وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے سروس ڈلیوری میں بہتری لानے اور گڈ گورننس کے لئے قابل تحسین اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے سی ایم انسپکشن ٹیم کو متحرک کردیا ہے، جو فیلڈ میں کام کر رہی ہے اور وزیراعلیٰ کو روانہ رپورٹ پیش کرتی ہے۔
انہوں نے ڈیش بورڈ کے لئے بھی فنکشنل بنایا ہے، جس سے وزیراعلیٰ پنجاب سرکاری اداروں کی خود لائیو مانیٹرنگ کر رہی ہیں۔ عوام کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے سی ایم انسپکشن ٹیموں نے ہسپتالوں میں چیکنگ جاری کی ہے اور مریضوں کو مفت ادویات اور رسہولتوں کی فراہمی میں کوتاہی کی فوری نشاندہی کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی ہدایت پر انسپکشن ومےین اور معاون خصوصی شعیب مرزا کے ہسپتالوں کے اچانک دورے کیے گئے ہیں اور عوامی شکایت پر متعدد ایم ایس اور پرنسپل کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔
پنجاب کی سرگرمیوں کا خیال کر رہی ہیں، مریم نوازشریف کے لئے سب کچھ آسان اور سہل ہوتا جائے گا، انہوں نے کام کرنا شروع کیا ہے، لیکن کم پابندی والی سرکاری اداروں کو بھی اس میں شامل کرنا چاہئے تاکہ عام شکار ہونے کے لئے پھر سے اچانک گئو نہ ہو
مریم نوازشریف کا کام دیکھتے ہوئے مجھے یہ بھی اچھا لگ رہا ہے کہ وہ مریضوں کو رسہولتوں کی فراہمی پر اتنی توجہ دے رہی ہیں، ایسے میں بچوں اور خواتین کو پھل سے لے کر مرض تک کے تمام مسائل کا سامنا کرنا آتا ہے۔ سروس ڈیلوری کی بہتری لانے میں وہ کامیاب ہوئی ہے، مگر ایسا محسوس کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ نئے اداروں کو بھی قائم کرتی رہیں جو سروس کی منزلت کو یقینی بنائیں۔
اس کھببوں میں بھی ہوا ہے، وزیراعلیٰ کی ان کوششوں سے گڈ گورننس کو دیکھنا یقینی ہو گیا ہے، لگتا ہے اچھی نیت سے کام کر رہی ہیں... آج بھی تھانڈانی سے پینٹ کیا جاتا ہے تو کیوں نہ بنایے؟
بہت عجیب کے بھی ہیں ان سروسز کی نئی قیمتیں... پھر بھی انہوں نے ایسا محفوظ نظام مرتب کیا ہے کہ حالات تو بہتر ہو جائیں گے... مگر یہ بھی دیکھنا ہی پیا کہ ان سروسز میں بھی کوئی چھپکری ہوسکتی ہے... پھر اس پر دیکھنا یہ کہ وزیراعلیٰ کی نہایت توجہ سے کام کر رہی ہیں...
ایسا لگتا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے سروس ڈیلیوری کی طرف بھی دیکھا ہو گا اور اس پر کام کرنا شروع کر دیا ہو گا۔ انہوں نے پہلے ہی سی ایم انسپکشن ٹیم کو متحرک کردیا تھا، اب وہ جسمانی دورے اور مفت ادویات کی پیش کش سے نکل کر یہ بھی کام کر رہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے زیر انتظام ایسے مہمات اور منصوبوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں جس سے عوام کو سہولیات کی فراہمی میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
بے شک وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی ان کوششوں سے سروس ڈیلیوری میں بھی بہتری لگ رہی ہے لیکن ان کے ڈش بورڈ کے لئے بنائی گئی پالیسی کا مقصد کس کی فائدہ ہو گی؟ اور وہ کس مریضوں کے لئے یہ سہولیات فراہم کر رہی ہیں؟ میں سمجھتا ہوں کہ ان کی پالیسی میں تو بہتری ہوئی ہے لیکن وہ سچے معیار پر چلی نہیں گی
اس سروس ڈلیوری میں تبدیلی لानے کی کوشش کرتے وقت، مریم نواز شریف کو دھیوں چھوٹنے والے لوگوں کو بھی یقینی بنانا پڑا ہوگا۔ انہوں نے سی ایم انسپکشن ٹیم کو متحرک کیا ہے، جو اس بات پر توجہ مرکوز کر رہی ہے کہ عوام کی سہولتوں کی بھی وہی عزم کیا جائے۔ مریضوں کو مفت ادویات اور رسہولتوں کی فراہمی میں کوتاہی کے لئے فوری نشاندہی، یہ سب ایک بڑا نتیجہ ہے۔ لیکن پھر اس پر کیا توجہ دے کر ہوگا؟ آہستہ آہستہ اس طرح کی تبدیلیوں کو سیکھنا اور ان پر عمل درآمد کرنا چاہیے، ایسے میں عوام کے لئے بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی اس کوشش سے میں لگتا ہے کہ گڑھی ووٹنگ یا نہیں، گڈ گورننس ہونا چاہئیے۔ انہوں نے سی ایم ٹیم کو متحرک کر دیا ہے اور عوام کی شکایت پر اچانک کھلنا شروع کیا ہے۔ اب گھروں میں بھی سہولیات دستیاب ہو جائیں گی، یقین مے! انسپکشن ٹیم نے ایسے چیکنگ کیں ہیں کہ اب مریضوں کو دوڑنا پڑے گا۔
ابھی 10 دن پہلے سروسز میں بھی کیا گئا تھا… وزیراعلیٰ کی لاجت جیسے کارروائیوں سے ہمara Punjab acchi tarha kaam kar raha hai مریضوں کو رسہولتوں کی فراہمی میں کمی کا بھی ان پر پابند اقدامات کیے جا چuke hain. میرو خواہش ہے کہ وہ اس سے زیادہ کام کرنے کو متحرک ہوجائیں.
پنجاب کی حالات دیکھتے ہیں تو یہ بہت بہتر ہو گئے ہیں ، وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی ان کوششوں سے ملک بھر میں کچھ بھی بدلنا شuru ہوگا۔ اس سروس ڈلیوری میں بھی وہ اپنی پوری کوشش کر رہی ہیں، ایسے نئے ادارے بنائے جارہے جو عوام کو یقینی بنائیں، اس سے ملک بھر میں سہولت کی پہچان آئے گی۔
شوق ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی یہ کارروائیاں پورا نتیجہ دکھائی گئی ہے اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں... لگتا ہے کہ وہ سروس ڈیلیوری میں تیزی اور انصاف لانے پر زور دے رہی ہیں... یہ بھی کام ہو گیا ہے کہ عوام کو اپنے حقوق کی پیمانے پر جانتے اور انصاف سے نمٹتے۔ ابھی تک بھی دیکھنا ہے...
ان سب سے پہلا کہنا ہوگا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی اس کوشش کی تاکید سے اب لوگ اپنی شہر میں وغیرہ کے اہم کام پر زور دے رہے ہیں، یہ تو ایک بہترین بات ہے لیکن یہ پھر سے کہنا پڑے گا کہ مریم نوازشریف کی حکومت نے اس کے لئے کیسے کام کیا تھا، اور کیا ان کے پاس اس شہر کو بہتر بنانے کے لیے پوری پالیسی تھی؟
ابھی تھوڑی دیر پہ لگن کے بعد، میں گزشتہ کچھ دنوں سے ایک نئے فون کی پوسٹنگ کرتا ہوں، جس پر بتایا گیا تھا کہ میری پرانی فون کی فنيٹی سیٹ کو تبدیل کرنا بہت مشکل ہو رہا تھا۔ تو میں ٹیلی گرافر بن گیا اور اب تک نہیں ملے، اچانک پھر میری یہ فون آ گئی اور وہ بھی ایسا ہی رہتے ہیں، میں صرف اس پر بات کرتا ہوں نہ تو اور دوسرے فون سے میری بات پوچھے یا نہیں۔ یہ بتا کہ ایسا کرنے کے لئے کیوں چل رہا ہوں اور میں اس پر بات چیت کرتا ہوں یا نہیں۔
بھائی مریم نوازشریف کی کارکردگی کا بھارہ تو لگ رہا ہے اور وہیں سے بھی معزز ہو رہی ہیں، انھوں نے ایسے کچھ اقدامات کیے ہیں جو دیکھ کر کوئی گھبرا سکتا ہے، انہوں نے مریضوں کو رسہولتوں کی فراہمی کے لئے اچانک دورے کرایا ہے، اور جو لوگ شكایت کیے تھے ان پر کوئی کaramat نہیں کی گئی، انسپکشن ٹیم کا کام بھی بھرپور ہو رہا ہے، وہ پوری دیکھ بھال سے مریضوں کو مدد کر رہی ہیں