سری لنکا میں شدید بارشوں کی بے انتہا نے ملک کو ایک تباہ کن بحران میں پھنسایا ہے۔ یہاں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے 31 افراد کو اپنی جان کھونے پر مجبور کیا ہے، جبکہ تذبذہ مچا رہی ہے۔
ملک کے 17 اضلاع میں 4 ہزار سے زیادہ لوگ شدید متاثر ہوئے ہیں، جو اس بحران کو مزید بدتر بنانے کی ایک بڑی پہچان ہے۔ موسمیاتی بدترین صورتحال کا یہ نتیجہ نشیبی علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہونے اور سڑکیں بہنے پر مشتمل ہے، جس سے سیکڑوں مقامات پر نقصان پہنچا ہے۔
ریسکیو ٹیمیں شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئیں، تاہم موسم کی بدترین صورتحال کے باعث مسلسل بارشیں اور تیز ہوائیں کارروائیوں میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
اس بحران نے ملک کو ایک دھارے میں پھنسایا ہے، جس سے ملک کے لوگ بے گھر ہوئے ہیں اور ان کی جان چھپانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
دستاوizoں میں کہا گیا ہے کہ ملک کے اوپر موجود لو پریشر سسٹم کی وجہ سے شدید بارشوں اور طوفانی ہوائیں برس رہی ہیں، جس کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
حکومت نے آٹھ اضلاع میں ریڈ रٹ لینڈ سلائیڈ وارننگ جاری کر دی ہے اور لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، بلند مقامات پر منتقل رہیں اور فوری انخلا کے لیے تیار رہیں۔
بھائی تoba barishon ki hansi ke roop mein hai apne desh ko. Yeh sab log kyu nahin pata kar paye? Kaisa joh raaz hai jo unki raah par aaya hai?
Mere liye yeh bhi saamna hai ki sara desh kitna chot ya zakhm se guzar raha hai. Toh humein kis tarah se apni madad karni chahiye? Kyunki mere paas bahut samay aur pani nahi hai.
Mere raaz me yeh bhi hai ki kai logon ko lagaataar barish ki zaroorat hai. Mere paas ki koi yaad nahi hai jab kuch desh mein is tarah ki taqatwaan aayi hogi. Yeh ek bada samasya hai jahan humein ek saath samajhna hoga.
Mujhe lagta hai ki yeh ek sara desh hi nahi balki uska sab se bada shakhsiyat hai. Jisse khud ko samajhne ke baad humein apni madad karne ki zaroorat hogi.
سری لنکا کی یہ بحران کی پلیٹ فارم سے دیکھنا بھرام ہوا ہے۔ ایک طرف لوگ اپنی زندگیوں کو بچانے کے لیے جھیل رہے ہیں، دوسری طرف پلیٹ فارم استعمال کرنے والے لوگ فوری انخلا کی تلاشی کر رہے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے بھی ہے کہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے محفوظ مقامات تک پہنچنے میں بھی چیلنجز آ رہے ہیں۔ میری بات یہ ہے کہ مینوں نہیں سمجھا کہ کیہ یہ سسٹم اس قدر غیر مستحکم تھا؟
یہ شدید بارشوں کی سیریز نے ملک کو تباہ کر دیا ہے، لاکھوں لوگوں کو اپنی جانت کی کھو لی ہے... میری دل پر بھار پڑا ہے کہ یہ کیسے ہوا؟ یہ لوگ کتنے دیر سے پریشانی سے جूझ رہے تھے... نہیں تو ایسا نہیں ہو سکتا!
کہتے ہیں کہ لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے، یہ تو بے خوف کی بات نہیں! لوگوں کو اپنی جان و مال سے بچانے کے لیے اس پر اٹھنا پڑے گا... اسے دور کرنے کی کوشش کریں!
بھی ہوا یہ، لوگوں کو اپنی جان سے بچانے کی جدوجہد جاری ہے... اس میں شریک ہونا پڑے گا؟ ہم انہیں حمایت کرتے ہیں!
اس بارش کی نہاے کھانے والوں کو حال ہی میں اس سے زیادہ خطرناک توفانی بارشوں کی صورتحال دیکھنی پڑگئی ہے۔ یہ بارش 17 اضلاع کو ایک تباہ کن بحران میں پھنسایا ہے، جس میں لوگوں کی جان کھونے پر مجبور کر رہی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ موسمیاتی بدترین صورتحال کی وجہ سے سڑکیں توڑتے ہوئے ہیں اور لوگوں کو اس میں ایک دھارے میں پھنسایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی جان چھپانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
مگر یہ ایک بڑا پریشانی ہے! سیلاب نے بھی لینڈ سلائیڈنگ نے اس ملک کو کتنے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، 31 افراد اپنی جان کھو چکے ہیں? وہ سیلابی علاقے بھی کیوں بن گئے؟ اس حقیقت کو پہچاننا ایک مشکل کام ہے جس کے لیے لاکھوں لوگوں کو اپنی زندگی بدلنے پر مجبور کر دیا گیا ہے. میں یہی سوال کرتا ہوں کہ کیا حکومت نے اس صورتحال کو پہچانتے ہوئے کامیاب کہنا نہیں چاہا?
اس بارش کی بدترین صورتحال میں اسے مزید بھرپور انتظام نہیں کیا جا سکا، یہاں تک کہ لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ نہیں تھا تو لوگوں کو فوری انخلا کی وارننگ دی جاتی تو پچاس ہزار لوگ اٹھ کر چلے گئے ، اس صورتحال میں یہ ہی اٹھنا ضروری نہیں۔
سری لنکا میں ہونے والے یہ حادثہ بہت دیر سے ہو رہا تھا، لے Kinu ہوتا تو کبھی ایسی صورتحال نہیں آتی۔ ابھی یہ سیکڑوں سال پہلے سے دیر سے ہونے والی موسمیاتی بدترین صورتحال کی وجہ سے لانڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا تھا۔ ابھی تو یہ سنیوٹیں ہیں لیکن پچیس ہزار لوگ اپنی جان کھو چکے ہیں اور پینتھ ہزار کی تعداد میں لوگ اپنی جائیدادوں کو کھونے پر مجبور ہو رہے ہیں
اچھا یہ بحران ہے نہیں، لاکھوں لوگ اپنی جان کھونے پر مجبور ہوئے ہیں۔ یہ سیلابی پانی اور رستریں بہنے کی صورتحال سے واقف ہو کر ہیں، ان کا کچھ بھی گناہ نہیں ہے۔
شگافوں اور گریوز کو یہ بحران اچانک لایا ہے جو ملک میں ہر سال آتا ہے، لیکن ایسا زیادہ شدید نہیں دیکھا گیا۔ سیلاب کا پانی سڑکوں پر بہنا اور لوگوں کو رہنے کی جگہ نہ ملنی، یہ سچ ہے لیکن شگافوں کی ایسے حالات کو چھپانا مشکل ہے۔
جی ضروری ہے کہ سرکاری اداروں کو پریشان کن صورتحال کی توجہ دیکھنی چاہیے اور لوگوں کو مدد کے لیے کافی پैमائش کریں، فوری انخلا پر یقین رکھیں اور لوگ اپنے گھر واپس آجائیں۔
بھائی آسمانوں میں لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیا ہوا ہے، ان کی صحت اورSecurity پر بھی یہ نتیجہ اچھا نہیں لگ رہا ہے! ان لوگوں کو ملک سے باہر جانا پڑتا ہے؟ ایسے میں کیسے رہائش کا احاطہ حاصل کر سکتے ہیں؟
سری لنکا کی صورتحال بہت Tough Hai . لوگوں کو ایک سے زیادہ بارش کی پابندی اور سڑکیں ٹھہرائیں تاکہ سیلابی پانی داخل نہ ہو۔ موسمیاتی بدترین صورتحال کا یہ نتیجہ صرف ہمیشہ کی بات نہیں بلکہ ہر سال کھل کر رہتا ہے، جس سے لوگ بہت پریشان ہو رہے ہیں #SriLanka #Barish #NatijectHai
بہت دیر ہو گیا ہے، سرینکاء میں یہ بحران توہم کی بات سے لے کر ملوث ہوا ہے اور حال ہی میں 31 لوگ جان کھونے پر مجبور ہوئے ہیں، یہ توہم بھرپور دباؤ نہیں رکھ سکتا ہے اور بحران کی صورتحال کو مزید بدतर بنانے کے لیے کسی بھی بات سے پرہیز کرنا چاہئے۔
وہاں کی صورتحال بہت بدھر گئی ہے۔ میرے خیال میں، جب آپ کو کوئی بھی چیز سے پوری توجہ نہیں دینے پر مجبور ہو تو وہاں کی صورتحال بھی اسی طرح ہوتی ہے۔ میرے گھر والوں نے کہا ہے کہ جب آپ کو لینڈ سلائیڈنگ کا پتہ چلتا ہے تو وہاں کی پانی کی کمی کا خیال کرو۔
جب تک پانی ہے، وہیں رہیں اور انفرادی طور پر اپنی قیادت بنائیں، نہ یہیں چلے گئے تھوڑے بھی نقصان نہ پاوگیں۔ اب نہیں تو کچھ نہیں ہوسکتا۔
یہ بھی تھوڈا سا بات ہے، وہ گاڑیاں جو وہاں کی اہم مقامات پر چلتی ہیں ان کے لئے کچھ کیا جاسکتا ہے؟ وہاں لوگ پانی میں لالچت سے گرتے ہیں تو آج بھی اسی طرح دباؤ سے کام کر رہے ہیں۔
علاوہ سے، وہیں کھانا چلائیں، اس پر توجہ دی جائے تو وہاں کی صورتحال کو کم نہیں کیا جا سکتا، اور لوگ ایسے گھر بناتے ہوئے بھی ہوتے ہیں جو پانی میں قائم نہیں ہوتے۔