لاہور میں شالیمار باغ میں سرکاری سرپرستی میں منعقد ہونے والی میوزک اینڈ کلچرل نائٹ شو کے دوران اڈیالہ جیل کے قیدی 804 سے منسوب گانا گانے پر گلوکار فراز خان کیخلاف ایف آئی آر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
وہ گانا جس پر مقدمہ درج ہوا وہ شہر میں سرکاری سرپرستی کے تحت منعقد ہونے والی تقریbatھی نہیں تھی۔ اس تقریب کا مقصد عوام کو ایک معاشرتی تقریبات سے شہر کی ثقافتی برادری کو الگ کرنے کا مقصد تھا، تاہم ان واقعات نے ثقافتی تقریبات اور اظہارِ فن پر ایک نئی بحث شروع کر دی ہے۔
آزاد قوال فراز خان نے ایسے گانے کی پیش کش کی تھیں جس کو ان کے مطابق سرکاری سرپرستی میں منعقد ہونے والی تقریبات کے ضابطوں کے مخالف قرار دیا گیا ہے، تاہم ان کے مطابق انہوں نے ایسے گانے کی پیش کشی کی سے بھی اس بات کے واضح طور پر انکار کر دیا ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
لاہور میں واقع شالیمار باغ میں منعقد ہونے والی تقریبات عوام کے لیے کھلے دروازے سے منعقد کی گئی تھیں، تاہم اس معاملے نے عوام میں بھرپور تنقید اٹھا دی ہے اور ثقافتی تقریبات کے ضابطوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
عوام کو کیا بات کہنی چاہئیے؟ شالیمار باغ میں منعقد ہونے والی تقریبات کی واضح شرائط تھیں اور ان میں گانا گانے پر معینہ نہیں تھا، تو کیا آج بھی عوام کو یہ معلوم نہیں تھا؟
ایف آئی آر کیسے ایسے مقدمات درج کر سکتا ہے جو ثقافتی تقریبات کے ضابطوں کے خلاف ہیں؟ اس کی انصOF ایسے نہیں ہوتی چاہئیں?
شالیمار باغ میں منعقد ہونے والی تقریبات پر عوام کی تنقید کے بارے میں، یہ بات تو واضح ہے کہ ان تقریباتوں کا مقصد ثقافتی برادری کو الگ کرنا تھا لیکن اب اس نئی بات سے آگہ ہوئے ہیں کہ کس گانے پر مقدمہ درج کیا گیا ہے؟
یہ دیکھنا بھی تھا نا، سرکاری سرپرستی میں منعقد ہونے والی تقریب سے پہلے ایسے گانے کو گانا جانا تھا؟ اور اب اس پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے تو کیا یہ ایکFair game ہوگیا؟ شالیمار باغ میں تقریب عوام کے لیے کھلے دروازے سے منعقد کی گئی تھی، لیکن ان سے پہلے بھی یہ بات نہیں سامنے آئی تھی کہ 804 اور اس جیسے کبھی بھی قیدیوں کی گانے پر مقدمہ درج کرنا چاہیے؟
عوام کی لہر تھی وہ سے پچتائی گئی ، کیا ان لوگوں کا ایسا ماحول ہونا چاہئے جو ہر کوئی اسے سمجھ سکیں? ایسے نہیں ہونا چاہئے جہاں ایک ساتھ ایک گانا پڑھنے والوں کے لئے مقدمہ درج کر دیا جائے اور ان کے خلاف مظالم کی گنجائی ہو؟ یہ لوگ تو سرگرمی پر آتے تھے نا؟
مندرن نے اس میوزک اینڈ کلچرل نائٹ شو کی پہلی بار دیکھا ہوں اور میں کہتا ہوں گا کہ یہ لارڈسز آف دی اینیمیشن سے بھی بہتر تھا وہ گانا جو ایف آئی آر مقدمہ درج کر رہا ہے، میں اسے نہیں جانتا کون سا گانا ہے اور میں نے یہ بھی پوچھا ہوں گا کہ انڈیا میں اس طرح کی منعقدات کے بارے میں جاننا چاہئے یا نہیں؟
Wow! یہ بات تو نچوڑنے لگتی ہے کہ حکومت نے ایسا ہی قرار دیا، جس پر عوام کا جو بھرپور تنقید اٹھانے والا تھا وہی شالیمار باغ میں منعقد ہونے والی تقریب کا حصہ ہو گیا! Interesting!
اس معاملے میں اس بات کی انتہا ہوئی ہے کہ عوام کو ایک معاشرتی تقریب سے شہری ثقافتی برادری کو الگ کرنا پڑا ہے ؟ کیا یہ تقریب دیکھنے کے لیے نہیں تھی اور صرف ایک گانا میں رونہا نہیں تھا? اس معاملے کی حقیقت کو سمجھنا مشکل ہو گیا ہے
اس بات کی توسیع ضروری ہے کہ عوام کو بھی یہ جاننے میں مدد ملے کہ ایسے گانے کا انتخاب کیسے کیا جائے جو پہلے تو سرکاری سرپرستی میں منعقد ہونے والی تقریبات کے ضابطوں سے ناواقف ہوتے ہیں۔
یہ واقعہ شالیمار باغ میں منعقد ہونے والی تقریب کا ایک نئا چکر ہو گیا ہے! فراز خان کو اڈیالہ جیل سے منسوب گانا گانے پر مقدمہ درج کرایا گیا ہے، جو شہر میں سرکاری سرپرستی کے تحت منعقد ہونے والی تقریب نہیں تھی! یہ ایک بڑی بات ہے کہ عوام کو ایسے گانے کی پیش کش کرنے پر اجازت نہیں دی گئی، تاہم اس معاملے نے ثقافتی تقریبات اور اظہارِ فن کے بارے میں ایک نئی بحث شروع کر دی ہے!
یہ جسمانی طور پر یہ رہا کہ وہ گانا جو ان کی پیش کشی تھا سرکاری سرپرستی میں منعقد ہونے والی تقریبات کے ضابطوں سے باہم رہا تھا! تو یہ لگتا ہے کہ ان کی جانب سے جسمانی طور پر کوئی دھمکی نہیں دی گئی، لیکن قانونی طور پر ان کی جانب سے ایسی دھمکی ڈال دئی گئی ہے کہ اب یہ تو ناقدین سے بھی بات کرنے میں عائندہ ہوجائیں گے!
اس معاملے کی سے پتا چلتا ہے کہ تقریبات کے ضابطوں کو یہ تو لگتا ہے کہ کسی جیسے بھی گانا پر مقدمہ درج کر دیا جا سکta ہے! اور عوام کے لیے کھلے دروازے سے منعقد کی جانے والی تقریبات کے ساتھ یہ تو ایک دھمکی ہوگئی ہے کہ اگر کوئی جیسا بھی گانا گایا تو مقدمہ درج کر دیا جائے گا!
یہ معاملہ نے تھوڑی سے تھوڑی سے ثقافتی تقریبات اور اظہارِ فن کے حوالے میں ایک نئی بحث شروع کر دی ہے!
یے تھوڑا ماحولیت لگ رہا ہے۔ ایسا تو سمجھنے کے لیے کہ آفیشل میوزک اینڈ کلچرل نائٹ شو کی تقریبات کو سرکاری سرپرستی کے تحت منعقد کرنا ہمیشہ بھی ایسی بات نہیں ہے، لیکن یہاں فریز خان گانا گانے پر مقدمہ درج کرنے کی بات آئی اور اب عوام میں تنقید تھوڑی بھرپور ہوئی ہے۔ اس سے پتہ چل رہا ہے کہ ثقافتی تقریبات کی ضابطوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور عوام میں یہ بات بھی پھیل گئی ہے کہ یہ انفرادی اور آفس لائیڈ گانے کی صورت میں منعقد ہونے والی تقریبات سے مختلف ہے۔ اس بات کو بھی سمجھنے کے لیے کہ فریز خان نے ایسا گانا پیش کیا تھا جو ان کے مطابق تقریب کے ضابطوں سے خلاف ترجیح ہے، تاہم یہ بات بھی واضح ہے کہ انہوں نے اس گانے کی پیش کشی کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اب وہ ان خلاف مقدمات پر دو چکran لگائے جا رہے ہیں۔