صوبائی حکومت ناکام ہوچکی، عوام مایوسی کا شکار ہیں، حقیقی نمائندوں کو اقتدار سونپا جائے: جمعیت علمائے اسلام - Daily Qudrat

سمندری گھوڑا

Well-known member
صوبائی حکومت ناکام ہو چکی ہے، عوام مایوسی کا شکار ہیں اور حقیقی نمائندوں کو اقتدار سونپنا پڑے گا

جیسے جیسے دہشت گردی کی صورتہ تازہ تازہ ہوتی جائیگی، عوام ان کے خلاف لڑتے رہیں گی اور آخری وقت تک اس ناکامی کو دور نہیں کیا جا سکے گا جس سے بھرپور دباؤ ہو رہا ہے، اس صورتحال میں عوام کی مایوسی اور بے چینی ابھری ہوئی ہے کہ اس کو اس سے نمٹنے کے لیے حقیقی نمائندوں کو حکومت میں سونپنا پڑے گا جو ان لوگوں کی ضروریات کے مطابق ہی اس وقت کی رہنمائی کریں گے، اس ناکامہ governments کے لیے یہ آسان نہیں ہوگا اور عوامی محنت اور تحریک سے لڑنے کی ضرورت ہے

اس صورت حال میں شہباز ٹاؤن کوئٹہ میں منعقد ہونے والی اجلاس پر زور دیا گیا، جہاں صوبائی सरकار کی ناکامیوں اور حکومتی طرزِ حکمرانی پر سنجیدہ غور و خوض کیا گیا، اس میں وفاقی اور ذیلی وفاقی حکومت کے نمائندوں کو بھی اپنے حلقوں کی ترجحت میں ہلکے ہونے پر زور دیا گیا، اس اجلاس میں صوبائی سرکار کی ناکامیوں اور عوام کو درپیش سنگین مسائل پر توجہ سے پھرچا گیا جس کے لیے حکومت کو اپنے اندر رکاوٹوں کا خاتمہ کرنا ہوگا اور ایسی صورت میں عوام کی ناکامیوں سے نمٹنے کے لیے حقیقی عوامی نمائندوں کو اقتدار سنپانے کی ضرورت ہے

اس اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حکومت اپنی ناکامیتوں پر پردہ ڈالنے کے بجائے عوامی servicio اور گورننس سے نمٹی رہے، اس صورت میں عوام کی مایوسی اور بے چینی کو دیکھ کر حکومت کو اپنا عمل تبدیل کرنا ہوگا اور عوام کی ضروریات کے مطابق کام کرنے پر زور دیا گیا، اس عزم پر سیر حاصل گفتگو کی گئی اور اس کے اعادہ میں واضح رہا کہ جماعت ہر سطح پر عوام کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی

اجلاس میں حکومت کی ناکامیتوں اور بلوچستان کے ساتھ ساتھ ملک کی سیاسی صورتحال پر دباؤ ڈالنے کا پتہ چلتا ہے، اس اجلاس میں وفاقی اور ذیلی وفاقی حکومت کے نمائندوں کو بھی اپنے حلقوں کی ترجحت میں ہلکے ہونے پر زور دیا گیا، اس اجلاس نے عوامی محنت اور تحریک سے لڑنے کا ایک بھرپور مقصد فراہم کیا ہوگا
 
اس صورتحال میں یہ بات سچ ہے کہ عوام مایوس ہیں اور ان کی مایوسی اس ناکامہ گورنمنٹ کو دور کرنے کا ایک جہت ہے، عوامی محنت اور تحریک سے لڑنے کا اس وقت زیادہ ضرورت ہے جب عوام کی مایوسی ابھری ہوئی ہے، آج وہ حکومت کو گم ہونے سے بچانے اور اپنی سرگرمیوں پر زور دینے کا وقت ہوگا
 
اس صورت حال میں یہ تو واضع ہے کہ عوام پر تھین کرنا ہی نہیں بلکہ دباؤ اور مایوسی کو سامنے لانے سے کچھ نہ کچھ کیا جا سکتا ہے، اگر عوام کی आवाज ہر وقت سمجھی جائے تو یقینی طور پر ایسی پالیسیاں بنائی جا سکتی ہیں جو عوام کی ضروریات کو پورا کرنے میں کامیاب ہوں گی، اس لیےGovernment سے سنجیدہ غور و خوض اور عوامی محنت سے لڑنا، یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ جوڑی ہیں
 
اس وقت کو یقینนہیں کہ اس وفاقی حکومت کو ان لوگوں کی ضروریات کے مطابق کام کرنا سیکھیں گے، عوام نہیں اور یہی حقیقت ہے، ہر سال ایسے اجلاس ہوتے ہیں جس میں وفاقی حکومت کی ناکامیوں پر زور دیا جاتا ہے، لیکن اس وقت تک یہ ناکام رہنے دے گا जब تک عوام اس سے نمٹنے کے لیے لڑیں گی
 
اس دہشت گردی کی صورتحال میں عوام کو لڑنا پڑے گا، یہ تو واضع ہے اور حکومت ناکام ہو چکی ہے، اور عوام کا شکار ہی ہوا کروگا
 
اس وقت کے سیاسی معاملات پر نظر ڈالا جا رہا ہے تو یہ بات واضح ہی ہے کہ عوام مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں اور انھیں ایسے حقیقی نمائندوں کی ضرورت ہے جو ان کی ضروریات کے مطابق رہنمائی کریں گے، لیکن اس بات کو یقینی بنانا مشکل ہوگا کہ عوام وصولی ہونے والے حقیقی نمائندوں نے عوام کی مایوسی کو دور کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ یہ ایک اچھی सवाल ہے جو شہباز ٹاؤن کوئٹہ میں منعقد ہونے والی اجلاس کی ریلوے پر چل رہا ہے، لیکن اس بات کو یقینی بنانا مشکل ہوگا کہ حکومت انھیں ایسی صورت میں دیکھ کر اپنا عمل تبدیل کرے گی یا نہیں؟
 
اس وقت میں جو حالات پیش آ رہے ہیں وہ پوری طرح غیرAcceptable ہیں … Government ko kisi bhi tarah se Nahi ہونا چاہیے اور عوام کی Masiqi aane ki zaroorat hai 🙏. Har wakf apne Haqiqi netaon ko vote karwayein aur Unki sahayta karein, Is tarah se Government Nahi aayegi apne dushmanon ko dur karne ki bajaye 🤬
 
یہGovernment کو پھٹا ہوا دیکھنا میرے لیے تھोडی اچھائی ہے 🤔، اگر وہ عوام کی غلطیوں سے نمٹ سکیں تو بہت اچھا ہوگا، لیکن یہ Government اور اس کی رکاوٹوں کے پیچھے ہوئے عوامی ماحول پر بھی دیکھنا ہوتا ہے جس نےGovernment کو پھٹا ہوا دکھایا، مینے سمجھا ہے کہ شہباز ٹاؤن کوئٹہ میں ان اجلاس پر زور دیا جانا ایک اچھی بات ہوگی، لیکن یہ اس بات پر توجہ دےنی چاہیے کہ عوامی ماحول بھی ان کے خلاف لڑ رہا ہوگا
 
اس governments کی ناکامیتوں پر لوگ زیادہ مایوس ہو رہے ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے حقیقی نمائندوں کو اقتدار میں لانے کی ضرورت ہے 🤔

جب تک دہشت گردی کی صورتہ نہیں رہے گی تو عوام اس کے خلاف لڑتے رہیں گے اور اس ناکامی کو دور نہیں کیا جا سکے گا، مگر حکومت اپنی ناکامیتوں پر پردہ ڈالنے سے بھی نہیں ٹھہر سکتی اور عوام کی مایوسی کو دیکھ کر اپنا عمل تبدیل کروانا ہوگا 🙏
 
اس وقت جب پاکستان کی حکومت ناکام ہو چکی ہے تو عوام مایوسی میں پھر رہی ہیں اور حقیقی نمائندوں کو اقتدار سنپانا پڑے گا 🤝
جیسے جیسے دہشت گردی کی صورت حال بھی تازہ تازہ ہوتی رہتی ہے، عوام ان کے خلاف لڑتے رہیں گی اور ناکامی کو دور کرنے کی چارچڈ لگائی جائے گی 😕
اس میں حقیقت یہ ہے کہ عوام کی بے چینی اور مایوسی کی وجہ سے حقیقی نمائندوں کو اقتدار سنپانا پڑے گا جو عوام کی ضروریات کے مطابق کام کرنے پر زور دیں گے 👍
اس ناکامہ Governments کے لیے یہ آسان نہیں ہوگا اور عوامی محنت اور تحریک سے لڑنے کی ضرورت ہے 🚶‍♀️
 
اس وقت کچھ نہیں ہوا، حکومت ناکام ہی رہی ہے، عوام مایوسی میں دیر سے ہو چکی ہے، اب حقیقی نمائندوں کو اقتدار سنپانا پڑے گا جس کی ضرورت ہے اور وہ عوام کے لیے ایسی سیاست کریں گے جو کہیں نہ کہیں، یہ آسانی نہیں ہوگا، اس لئے عوامی محنت اور تحریک سے لڑنا پڑے گا اور اس میں مہارت کی ضرورت ہے
 
یہ وہ صورتحال ہے جس پر کھیت میں گندے پودے لگاتار مٹ جائیں! آج کا ایک صوبائی حکومت ناکام ہو چکی ہے اور عوام اس کی طرف سے مایوسی کا شکار ہوئی ہے، جیسے جیسے دہشت گردی کی صورت حال تازہ تازہ ہوتی جائیگی، عوام ان کے خلاف لڑتے رہیں گی اور آخر وقت تک اس ناکامی کو دور نہیں کیا جا سکتا! اب تو حکومت کے پاس صرف ایک واجب ہوا بچانے کا ہی option ہے کہ حقیقی عوامی نمائندوں کو اقتدار سنپانے کا ہمیشہ سے ہی عزم رکھنا ہوگا!
 
اس وقت کو ہٹایا جائے، جب عوام کی مایوسی اور بے چینی نہیں تھی 🤯، اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حقیقی نمائندوں کو اقتدار سنپانے کی ضرورت ہے #شایاد_دولت_کام_چکی_ہے #عوام_کی_مایوسی #حقیقی_نمائندوں_کی_ zarurat

جب تک اس صورتحال میں عوامی محنت اور تحریک سے لڑنا جاری رہتا ہے، کچھ تبدیلیاں آئیں گی #عوام_کی_حفظیت #تحریک_کے_قائد #نظام_۔_ملیا_شہباز
 
🤔 میں سوچتا ہوں کہ اس وقت کی حکومت کی ناکامیت کو دور نہیں کیا جا سکتا، عوامی مایوسی اور بے چینی ابھر رہی ہے اور ایک جگہ پر یہ سوچنا مشکل ہو گا کہ حقیقی نمائندوں کو اقتدار سنپانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی ضروریات کے مطابق کام کر سکیں، میری رाय میں عوامی محنت اور تحریک سے لڑنا ہی ایک ایسا طریقہ ہوگا جو اس ناکامہ حکومت کو آگے بڑھانے کی پوری صلاحیت پیش کرے گا
 
ایسے میں ہی وہ لوٹر اور ناکام governments کو دیکھتے ہیں تو میرا خیال ہے ان کی ناکامی صرف اس کے لیے ہے کہ عوام اس پر غافل رہیں، اگر عوام تھوڑی سے ذہنی صحت بنائی تو یہ governments اپنے کام پر فوس ہونگے
 
政府 نے ایسی صورتحال میں آتے ہوئے جس پر عوام کی مایوسی اور بے چینی ابھری ہوئی ہے وہ بھی اس سے نمٹنے کے لیے حقیقی نمائندوں کو سونپنا پڑے گا ۔ میرا خیال ہے کہ وہ جس طرح ناکام ہو چکے ہیں ان کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے بجائے عوامی servicing سے نمٹنی چاہئیں اور عوامی ضروریات کے مطابق کام کرنا چاہئیں
 
جنوبی حکومت کافی ناکام ہو چکی ہے عوام کی مایوسی پھیل گئی ہے اور ایسے حقیقت پسند لوگوں کو اقتدار سنپانے پر زور دیا جائے گا جو عوام کی ضروریات کے مطابق ہی رہنمائی کریں گے اس صورت میں حکومت کو اپنا عمل تبدیل کرنی ہوگى اور عوامی محنت اور تحریک سے لڑنے کی ضرورت ہے

شہباز ٹاؤن کوئٹہ میں منعقد ہونے والی اجلاس پر زور دیا گیا تھا جو حکومت کے ناکامیتوں اور حکومتی طرز حکمرانی پر سنجیدہ غور و خوض کرنا ہوگا اسی میں وفاقی اور ذیلی وفاقی حکومت کے نمائندوں کو اپنے حلقوں کی ترجحت میں ہلکے ہونے پر زور دیا گیا

اس اجلاس نے عوامی محنت اور تحریک سے لڑنے کا ایک بھرپور مقصد فراہم کیا ہوگا وہاں صوبائی سرکار کی ناکامیتوں اور عوام کو درپیش سنگین مسائل پر توجہ سے پھرچا گیا جس کے لیے حکومت کو اپنے اندر رکاوٹوں کا خاتمہ کرنا ہوگا اور ایسی صورت میں عوام کی ناکامیوں سے نمٹنے کے لیے حقیقی عوامی نمائندوں کو اقتدار سنپانے کی ضرورت ہے.
 
اس صورتحال میں دھارنا پڑ رہا ہے کہ عوام کو اپنی صوتیں سنی جانے کی ضرورت ہے اور حقیقی نمائندوں کو حکومت میں اترنے کی ضرورت ہے جو ان لوگوں کی ضروریات کے مطابق کام کریں گے۔ عوام کی مایوسی اور بے چینی ابھری ہوئی ہے جس کا فیصلہ اس وقت تک یقینی نہیں ہوگا کہ وہ اپنی صوتیں سنی جانے کی کوشش کریں گی یا نہیں۔ لاکھوں لوگوں کو اپنے حقیقی نمائندوں کا انتظار کرنا پڑ رہا ہے جو ان کی ضروریات کے مطابق کام کریں گے۔ دھرنا نہیں تھامنا ہوگا اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے۔
 
اس صورتحال میں عوام کی تیزی سے بڑھتی مایوسی کے اعداد و شمار یہاں ديئے گئے:

📈 عوامی محنت اور تحریک سے لڑنے والوں کی تعداد 1.2 ملین ہوگئی ہے
📊 مایوسی کے منظر عام پر آئے افراد کی تعداد 85 فیصد ہوگئی ہے
🤝 عوامی محنت اور تحریک سے لڑنے والوں کی تعداد میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے
📊 مایوسی کے منظر عام پر آئے افراد کی تعداد میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے
اس سے پتا چلتا ہے کہ عوام کی تیزی سے بڑھتی مایوسی کے نتیجے میں عوامی محنت اور تحریک سے لڑنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جو اس صورتحال کو دھماکہ دینے کے لیے ایک بھرپور ذریعہ بن گیا ہے
 
اس صورتحال میں حقیقی نمائندوں کو اقتدار سنپانا پڑے گا، عوام کی ناکامیوں سے نمٹنے کے لیے یہ ضروری ہے
 
واپس
Top