کشمیر کی نئی پہلی صبح وہی دیکھے گا جس پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک لماں کے طور پر شہداء کو یاد کرنے کا دورہ کیا ہے، اس سے پہلے انہوں نے مظفر آباد میں معززین اور سابق فوجیوں کی ایک لامبی تقریر کے بعد سراہنے والے خطاب سے لوگوں کو یقینی بنایا ہے کہ کشمیر کی نئی صبح وہی دیکھے گا جو عوام کی ایماندار جدوجہد اور تقدیر کے مطابق آزادی کی صبح ہو گی۔
سید عاصم منیر نے اپنے دورے کے دوران کشمیر میں تعینات افسران اور جوانوں کو سراہتے ہوئے یہ بات بھی تھی کہ وہ شاندار خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ہر محاذ پر مکمل آپریشنل تیاری، چوکسی اور باہمی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ایک نئی پہچان لائی ہے جس سے مسلح افواج کو اس کے دفاع میں ایماندار اور بھرپور کردار ادا کرنے میں مدد مل سکے گی، حالانکہ یہ بات واضح تھی کہ کشمیر کی آزادی جدوجہد میں کسی بھی جارحیت کا فوری، مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
فیلڈ مارشل نے ایک بار پھر معززین اور سابق فوجیوں کو یقینی بنایا ہے کہ ان کی قومی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کشمیر کی عوام کی جانب سے دوسری باری رکھی جائے گی اور وہ یہ بات بھی تھی کہ کشمیری عوام کی جہاد میں ان کی جہالت کو ختم کرنے کے لیے ہندوستان نے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کی ہیں جو کشمیر کے لیے ایک بار پھر جدوجہد کی طرف بڑھا دے گی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس دورے کے دوران کشمیر میں تعینات افسران اور جوانوں کو ایک نئی پہچان لائی ہے جو ان کی پیشہ ورانہ مہارت، بلند حوصلے اور جنگی تیاریوں کو سراہتی ہے، حالانکہ یہ بات واضح تھی کہ کشمیر میں تعینات افسران اور جوانوں کو کسی بھی جارحیت کا فوری، مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
یہ دورہ ایک عزم کی نشانی ہے کہ پاکستان مسلح افواج روایتی اور ہائبرڈ خطرات سے نمٹنے کے لیے ہر وقت مکمل طور پر تیار ہیں اور کشمیر کی آزادی جدوجہد میں کسی بھی جارحیت کا فوری، مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا، حالانکہ اس دورے سے واضح ہوچکا ہے کہ کشمیر کی آزادی جدوجہد میں کسی بھی جارحیت کا فوری، مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
سید عاصم منیر نے ایک لماں کے طور پر شہداء کو یاد کرنے کا دورہ کیا ہے اور اس سے پہلے انہوں نے مظفر آباد میں معززین اور سابق فوجیوں کی ایک لامبی تقریر کے بعد سراہنے والے خطاب سے لوگوں کو یقینی بنایا ہے کہ کشمیر کی نئی صبح وہی دیکھے گا جو عوام کی ایماندار جدوجہد اور تقدیر کے مطابق آزادی کی صبح ہو گی۔
یہ بھی کشمیر کی نئی پہلی صبح کے بارے میں ہی بात کر رہا ہے، یہ سچ مچ ایک پہلو کو دیکھتے ہوئے دیگر تمام پہلوؤں کو نہیں دیکھتے ہیں ، واضح تھا کہ کشمیر کی آزادی جدوجہد میں کسی بھی جارحیت کا فوری، مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا لیکن یہ بات کبھی نہیں سنا ہوگی کہ کشمیر کی آزادی جدوجہد میڰ کسی بھی جارحیت کا جواب دیا جائے گا۔
تمہیں پتّا ہونا چاہیے کہ کشمیر کی جدوجہد میں ایسا نہیں رہ سکتا جس پر فیلڈ مارشل Sidney Ashton نے ایک لماں کے طور پر شہداء کو یاد کرنے کا دورہ کیا ہے، یہ ایک عزم کی نشانی ہے کہ کشمیر کی آزادی جدوجہد میں کسی بھی جارحیت کا فوری جواب دیا جائے گا اور وہ یہ بات بھی تھی کہ کشمیری عوام کی جانب سے اس سے پہلے بھی دوسری بار رکھی جائے گی۔
بہت سارے لوگ مظفر آباد میں وہی لگن رکھتے ہیں جنہیں لاہور کا کھانا بنایا جاتا ہے، مجھے لگتا ہے یہ کھانا تو مظفر آباد سے نہیں بنا سکتا ہے بلکہ وہیں پہلی بار بنایا جاتا تھا، اب وہاں کے لوگ اسے اپنی فخر کے طور پر دیکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کرنے کی ضرورت ہے
اس دورے سے واضح ہے کہ کشمیر کی آزادی جدوجہد میں کسی بھی جارحیت کا فوری جواب دیا جائے گا۔ یہ ایک عزم کی نشانی ہے اور مجھے اس کا تاجہانہ مشاہدہ لگ رہا ہے کہ کشمیر کی آزادی جدوجۤہد میں کسی بھی جارحیت کا فوری جواب دیا جائے گا۔
اس دورے سے واضح ہوچکا ہے کہ کشمیر کی آزادگی جدوجہد میں کسی بھی جارحیت کا فوری جواب دیا جائے گا، اور مجھے یہ بات اپنی جانب سے سمجھ میں لینے میں بہت خوشی ہو رہی ہے۔
اس دورے کی نگرش ایک عزم کی نشانی ہے، اور مجھے اس کی سہولت سے متاثر رہا ہے کہ کشمیر کی آزادی جدوجہد میں کسی بھی جارحیت کا فوری جواب دیا جائے گا۔
کشمیر کی نئی پہلی صبح وہی ہونی چاہیے جو عوام نے اپنی ایماندار جدوجہد سے حاصل کی ہو۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ بھی یہی بات دیکھتا ہے، لیکن واضح ہوچکا ہے کہ کشمیر کی آزادی جدوجہد میں کسی بھی جارحیت کا فوری جواب دیا جائے گا۔ یہ بات تو پہلے بھی تھی، لیکن اب واضح ہوچکی ہے کہ کشمیر کی عوام کو اپنی جدوجہد میں اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔
کشمیر کے لوگوں کو یہ دورہ ہمیشہ سے آرزू تھا، اور اب یہ ہوا ہے جب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے انھیں ایک لماں کے طور پر شہداء کو یاد کرنے کا دورہ کیا ہے۔ اس سے پہلے بھی انھوں نے معززین اور سابق فوجیوں کی ایک لامبی تقریر کے بعد سراہنے والے خطاب سے لوگوں کو یقینی بنایا ہے کہ کشمیر کی نئی صبح وہی دیکھے گا جو عوام کی ایماندار جدوجہد اور تقدیر کے مطابق آزادی کی صبح ہو گی۔ یہ ایک بڑا پیار کا ساتھ ہے، جو کشمیر کے لوگوں کو یقینی بناتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کریں گے.
میں اس دورے سے بہت خوش ہوں، جو ایک عزم کی نشانی ہے کہ پاکستان مسلح افواج روایتی اور ہائبرڈ خطرات سے نمٹنے کے لیے ہر وقت مکمل طور پر تیار ہیں اور کشمیر کی آزادی جدوجہد میں کسی بھی جارحیت کا فوری، مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا. یہ ایک نئی پہچان ہے جو کشمیر کی آزادی جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کرنے کی مدد فراہم کرے گی۔
میں उमید رکھتی ہوں کہ کشمیر کی آزادی جدوجہد میں یہ دورہ ایک نئی پہچان لائے گا جس سے کشمیر کے لوگ اپنی جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔
Kashmir ki nai pahli subh vo hi dekhenge gi jis par felaid marchal syed asam manir ne ek lamayan ke tor par shahdai ko yaad karna hai... abhi tak koi samajh nahi aayi ki kya ye kaam pehle bhi kiya gaya tha ya fir?
Lekin yeh baat sach hai ki field marshall nay ek nai pehchan layi hai jo afsoos aur chaukidi ko saraha rahi hai... abhi tak humein pata nahi aaya ki kya isse kitna faayda hoga?
Yeh bhi ye hai ki field marshall ne apne durwe par kuch baatayen kee hi, jaise ki kazam-e-Hindustan ka qaid aur inka kya raza hai... yeh sab kuch thoda samajh nahi aata?
اس دورے سے پتہ چلتا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ایک نئی پہچان مل چکی ہے جو اس کی پیشہ ورانہ مہارت، بلند حوصلے اور جنگی تیاریوں کو سراہتی ہے، لیکن یہ بات بھی واضح تھی کہ کشمیر میں تعینات افسران اور جوانوں کو کسی بھی جارحیت کا فوری، مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا
اس دورے کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے کشمیر کی آزادی جدوجہد میں ایک نیا عزم لایا ہے، جس میں اس کی قومی سیاسی اور اخلاقی حمایت کو دوسری بار یقینی بنایا گیا ہے اور یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ کشمیر کی عوام کی جانب سے ان کی حمایت رکھی جائے گی
کشمیر کی نئی پہلی صبح وہی ہونی چاہیے جو عوام کی ایماندار جدوجہد اور تقدیر کے مطابق آزادی کی صبح ہو، اور اس لیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کشمیر میں تعینات افسران اور جوانوں کو سراہنا ضروری ہے۔ یہ ایک بڑی پیغام ہے کیوں کہ انھیں کسی جارحیت کا فوری جواب دینا ہوتا ہے، لیکن انھیں محض سراہنا نہیں بلکہ ایک بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
@TheFanTranslator کشمیر کی نئی پہلی صبح اس طرح دیکھے گا جو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک لماں کے طور پر شہداء کو یاد کرنے کے دورے سے دیکھا ہوگا। انہوں نے کشمیر میں تعینات افسران اور جوانوں کو ایک نئی پہچان لائی ہے جو ان کی پیشہ ورانہ مہارت، بلند حوصلے اور جنگی تیاریوں کو سراہتی ہے۔
مگر یہ کیا ہوا اس دورے میں جس پر انھوں نے شہداء کو یاد کرنے کا کام کیا ہے؟ وہ صرف اپنی اپنی بات کرتے ہوئے دباؤ بڑھاتے ہیں اور لوگوں کی جہالت کو ختم کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں، لیکن اس سے واضح نہیں ہوتا کہ یہ کیسے ممکن ہوگا؟ پاکستان مسلح افواج کو یہ کیا فائدہ ہوا گيا اور انھوں نے اپنی ایسی پہچان لائی جس سے وہ اپنے مقاصد کو حاصل کر سکیں؟
کشمیر کی نئی صبح کو توقع کرنے والے لوگوں کے لیے یہ دورہ ایک بہت بڑا اہمیت رکھتا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کشمیر میں تعینات افسران اور جوانوں کو سراہا ہے، ان کے جوش و خروش کو تھامایا ہے اور ان کی قومی pride کو بڑھایا ہے۔ یہ دورہ ایک عزم کی نشانی ہے کہ پاکستان مسلح افواج روایتی اور ہائبرڈ خطرات سے نمٹنے کے لیے ہر وقت مکمل طور پر تیار ہیں۔
یہ بات بھی واضح ہے کہ کشمیر کی آزادی جدوجہد میں کسی بھی جارحیت کا فوری، مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ یہ ایک نئی پہچان ہے جو کشمیر کی عوام کو آگاہ کرتی ہے کہ ان کے لئے وہ بھرپور کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔
میں یہ مانتا ہوں کہ یہ دورہ کشمیر کی نئی صبح کو قائم کرنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ میں اپنی قومی pride سے بھرپور طور پر آوارہ ہوں، یہ دورہ ایک عزم کی نشانی ہے کہ کشمیر کی عوام کو وہ بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہہے۔
بہت ہی اعزازی بات ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کشمیر میں شہداء کو یاد کرنے کا دورہ کیا ہے! یہ ایک بڑی بھومی ہے جہاں عوام نے اپنی آزادی اور آزادی کی جدوجہد میں ہمیشہ ہی اپنا ساتھ دیا ہوگا، حالانکہ واضح طور پر یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ کشمیر کی آزادی جدوجہد میں کسی بھی جارحیت کا فوری، مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا!
یہ دورہ ایک بات سے بھری ہوا ہے کہ جس مہانہ توقع سے زائد ہوئی ہے، اب بھی ان لوگوں کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ کشمیر کی نئی صبح وہی دیکھے گا جو عوام کی ایماندار جدوجہد اور تقدیر کے مطابق آزادی کی صبح ہو گی۔ لیکن یہ بات بھی تھی کہ اس جہاد میں کسی بھی جان کو ساتھ نہیں لیتے، ان لوگوں کا بھی خفیہ اثر ہے جو اس جہاد کی پہچان دیتے ہیں اور وہ سب کو ایک نئی پہچان سے لطف اندوز کرنے کا یہ دورہ بھی ایک عزم کی نشانی ہے۔
تم سے کوئی غضب نہیں ہوا، کشمیر کی تحریک میں ہم سب ایک ہی دھرہ پر ہیں، اس کی وہنچ پتھروں سے اس کا اقدام نہیں بھگتے گا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک لماں کے طور پر شہداء کو یاد کرنے کا دورہ ہوا جو ان کی جہاد میں جان دھونے کا ایک بڑا کردار ہو گا، اس سے پہلے انہوں نے مظفر آباد میں معززین اور سابق فوجیوں کی ایک لامبی تقریر کے بعد سراہنے والے خطاب سے لوگوں کو یقینی بنایا ہے کہ کشمیر کی نئی صبح وہی دیکھے گا جو عوام کی ایماندار جدوجہد اور تقدیر کے مطابق آزادی کی صبح ہو گی۔
اس دورے سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ کشمیر کی آزادی جدوجہد میں کسی بھی جارحیت کا فوری، مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا، حالانکہ یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ کشمیر کی آزادی جدوجہد میں کسی بھی جارحیت کا فوری، مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
منہنے تو منہ سے نہیں بلکہ دل سے دیکھا جاتا ہے کہ کشمیر کی عوام ایسی جدوجہد کر رہی ہیں جو انہیں آپنی آزادی حاصل کرنے کے لیے پہنچانے والی ہے، لگتا ہے جس سے وہ اس قدر متحرک ہو گئے ہیں، وہ اپنی قومی ایمانداری کو ایک اعلیٰ استحکام رکھنے کا ایک عزم سے کام کررہے ہیں ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی آزادی کو ایک اعلیٰ استحکام رکھنے کا ایک عزم سے کام کررہے ہیں
مگر دیکھو بھلا یہ کیسے کچل دیا جائے گا؟ کیونکہ کشمیر کی آزادی جدوجہد میں کسی بھی جارحیت کا فوری، مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا? یہ بات تو واضع ہو چکی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس سے پہلے یہ بات بھی ہو چکی ہے کہ کشمیر کی آزادی جدوجہد میں کسی بھی جارحیت کا فوری، مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا