوشش کر رہی ہیں جو انسانی بحران کو دور کریں۔ اس لیے، یہ ضروری ہے کہ وہ ان 19 لاکھ بے گھر افراد کو پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور کررہے ہیں کو غزہ میں فوری اور مکمل رسائی اور پائیدار جنگ بندی کے لئے کامیاب ہونے کی کوشش کریں۔ #غزہبھوگ #ماحولچر #-humanitarianaid
 
ہاانہیں یہ بات بھی ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ غزہ میں موسم سے بھری صورتحال نے پوری دنیا کی توجہ جھیلتی ہوئی ہے اور یہ بات بھی صاف ہے کہ شاملی ممالک نے ایسا لینے کا اعلان کیا ہے اور ابھی تک ان کی طرف سے کوئی میراسلنہیں آئی۔
 
یہ انسانی بحران کیسے حل ہوگا؟ صدیوں سے غزہ پر معاشی اور سیاسی دباؤ ہو رہا ہے، اب یہ سیلاب اور موسم سے بھری صورتحال نے سارے ملک کو متحرک کیا ہے۔ پانچسالہ کیمپ میں رہنے والوں کا کفایت کیسے کیا جائے گا؟ یہ تھرڈ ورلڈ اور بین الاقوامی تنظیموں پر نہیں تو کس پر نہیں، ان تمام سارے لوگوں کو بھی اپنے ذمہ داریاں علاج کرنی پڑیں گی۔
 
واپس
Top